Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sange Dar e Janan (Episode 06)

Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan

زوجاجہ اور علی کا نکاح تو ہو

گیا اب شادی کا ارادہ کب ہے مجھے تو جلدی اپنی بیٹھی چائ ہے کب سے ارمان ہے

اپنے علی کے سر ہے سہرا سجوانے کا۔۔۔

بہو ہم تو اسی وقت رخصتی کر دیتے لیکن

تمہارا ہی بیٹا نہیں مانا دو سال کا وقت مانگا ہے۔۔۔۔

دیورانی جی ہمارے بھی بیٹے ہیں ہم تو ابھی تک کوئ آس لگا کے نہیں بیٹھے

اور ایک آپ ہیں اتنی جلدی بیٹے کی شادی کی جلدی ہے۔۔۔

بھئ تم دونوں بھلے ہی اپنے بیٹوں کی نہ کرو لیکن مجھے جلدی ہے مجھے علی کے سر ہے سہرا سجائے دیکھنا ہے۔۔۔۔۔

ارے نغمہ تمہارا تو ایک ہی بیٹا ہے اور اتنی جلدی ہے شادی کی اور یہاں آمنہ کے تو تین بیٹے ہیں اسے تو کوئ ٹینشن نہیں ہے دیکھو کیسے آرام سے ہے۔۔

آمنہ تم اپنے بیٹوں کی کب شادی کرو گی کوئ لڑکی نظر میں ہے کہ نہیں ۔۔۔

جیٹھانی جی میں تو روز کہتی ہوں

لیکن ارمان شادی کے لیے مانتا ہی نہی کہتا ہے پہلے اپنا بزنس سیٹ کرونگا پھر شادی

رہی بات راحم اور ارحم کی تو جب تک بڑے بیٹے کی شادی نہیں ہوجاتی

تب تک دونوں کی بھی نہیں ہوگی شادی اور فاطمہ کے تو رشتے بھی آرہے ہیں لیکن کوئ مناسب رشتہ نہیں آیا ابھی تک۔۔۔

اور تم جنید کی شادی کب کر رہی ہو۔۔۔

بھئ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے میں کچھ بولوں تو منہ کو آتا ہے۔۔۔۔۔

اچھا ایک بات تو بتائیں یہ خرم اجالا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا کیا نہ کوئ فون آیا

خیر خیریت بھی نہیں پوچھی پانچ مہینے ہوگئے اجالا کو یہاں آئے ہوئے

اب اجالا کے آگے کے بارے میں بھی تو سوچے نہ خرم بس اپنی زندگی سوار رہا ہے بہن کی تو ہوش ہی نہیں ۔۔۔۔۔

کیا پتا امریکہ جا کے کسی گوری سے شادی کرلے اور اس لڑکی کو ہمارے سر پہ مسلت نہ کر دے۔۔۔

چاچی آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کے سر پہ مسلت نہیں ہونگی آج خرم بھائ سے بات ہوئ ہے اس مہینے کی آخر میں بھائ آرہے ہیں۔۔۔

آپ کو اپنا گھر مبارک۔۔۔چلی جاونگی یہاں سے بہت جلد۔۔۔۔اجالا جو کب سے پردے کی اوٹ میں چھپی اپنی چاچی کی باتیں سن رہی تھی

آخری بات پہ غصے میں تلملا گئ ۔۔۔۔۔

**********♡********

کل کے مقابلے آج ذیادہ ہی گرمی تھی خان ویلا کے سب مرد حضرات اپنے اپنے کام سے آفس گئے تھے اور خواتین کچن میں مصروف تھیں

رات کے کھانے کا انتظام کر رہی تھیں خان ویلا کا اصول تھا

بھلے ہی دوپہر کا کھانا سب الگ الگ کھائیں لیکن رات کا ڈنر ساری فیملی ایک ساتھ کرتی تھی ۔۔۔۔

۔دادو ہمیشہ کی طرح دوپہر کے وقت قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی اور سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے

سوائے نغمہ بیگم کے جو اس وقت آرام فرما رہی تھیں

اور اپنا کام اجالا کے سپرد کر دیا تھا اجالا بھلے ہی منہ پھٹ تھی لیکن بڑوں کا کہنا ماننا اس کی تربیت میں شامل تھا۔۔۔۔

زوجاجہ سامنے صوفے میں برجمان رات کر کھانے کے لیے پیاز کاٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ آنسو بھی بہا رہی تھی ۔۔۔۔

سامنے سے آتا علی زوجاجہ کی آنکھ میں آنسو دیکھ کے تڑپ گیا لیکن اگلے ہی پل پیاز کو دیکھ کے سمجھ گیا۔۔

۔چپ چاپ زوجاجہ کے قریب جا کے اس کے کان میں سوگوشی کی

ہم نے جس کی یاد میں رو رو کر

آنسوؤں کے ٹب بہر دیے

وہ آئے نہائے اور چلے گئے!

زوجاجہ اچھل پڑی سامنے علی کو دیکھ کے بوکھلا گئ

اور پیاز والے ہاتھ اپنے منہ پہ لگا دے جس سے زوجاجہ کے منہ پہ جلن ہونے لگ گئ۔۔۔۔

آآآ میرا منہ مجھے مرچین لگ رہی ہیں۔۔

ایک منٹ تم ادھر بیٹھو ۔۔۔

علی کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔۔

ڈفر بٹھا کیا رہے ہو پانی لے کے آو۔۔۔زوجاجہ چڑکے بولی۔۔۔

علی بھاگ کے کچن کی جانب گیا جلد بازی میں چائے کے کپ میں ہی پانی لے آیا ۔۔۔۔۔

زوجاجہ ایک آنکھ کھولے جیسے ہی پانی کا کپ پکڑا فورا غصے میں آگئ۔۔۔

واہ ماشاللہ بہت ذیادہ پانی لائے ہو اس پانی میں تو میں ڈوب جاونگی

ایک کام کرو تم اسی پانی میں ڈوب مرو ۔۔۔۔

تم نے پانی پینے کے لیے مانگا تھا سو میں لے آیا۔۔۔علی معصومیت سے بولا۔۔۔

میں نے پانی پینے کے لیے نہی اپنے منہ پہ چھڑکے کے لیے مانگا تھا اب ہٹو آگے سے اس سے پہلے میں اندھی ہو جاو آنکھوں میں مریں لگ رہی ہیں۔۔۔۔پتا نہیں کس بونگے سے نکاح کر لیا ابھی سے یہ حال ہے تو شادی کے بعد کیا ہوگا ۔۔۔زوجاجہ غصے سے بڑبڑا کے کچن کی جانب چلی گئ۔۔۔۔

****************

یار موسم کرنا پیارا ہے۔۔۔۔۔اور دیکھو ہلکی ہلکی بوندہ باندی بھی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔اجالا آسمان کی جانب گردن اٹھا کے بولی۔۔۔۔

ہاں اور اب اسی خوشی میں پکوڑے بناتے ہیں۔۔فاطمہ کرسی سے اٹھ کے بولی۔۔۔

دو منٹ گزرے تھے کہ اجالا کے موبائل کی بپ بجی ۔۔۔

بارش ہوئی تو آفس کی کھڑکی سے لگ کے ہم

چپ چاپ سوگوار تمہیں سوچتے رہے۔۔۔

ارمان کا میسج پڑھ کر اجالا مسکرا دی۔۔۔

اچھا سنو آج ہم جلدی گھر آئیں گے تم نے پکوڑے تیار رکھنے ہیں۔۔۔۔ارمان کا حکم نامہ سن کے اجالا مسکرا دی۔۔۔ابھی سے حکم ۔۔۔دل میں سوچا۔۔۔۔

یار پکوڑے ذیادہ بنانا ارمان علی کا حکم ہے کہ وہ دونوں آرہے ہیں تو پکوڑوں کی فرمائش کی ہے۔۔۔

پندرہ منٹ بعد ارمان جنید اور علی کی گاڑی اندر آتی دیکھائ دی۔۔۔۔

تینوں نے گاڑی سے اتر کے لان کی جانب قدم بڑھائے۔۔۔۔

اسلام و علیکم۔۔۔ارمان اجالا کی برابر والی کرسی میں بیٹھ کے سلام کیا۔۔۔

فاطمہ نے ارمان کی جانب پکوڑوں والی پلیٹ بڑھائ۔۔۔

بھائ پکوڑے کھائیں۔۔۔۔

ارمان نے پلیٹ پکڑ لی۔۔۔شکریہ۔۔۔۔

ارمان پکوڑے اور چائے کے مزے لوٹ رہا تھا پاس بیٹھ اجالا نے اپنا ہاتھ بڑھا کے ارمان کی پلیٹ سے پکوڑے اٹھائے۔۔۔

رکھ کر میرے ہونٹو پر انگلی

بھوکی میرے سارے پکوڑے کھاگئ…..

ارمان کے شعر پڑھتے ساتھ ہی اپنی پلیٹ دوسری جانب کر دی۔۔۔

تو جو کہتا تھا

“تیری میری خوب شناسائی ہے ،

پھر بتا مجھے دیکھتے ھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔پکوڑوں کی پلیٹ کیوں چھپائی ہے۔۔۔۔”

اجالا کے شعر سنتے ہی سب ہنس دیے سوائے جنید کے۔۔۔

__________________

آج کی شام بڑی بوجھل ہے

آج کی رات بڑی قاتل ہے

آج کی شام ڈھلے گی کیسے

آج کی رات کٹے گی کیسے

آگ سے آگ بُجھے گی دل کی

************♡**********

یا اللہ ۔۔۔دیکھ ارحم یہ سب کیسے مزے لوٹ رہے ہیں پکوڑوں کے اور ہمیں بتانا بھی گوارہ نہیں کیا

بس آج پتا چل گیا یہ خونی رشتے کچھ نہیں ہوتے اور تو ارمان کی اے بڑے مزے سے پکوڑے کھا رہا ہے ۔۔۔

ہاں تو تم بھی آجاتے کس نے منع کیا تھا۔۔۔

ارمان نے ہنس کے کہا

ہاں جیسے ہمیں الہام آیا تھا نہ کے تم سب یہاں بیٹھ کے موسم کے مزے لوٹ رہے ہو۔۔

ایک کال ہی کر دیتا۔۔۔۔راحم غصے سے تلملا گیا۔۔۔

ذیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے

تمہارے لیے بھی رکھے ہیں پکوڑے الگ سے ،جاو ثوبیہ دوسری پلیٹ لے کے آو۔۔۔۔اجالا نے ثوبیہ کو حکم دیا۔۔۔

ہائےےے میری پیاری کزن یہ ہوتے ہیں سچے کزن دیکھا کتنا خیال ہے ہم دونوں معصوم بھائیوں کا۔۔۔

ہیں خیال نہیں ہے تمہارا وہ تو بس یہاں سب کا پیٹ بھر گیا پکوڑے یہاں پڑے پڑے باسی ہو رہے تو سو اندر کچن میں رکھوا دیے تھوڑے بہت بچ گئے تھے۔۔۔

اجالااااااا تیری تو رکھ تجھے بتاتا ہوں ہمیں بچے ہوئے پکوڑے کھلائے گی۔۔۔

ارحم اجالا کی جانب لپکا اتنے میں اجالا وہاں سے بھاگ گئ۔۔۔۔

اجالا بھاگ رہی تھی ارحم اجالا کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا جو ہاتھ ہی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔

یہ کمینہ میری ہونے والی بیوی کو لنگڑا ہی نہ کر دے ۔۔۔۔۔

یا اللہ سمبھال لینا۔۔۔ارمان اجالا کو بھگتا دیکھ کے دل ہی دل میں دعا مانگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اوئےےےے بارش ہوگئ سب اندر چلو۔۔۔۔

اجالا بھاگ کے ائ۔۔۔۔۔

سب اندر چلے گئے لیکن ارمان اور علی وہیں بیٹھے بارش کے مزے لوٹ رہے تھے

علی اور ارمان کو دیکھ کے سب واپس وہیں چلے گئے۔۔۔

جنید کب سے ارمان اور اجالا کو تکےجا رہا تھا اور یہ بات اجالا باخوبی نوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔

سب بارش میں نہانے میں مصروف تھے

جنید وہیں کھڑا

ارمان کو نفرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

نفرتوں کے بازار میں جینے کا الگ ہی مزا ہے ۔۔۔۔

لوگ جلانا نہیں چھوڑتے ھم مسکرانا نہیں چھورتے

اجالا نے ہلکے سے شعر پڑھا تو جنید نے چونک کے پیچھے دیکھا ۔۔۔

اجالا شعر سنا کے ارمان کی جانب بڑھ گئ۔۔۔

بہت لمبی اڑان اڑ رہی ہے

منہ کے بل نہ گھرایا نہ تو میرا نام بھی جنید عمران نہیں ۔۔۔

************♡*************

ارمان کل خرم بھائ کا فون آیا تھا وہ پرسوں واپس آرہے ہیں۔۔

ارمان اور اجالا اس وقت چھت کی سیڑھیوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔

اچھا یوں اچانک ۔۔۔ارمان اجالا کی طرف دیکھ کے پوچھا۔۔۔

ہممم بس ڈیل ہوگی تو واپس آرہے ہیں مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔۔۔اجالا اداسی سے بولی۔۔۔

جب خرم یہاں آئے گا تو میں رشتے کی بات کرونگا گھر والوں کو بھیجنے کی تم ٹینشن نہیں لو۔۔۔

ارمان کی اجالا کی اداسی دیکھ کے بولا۔۔۔

ابھی فلحال اچھی اچھی باتیں کرو۔۔۔

اچھا ارمان تم جنید پہ کتنا بھروسہ کرتے ہو۔۔

اجالا کے دماغ پہ اچانک سوال آیا۔۔۔

یہ بھی کوئ پوچھنے کی بات ہے بھئ اپنی جان سے بھی ذیادہ بھروسہ کرتا ہوں۔۔

مطلب مجھ سے بھی ذیادہ۔۔۔

ابھی تو کہاں اپنی جان سے بھی ذیادہ۔۔۔

ارمان نے مذاق میں کہا۔۔۔۔

میرا بھائ میرا دوست میرا جگر میرا کزن سب کچھ ہے وہ ۔۔۔۔ایسے سچے دوست آجکل کہاں ملتے ہیں۔۔

۔ویسے تم نے کیوں پوچھا۔۔۔۔

بس ایسے ہی تمہاری دوستی دیکھ کے ذہن میں سوال آگیا۔۔۔۔اچھا فرض کرو کہ تم اس پہ آنکھ بند کر کے بھروسہ کرو اور وہ تمہیں دھوکہ دے تو۔۔۔

ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ مجھے دھوکا دے اور رہی بھروسے کی بات تو اگر اس نے میرا بھروسہ توڑا تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہونگا ۔۔۔۔

اور اگر کوئ شخص خود اپنے منہ سے کہے کے جنید تمہیں دھوکا دے رہا ہے تو تب کیا کرو گے۔۔۔۔

یقین نہیں کرونگا اس شخص کی باتوں پہ ثبوت جب تک نہ ہو اس کے پاس۔۔۔۔بنا ثبوت کے پوری دنیا جنید کے خلاف ہوجائے لیکن میں پھر بھی جنید پہ یقین کرونگا

ارمان تم بہت بھولے ہو تمہیں نہیں پتا وہ آستین کا سانپ ہے وہ تمہیں دھوکا دے رہا ہے وہ تمہارے ساری پراپرٹی پہ قبضہ جمانے کے منصوبے تیار کر رہا ہے میں تمہیں کیسے سمجھاون ۔۔۔۔۔۔اجالا اپنے خیال میں کھوئ ہوئ تھی۔۔۔

ہیلو کہاں کھوگئ ۔۔۔ارمان نے اجالا کے سامنے چٹکی بجائ۔۔۔۔

اچھا مجھے بہت نیند آرہی ہے میں سونے جا رہی ہوں گڈنائٹ۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *