Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sange Dar e Janan (Episode 12)

Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan

“اب آپ یہاں کیوں آئے ہیں”۔۔اجالا نے اپنے سامنے علی کو دیکھ کے پوچھا۔۔۔

“اگر آپ ارمان کی سفارش لے کے آئے ہیں تو پلیز چلے جائیں”اجلا نے روکھا جواب دے کے منہ پھیر لیا۔۔۔

“نہیں میں یہاں ارمان کی سفارش لے کے نہیں آیا ۔۔میں تو یہ بولنے آیا ہوں کہ بہت اچھا کیا تم نے ارمان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چائ ہے اور تم بہت اچھا کر رہی ہو”

اجالا علی کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں مت معاف کرنا اسے ساری زندگی تڑپانہ وہ اسی لائق ہے جب جب وہ تڑپے گا تب تب تمہیں سکوں ملے گا”

علی کی آخری بات پہ اجالا نے تڑپ کے دیکھا۔۔۔

“تم تو یہی چاہتی ہو نہ کہ وہ بھی تڑپے جتنا تم تڑپی ہو”

“علی پلیز بس کرو”

“نہیں اجالا بولنے دو مجھے ۔۔۔واقعی اس نے تمہاری محبت کی قدر نہیں کی اسکی یہی سزا ہے وہ ساری زندگی اذیت میں رہے گا تمہاری بددعا سے”

“علییی پلیز بند کرو اپنی بکواس”اجالا کانوں پہ ہاتھ رکھ کے چلائ۔۔۔

“تکلیف ہو رہی ہے ارمان کے لیے میرے منہ سے یہ سب سن کے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔میں اسکا جگری دوست اسکا بھائ جو اسکے خلاف ایسی باتیں سوچ بھی نہیں سکتا وہ ایسی باتیں کر رہا ہے تم حیران ہو رہی ہو تو سوچو میں کتنا حیران ہوگیا تھا جب تمہارے منہ سے ایسی باتیں سنی تھی جب مجھے تماری باتیں سب کے دکھ ہو رہا تھا تو ارمان پہ کیا گزری ہوگی” علی دکھ سے بولا۔۔۔

“لے لو تم بھی اسکی حمایت لے لو ساری غلطی میری ہے اس نے میری محبت کی توہین کی تو کچھ نہیں بگڑا میں نے ذرا سا کیا بول دیا تم سب میرے پیچھے پڑگئے۔۔۔۔ابھی بھی وہ بڑے مزے سے بیٹھا ہوگا اپنے گھر میری صبح والی باتوں سے اسے دکھ ہوا ہوگا لیکن تھوڑی دیر بعد اس جنید نے میرے خلاف دو چار لگا کے اسے اپنے جال میں پھنسا لیا ہوگا وہ تو شکر کر رہا ہوگا کہ جان چھوٹی”اجالا نے اپنی بھڑاس نکالی۔۔علی افسوس نگاہوں سے اجالا کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔

“نکال لو بھڑاس جتنی نکالنی ہے نکال لو اپنے دل کو اسی باتوں سے بہلاو کہ ارمان اس وقت گھر بیٹھا پرسکون ہوگا۔۔۔

پہلے ارمان پہ ترس آتا تھا مجھے کہ اس سے اپنے ساتھ بہت غلط کیا ابھی بھی آتا ہے لیکن اب اس کے ساتھ ساتھ مجھے تم پہ بھی ترس آتا ہے۔۔۔تم پتھر دل ہوگئ ہو اجالا”

“پتھر دل بھی مجھے ارمان نے بنایا ہے”

“چھوڑو اس بات کو میں تمہیں کچھ بتاونگا اور تمہیں اپنے دل مضبوط کر کے باتیں سننی ہوگی”

جس دن تم اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ارمان کو چھوڑ کے گئ تھی اس دن سے وہ پاگل ہوگیا تھا اس دن وہ بلا وجہ ہنس رہا تھا پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا اس دن کے بعد وہ بلا وجہ ہنستے ہنستے رونے لگ جاتا تھا اسے پتا تھا کہ خرم نے ارحم کو نہیں مارا بس وہ اس بات کو تسلیم نہیں کر پارہاتھا کہ ارحم ہم سب کو چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔ارمان کے کہنے پہ ہی پولیس نے خرم کو رہا کیا اس دن وہ آفس میں تم سے معافی مانگنے ہی آیا تھا لیکن تم نے اسکی ایک بات بھی نہیں سنی ارمان کی رات اذیت میں گزرتی تھی ارمان کو نروس بریک ڈاون بھی ہوا تھا۔۔۔ارحم زندہ ہے اجالا وہ صحیح سلامت گھر آگیا کل ہی جنید کی سچائ ارمان کے سامنے آگئ جنید کو جیل ہوگئ جب ارمان کو سچائ پتا چلی تو جنید کو بہت مارا اس کے بعد میں اسے تمہارے پاس لے کے آیا لیکن تم نے آج ایک بار پھر اسکی کوئ بات نہیں سنی۔۔۔

علی جیسے جیسے بول رہا تھا اجالا کے قدم بھاری ہو رہے تھے۔۔۔

بہت مـــــــضبوط تھا وہ مگــــر وہ کہتے ہیں نہ

محـــــــبت اچھـے اچھـــــوں کو اجــــاڑ دیتی ہے۔۔۔

اس کا بھی یہی حال ہے۔۔۔۔

یہ جو تم نے بولا تھا نہ کہ محبت دنیا کا سے سے آخری اور خطرناک نشہ ہے

اگر تم کسی سے پیار کرنے کا دعوائ کرتے ہو تو اسے نبھانے کی ہمت بھی رکھو۔۔۔یہ تم پہ بھی لاگو ہے اجالا تم میں اب ہمت نہیں رہی۔۔۔

تم نے اپنی محبت کو دفنا دیا اجالا لیکن ارمان نے اپنی محبت کو بھی تک برقرار رکھا ہے وہ بہت خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ تم اسے معاف کر کے اسکی محبت کو دوبارہ اپنا لوگی لیکن بہت جلد اسکی خوش فہمی بد قسمتی میں بدل گئ۔۔آج تمہاری محبت کے ساتھ ساتھ اسکی محبت بھی دفن ہوگئ اب تم اسکی محبت کے ساتھ ساتھ اسکے جنازے پہ بھی فاتحہ پڑھ لینا۔۔۔

“کیااا مط مطلب”اجالا کی زبان لڑکھڑائ

“وہ مر رہا ہے اجالا” علی بے بسی سے بولا۔۔۔

“اسکے پاس وقت کم ہے”میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پارہا میں بے بس ہوں”

اپنی محبت کے ساتھ ساتھ وہ بھی دفن ہوجائے گا ۔۔۔اس نے تمہاری باتوں کو دل سے لگا لی ہیں اجالا کل رات اسکا نروس بریک ڈاون ہوا ہے علی کی بات پہ اجالا صوفے پہ ڈھے گئ۔۔۔

“وہ اس وقت آئ سی یو میں ہے”

“وقتی طور کے لیے اپنی نفرت اور انا کو سائڈ پہ رکھ کے اسکے جنازے پہ آجانا” خدا حافظ۔۔۔علی ایک نظر اجالا کو دیکھ کے باہر کی جانب جانے لگا کہ اجالا نے آواز دے دی۔۔ع علی۔۔۔اجالا کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اسکے جسم میں جان باقی نہیں رہی ہو۔۔۔

مجھ مجھے اسکے پا پاس لے چلو۔۔۔

*******************

دیکھیں پیشنٹ کی حالت بہت کریٹیکل ہے دماغ پہ بہت گہرا صدمہ پہنچا ہے آپ سب کو کہا بھی تھا کہ انہیں کسی بھی ٹینسن سے دور رکھیں۔۔۔انہیں آئ سی یو میں رکھا گیا ہے چوبیس گھنٹے تک انہیں ہوش میں آجانا چائیے ورنہ پیشنٹ کے 70% چانسس ہیں کومے میں جانے کے یا پھر آگے آپ لوگ سمجھدار ہیں آئ ہوپ سمجھ گئے ہونگے۔۔۔

ڈاکٹر علی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے چلا گیا

ڈاکٹر کے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ ۔۔۔۔

امی بھائ ٹھیک تو ہوجائیں گے نہ۔۔۔

ارحم بیٹا دعا کرو دعا میں بہت طاقت ہے انشاءاللہ ارمان کو کچھ نہیں ہوگا ہماری دعائیں ارمان کے ساتھ ہیں۔۔۔

علی مجھے ار ارمان سے ملنا ہے۔۔۔اجالا نے پر امید نظروں سے علی کی طرف دیکھا۔۔۔

“میں کوشش کرتا ہو”علی اتنا کہہ کے ڈاکٹر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

کچھ منٹ بعد اجالا ارمان کے پاس تھی۔۔۔

“جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش”

“اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا…….

منہ پہ آکسیجن ، ہاتھ پہ ڈرپ صدیوں کا بیمار ۔۔۔یہ تو پہلے والا ارمان لگ ہی نہیں رہا تھا جو اپنی ہر صبح کا آغاز مسکراہٹ کے ساتھ کرتا تھا۔۔۔

جو ہر وقت اپنے شعر و شاعری سے سب کے دلوں کو روشن کیے تھا وہ آج بےسوس پڑا ہے ۔۔۔۔

“ارمان”۔۔۔اجالا نے دھیمی آواز سے پکارا ۔۔

“ارمان دیکھو میں آئ ہوں اجالا” اجلا ارمان کا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئ۔۔۔

“پلیز آنکھیں کھولو دیکھو میں تمہارے پاس ہوں”ارمان مجھے تم سے محبت ہے میں تم سے ناراض نہیں ہوں پلیز اٹھ جاو دیکھو سب پریشان ہیں”۔۔اجالا کا آنسو ارمان کے ہاتھ پہ گرا۔۔۔اگر ارمان ہوش میں ہوتا تو ان آنسوؤں کو چوم لیتا کیونکہ یہ اجالا کی آنکھ کا آنسو ارمان کے لیے نکلا تھا۔۔۔

میں جا رہی ہوں ارمان پلیز مجھے روکھ لو” اجالا نے امید نظروں سے ارمان کو دیکھ کے یہ بات کہی کہ شاید اسی بات پہ ارمان کو ہوش آجائے۔۔۔۔

اجالا بے بسی سے باہر آگئ سامنے کرسی پہ علی بیٹھا کسی گہری سوچ میں بیٹھا تھا۔۔۔اجالا علی کے برابر بیٹھ گئ۔۔۔

“اسے ہوش نہیں آیا علی اس نے آج بھی میری بات نہیں سنی اگر وہ سنتا تو ضرور ہوش میں آتا وہ مجھ سے ناراص ہی علی تم تو اسکے بیسٹ فرینڈ ہو تم کہو نہ شاید تمہارے کہنے پہ اسے ہوش آجائے”

“اجالا سمبھالو خود کو انشاءاللہ اسے کچھ نہیں ہوگا”

**********************

ایک ہفتہ گزر گیا ارمان کو ہوش نہیں آیا اجالا روز ہوسٹل جاتی ارمان سے ڈھیر ساری باتیں کرتی لیکن ارمان کی طرف سے مایوس ہوجاتی۔۔۔ابھی تک ارمان کو مسنوئ سانسیں دی جارہی تھی ۔۔۔۔

علی کے لیے گھروالوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا اوپر سے زوجاجہ کا کچھ اتہ پتہ نہیں جس رات جنید کی سچائ پتا چلی اسی رات زوجاجہ اور اسکی امی شرم سے گھر سے چپ چاپ چلی گئیں دو دن تک سب کی ارمان کی طرف توجہ تھی مگر تیسرے دن زوجاجہ اور نغمہ بیگم نظر نہ آئیں تو سب پریشان ہوگئے۔۔۔

ارحم کی ٹانگ دن با دن صحیح ہوتی جارہی تھی لیکن اسے اپنے سے ذیادہ اپنے بھائ کی فکر تھی بوڑھی دادی دن رات ایک کر کے اپنے لاڈلے پوتے کے لیے دعائیں کرتی رہتی تھیں۔۔۔

***********♡******

علی آفس کے لیے نکل رہا تھا کہ ہاسپٹل سے کال آگئ

سب چھوڑ چھاڑ کے ہاسپٹل چلا گیا۔۔۔۔

ڈاکٹر فرحان صاحب کے پاس آئے کچھ کہنے والے تھے کہ نرس بھاگ کے آئے ڈاکٹر کے کان میں کچھ بول کے دوبارہ چلی گئ۔۔۔

سب پریشان سے ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔

پندرہ بیس منٹ بعد ڈاکٹر باہر آئے کسی میں ہمت نہیں تھی کہ ڈاکٹر سے کوئ سوال کرے۔۔۔

علی ہمت کر کے ڈاکٹر کے پاس گیا۔۔۔

“مبارک ہو اب وہ خطرے سے باہر ہیں ۔۔

۔۔آپ سب کی دعائیں کامیاب ہوگئ”

سب کے چہروں پہ خوشی کی لہر دوڑی ۔۔

“ڈاکٹر صاحب ہم مل سکتے ہیں ارمان سے”فرحان صاحب نے آنسو صاف کر کے پوچھا۔۔۔

“ابھی وہ ہوش میں نہیں ہیں ایک گھنٹے بعد انہیں ہوش آجائے گا آپ سب مل لیجیئے گا”

“شکریہ ڈاکٹر آپ کا ہم پہ احسان ہے آپ نے ہم سب کی زندگی لوٹادی” ارحم خوشی سے بولا۔۔

“ارے یہ تو ہمارا فرض تھا احسان کی کیا بات”

دادو اور آمنہ بیگم شکرانے کے نوافل ادا کرنے چلی گئین فرحان صاحب صدقہ اتارنے چلے گئے فاطمہ راحم اور ارحم تینون ایک دوسرے سے لگ کے رونے لگ گئے اجالا خرم کے سینے پہ سر رکھے خوشی سے رو رہی تھی۔۔۔علی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کے ارمان کے پاس پہنچے اور اسے دانٹے ایک آدمی ہو کے اپنی یہ حالت کر دی مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ محبت مضبوط سے مضبوط انسان کو اجاڑ دیتی ہے وہی حال ارمان کا بھی تھا۔۔۔

“اب تم سب کیوں تو رہے ہو” علی چاروں کو روتے دیکھ بول بیٹھا۔۔۔

“یار کہاں سے لاتے ہو اتنا صبر” راحم علی کے پاس آکے بولا۔۔۔

“ہم تمہاری طرح مضبوط نہیں ہیں ع”

“اب بچوں کی طرح رونا بند کرو ورنہ ارمان کہے گا کہ تم سب کا خیال کیوں نہیں رکھا لیکن اب اس کو کون سمجھائے کہ یہ ضدی بچے میری سنتے ہی نہیں ہیں”

**************♡***********

ایک گھنٹے بعد سب ارمان سے مل رہے تھے علی نے سب کو گھر بھیج دیا آرام کرنے کے لیے۔۔۔۔

فاطمہ ثوبیہ ارحم راحم علی چاروں اندر تھے علی باہر آیا سامنے کرسی پہ اجالا اپنے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔

علی چپ چاپ اجالا کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔

” قیمتی آنسو بہانے سے اچھا ہے تم مل کیوں نہیں لیتی ارمان سے” علی دھیمی آواز میں بولا۔۔

اجالا نے چونک کے اپنے برابر دیکھا پھر ہلکا سا مسکرا کے گردن نیچے کر لی۔۔

“ہمت نہیں ہے” اجالا نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔۔۔

اسکے سامنے جانوگی تو ہمت کھودونگی بہت مشکل سے آنسو روکنے میں کامیاب ہوئ ہوں دس دفعہ سوچا ہے جاوں کہ نہیں جاوں لیکن یہ آنسو اسکو سوچتے ہی آنکھ سے پھسل جاتے ہیں”اجالا آنسو صاف کر کے بولی۔۔

“وہ ابھی ابھی ٹھیک ہوا ہے مجھے یوں روتا دیکھ کے کہیں اسکی دوبارہ طبیعت خراب نہ ہوجائے پہلے ہی میری وجہ سے اسکی یہ حالت ہوئ ہے”

“مل لو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رو کے دل ہلکا کرلو کب سے تمہاری راہ دیکھ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے انتظار میں واقعی”۔۔۔علی اتنا کہہ کے چپ ہوگیا آگے بولنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔

علی نے راحم ارحم فاطمہ ثوبیہ کو گھر بھیج دیا تھا اب ہوسٹل میں اجالا اور علی کے علاوہ کوئ نہیں تھا علی کچھ کھانے کے لیے ہاسپٹل کی کینٹین چلا گیا ۔۔۔

اجالا نے ہمت جمع کر کے دروازہ کھولا۔۔۔

سامنے ارمان آنکھیں موندے لیتا ہوا تھا۔۔

“جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش”

“اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا…….

اجالا آہستہ آہستہ چل کے ارمان کے پاس گئ۔۔۔

علی ارمان کا ہاتھ پکڑ کے کرسی پہ بیٹھ گئ۔۔

ارمان نے چونک کے آنکھیں کھولی برابر اجالا کو دیکھ کے اٹھ بیٹھا۔۔۔

“اٹھو مت لیٹے رہو تمہیں آرام کی ضرورت ہے” اجالا نے ارمان کو دوبارہ لیٹایا ۔۔۔۔

“کیسی ہو” ارمان نے دھیمی آواز میں پوچھا۔۔

“تمارےبنا کیسی ہو سکتی ہوں”تم بتاو کیسے ہو”

“تمہارے بنا میں کیسا ہوسکتا ہوں میری حالت تمہارے سامنے ہے دیکھ لو”ارمان دھیمے سے مسکرایا ۔۔۔

“وہ تو دیکھ رہی ہوں”۔۔

” اب بھی ناراض ہو”

“بھلا میں تم سے ذیادہ دیر تک ناراض ہو سکتی ہوں”

“مجھے معاف کردیا”

“معاف انہیں کیا جاتا ہے جس کی غلطی ہو اور تمہاری کوئ غلطی نہیں ہے ارمان حالات ہی کچھ ایسے تھے”

“غلطی نہیں سزا بولو میں تمہارا مجرم ہوں”ارمان نے کہا۔۔۔اجالا ایک سرسری نگاہ ڈال کے رخ پھیر گئ۔۔۔صاف پتا چل رہا تھا کہ ارمان کی بات بری لگی۔۔

“اچھا سوری پلیز معاف کردو اپنے اس نکمے ارمان کو

آئندہ تمہیں شکایت کا موقع نہیں دونگا”ارمان ہاتھ جوڑ کے بولا۔۔

اجالا نے ارمان کا ہاتھ نیچے کردیا۔۔

“کہا نہ معافی مت مانگو تمہاری کوئ غلطی نہیں ہے”

“میں پتھر دل ہوگیا تھا اجالا یہ تو بہت کم سزا تھی اگر مر کے بھی محبت کا کفارہ ادا کرنا پڑے تو وہ بھی منظور تھا مجھے”۔۔۔

ہاں تم تو خوشی خوشی مرنا پسند کروگے ایک ہم تھے

جن کی تم نے راتیں حرام کی تھیں پتہ ہے اس دو مہینے میں سب کس تکلیف سے گزرے تھے دن رات ایک کر کے تمہاری ہی زندگی کی دعا کرتے تھے اور تم کہہ رہے ہو کہ مرنا بہت چھوٹی سے سزا ہے” اجالا غصے سے بولی۔۔۔

“تم نے معاف کردیا نہ بس اب جینے کی چاہ ہے میں تمہارے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتا ہوں تمہاری ہر ایک تکلیف کا مداوا کرنا چاہتا ہوں” ارمان آنکھوں میں چمک لاکے بولا۔۔۔

“تمہیں نہیں پتا ان دنوں ہم پہ کیا بیتی تھی”اجالا بے بسی سے بولی۔۔۔

“مجھ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے کہ اپنوں کے بچھڑنے کا دکھ کیسا ہوتا ہے میں بھی اس تکلیف سے گزرا ہوں” ارمان نے گہرا سانس لیا

“ارمان آر یو اوکے ڈاکٹر کو بلاوں” اجالا ارمان کو دیکھ کے پریشان ہوگئ۔۔۔۔

“نہیں میں ٹھیک ہو” ارمان ہلکا سا مسکرایا ۔۔

سر میں درد ہو رہا ہے تو بتاؤ میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں”اجالا کرسی سے اٹھ کے جانے لگی کہ ارمان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔

ہر زخم کی آغوش میں ہے “درد” تمہارا

ہر درد میں تسکین کا احساس بھی تم ہو۔۔۔

ارمان نے آنکھیں بند کر کے شعر پڑھا۔۔

“ہاہاہا ارمان تم اب بھی نہیں سدھرے اب لگ رہا ہےکہ تم پہلے والے ہی ارمان ہو۔۔۔قسم سے کان ترس گئے تھے تمہاری آواز سننے کو”اجالا نے شوخ نظروں سے ارمان کی جانب دیکھا۔۔۔

“اجالا” ارمان نے دھیمی آواز میں پکارا۔۔

“ہوں کہو”

اگر میں تم سے کچھ مانگوں؟

اگر میں تم سے یوں بولوں؟

اگر میری تمنا ہو؟

میرے دل کی یہ خواہش ہو؟

کہ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں جب کبھی تم کو پکاروں میں؟

تمہارا ساتھ چاہوں میں؟

تمہارے پیار کی تھوڑی سی جو خیرات مانگوں میں؟

تو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وصل کے ان خوابیدہ لمحوں میں

تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو بانٹ لو گے ناں؟

ہمارا ساتھ دو گے ناں؟

“اجالا نے اپنی پلکھیں جھپکائ “گردن ہاں میں ہلا دی۔۔۔

ارمان ہلکا مسکرایا۔۔۔

اتنے میں علی اندر داخل ہوا دونوں کو یوں مسکراتا دیکھ کے دل میں دعا کی کے یہ دونوں یونہی ساری زندگی ہنستے مسکراتے رہیں

“ارے علی تم۔۔۔آو نہ ” ارمان نے علی کی طرف دیکھ کے پکارا..

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *