Shajar E Memnu By Zara Noor readelle50157 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
گاڑی جیسے ہی بڑے بنگلے کے سامنے رکی تو روشنیوں کی چمک چاروں طرف پھیل گئی۔ ہنسی مذاق کی آوازیں اور موسیقی کی مدھم دھنیں دور ہی سے سنائی دے رہی تھیں۔ مجتبیٰ نے گاڑی روکی اور مہرمہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
“چلو، میری جان، اب سب کو حیران کر دینے کا وقت ہے۔”
اس نے باہر نکل کر فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا اور مہرمہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ مہرمہ نے شرماتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما اور گاڑی سے اتری۔ لمبے گاؤن اور خوبصورتی سے سنورے بالوں کے ساتھ وہ واقعی ایک پریوں جیسی لگ رہی تھی۔
جیسے ہی دونوں آگے بڑھے، میڈیا کے کئی کیمرے فلیش کرنے لگے۔ رپورٹرز اور فوٹوگرافر ایک دم اُن پر ٹوٹ پڑے۔ ایک نے بلند آواز میں سوال کیا:
“سر، یہ میڈم کون ہیں؟”
مجتبیٰ رُک گیا، مہرمہ کی طرف مڑا، اس کا ہاتھ اٹھایا اور سب کے سامنے اس پر بوسہ دیا۔ پھر پُر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“یہ میری بیوی ہیں۔”
مہرمہ کے لبوں پر شرم بھری مسکراہٹ آ گئی۔ رپورٹرز کے شور میں یہ منظر ایک خوبصورت لمحے کی طرح محفوظ ہو گیا۔
اندر داخل ہوتے ہی مہمانوں کی نظریں ان دونوں پر اُٹھ گئیں۔ وہ واقعی ایک بے مثال جوڑا لگ رہے تھے۔ مجتبیٰ نے سب کی توجہ کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے سیدھا اپنے دوست شانزے کی طرف قدم بڑھائے۔
شانزے نے گرمجوشی سے گلے لگ کر کہا، “یار، بہت شکریہ کہ آئے!”
“مبارک ہو، بھائی۔ خوش رہو ہمیشہ،” مجتبیٰ نے جواب دیا۔
پھر اُس نے مہرمہ کو آگے بڑھا کر کہا، “یہ میری بیوی مہرمہ ہیں۔”
شانزے کی بیوی نے خوشدلی سے مہرمہ کا ہاتھ تھاما، لیکن شانسے کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اُس کی نظریں کچھ زیادہ ہی دیر تک مہرمہ پر ٹکی رہیں۔ مہرمہ کو یہ بات ناگوار گزری، مگر اس نے خود کو سمجھا لیا کہ شاید یہ وہم ہے۔
کچھ دیر بعد مجتبیٰ دوسرے مہمانوں سے ملنے کے لیے آگے بڑھ گیا۔ تبھی شانزے آہستہ قدموں سے مہرمہ کے قریب آیا۔ اُس نے ہلکی آواز میں، جیسے راز بتا رہا ہو، کہا:
“مجھے تتلیاں بہت پسند ہیں…”
مہرمہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اُس کی آنکھوں میں ناگواری اور بےچینی جھلکنے لگی۔ وہ فوراً پلٹ کر مجتبیٰ کی طرف چلی گئی اور اُس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
لیکن شام کا وقت گزرتے گزرتے شانسے کی حرکات کچھ اور ہی بڑھ گئیں۔ کبھی باتوں باتوں میں مہرمہ کے قریب آ جانا، کبھی گزرنے کے بہانے اُس کے ہاتھ کو چھو لینا، کبھی ہلکی سی ٹکر مار دینا۔ مہرمہ کے دل میں بےچینی اور کراہت بڑھتی گئی، مگر اُس نے سب کچھ برداشت کیا تاکہ محفل میں کوئی تماشا نہ بنے۔
کھانے کے بعد جب تقریب ختم ہوئی تو مجتبیٰ اور مہرمہ گھر واپس آ گئے۔ سارا راستہ مہرمہ خاموش رہی۔ اُس کے چہرے پر پریشانی اور بے سکونی صاف جھلک رہی تھی۔
گھر پہنچتے ہی وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ مجتبیٰ بھی فوراً اس کے پیچھے آیا۔
“کیا ہوا، مہرمہ؟ تم اتنی خاموش کیوں ہو؟” اُس نے فکرمندی سے پوچھا۔
مہرمہ نے ہمت کر کے سیدھے الفاظ میں کہا:
“مجھے دوبارہ آپ کے دوستوں کے فنکشن میں نہیں جانا۔ مجھے یہ سب بالکل پسند نہیں… خاص طور پر شانسے کا رویہ۔”
مجتبیٰ نے اُس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور نرمی سے بوسہ دیا۔
“ٹھیک ہے۔ اگر تمہیں ناگوار گزرا ہے تو ہم دوبارہ نہیں جائیں گے۔ تمہاری خوشی میری پہلی ترجیح ہے۔”
مہرمہ کی آنکھوں میں نمی تیر گئی مگر دل مطمئن ہو گیا۔ اُس نے سر اُس کے سینے پر رکھ دیا اور لمحہ بھر کے لیے سکون کی سانس لی۔
صبح کی مدھم روشنی پردوں سے چھن کر کمرے میں آ رہی تھی۔ مہرمہ کی آنکھ کھلی تو دل متلانے لگا۔ وہ تیزی سے اُٹھی اور باتھ روم کی طرف دوڑی۔ چند لمحوں بعد وہ سنگِ مرمر کے بیسن کے ساتھ جھکی قے کر رہی تھی۔ سانس پھول رہا تھا، بدن ٹوٹ رہا تھا اور کمزوری اُس کے وجود پر چھا گئی تھی۔
کافی دیر بعد جب وہ اپنے کمرے میں لوٹی تو مجتبیٰ جاگ چکا تھا۔ اُس نے چونک کر مہرمہ کو دیکھا مگر وہ بنا کچھ کہے اپنا دوپٹہ اُٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
نیچے جا کر اُس نے شیف کو آواز دی، “میرے لیے ایک کپ قہوہ بنا دیں۔”
وہ کچن کے کاؤنٹر کے پاس بیٹھ گئی، آنکھوں میں نمی اور وجود میں کمزوری کے ساتھ۔ جیسے ہی قہوہ تیار ہوا، اُس نے کپ تھاما اور باہر نکلنے لگی تھی کہ سامنے سے آتی عاشہ بی بی نے جان بوجھ کر ٹکرا دیا۔
گرم قہوہ پورا مہرمہ پر گِر گیا۔
“یا اللہ!” وہ چیخ اُٹھی، ہاتھ بری طرح جل گیا تھا۔
عائشہ بی بی فوراً اونچی آواز میں بولیں، “کیا تمہیں نظر نہیں آتا، لڑکی؟ اندھی ہو؟”
مہرمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بےبس کھڑی رہ گئی۔ اُسی لمحے مرتضیٰ کی بیوی ایشا وہاں آ گئی۔ اُس نے سارا منظر دیکھا تو تڑپ اُٹھی۔ جلدی سے مہرمہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئی۔
“بیٹھو یہاں، میں ابھی فرسٹ ایڈ باکس لاتی ہوں۔”
چند لمحوں بعد وہ مرہم اور پٹی لے کر آئی اور پیار سے مہرمہ کے ہاتھ پر لگانے لگی۔ نرمی سے بولی، “امی مجھے بھی زیادہ پسند نہیں کرتیں، کیونکہ مرتضیٰ نے اپنی پسند سے مجھ سے شادی کی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ میرا بیک گراؤنڈ اچھا تھا، اسی لیے آہستہ آہستہ قبول کر لیا۔ تمہیں بھی وقت کے ساتھ مان ہی جائیں گی۔”
مہرمہ کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ اُس نے آہستہ سے پوچھا، “کیا آپ کے شوہر… کبھی کسی اور سے بھی محبت کرتے تھے؟”
ایشا ہلکا سا مسکرائی، “نہیں۔ مگر چند ماہ پہلے اُس نے دوستوں سے ایک شرط لگائی تھی۔ شرط یہ تھی کہ وہ ایک لڑکی کو اپنے عشق میں الجھا کر شادی تک لے آئے گا۔ جس دن نکاح تھا، میں نے اُس کے موبائل میں سب میسجز پڑھ لیے اور اپنے بھائی کو بتا دیا۔ میرے بھائی نے خوب کلاس لی اُس کی اور موبائل بھی چھین لیا۔”
مہرمہ کا دل یہ سن کر چکنا چور ہو گیا۔ اُس کی آنکھیں کھل گئیں۔ یعنی… مرتضیٰ نے کبھی اُسے دل سے چاہا ہی نہیں۔ وہ تو محض ایک شرط اور ضد کا شکار تھی۔
مہرمہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور کہا، “شکریہ، میں اب چلتی ہوں۔”
وہ بھاری قدموں کے ساتھ وہاں سے نکل گئی۔
جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی، مجتبیٰ ہال میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اُس نے مہرمہ کو دیکھا تو فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔
“ہاتھ پر کیا ہوا؟” اُس نے فکر مندی سے پوچھا۔
مہرمہ نے زبردستی مسکراہٹ دی اور سر ہلایا، “کچھ نہیں… قہوہ گر گیا تھا۔ میں کمرے میں جا رہی ہوں۔”
وہ اوپر چلی گئی۔ کمرے میں آ کر تھکن کے مارے بستر پر لیٹ گئی، مگر دل و دماغ میں ایک نئی سوچ نے سر اُٹھایا۔ اُسے یاد آیا کہ اُس کی ماہواری وقت پر نہیں آئی۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ایک خیال دماغ میں بجلی کی طرح گرا۔
“کہیں میں…؟”
اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی یقین کر لے۔ آن لائن پرگنینسی ٹیسٹ کِٹ منگوا لی۔ بیس منٹ بعد پارسل آ گیا۔ کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ وہ واش روم میں گئی اور ٹیسٹ کر ڈالا۔
کچھ ہی لمحوں بعد دو واضح نشان اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔
مہرمہ ساکت کھڑی رہ گئی… پھر اُس کے لبوں پر ہلکی سی، بےساختہ مسکراہٹ آ گئی۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے۔
“میں… میں ماں بننے والی ہوں…”
اُس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اُس کے اندر ایک نئی زندگی پل رہی تھی… مجتبیٰ اور اُس کی محبت کی نشانی۔
مہرمہ کی دنیا بدل گئی۔ وہ ساری تھکن، وہ سارے زخم جیسے لمحہ بھر کو بھول گئی۔ اُس کی نظریں گھڑی کی طرف اٹھیں… اب شام کا انتظار کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بےصبری سے سوچ رہی تھی کہ جب مجتبیٰ کو یہ خوشخبری دوں گی تو اُس کے چہرے پر کیسی روشنی آ جائے گی۔
