Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan NovelR50669 Sange Dar e Janan (Episode 11)
Rate this Novel
Sange Dar e Janan (Episode 11)
Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan
جنید ارحم کو تھپڑ مار کے بولا۔۔۔۔
تیرے پاس چند سانیس باقی ہیں
بس آج وہ ڈیل مجھے مل جائے میری زندگی بن جائے گی پھر تجھے تیرے ابو کے پاس پہنچا دونگا۔۔۔
آج کی شام تیری آخری شام ہوگی میرے بھائ ۔۔۔تو بس چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔۔۔
لیکن تو ٹینشن نہیں لینا کل تک ارمان کو بھی تیرے پاس پہنچا دونگا ۔۔۔۔
جنید مکراو ہنسا۔۔۔۔
ارحم کو تھپکی دے کے باہر نکل گیا۔۔۔۔
علی ہوش میں آیا جنید کے جانے کے بعد وہ ارحم کے سامنے آیا۔۔۔
ارحم نے سر اٹھا کے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔
ارحم میرے بھائ تو تو زندہ ہے۔۔علی ارحم کے پاس جا کے اسے چھونے لگ گیا۔۔۔
علی مجھے یہاں سے لے چلو ورنہ آج سب ختم ہوجائے گا ارمان بھائ کی زندگی ختم ہوجائے گی بھائ جنید کو روکھ لیں وہ ارمان بھائ کا سب کچھ اپنے نام کروانے جا رہا ہے۔۔۔
ارحم کی بات پہ علی نے نہ سمجھی سے دیکھا۔۔۔
تم کیا کہہ رہے ہو میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔
علی ، جنید کہہ رہا تھا کہ آج ارمان کی بربادی کا دن ہے جنید جس ڈیلر کے پاس جا رہا ہے ارمان بھائ کو بہت بڑا نقصان ہوگا آج۔۔۔
ارحم کی بات پہ علی نے فون نکالا ۔۔۔۔۔
ایک منٹ میں اس آدمی کو منع کر دیتا ہوں۔۔علی اپنا موبائل نکال کے کال کرنے لگ گیا ۔۔۔۔
ہیلو ۔۔صوفیان صاحب ۔۔۔۔جی جی میں علی بول رہا ہوں۔۔۔
جی آپ سے ایک کام تھا ہم آج ڈیل نہیں کرسکتے آپ کل کی میٹنگ رکھ لیں اصل میں آج ارمان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جی ۔۔۔جی شکریہ ۔۔۔اچھا ایک اور بات آج آپکے پاس جنید آئے گا وہ فائل لے کے آپ جنید سے فائل لے لینا اور اسکے ساتھ کوئ ڈیل نہیں کرنا اور نہ ہی کسی بھی پیپر میں سائن کرنا۔۔۔جی وہ میں آپکو کل سمجھا دونگا۔۔۔جی شکریہ اللہ حافظ۔۔۔
چلو ایک مسلہ تو حل ہوا۔۔۔
علی اتنا کہہ کے ارحم کی رسیاں گھولنے لگ گیا۔۔۔۔
ارحم تمہیں سب دیکھ کے بہت خوش ہونگے۔۔۔علی ارحم کی رسیاں کھول کے گلے لگ گیا۔۔۔۔
علی خرم کا کوئ قصور نہیں ہے وہ بےقصور ہے مجھے جنید نے گولی ماری تھی۔۔۔
ہاں میں سب کچھ جانتا ہوں۔۔لیکن تم کیسے بچ گئے تمہیں تو گولی لگی تھی اور تم پانی میں گر گئے تھے۔۔۔
علی وہ سب میں تمہیں گھر جا کے بتاونگا لیکن ابھی یہاں سے نکلو جنید کسی بھی وقت یہاں پہنچ جائے گا۔۔۔
اسے تو میں نہیں چھوڑونگا کمینہ آستین کا سانپ ہے ۔۔۔
علی اور ارحم گاڑی میں بیٹھ کے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔۔۔علی نے راحم کو فون میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔اور جنید کو کسی بھی طریقے سے گھر پہ روکھنے کا آڈر دیا تھا۔۔۔جنید جو اپنے پلین کا فیل ہونے کے وجہ سے غصے میں ارمان کے پاس آیا تھا کے ارمان انہیں کال کر کے سمجھائے کے ڈیل آج ہی سائن کرنی ہے۔۔۔۔
جنید ارمان کے کمرے میں گیا۔۔۔
سامنے ارمان کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔۔۔۔
ارمان یار وہ ڈیل سائن نہیں کر رہے تو فون کر کے سمجھا۔۔۔جنید سخت ٹینشن میں ارمان کو بول رہا تھا۔۔
ابھی تو جا یہاں سے میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔
ارمان سر پہ دباؤ ڈال کے بولا۔۔۔۔
ارمان وہ ڈیل بہت اہم ہے تو کال کر۔۔۔
جنید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ارمان کو شوٹ کردے۔۔۔
تیرا کیا جائے گا نقصان تو میرا ہوگا نہ بس میں سہہ لونگابھاڑ میں جائے کانٹریکٹ ۔۔۔ارمان ہلکی آواز میں غرایا ۔۔۔۔۔
راحم ارمان کے کمرے سے آواز سن کے آیا۔۔۔
بھائ آپ ٹھیک ہین ۔۔۔ارمان اپنا سر پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔
راحم جنید کے پاس آیا ۔۔۔کیا بولا ہے تم نے ۔۔۔دیکھ نہیں رہا میرے بھائ کی حالت ٹھیک نہیں ہے دفع ہوجاو یہاں سے۔۔۔۔
جنید کو امید نہیں تھی کہ راحم جنید سے اونچی آواز میں بات کرے گا۔۔۔
بھائ آپ آرام کریں ۔۔راحم ارمان کو لیٹا کے جنید کو باہر لے گیا۔۔۔
سوری یار تم سے اونچی آواز میں بات کری ۔۔بس بھائ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا تو دماغ ان کی طرف ہے ۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔
جنید اتنا کہہ کے نیچے چلا گیا۔۔۔راحم پیچھے پیچھے ایا۔۔۔
جنید مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔
جنید مڑا ۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔
راحم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا بات کرے۔۔۔
(جلدی آجاو علی)
جنید نے سوالیہ نظرون سے دیکھا۔۔
راحم کو چپ کھڑا دیکھ کے جنید واپس جانے لگا کہ سامنے گیٹ سے علی اجلت میں آتا دیکھائ دیا۔۔۔
سیدھا جا کے جنید کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔
دادی ابو بڑی چاچی چھوٹی چاچی ثوبیہ فاطمہ زوجاجہ کہاں ہوں سب جلدی نیچے آو ایک سرپرائز دینا ہے۔۔۔
سب علی کے چلانے سے نیچے آگئے۔۔۔
کیا ہوگیا علی کیوں چلا رہے ہو۔۔۔۔اب بتاو کیا ہوا۔۔۔
ایک منٹ حوصلہ رکھیں دادی ارمان کو بھی نیچے آنے دیں۔۔۔جاو ارحم او میرا مطلب راحم ارمان کو نیچے لے کے آو۔۔۔
علی نے کہا راحم سے اور دیکھا جنید کو۔۔۔۔۔
راحم ارمان کو نیچے لے کے آیا۔۔۔۔
آپ سب کے لیے ایک سرپرائز ہے لیکن جنید۔۔۔علی جنید کے پاس ایا۔۔۔
تمہارے لیے دھماکے دار سرپرائز ہے جسے دیکھ کے تم سکتے میں آجاو گے ۔۔۔دیکھاوں ۔۔۔۔جنید علی کی بات پہ بوکھلا گیا۔۔۔
اندر آجاو ۔۔۔۔۔علی نے آواز لگائ۔۔۔گھر میں سب خاموش تھے گھڑی کی ٹک ٹک پورے گھر میں گونج رہی تھی۔۔۔کوئ اندر آیا ویل چیئر گھسیٹتے ہوئے وہ شخص جیسے جیسے اندر آرہا تھا سب کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ایک جنید کی اس شخص کو دیکھ کے دل کی دھڑکن رکھ گئ۔۔۔
علی جنید کا بازو چھوڑ کے ارحم کے پاس گیا۔۔۔اسکی ویل چیئر گھسیٹ کے آمنہ بیگم کے پاس لایا۔۔۔۔ آمنہ بیگم بھاگ کے ارحم کے گلے لگ گئیں۔۔۔
ارحم ۔۔۔۔ میرے بچے میرے لال ۔۔تم زندہ ہو۔۔۔۔
ارحم اپنی ماں کے گلے لگ کے خوب رویا۔۔۔۔۔
ارمان اب بھی ارحم کو دیکھ رہا تھا جیسے ابھی پلک جھپکنےپر ارحم غائب ہوجائے گا۔۔۔
راحم فاطمہ دادو ثوبیہ فرحان صاحب سب ارحم سے مل کے بہت خوش ہوئے ۔۔۔۔
ارحم اپنی ویل چیئر گھسیٹ کے ارمان کے پاس آیا جو ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ارحم کو آنکھیں پھاڑےدیکھ رہا تھا۔۔۔
ارحم نے جیسے ہی ارمان کا ہاتھ پکڑا ارمان کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگ گئے۔۔۔۔
ارمان ارحم کے گلے لگ کے خوب رویا۔۔۔۔
بس کرو ارمان اب ارحم آگیا ہے نہ ایسا مت رو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔
آمنہ بیگم ارمان کو الگ کر کے بولیں۔۔۔۔
ارحم میں گنہگار ہوں اجالا کا تمہاری وجہ سے میں سے اسے بہت سزا دی۔۔۔۔
بھائ گنہگار آپ نہیں یہ جنید ہے۔۔۔آستین کا سانپ ہے یہ جنید۔۔۔
ارحم کی بات پہ سب نے بےیقینی سے جنید کو دیکھا جو راحم کا ہاتھ اپنے بازووں سے چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔راحم نے جنید کو گردن سے دبوچا ہوا تھا۔۔۔
کیااااا۔۔۔۔۔
ارمان نے جنید کو دیکھا۔۔۔
سب جنید کی جانب متوجہ ہوئے جسے علی اور راحم نے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اس دن مجھے گولی خرم نے نہیں جنید نے ماری تھی ۔۔۔
ارحم نے اس دن کا سارا واقعہ سنادیا ۔۔۔۔
گولی میری ٹانگ پہ لگی تھی۔۔۔اور پھر جب میں پانی میں گرا تو وہ شخص جو ہم تینوں کے علاوہ وہاں موجود تھا اس نے مجھے پانی سے نکال کے مجھے ایک لکڑی نما گھر میں رکھا میرا علاج کیا اور جب میں نے پوچھا کہ جب مجھے گولی ماری تو پھر مجھے بچایا کیوں تب اس نے کہا کہ یہ آپکو بلیک میل کرے گا۔۔۔اس نے مجھے ساری بات بتائ خرم بھائ کا جیل جانا آپکا اور اجالا کا لڑنا آپکا ہر ایک پل اذیت میں گزرنا آپکا نروس بریک ڈاون ہونا ۔۔۔۔اس نے مجھے سب بتایا تاکہ مجھے بھی تکلیف ہو۔۔۔۔مجھے اس گھر میں پانچ مہینے رکھا۔۔۔بھائ جسے آپ اپنا بھائ اپنی جان سب کچھ سمجھتے تھے اسی نے آپکو دھوکا دیا۔۔۔یہ آپ کا بزنس آپکا گھر یہاں تک کے اجالاکو بھی اپنے نام کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔اور زوجاجہ کے ذریعے علی سے بھی شیرز اپنے نام کروانے کا سوچ رہا تھا یہ۔۔۔۔
ارحم نے ساری داستان سنادی۔۔۔۔
نغمہ بیگم جنید کے پاس آئیں ایک زور دار آواز گھر میں گونجی۔۔۔۔چٹاخ ۔۔۔۔۔۔
جنید میں پہ ہاتھ رکھے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
امی آپ نے مجھے تھپڑ مارا۔۔۔۔
مت کہو مجھے اپنی ماں ۔۔۔تم نے یہ صلہ دیا میری پرورش کا۔۔۔
امی اپ بھی اس کی باتوں پہ یقین کر رہی ہیں ثبوت کیا ہے اس کے پاس کے میں نے اسے گولی ماری ہے۔۔۔
جنید اب بھی اپنی بات پہ قائم تھا۔۔
ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہے۔۔۔پیچےسے آواز آئ۔۔۔
پولیس۔۔۔۔
مسٹر جنید آپکے خلاف پختہ ثبوت ہے۔۔۔اور سب سے ٹھوس ثبوت یہ خود ارحم ہے۔۔۔
ارمان آگے آیا جنید کو گریبان سے پکڑ کے ایک تھپڑ لگایا۔۔۔
کیوں کیا تو نے ایسا بول کیوں کیا کمینے۔۔۔۔
تجھے بھائ کا پیار دیا تجھے ہر ایک ایش و آرام دیے
اور تو نے اپنی اوقات دیکھا دی ارے تیرے پاس تھا ہی کیا ایک عام آدمی تجھے فرش سے عرش پے پہنچایا اور تو نے ہمیں ہی دھوکا دیا ۔۔۔۔مجھے میری اجالا سے دور کیا۔۔۔ارمان جنید کو مار رہا تھا۔۔۔
مسٹر ارمان آپ چھوڑیں ہم ہینڈل کر لیں گے آپ پیچھے ہٹیئییں۔۔۔ہولدار اریسٹ ہم۔۔۔۔
ارمان اپنی ماں کے پاس آیا۔۔۔
امی مجھ سے بہت بڑی بھول ہوگئ ۔۔۔
علی مجھے اجالا کے پاس لے چل میں اس سے معافی مانگ لونگا۔۔۔
علی نےارمان کو سہارا دیا۔۔۔
دونوں گاڑی میں بیٹھ کے اجالا کے گھر کی جانب نکل گئے۔۔۔
************♡***********
ارے بھئ آرہے ہیں آرام سے۔۔۔
جی کو۔۔
۔سامنے کھڑے ارمان کو دیکھ کے اجالا کا منہ بند ہوگیا۔۔۔
خرم گھر پہ نہیں ہے دو دن کے لیے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں۔۔۔
وہ رخ پھیر گئ ۔۔۔
میں خرم سے نہیں تم سے ملنے آیا ہوں۔۔
ارمان کی حالت دیکھ کے اجالا کا دل ڈوبا ۔۔۔
ارمان کی حالت صدیوں کا بیمار ،رف بال ، آواز میں لڑکھڑاہٹ۔۔۔۔
کیوں اب کون سا تماشہ دیکھنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔اجالا غصے سے بولی۔۔۔
تماشہ تو میری زندگی نے میرے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔۔
اجالا۔۔ارمان نے اتنا ہی کہا کہ اجالا نے بیچ میں روکھ دیا۔۔
اپنی زبان سے میرا نام بھی مت لینا۔۔
آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔اجالا جیسے ہی دروازہ بند کرنے لگی ارمان نے ہاتھ سے روکھ دیا۔۔۔۔اجالا پیچھے ہوگئ۔۔۔
ارمان اندر آکے اپنے ہاتھ اجالا کے سامنے جوڑ دیے۔۔
مجھے معاف کردو اجالا پلیز میں نے اپنے ساتھ ساتھ تمہیں بھی تکلیف پہنچائ ہے۔۔۔
معاف۔۔۔تمہیں ذرا سے بھی شرم نہیں آئ مجھے اتنی اذیت دے کے تم مجھ سے معافی کی امید رکھ رہے ہو۔۔۔۔
جب میں چلا چلا کے کہہ رہی تھی کہ میرا بھائ بےقصور ہے تم تمہاری آواز کہاں دب گئ تھی تب تم نے کیوں نہیں یقین کیا۔۔تم نے خرم کے ساتھ ساتھ مجھے بھی تکلیف دی ہے اور تم مجھ سے معافی کی امید کر رہے ہو۔۔۔اجالا ارمان کا گریباں پکڑ کے بولی۔۔۔
تم نے جنید پہ اعتبار کر لیا لیکن اپنی محبت پہ اعتبا نہیں کیا ۔۔۔۔۔
میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوگئ۔۔۔لیکن خدا کا واسطہ مجھے معاف کردو۔۔اجالا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں
اس نے ارمان کو دیکھا۔۔۔۔
محبت دنیا کا سے سے آخری اور خطرناک نشہ ہے
اگر تم کسی سے پیار کرنے کا دعوائ کرتے ہو تو اسے نبھانے کی ہمت بھی رکھو۔۔۔۔
میں پاگل تھی جو اپنی محبت کی خاطر جنید سے لڑتی رہی مجھے فخر تھا کہ جنید میری محبت کے سامنے ہار جائے گا کیوں کہ چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے تم میرا ساتھ دو گے ۔۔۔
اس دن تمہارے بھائ ارحم کے ساتھ ساتھ ہماری محبت بھی مرگئ ارمان اس محبت کا تم نے اپنے منہ سے جنازہ پڑھا ہے دفن ہوگئ ہے ہماری محبت مت کھودو دوبارہ اس محبت کی قبر کو ۔۔۔۔
آج میں ہار گئ اور جنید جیت گیا ارمان تم نے انہی ہاتھوں سے اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیا اب کیا لینے آئے ہو یہاں۔۔۔اجالا ارمان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے چلائ۔۔۔
جاو۔۔۔ گھر جا کے اپنی محبت کا سوگ مناو۔۔۔
نہیں چائ ہے مجھے تمہاری محبت بس ایک احسان کردو اگر تم مجھ سے سچی محبت کرتے ہو نہ تو پلیز آئندہ اپنا چہرہ مجھے مت دیکھانا۔۔۔میں تمہارے سامنے ہاتھ جھوڑتی ہوں۔۔۔۔جاو یہاں سے ارمان کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں میری بھی قبر پہ فاتحہ نہ پڑھنا پڑے۔۔۔۔
کیا ملا محبت سے_______!!
خواب کی مسافت سے
وصل کی تمازت سے
روز و شب کی ریاضت سے____!!
کیا ملا محبت سے؟؟؟
اک ہجر کا صحرا_____!!
اک وصل کی خواہش
اک شام یادوں کی
اک تھکا ہوا آنسو
ارمان چپ چاپ باہر آگیا سامنے علی کھڑا تھا ارمان کو دیکھ کے سیدھا اس کے پاس چلا گیا۔۔۔
“کیا کہا اجالا نے”۔۔علی بےچین نظروں سے ارمان کی طرف دیکھا۔۔
ارمان چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
علی نے بھی دوبارہ کوئ سوال نہیں کیا وہ سمجھ گیا تھا کہ اجالا نے ابھی تک معاف نہیں کیا بس ایک ترسی نگاہ ارمان پہ ڈالی۔۔(کاش ارمان تم وہ سب نہیں کرتے کتناروکا تھا تمہیں)۔۔۔
جاری ہے
