51.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

(موجودہ دور:)

فجر کا وقت ہو چکا تھا اور مجتبیٰ بھی بیدار ہو چکا تھا۔ وہ نہا دھو کر نماز کے لیے تیار ہوا، پھر سکون سے نماز ادا کی۔ نماز کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور ننھی بیٹی کو گود میں لے لیا۔

مجتبیٰ نے اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک ماہ بعد ہی دوسری شادی کر لی تھی۔ اس کی ماں نے بھی اسے اکیلا رہنے نہ دیا تھا، اور دوسری طرف مہرمہ کی بے وفائی نے اسے اندر ہی اندر توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ پاگل پن کی حد تک ٹوٹ چکا تھا۔

اسی لمحے نازلی آہستہ سے اٹھی اور نرم لہجے میں بولی:
“مجتبیٰ، آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟”

مجتبیٰ نے مسکرا کر اس کے چہرے سے بال پیچھے کیے اور کہا:
“تم سکون سے سو رہی تھیں، اس لیے جگایا نہیں۔”

وہ دل ہی دل میں طے کر چکا تھا کہ مہرمہ کی یادوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔ اب اس کے دل میں اس بے وفا کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں تھی۔ وہاں اگر کوئی جگہ تھی تو صرف اپنے گھر والوں اور اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے۔

صبح کے ناشتے کے بعد حسبِ روایت سب لوگ ڈائننگ ہال میں جمع تھے۔ نازلی مجتبٰی کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔ عائشہ بیگم کی آنکھوں میں عجب سی طمانیت جھلک رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کر رہی تھیں کہ نازلی جیسی لڑکی اُن کے گھر کی بہو بنی، اور اب اُن کا بیٹا بھی اُس کے ساتھ مطمئن نظر آتا تھا۔

مجتبٰی نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے نازلی کی طرف دیکھا۔
“اچھا سنو، آج رات میرے دوست کے گھر جانا ہے۔ اُس کی سالگرہ ہے۔”

نازلی نے مسکرا کر بات ٹال دی، جیسے معمولی سی بات ہو۔
“مجتبٰی، علیا سارا دن مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ میں ذرا آرام کر لوں گی تو بہتر ہوگا۔ تم چلے جانا۔”

مجتبٰی نے کوئی ضد نہ کی۔ بس سر ہلایا اور نازلی کی نرمی سے بات کو قبول کر لیا۔ پھر اُس کی نظر مرتضیٰ پر جا ٹھہری۔
“آج دفتر تم میرے ساتھ جاؤ گے۔ یہ ابا کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب دل چاہے منہ اٹھا کے غیرحاضری کر لو۔”

مرتضیٰ کے چہرے پر ایک جھوٹی سی مسکراہٹ آ گئی۔ دل ہی دل میں وہ اپنے بڑے بھائی سے شدید حسد کا شکار تھا، مگر بظاہر فرمانبرداری کا لبادہ اوڑھے بولا:
“جی بھائی، آپ دو منٹ دیجیے، میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔”

مجتبٰی نے اپنی چائے ختم کی اور ننھی علیا کو اٹھا لیا۔ صرف آٹھ مہینے کی تھی مگر شرارتوں میں کسی سے کم نہ تھی۔ اُس کی معصوم ہنسی اور چھوٹی چھوٹی شرارتیں مجتبٰی کی جان تھیں۔ وہ بیٹی کو بازوؤں میں لے کر پیار کرنے لگا تو کمرے کا ماحول یکدم بدل گیا۔ علیا نے کلکاری ماری، جیسے پورے گھر کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہو۔

نازلی اُس منظر کو دیکھتے ہوئے ایک لمحے کو ٹھٹک گئی۔ مجتبٰی کی بیٹی کے لیے محبت اُس کے وجود سے ٹپک رہی تھی، اور شاید یہ وہی محبت تھی جس نے عائشہ بیگم کا دل بھی جیت لیا تھا۔

ناشتہ ختم ہونے کے بعد مجتبٰی اور مرتضیٰ دفتر کے لیے روانہ ہوگئے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی مجتبٰی نے چند ضروری میٹنگز کا ذکر کیا اور مرتضیٰ کو سمجھایا کہ “دھیان لگا کر بیٹھنا، ان معاملات میں ذرا سی بھی کوتاہی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔”

مرتضیٰ خاموشی سے سنتا رہا مگر اُس کی آنکھوں میں چھپی چمک صاف بتا رہی تھی کہ وہ دل ہی دل میں کوئی اور منصوبہ بنا رہا ہے۔ اُس کے دل میں ایک ہی خواہش پنپ رہی تھی—کسی نہ کسی طرح مجتبٰی کی ساری کامیابی، سارا وقار اور یہ پوری سلطنت اُس کے ہاتھ آجائے۔

دن کا بیشتر حصہ دفتر میں میٹنگز اور مصروفیات میں گزرا۔ مجتبٰی نے ایک ایک معاملے کو باریکی سے دیکھا اور عملے کو ہدایات دیں، جب کہ مرتضیٰ ظاہری طور پر مطیع رہا مگر دل ہی دل میں حسد کی آگ میں جلتا رہا۔ شام کے چھ بجے مجتبٰی نے کام سمیٹا اور گھر کی طرف نکل گیا، جبکہ مرتضیٰ نے موقع ملتے ہی اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

گھر پہنچتے ہی مجتبٰی نے سب سے پہلے اپنی ماں کے قدم چومے اور دعا لی۔ پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھا، جہاں ننھی علیا اُس کا انتظار کررہی تھی۔ اُس نے بیٹی کو بانہوں میں بھر کر چوم لیا اور اُس کے ننھے قہقہے نے پورے کمرے کی فضا خوشگوار کردی۔ نازلی سکون سے سو رہی تھی۔ مجتبٰی نے آگے بڑھ کر اُس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر لباس تبدیل کرنے لگا۔

رات کو جب وہ دوست کی سالگرہ کی تقریب کے لیے فارم ہاؤس پہنچا تو گونجتے ہوئے گانوں اور شور و غل نے اُس کا استقبال کیا۔ اندر داخل ہوا تو کئی نوجوان بازار کی عورتوں کے ساتھ ناچ گانے اور بے ہودہ حرکات میں مصروف تھے۔

مجتبٰی نے کمرہ چھانتے ہوئے زین کو ڈھونڈ لیا جو کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ قریب گیا اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“سالگرہ مبارک ہو!”

زین نے پلٹ کر دیکھا اور جوش سے اُسے گلے لگا لیا۔ لیکن جیسے ہی اُس لڑکی نے چہرہ موڑا، مجتبٰی کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ اُس کے سامنے کوئی اجنبی نہیں بلکہ اُس کی پہلی بیوی—مہرمہ—کھڑی تھی۔ وہی مہرمہ جس نے کبھی اُس کی زندگی کو مکمل بنایا تھا، آج بازاری لباس اور مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کسی اور کے پہلو میں کھڑی تھی۔

زین نے قہقہے کے ساتھ کہا:
“ارے بھائی، اکیلے آئے ہو؟ بھابھی اور بیٹی کہاں ہیں؟”

مجتبٰی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“وہ نہیں آئیں۔ ویسے بھی تمہاری پارٹیاں شریف عورتوں کے لیے نہیں ہوتیں۔”

زین ہنسا اور مہرمہ کو اپنی جانب کھینچ کر بولا:
“یہ ہے مہر، آج رات کی میری ساتھی۔ ویسے تو میں اپنی لڑکیاں کسی سے شیئر نہیں کرتا، لیکن چاہو تو اِس کے ساتھ وقت گزار سکتے ہو۔”

یہ کہہ کر زین آگے بڑھا اور کسی نے اُسے آواز دی تو وہ وہاں سے ہٹ گیا۔

اب صرف مجتبٰی اور مہرمہ آمنے سامنے کھڑے تھے۔ فضا میں ایک انجانا بوجھ، ایک ناقابلِ برداشت تلخی رچ گئی تھی۔

مجتبٰی نے بھاری لہجے میں کہا:
“تو یہ سب کرنے کے لیے تم نے مجھ سے طلاق لی تھی؟ جب میرے گھر خُلا کے کاغذات پہنچے تھے تو میں ٹوٹ گیا تھا۔ مگر آج لگتا ہے کہ میں نے بالکل صحیح فیصلہ کیا۔ تم میری فیملی کے قابل ہی نہیں تھیں۔”

مہرمہ کے ہونٹوں پر ایک تیز طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔ وہ قدم بڑھا کر قریب آئی اور آہستہ سے بولی:
“کیا باتیں کر رہے ہیں، مجتبٰی صاحب۔ شرافت کی باتیں آپ پر جچتی نہیں ہیں۔ جس کا اپنا خاندان گندگی میں لتھڑا ہو، وہ دوسروں پر کیچڑ نہیں اُچھالتا۔ اور ہاں… ذرا خیال رکھیے گا، آپ کی نئی بیوی واقعی آپ کے بستر تک موجود ہے یا نہیں۔”

یہ جملہ سنتے ہی مجتبٰی کا خون کھول اٹھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر مہرمہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا اور آنکھوں میں غصے کی بجلیاں لہراتے ہوئے کہا:
“میری بیوی کا نام اپنی گندی زبان سے لیا تو زبان کاٹ ڈالوں گا تمہاری!”

مہرمہ نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قہقہے کے ساتھ کہا:
“اپنا یہ رویہ کسی اور کو دکھائیے گا۔ میں اب وہ پرانی مہرمہ نہیں ہوں جسے آپ ڈرا دھمکا کر خاموش کر سکتے تھے۔”

مجتبٰی کے ہونٹوں پر کڑواہٹ اُتری:
“تم ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں۔”

اتنے میں زین واپس آیا اور مہرمہ کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچ لیا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا:
“مجتبٰی ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔ چلو بھائی، اب جا کے کیک کھاؤ اور پارٹی انجوائے کرو۔ اور مہربے بی، اب ذرا کمرہ گرم کرنے کا وقت ہے۔ چلیں؟”

مہرمہ نے زین کے گال پر بوسہ دیا اور اُس کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ مجتبٰی نے یہ منظر دیکھا تو اُس کے وجود پر جیسے بجلیاں گر پڑیں۔ ایک لمحہ بھی مزید رکے بغیر وہ فارم ہاؤس سے نکل آیا۔

گاڑی چلاتے ہوئے اُس کا دل بھاری تھا، دماغ شعلوں میں لپٹا ہوا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بیٹی کی معصوم مسکراہٹ اور نازلی کا پرامن چہرہ گھوم رہا تھا۔ لیکن دل کے کسی کونے میں زخم تازہ ہوگئے تھے—وہ زخم جو مہرمہ نے دیے تھے، اور آج اُن پر نمک چھڑک دیا تھا۔