Shajar E Memnu  By Zara Noor readelle50157

Shajar E Memnu By Zara Noor readelle50157 Last updated: 12 August 2025

51.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shajar E Memnu

By Zara Noor

Novel Description: 

"محبت سے شروع ہونے والی نفرت کی داستان..."
مہر، ایک 18 سالہ شرمیلی اور معصوم لڑکی، جس کا اس دنیا میں کوئی اپنا نہیں تھا۔ وہ اپنے سخت گیر باپ اور بے پرواہ سوتیلی ماں کے سائے میں ایک خاموش سی زندگی گزار رہی تھی۔ نہایت نرم مزاج اور کم گو، اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ محبت اس کے کالج کی راہداریوں میں اس کا انتظار کر رہی ہوگی—مُرتضیٰ کی صورت میں، جو اس کی معصومیت اور سادگی سے کھنچتا چلا آیا۔
ان کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ پروان چڑھا، جیسے کوئی خواب ہو۔ مہر، جس نے کبھی چاہت کو چھوا بھی نہ تھا، اب محبت اور ہمیشہ کے وعدوں پر یقین کرنے لگی تھی۔
لیکن شادی کے دن...
سب کچھ بکھر گیا۔
مُرتضیٰ آیا ہی نہیں۔
ٹوٹے دل، ذلت اور بےوفائی کے بوجھ تلے، مہر کی دنیا اندھیر ہوگئی۔ لیکن تب قسمت نے ایک اور موڑ لیا، جب اسے مُرتضیٰ کے بڑے بھائی مجتبیٰ سے سامنا ہوا—وہ شخص جو مہر کی خوبصورتی اور وقار سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے وہ قدم اٹھا لیا، جس کی کسی کو امید نہ تھی۔
اس نے مہر سے نکاح کر لیا۔
مجتبیٰ نے وعدہ کیا—اسے تحفظ دے گا، عزت دے گا، وہ سب کچھ دے گا جو اس سے چھین لیا گیا تھا۔
اور مہر، جو دل سے ٹوٹ چکی تھی مگر حوصلے سے نہیں، ایک انجان مرد کے ساتھ نئی زندگی میں قدم رکھ گئی۔
مگر قسمت ابھی خاموش نہ ہوئی تھی۔
جب وہ اپنے نئے گھر پہنچی...
تو سامنے کھڑا تھا اُس کا ماضی—مُرتضیٰ، جو اب اس کا دیور تھا۔
وہی شخص، جو کبھی اس کی محبت کا دعوے دار تھا، اب اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا۔
کیونکہ وہ سمجھتا تھا...
کہ مہر نے اسے دھوکہ دیا ہے۔
مگر اسے یہ نہیں معلوم...
کہ مہر نے کبھی اس سے سچی محبت کی تھی—
اور اب، وہ اس سے اُس سے بھی زیادہ نفرت کرتی ہے۔
ٹوٹے دلوں، بکھرے خوابوں اور بدلے کی آگ میں جلتی ایک ایسی کہانی—
"محبت سے شروع ہونے والی نفرت کی داستان..."
...جہاں محبت انجام نہیں، بلکہ جنگ کی شروعات تھی۔

Sneak Peak

“بس کرو اب… رونا بند کرو۔” اُس کی آواز پرسکون تھی، مگر مضبوط۔ “اب کیوں رو رہی ہو؟ یہاں کس نے چھوڑا تمہیں؟”

لڑکی نے سوجی ہوئی آنکھوں اور کپکپاتے ہونٹوں سے اوپر دیکھا۔

“می… میرے ابّا۔ اُنہیں پیسوں کی ضرورت تھی… تو انھوں نے مجھے یہاں بیچ دیا۔”

کمرے میں کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

پھر مہرمہ ہنس دی — ایک کھوکھلی، زہر سے لبریز ہنسی جو آنکھوں تک نہیں پہنچی۔

“اپنے ہی باپ نے بیچ دیا؟” اُس نے دہرایا، جیسے یقین نہ آ رہا ہو۔ “اپنا ہی خون؟”

پھر اُس نے سر موڑ کر پکارا، “شیلا! ذرا پانی تو لانا۔”

چند لمحوں بعد ایک لڑکی بھاگتی ہوئی اندر آئی، ہاتھ میں گلاس تھا۔ مہرمہ نے گلاس لیا اور اُسے دھیرے سے روتی ہوئی لڑکی کی طرف بڑھایا۔

“پیو۔” اُس نے نرمی سے کہا۔ “طاقت کی ضرورت پڑے گی تمہیں۔”

پھر اُس کی نظریں لڑکی پر جم گئیں — آنکھوں میں ایک تلخ مگر دانا سی جھلک تھی۔

“یہاں آنے والی ہر لڑکی کی ایک زندگی تھی۔ ایک نام تھا۔ کوئی بیٹی تھی، کوئی بہن، کوئی ماں… کوئی بیوی۔” وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ “لیکن جیسے ہی تم اس دہلیز سے قدم اندر رکھتی ہو… سب ختم ہو جاتا ہے۔”

“یہاں تم صرف ایک چیز ہو — طوائف۔ مردوں کے بستروں کو گرم کرتی ہو تاکہ تمہیں ایک وقت کی روٹی، ایک چادر، اور کبھی کبھی… ایک لمحہ سکون کا نصیب ہو جائے۔”