Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan NovelR50669 Sange Dar e Janan (Episode 03)
Rate this Novel
Sange Dar e Janan (Episode 03)
Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan
اجالا یار اٹھ جاو دوپہر ہوگئ ہے آج کتنا سو گی ویسے تو جلدی اٹھ جاتی ہو اور آج اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہو ۔۔۔۔جلدی اٹھو یار ہم نے ارمان کو بڑی مشکلوں سے منایا ہے باہر گھومنے کے لیے۔۔۔۔اور آفس سے آنے والے ہونگے۔۔۔۔
کیا ارمان ہمیں باہر گھومانے لے کے جارہا ہے اور وہ بھی ہمیں۔۔۔اجالا جو فاطمہ کی باتوں کو نظرانداز کر کے سونے کی کوشش کر رہی تھی آخری والی بات پہ اچھل پڑی۔۔۔۔
ہاں لیکن تم اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو۔۔۔
نہیں کچھ نہیں تم جاو میں تیار ہو کے آتی ہوں۔۔۔
ارے واہ کیا بات ہے ارمان صاحب ہمیں باہر گھومانے لے کے جا رہے ہیں۔۔۔۔تو ارمان صاحب اپنی جیب ڈھیلی کر لیں کیوں کہ آج ہم آپ کو لوٹنا چاہتے ہیں۔۔اجالا فاطمہ کے جانے کے بعد اپنے تصور میں ارمان سے باتیں کرنے لگ گئ۔۔۔۔
سب تیار ہو کے لاونچ میں کھڑے ارمان کا انتظار کر رہے تھے جو ابھی تک آفس سے نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
یار یہ ارمان ابھی تک آیا کیوں نہیں اسی نے تو پلین بنایا تھا اور اب ٹوپی کروا رہا ہے علی ارمان کو کال کرنے کے ساتھ ساتھ منہ میں بڑبڑاتا باہر کی جانب چلا گیا۔۔۔
جنید بھائ ارمان بھائ کہاں ہیں۔۔جنید جو اندر آرہا تھا زوجاجہ نے جنید سے پوچھا۔۔۔۔
وہ میں آفس سے ہی آرہا ہوں ارمان کی ایک ضروری میٹنگ ہے وہ تم سب کے ساتھ نہیں جا سکتا سو مجھے بھیج دیا ۔۔۔۔۔۔
جنید نے اجالا کو دیکھ کے بولا۔۔
اجالا سمجھ گئ تھی کہ اس میں بھی جنید کی کوئ چال ہوگی ۔۔۔۔۔
اگر ضروری میٹنگ تھی تو پہلے ہی بتا دیتا اس طرح ہمیں تو خوار نہ کرواتا۔۔ میٹنگ تو تم بھی اٹینڈ کر سکتے تھے نہ ۔۔۔۔۔۔اجالا جنید کی بات پہ بھڑک گئ۔۔۔۔۔
کلائنڈ اچانک سے آئے تھے آج اور جس کے ساتھ اسکی میٹنگ ہے ان کے ساتھ ارمان نے کانٹریکٹ سائن کیا ہے سو میٹنگ بھی وہی اٹینڈ کرے گا نہ۔۔۔۔۔
جنید مکراو ہنسا۔۔۔
اچھا اجالااب لڑنا بند کرو ارمان نہیں آرہا تو جنید تو ہے نہ ہم سب چلتے ہیں۔۔۔ارحم نے اجالا کا موڈ ٹھیک کرنے کی خوش کی ۔۔۔۔
اجالا باہرچلی گئ ارحم سب کو واپس بلانے چلا گیا کیونکہ سب واپس جا چکے تھے اپنے اپنے کمرے میں۔۔۔
اجالا گاڑی کے پاس کھڑی سخت جھنجھلاہٹ میں مبتلا تھی۔۔۔۔۔
جنید چلتے چلتے اجالا کے پاس آیا۔۔۔
سو مس اجالا کیسا فیل کر رہی ہیں۔۔۔
اپنی بکواس بند کرو میں سب سمجھتی ہوں ۔۔۔۔
واہ تم تو بہت ہوشیار ہو ۔۔۔میں تو سمجھا کہ تمہیں سمجھانا پڑے گا لیکن تم تو بہت سمجھدار نکلی۔۔۔۔
گیم کے شروع میں ہی تمہیں مات دے دی تو سوچو آگے کیا کیا کرنے والا ہوں میں۔۔۔ارمان کا پہلا وعدہ تو پورا نہیں ہوا۔۔۔۔
جنید کی آخری بار پہ اجالا نے جنید کو گھورکے دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو
تم کل رات چھپ کے ہماری باتیں سن رہے تھے شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔اور یہ کوئ گیم نہیں ہے جسے تم ہرا رہے ہو۔۔۔۔
ہاں سنی کل رات ساری باتیں ارمان کا اظہار محبت سنا اور جانتی ہو بہت تکلیف ہوئ مجھے محبت تم میری ہو اور اظہار وہ کر رہا ہے۔۔۔۔
تکلیف ہوئ تمہیں۔۔۔یہی تو میں چاہتی ہوں کہ تمہیں تکلیف ہو ۔۔۔ہاہاہاہا ہلکا مت لینا مجھے اور ابھی آگے کے لیے تیار ہو جاو ابھی تو اور تکلیف پہنچانی ہے تمہیں۔۔۔۔اجالا ہنس کے فاطمہ کے پاس چلی گئ جو گیٹ کے برابر کھڑی تھی ۔۔۔۔
پیچھے جنید سلگتا رہ گیا۔۔۔نہیں چھوڑونگا تمہیں۔۔۔میں بتاونگا تم دونوں کو تکلیف کیسے کہتے ہیں۔۔۔تکلیف ارمان کو ہوگی اور تڑپو گی تم ۔۔۔۔تمہیں ختم نہ کر دیا تو میرا نام بھی جنید عمران نہی۔۔۔۔جس محبت کے بلبوتے پہ تم اچھل رہی ہو نا وہی محبت تمہیں تڑپائے گی۔۔۔۔
************♡***********
اماں جی آپ کیا کہتی ہیں مجھے تو رشتہ اچھا لگا کافی اچھے لوگ لگے مجھے ۔۔فرحان صاحب نے اپنی رائے پیش کی۔۔۔
مجھے تو اچھے خاندان کے لگتے ہیں باقی تم لوگ جانو ۔۔۔۔۔
اپنی زرجاجہ بیٹی اتنی بڑی ہوگئ ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا۔۔ماشاللہ رشتے آنے لگ گئے کاش آج عمران صاحب زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ ان کی بیٹی کتنی بڑی ہوگئ۔۔۔بس جو اللہ کو منظور تم لوگ اداس مت ہو۔۔۔۔۔۔
بچے نظر نہیں آرہے بھئ کہاں ہیں۔۔۔
اماں علی جنید اور ارمان آفس گئے ہیں راحم ارحم زوجاجہ اور ثوبیہ یونیورسٹی گئے ہیں۔۔۔
اجالا اور فاطمہ کچن میں ہیں۔۔۔۔
ارے بھئ اجالا سے کام مت کروایا کرو وہ مہمان ہے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔
اماں بس چار دن ہوگئے اسے آئے وے اب وہ مہمان نہیں رہی ۔۔۔۔
آپ کو تو بس اجالا کے سوا کوئ نظر نہیں آتا۔۔۔
**************♡**************
ارمان علی اور جنید تم تینوں ادھر بیٹھو مجھے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
جی چاچو بولیں۔۔۔۔
جنید بیٹا زوجاجہ کا رشتہ آیا ہے کافی اچھے لوگ ہیں ہمیں تو بہت اچھے لگے خاندان بھی کافی اچھا ہے ۔۔۔۔۔تم بتاو کیا کہتے ہو ۔۔۔۔
چاچو آپکی بات تو ٹھیک ہے ہمیں لڑکے کے بارے میں پتا کروانا چائ ہے۔۔۔۔ہم دو دن کے اندر اندر لڑکے کا کرکٹر دیکھ لیں گے اگر اچھا ہوا تو ہمیں تو کوئ اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
جی چاچو ارمان ٹھیک کہہ رہا ہے مجھے بھی کوئ اعتراض نہیں ہے لیکن آپ اتنی جلدی ہاں نہیں کہنا امی زرجاجہ کی رائے لے لیں پہلے ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا علی تم کیا کہتے ہو ۔۔۔۔۔تم بھی اپنی رائے دو۔۔۔
بابا جیسا آپ لوگوں کو ٹھیک لگے۔۔۔۔۔۔علی اتنا کہہ کے چلا گیا۔۔۔
اسکو کیا ہوا۔۔۔
کچھ نہیں چاچو آج علی تھک گیا ہے
***********♡***********
واہ اتنی خوشی ۔۔۔اجالا فاطمہ کے کمرے میں چلا کے بولی۔۔۔۔
اجالا کیا ہوا کیوں چلا رہی ہو۔۔۔
زوجاجہ تمہیں پتا ہے دادو کے کمرے میں کیا بات ہو رہی ہے۔۔۔
نہیں مجھے نہیں پتا کیونکہ میں تمہاری طرح جاسوسی نہیں کرتی۔۔۔ اچھا بتاو کیا باتیں ہو رہی ہے۔۔۔
زوجاجہ تمہارے لیے رشتہ آیا ہے دادو اور چاچو کو تو رشتہ اچھا لگا اور ارمان اور جنید کو بھی اچھا لگا ۔۔۔۔اتنے سالوں بعد اس گھر میں شادی ہوگی۔۔اجالا جھوم کے بولی۔۔۔۔۔
زوجاجہ جو ہنس رہی تھی اجالا کی بات پہ غمزدہ ہوگئ۔۔۔۔
اور علی نے کیا کہا۔۔۔۔۔
علی نے بس اتنا ہی کہا کہ جیسا آپ کو بہتر لگے۔۔۔۔
اچھا میں اور باتیں سن کے آرہی ہوں تم لوگ یہاں سے ہلنا نہیں اوکے۔۔۔۔۔
**********♡*********
جنید ارمان چار دن ہو گئے تم دونوں نے جواب نہیں دیا کہ لڑکے والوں کو کیا جواب دوں صبح سے کالیں آچکی ہیں وہ لوگ جواب مانگ رہے ہیں۔۔۔
چاچو ہم نے چھان بین کروائ ہمیں تو لڑکا اچھا لگا آپ ہاں میں جواب دے دیں۔۔۔
نغمہ تم نے زوجاجہ سے بات کی اسے تو کوئ اعتراض نہیں ہے نہ اس رشتے سے۔۔۔
جی بھائ صاحب میں نے بات کی اسے کوئ اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔آخر میری بیٹی ہے بڑوں کا جو فیصلہ ہوگا وہ اس کے لیے رضامند ہوگی ۔۔۔
۔آخری بات اجالا کی طرف دیکھ کے کی۔۔۔۔
زوجاجہ بیٹی کھانے پہ کیوں نہیں آئ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔
جی بھائ صاحب اسے بھوک نہیں ہے۔۔۔
سب رات کے کھانے کے وقت ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے بس علی کی خاموش بیٹھا جانے کس سوچ میں گم تھا۔۔۔۔
سب بڑوں نے کھانے سے فارغ ہو الگ محفل لگا لی تھی جبکہ سب بچے ابھی تک کھانے میں مصروف تھے۔۔۔۔
اجالا تھوڑے تھوڑے منٹ بعد ارمان کی جانب دیکھتی جیسے ارمان دیکھتا تو نظریں پھیر لیتی۔۔۔۔
عِشق والوں کِی آنکھیں کرتِی ہیں آنکھوں سے کلام
دِل سُنتا ہے دِل کِی اور دھڑکنیں کرتِی ہیں سلام۔۔۔
ارمان نے جیسے ہی شعر پڑھا ادھر اجالا کھانسنا شروع ہوگئ۔۔۔۔
آرام سے کیا ہو گیا۔۔۔
ثوبیہ نے اجالا کو پانی پلایا۔۔۔
یار ارمان ڈرا دیا تو نے اجالا کو ۔۔۔۔
میں نے کیا کیا صرف شعر کی تو سنایا تھا۔۔۔
شعر کے بچے تیرے برابر میں بیٹھے میں ڈر گیا جس طرح تو نے اچانک شعر پڑھا ۔۔۔۔۔راحم نے ارمان کو مکا مار کے کہا۔۔۔
بڑے بھائ پہ ہاتھ اٹھاتا ہے تیری تو۔۔۔
راحم وہیں سے بھاگ گیا اور ارمان اس کے پیچھے پیچھے۔۔۔۔
***********♡*********
آج لڑکے والے زرجاجہ کے نکاح کی تارینخ رکھنے آئے تھے۔۔۔
نغمہ بہن زوجاجہ بیٹی کو بولا لیں ۔۔۔۔
جی میں بولا کے لاتی ہوں۔۔۔۔
اجالا جاو زوجاجہ کو لے کے آو۔۔۔
جی دادو ۔۔۔۔
اجالا زوجاجہ کے کمرے میں گئ زوجاجہ رونے میں مصروف تھی۔۔
ارے زوجاجہ یہ کیا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئ نیچے سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔اور تم تو کیوں رہی ہو۔۔۔پاگل ابھی تمہاری رخصتی نہیں ہے۔۔۔۔
اجالا پلیز تم جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔
بات تو بتاو ہوا کیا ہے اور تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔
تم نہیں سمجھو گی ۔۔۔۔
تم سمجھاو گی تو سمجھونگی نہ ۔۔۔اچھا اب بتاوکیا ہوا ہے یہاں تم اداس ہو اور وہاں وہ علی کا بچہ۔۔۔کل سے سڑا بیٹھا ہے پتا نہیں تم دونوں کو کیا۔۔۔۔۔
اجالا اچانک اچھل پڑی۔۔۔ویٹ ویٹ تویہاں کچھ اور معاملہ ہے۔۔۔زوجاجہ میری طرف دیکھو۔۔اور بتاو یہ معاملہ کیا ہے ۔۔ ۔۔
اب بتاو تم نے شادی کیوں نہی کرنا چاہتی ۔۔۔
چھوڑو اجالا اگر تمہیں بتا دیا تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گئ۔۔۔۔۔
اففف تم بتاو تو سہی ۔۔۔۔
میں یہ شادی اس لیے نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں کسی اور ۔پسند کرتی ہوں۔۔۔۔
اور وہ پسند علی ہے۔۔۔۔۔اجالا نے جانچتی نظروں سے زوجاجہ کی طرف دیکھا۔۔۔
ہاں۔۔۔
اووو پاگل لڑکی تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔
پہلے بتا دیتی تو تم نے کون سا اس کو راضی کر لیتی۔۔۔
اچھا یہ بتا یہ آگ دنوں طرف سے لگی ہے ۔۔۔۔۔
آگ دونوں طرف سے لگی تھی لیکن اس نے یہ محبت کی آگ بجھا دی ۔۔۔۔
افف وہ بات بتاو جو تمہارے اور علی کے بیچ ہوئ۔۔۔
کل رات علی آیا تھا میرے کمرے میں ۔۔۔کہتا ہے خوش ہو اس رشتے سے میں نے کہا۔۔۔نہیں
۔۔۔
میں نے کہا پلیز علی یہ رشتہ نہ ہونے دو اور تم امی سے بات کر لو۔۔۔
لیکن وہ کہتا ہے میں ابھی اس جھنجھڈ میں نہیں پڑنا چاہتا ابھی مجھے اپنا کیریر بنانا ہے مجھے تم سے شادی کرنی ہے لیکن ان دو سالوں تک نہیں ۔۔۔
میں نے کہا کہ لیکن امی کو جلدی ہے میری شادی کی تو کہتا ہے اگر چاچی بول رہی ہیں تو تم یہ شادی کر لو۔۔۔
زوجاجہ اتنا کہہ کے رو پڑی۔۔۔۔
اچھا تم رو نہیں میں علی سے بات کرتی ہوں۔۔
چھوڑو اجالا جب اس نے میری نہیں سنی تو تمہاری کہاں سنے گا وہ خود غرض ہے اسے صرف اپنی پرواہ ہے اسے فرق نہیں پڑتا کہ سامنے والے پہ کیا گزر رہی ہے۔۔۔۔۔
اچھا ابھی فلحال ہمیں اس رشتےکو روکھنا ہے بس تم تیار ہو کے نیچے آو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔۔
اجالا پندرہ منٹ بعد ثوبیہ اور فاطمہ کے ساتھ آئ۔۔۔زرجاجہ تیار ہو چکی تھی۔۔
فاطمہ اور ثوبیہ شوخ نظروں سے زوجاجہ کہ طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ ۔
تم نا بہت بڑی گننی ہو۔۔۔۔
اب ادھر آو پلین بتاتی ہوں۔۔۔
اجالا پلین بتا کہ نیچے چلی گئ۔۔۔اب بڑوں کو ثوبیہ اور فاطمہ نے سنبھالنا تھا۔۔۔۔
اجالا زوجاجہ کو نیچے لے کے گئ ۔۔۔
دادو اور ماما -آپ ایک منٹ باہر جائیں مجھے آنٹی سے کچھ باتیں کرنی ہے۔۔۔۔۔زوجاجہ نے دونوں کو باہر بھیج دیا سامنے صوفے میں بیٹھی دو آنٹیان مشکوک نطروں سے زوجاجہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسلام و علیکم آنٹی۔۔
زوجاجہ نے سلام کیا۔۔
وعلیکم سلام بیٹی۔۔
آنٹی مجھے ان سے ضروری بات کرنی تھی آپ پلیز تھوڑی دیر کے لیے باہرجائیں گی۔۔
دوسری انتی زوجاجہ کی بات سن کے باہرچلی گئ ۔۔۔
وہ ایکچلی آنٹی وہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔
آپ میری بات کا غلط مطلب نہیں نکالیں گا ۔۔
مجھے یہ شادی نہیں کرنی میں امی سے بات کر چکی ہوں لیکن وہ راضی نہیں ہیں۔۔
آپ کے بیٹے کو مجھ سے بھی اچھی لڑکی مل جائے گی آپ پلیز اس رشتے سے انکار کر دیں آپ کی بھی بیٹی ہوگی آپ سمجھ سکتی ہیں ۔۔۔میری ساری زندگی کی بات ہے اتنا بڑا فیصلہ مت کریں اس رشتے سے تین شخص کی زندگی برباد ہوگی میری آپکے بیٹے کی اور علی کی اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا بیٹا ساری زندگی خوش رہے تو پلیز آپ خود اس رشتے سے انکار کردیں باقی آپ کی مرضی
زوجاجہ اتنا کہہ کے باہر چلی گئ۔۔۔
دادو اور فرحان صاحب اندر چلے گئے۔۔۔
بہن تاریخ رکھیں ۔۔
آ ہاں بھائ صاحب زوجاجہ بیٹی کی باتیں سن کے لگتا تو نہیں کے اس کا دل ہے اس رشتے میں۔۔۔
آپکی بیٹی تو کسی علی کو پسند کرتی ہے
چلو بہن اٹھو ہمیں نہیں کرنا اس گھر میں رشتہ ابھی لڑکی کنٹرول میں نہیں ہے آگے جا کے کیا گل کھلائے گی۔۔۔۔
مہمان جا چکے تھے۔۔۔
اے کمبخت زوجاجہ ادھر مر۔۔۔سامنے آ میرے اور بتا مجھے کہ ان کے سامنے کیا بات کی تھی۔۔۔
جی امی آپ نے بلایا۔۔۔
زوجاجہ تمیز کے ساتھ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔
بتا کیا بولا تھا ان کے سامنے ۔۔۔۔بول بولتی کیوں نہیں ۔۔۔اور وہ اجالا بھی ساتھ تھی نہ تیرے اس کو بلاو۔۔۔۔۔ارے او اجالا ادھر آ۔۔۔۔
جی چچی آپ ۔۔۔اس سے پہلے اجالا کچھ بولتی چاچی کے تھپڑ نے اسکا منہ بند کروا دیا۔۔۔۔
اجالا منہ بھی ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے چاچی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ارمان ارحم راحیل جنید اور علی سب شور کی آواز سن کے نیچے آگئے ۔۔۔۔۔
امی ان سب میں اجالا کی کوئ غلطی نہیں ہے۔۔۔
***********♡***********
بتا یہ سب کس کا پلین تھا۔۔۔۔
امی یہ سب میرا پلین تھا ان سب میں اجالا کی کوئ غلطی نہیں ہے۔۔آپ پلیز اس کو کچھ نہ بولیں۔۔۔
مجھے بےوقوف نہ بنا زوجاجہ میں سب جانتی ہوں یہ تیری اکیلے کا پلین ہوہی نہیں سکتا ہاں علی وہ علی کا نام کے رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہاں اس پلین میں علی بھی شامل تھا یہ سارا پلین علی کا تھا۔۔۔اجالا نے بم پھوڑا۔۔۔علی جو پانی کا گلاس منہ پہ لگائے کھڑا تھا اچانک سے کھانسنے لگ گیا۔۔۔۔علی آنکھیں پھاڑے زوجاجہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
فرحان صاحب صوفے سے اٹھ کے علی کے پاس آئے
علی جو زوجاجہ کہہ رہی ہے کیا وہ سچ ہے۔۔۔
علی کچھ نہ بولا۔۔۔۔بھائ صاحب دیکھ رہے ہیں اپنے بیٹے کے کرتوت۔۔۔پھر آپ ہی کہتے ہیں کہ میں بلا وجہ الزام لگاتی ہوں ہائے میری بیٹی تو بدنام ہو جائے گی اب میں کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہی۔۔۔
نغمہ میرے بیٹے نے زوجاجہ بیٹی کی عزت خراب کرنا چاہی اب یہی اس کو اپنی عزت بنائے گا۔۔۔۔
علی جو سر جھکائے کھڑا تھا بے یقینی نے اپنے ابو کی جانب دیکھا۔۔۔
فرحان صاحب اپنی بات کہہ کے جا چکے تھے۔۔۔
علی غصے سے وہاں سے واک آوٹ کر گیا۔۔۔باری باری اب بڑے اپنے کمرے میں چلے گے اب حال میں ارمان اور اجالا کھڑے تھے۔۔۔
یہ سب کیا کیا تم نے اجالا ذرا مجھے بتانا ۔۔
اجلاس یہ ساری بات ارمان کو بتادی۔۔۔
یا اللہ تم مجھے بتاتی ہم کوئ اور راستہ نکالتے یہ کون سا طریقہ تھا جو تم نے آج کیا۔۔۔اور یہ علی اس کو تو میں نہیں چھوڑونگا مجھ سے اتنی بڑی بات چھلائ۔۔۔۔
***********♡***********
زوجاجہ ٹیرس پہ کھڑی چاند دیکھ رہی تھی علی غصے میں سیدھا زوجاجہ کے پاس چلا گیا۔۔۔۔
کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے مجھے اپنے ہی گھر والوں کے سامنے بدنام کروا دیا۔۔۔
میں میں نے تمہارا نام نہیں لیا جس سے لیا ہے اسکو بولو۔۔۔۔۔
کام تو تمہارا تھا نہ جب میں نے کہہ دیا تھا کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تو کیوں کی یہ حرکت۔۔۔علی زوجاجہ کو دونوں بازووں میں جکڑے کھڑا تھا۔۔۔
علی۔۔۔۔پیچھے سے ارمان نے آواز دی۔۔۔
حرکت دیکھ ان دونوں کی خود تو سائڈ میں ہوگئ اور مجھے بدنام کردیا۔۔اور اجالا تمہیں کچھ ذیادہ ہی شوق ہے دوسرے کی زندگی میں دخل اندازی کرنے کا کرنے دیتی اس کو شادی شاید عقل ٹھیکانے آجاتی ۔۔۔
ہاں ہوجاتی میری شادی تمہارے دل کو بھی سکون آجاتا تم تو شکرانے کے نفل ادا کرتے کہ جان چھوٹ گئ۔۔۔میں ہی پاگل تھی جو تمہارے لیے رب سے دعائیں کرتی تھی دماغ خراب تھا میرا۔۔۔زوجاجہ کہہ کے نیچے چلی گئ۔۔۔
تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے اس کی شادی کسی اور کے ساتھ ہوتا دیکھ نہیں سکتے اور خود شادی کر نہیں سکتے تو تم چاہتے کیا ہو۔۔۔۔
اجالا میں بھی زوجاجہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن ان دو سالوں میں نہیں مجھ سے نہیں اٹھائ جائیں گی یہ ذمہ داری ابھی فلحال دو سال تک کوئ ارادہ نہیں ہے میرا لیکن چاچی کو تو بس اسی سال زوجاجہ کی شادی کی جلدی ہے۔۔۔
تو بےوقوف تجھے کس نے کہا کہ ابھی شادی کر۔۔۔نکاح ابھی کر لے رخصتی دو سال بعد کر لینا۔۔کم ازکم بڑوں سے بات تو کر کسی کو کچھ بتایا بھی نہیں اور دیوداس بن گیا اس کے پیار میں عقل کیا گھاس چرنے گئ تھی۔۔
