Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sange Dar e Janan (Episode 07)

Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan

ارمان آج خرم آرہا ہے سب بچے جانے کی ضد کر رہے ہیں تو تم اور جنید ان سب کے ساتھ چلے جاو ۔۔۔۔

دادی کی بات پہ ارمان چونک گیا۔۔

دادی یوں اچانک اجالا تو بتا رہی تھی کہ وہ دو دن بعد آئے گا۔۔

بس بیٹا کل رات ہی فون آیا کہہ رہا تھا کہ کام ختم ہوگیا اب واپس آرہا ہے۔۔۔

اچھا”۔۔۔۔”

بیٹا تم بھی چلے جانا بچوں کے ساتھ۔۔۔

نہیں دادو آج بہت ضروری میٹنگ ہے میں نہیں جا سکتا باقی سب چلیں جائیں جنید تم بھی چلے جاو ویسے بھی آج آفس میں تمہارا کوئ کام نہیں ہے ۔۔۔۔

ارمان اتنا کہہ کے آفس چلا گیا۔۔۔۔

اجالا تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی وی ہو۔۔۔

جلدی کرو دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔خرم کی فلائٹ کا ٹائم ہونے والا ہے۔۔۔خدا کا واسطہ آج کے دن تو موبائل کی جان بخش دو۔۔۔ادھر دو موبائل۔۔۔ثوبیہ اجالا کے ہاتھ سے موبائل لے کے باہر چلی گئ۔۔۔

ارے میرا موبائل واپس دو ۔۔۔اجالا پیچھے سے چلا رہی تھی۔۔۔۔

ارمان کے بچے تم نے اچھا نہیں کیا یار اب میں تمہیں کیسے بتاوں کے میں وہیں سے ہی اپنے گھر چلی جاونگی ۔۔۔۔۔اجالا سوچ میں پڑگئ۔۔۔۔

چلو چلو جلدی گاڑی میں بیٹھو دیر ہو رہی ہے۔۔۔علی چلا رہا تھا بچارا آدھے گھنٹے سے لان میں سب کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔

ہاں بھئ آگئے ہم۔۔۔۔اچھا اجالا تم نے اپنا سارا سامان رکھ لیا۔۔۔۔۔ثوبیہ نے اجالا سے پوچھا۔۔اجالا نے غائب دماغی سے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔

اچھا میری بچی اپنا اور خرم کا خیال رکھنا ۔۔۔خرم کو کیا جلدی تھی کہ وہیں سے گھر جانے کی ضد کر بیٹھا بھئ ادھر آتا دو چار دن رکھتا بچارا تھکا ہوا ہوگا۔۔۔

دادو آپ ٹینشن نہ لیں بھائ بہت پھرتیلے ہیں دیکھ لینا آج پاکستان آئے اور کل فورا آفس کی ڈور لگا دیں گے۔۔۔۔

اچھا چاچی خدا حافظ ۔۔۔اجالا سب سے مل کے گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔۔

میرے بچے اپنا خیال رکھنا اور گھر پہنچ کے کال کر دینا۔۔۔ پھر پتا نہیں اگلی ملاقات کب ہوئئے۔۔۔۔فرحان صاحب نے اجالا کے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔

سب کزنز کی ٹولی گاڑی میں بیٹھ گئ علی نے شکر کا سانس لیا اور گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔۔۔۔

**********♡********

ہائے میری چپس کا پیکٹ کہاں گیا ادھر ہی تو رکھی تھی۔۔اجالا پریشانی سے بولی۔۔۔۔

اجالا کہیں یہ تو نہیں ہے تمہاری چپس۔۔۔ارحم چپس کا پیکٹ ہاتھ میں لے کے بولا۔۔۔

بھوکے ندیدے تم نے میری چپس چرائ تمہیں تو میں قتل کردونگی۔۔۔۔اجالا نے ارحم کے بال کھینچنے ۔۔

آہ جلاد لڑکی بال چھوڑو ۔۔۔۔۔چڑیل ۔۔۔۔

کیا لڑکی ہے یار ایک چپس کے پیکٹ کے لیے میرا قتل کرنے چلی تھی۔۔۔۔

ہاں وہ میرا چپس تھا اس پہ صرف میرا حق تھا تم نے میرے حق پہ ڈاکا ڈالا ہے ۔۔۔۔

اللہ رحم کرے اس انسان پہ جس سے تمہاری شادی ہوگی۔۔۔پتا نہیں بچارے کا کیا حال ہوگا۔۔۔اجالا تم نہ کسی گنجے انسان سے شادی کرنا ۔۔۔۔راحم نے مشورہ دیا۔۔۔

ہیں کیوں میں کسی گنجے ٹکلے انسان سے کیوں شادی کروں ۔۔۔۔۔اجالا صدمے سے بولی۔۔۔۔

بھئ ویسے بھی تم نے اسے ایک مہینے کے اندر اندر گنجا کر ہی دینا ہے۔۔۔

تم نا ارحم سے بھی دو ہاتھ آگے ہو۔۔۔

علی علی گاڑی روکھو ۔۔۔اجالا چلائ۔۔

یا اللہ خیریت۔۔۔علی نے اچانک سے بریک لگائ۔۔۔

کیا ہوا اجالا گاڑی کیوں رکھوائ ۔۔۔علی نے پیچھے مڑ کے پوچھا۔۔۔

وہ سامنے ڈھابا ہے نہ وہاں سے چائے پینی ہے۔۔۔

واٹ۔۔۔تم نے ایک چائے کے لیے گاڑی رکھوائ ۔۔۔علی نے اجالا کو غصے سے گھورا ۔۔۔۔

اچھا اب چپ چاپ چلو۔۔۔اجالا گاڑی سے اترنے لگی علی نے روکھ دیا۔۔۔

ایک منٹ تم سب ادھر ہی بیٹھو میں یہیں چائے لے آتا ہوں۔۔۔

نہیں ہم سب وہاں چل کے چائے پیئں گے ہے نا گانز ۔۔۔

یس چلو حملہہہہہہ۔۔۔راحم گاڑی سے اتر کے جوش سے بھاگا۔۔۔

اجالا تمہیں ادھر ڈھابے کا کیسے پتا تم تو ادھر کبھی آئ ہی نہیں ۔۔۔۔

جی نہیں میں ادھر بہت بار آچکی ہوں۔۔۔خرم بھائ کے ساتھ۔۔۔

اچھا ادھر تو آ سکتی ہو بس ہمارے گھر آنے میں موت پڑتی ہے۔۔حالانکہ ادھر سے بیس منٹ کا ہی راستہ ہے۔۔۔۔راحم چائے کا کپ اٹھا کے بولا۔۔۔۔

یار میں تو اجاوں لیکن بھائ نہیں لے کے آتے ۔۔۔۔

چلو چلو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔علی اٹھ کے بولا۔۔۔

اے بوٹکی۔۔۔۔ابیہا نے نہ سمجھی سے ارحم کی طرف دیکھا۔۔۔۔تم نے مجھے بوٹکی کہا۔۔۔

ابیہا نے آنکھیں پھاڑ کے پوچھا۔۔۔

ہاں تمہیں کہا اور کوئ یہاں دیکھ رہا ہے۔۔۔

میں تمہیں بوٹکی لگتی ہوں بوٹکی ہوگے تم کڑوے کریلے ۔۔۔۔

تم بوٹکی ہو کیونکہ تم مجھ سے قد میں چھوٹی ہو اور میں تم سے بڑا ہوں۔۔۔۔

ارحم کے بچے رکھ تجھے بتاتی ہوں کون بوٹکی ہے۔۔۔

ہائے ابھی تو میرے ہونے والے بچوں کی اماں پیدا نہیں ہوئ اور تم میرے نامعلوم بچوں تک پہنچ گئ۔۔۔

ارحم صدمے میں بولا۔۔۔

بیٹا تو رکھ تجھے تیرے نا معلوم بچوں کے پاس بھجواتی ہوں ۔۔۔۔اجالا ارحم کے پیچھے بھاگی ۔۔۔۔۔

یار اب تم دونوں کیوں بھاگ رہے ہو بیٹھو گاڑی میں۔۔علی چڑکے بولا۔۔۔۔

اب بار پھر سب اپنے واستے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔

پندرہ منٹ بعد سب ایرپورٹ پہنچے ایرپورٹ کے اندر جاتے ہی سامنے خرم نظر آگیا۔۔۔۔جو غصے سے ان سب کو ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔

بھااائئئئ ابھی خرم کو دیکھ کے چلائ۔۔۔۔

بھاااائئئ اجالا خرم کے گلے لگ گئ۔۔۔

میری جان کیسی ہے اور بھائ کو مس کیا کہ نہیں ۔۔۔۔خرم اجالا کو اپنے سے الگ کر کے پوچھا۔۔۔

مت پوچھیں بھائ دن رات آپ کو یاد کیا آپکو پتہ ہے نہ جب تک آپکو یاد نہ کرلوں دن ہی نہیں گزرتا۔۔

اللہ اجالا تم رو رہی ہو ادھر دیکھو۔۔۔میں آگیا ہوں نہ اب کہیں نہیں جاونگا چلو آنسو پہنچو ۔۔۔۔۔

ایکسکیوز میییی ۔۔۔ارحم نے پیچھے سے ابیہا کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے ہلایا۔۔۔۔۔

کیا تکلیف ہے۔۔۔۔

ہم یہاں آپ کا ایموشنل سین دیکھنے نہیں آئے ہم بھی یہاں خرم سے ملنے آئے ہیں مہربانی کر کے سائڈ میں ہوں تاکہ ہم سب آرام سے مل سکیں ۔۔۔۔

اجالا سائڈ میں ہوگئ خرم باری باری سب سے ملا۔۔۔

یار یہ لیلا بکریاں ساتھ کیوں لائے ہو ۔۔۔۔خرم چڑکے بولا۔۔۔

بھئ ہم تو منع کر رہے تھے لیکن یہ شیطانوں کی ٹولی سنتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔یار ویسے اچھا ہوا تم آگئے ورنہ ایک دن اور یہ بوٹکی کو جھیلنہ بہت مشکل تھا افففف کیا آفت ہے یہ بھی تم ماہان ہو جو اس بوٹکی کو جھیل رہے ہو۔۔۔۔

بھائئئ یہ بوٹکا مجھے بوٹکی کہہ رہا ہے کب سے آپ اسے ڈانٹیں۔۔۔۔

ارحم ۔۔۔خرم نے ارحم کو آنکھیں دیکھائ جسے دیکھ کے ارحم چپ ہوگیا اجالا نے ارحم کو منہ چڑایا ۔۔۔۔

چلو یار اب کیا ساری رات ادھر ہی رکھنا ہے۔۔۔

سب ایک بار پھر اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔

***********♡********

سو مسٹر ارمان آپکے ساتھ ڈیل کر کے خوشی ہوئ۔۔اب ہمیں اجازت دیں باقی ملاقات کل ہوگی۔۔خدا حافظ۔۔۔

خدا حافظ۔۔۔۔۔ارمان ہاتھ ملا کے بلڈنگ سے نیچے اتر گیا۔۔۔۔

میٹنگ کے دوران ارمان کا سیل بہت بار بج رہا تھا جسے ارمان اگنور کر رہا تھا۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھ کے موبائل آن کیا تو اجالا کی دس مسڈکال پانج میسیجز تھے۔۔۔ارمان انباکس کھول کے اجالا کا میسج پڑھنے لگ گیا۔۔۔

“ارمان میں آج جا رہی ہوں خرم بھائی مجھے ایرپورٹ سے ہی گھر لے جائیں گے” ہاں اگر تمہارے پاس وقت ہو تو یہاں (اجالا نے ایک خاص جگہ کا نام بتایا جو سب کزنز سے ڈیسائڈ کیا تھا کہ وہاں گھومنے جائیں گے )۔۔۔

آجانا ۔۔۔۔۔ارمان پریشان ہوگیا کہ اجالا نے بتایا کیوں نہیں کہ وہیں سے وہ گھر چلی جائے گی ارمان کو رہ رہ کر اجالا پہ غصہ آرہا تھا۔۔۔۔لیکن اگلے ہی پل دوسرا میسج پڑھ کے موڈ خوشگوار ہوگیا۔۔۔اجالا نے جو جگہ بتائ تھی ارمان اس جگہ سے پندرہ منٹ کی دوری پہ تھا۔۔۔ارمان نے موبائل ڈیش بورڈ پہ رکھا گاڑی اسٹارٹ کر کے اپنی منزل کی جانب لے گیا ۔۔۔۔

************♡*********

بھائ کی چمچی خرم کے پہلو میں کیا چپک کے بیٹھی ہوئ ہے اٹھ ہمیں بھی خرم سے بات کرنے دے جا یہاں سے شو۔۔۔۔اجالا جو کب سے خرم کے ساتھ چپک کے بیٹی ہوئ تھی ارحم سے دیکھا نہ گیا تو بول اٹھا۔۔۔

تم جلو مت جب تم اپنے بھائ کے ساتھ بیٹھتے ہو تب کیا میں کچھ بولتی ہوں۔۔۔

اجالا بری بات تم ثوبیہ فاظمہ کے پاس جاو۔۔خرم سے اجالا کو سمجھایا۔۔۔

اوکے بھائ میں جا رہی ہوں لیکن یہ کوجا آپ سے جو بھی بات کرے آپ نے مجھے بتانا ہے۔۔۔

اوکے اب تم جاو۔۔۔۔

اجالا خرم کے پاس سے اٹھ کے فاطمہ کی جانب بڑھ گئ ۔۔۔خرم علی اور ارحم تینوں آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے جبکہ اجالا فاطمہ زوجاجہ اور راحم جگہ جگہ جا کے پکچرز لے رہے تھے۔۔۔۔

جنید کا کچھ اتہ پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔

اجالا فاطمہ کے پاس سے اٹھ کےپل کے دوسری جانب آگئ ۔۔۔۔۔

علی ارحم اور خرم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔علی کا موبائل بج اٹھا۔۔۔۔۔۔ارمان کالنک۔۔۔۔۔

علی نے ارمان کا نمبر دیکھ کے کال رسیو کی۔۔

ہیلو علی(ارمان سے جگہ بتائ ) میں یہاں کھڑا ہو مجھے تم لوگ دکھ نہیں رہے ہو تو ادھر آجا ۔۔۔۔

اوکے تو وہیں رکھ میں آتا ہوں۔۔۔

ارحم خرم آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔۔۔

بھائئئئ بچاوووو۔۔۔۔

یہ آواز یہ تو اجالا کی آواز ہے ۔۔خرم اجالا کی آواز سن کے بولا۔۔

ہاں وہاں سے آرہی ہے۔۔۔

دونوں اٹھ کے آواز کی سمت مڑ گئے۔۔۔

سامنے کا منظر۔۔۔ایک لڑکا اجالا کے ساتھ زبردستی کر رہا تھا خرم بھاگ کے اس آدمی کے پاس گیا ایک مکا رسید کیا۔۔۔۔ارحم بھی آگے بڑھ کے اس آدمی کو مارا اجالا ڈر کے خرم کے پیچھے چھپ گئ۔۔۔

انجان آدمی نے ارحم کے منہ پہ مکہ رسید کیا۔۔۔ارحم اس

حملے کے لیے تیار نہیں تھا نیچے گر پڑا ۔۔۔۔انجان آدمی نے پسٹل نکال کے ارحم کے سر پہ تان دی۔۔۔

خرم نے بھی فورا اپنی پسٹل نکال لی۔۔۔۔

چونکہ خرم ایک بزنس مین تھا ایسے واقعے خرم سے ساتھ بہت مرتبہ ہوئے تھے تب سے خرم اپنے ساتھ پسٹل رکھتا تھا۔۔۔۔

خبردار پسٹل نیچے پھینکو ورنہ اس لڑکے کی کھوپڑی اڑا دونگا۔۔۔۔

خرم پسٹل سامنے کیے کھڑا تھا۔۔۔۔

ارحم اور اس انجان آدمی کے پیچھے ہی پانی تھا۔۔۔

اس آدمی نے آہستے سے ارحم پہ اپنی گرفت ڈھیلی کی پیچھے کی جانب بڑھ کے پانی کی طرف چھلانگ لگا دی۔۔۔۔خرم اجالا اور ارحم اس آدمی کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک پسٹل چلی ہوا میں دھماکہ ہوا پسٹل کی آواز سن کے تینوں ساکت تھے۔۔۔۔خرم ابھی تک اپنی پسٹل کا نشانہ ارحم کی جانب کیا ہوا تھا ۔۔۔۔

ارمان علی دونوں خرم کی طرف آرہے تھے کہ فائر کی آواز چلی۔۔۔

************♡******

ارمان علی دونوں خرم کی طرف آرہے تھے کہ فائر کی آواز چلی۔۔۔

ارمان اور علی اپنی جگہ ساکت تھے۔۔۔۔۔گولی ارحم کو لگی تھی۔۔۔۔

ارحم کا وجود ڈھیلا ہوگیاارحم آنکھیں پھاڑے خرم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ارحم نے ارمان کی طرف ہاتھ اوپر کیا کہ پاوں پھسلا ارحم پانی میں گر گیا۔۔۔

سب سے پہلے ارمان ہوش میں آیا جی جان لگا کہ چلایا۔۔۔۔۔ارحممممممممم۔۔۔۔ارمان چلا کے ارحم کی جانب بھاگا لیکن دیر ہوگی تھی ارحم پانی میں گر گیا تھا۔۔۔۔۔

گولی کی اور ارمان کے چیخنے کی آواز سن کے زوجاجہ فاطمہ اور ثوبیہ اور راحم بھاگ کے ان کی جانب آئے۔۔۔۔

اجالا ابھی تک شاک کی کیفیت میں تھی۔۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔فاطمہ نے آگے بڑھ کے علی سے پوچھا جو ساکت تھا۔۔۔

علی کیا ہوا۔۔۔فاطمہ نے علی کو پکارا ۔۔۔۔۔

ہوں۔۔علی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔۔۔سب کے دماغ ماوف ہوگئے تھے۔۔فاطمہ نے خرم کی جانب دیکھا جو ابھی تک پسٹل ہاتھ میں لیے اسی پوزیشن میں کھڑا تھا۔۔۔

علی کیا ہوا ہے ارمان بھائی ایسے رو کیوں رہے ہیں اور یہ خرم نے پسٹل کیوں پکڑی ہوئ ہے۔۔۔کوئ مجھے بتائے گا کہ ہوا کیا ہے۔۔۔۔اور ارحم کہاں ہے۔۔۔

ارحمممم۔۔۔علی ارمان کی جانب بھاگا سب بھی ارمان کی جانب چلے گئے۔۔۔ارمان ادھر بیٹھے رورہا تھا۔۔۔

اجالا آہستہ آہستہ سمندر کی جانب جا رہی تھی۔۔

اجالا کیا ہوا ہے یار یہ ارمان ایسے کیوں رو رہا ہے اور کھائ میں کون گرا ہے۔۔۔ثوبیہ پریشانی میں اجالا کے پاس آئ۔ ۔

ار۔۔۔ارحم ارحم کو گو گولی لگی ہے وہ وہ۔۔۔پانی۔۔۔می میں گر گیا۔۔۔اجالا سے بولا نہیں جا رہا تھا۔۔۔

فاطمہ نے سنا تو وہیں ارمان کے پاس ڈھےگئے۔۔۔زوجاجہ بھاگ کے فاطمہ کی جانب آئ۔۔۔

فاطمہ چلا رہی تھی ارحمممممم۔۔۔۔زوجاجہ فاطمہ ثوبیہ اجالا کو اور علی ارمان اور راحم کو سمبھالنے کی کوشش کر رہا تھا جو بار بار پانی کی طرف دیکھ رہا تھا اگر علی ارمان کو نہ پکڑے رکھتا تو ارمان بھی پانی میں گر جاتا ۔۔۔۔جنید راحم کے پاس تھا۔۔۔

جنید علی کے پاس آیا۔۔۔۔علی میرے خیال سے ہمیں گھر چلنا چائ ہے رات کے باہر بج رہے ہیں گھر والوں کی کال بھی آرہی ہے ہم یہاں تو کچھ کر نہیں سکتے ۔۔۔

ہاں صحیح کہہ رہے ہو تم۔۔ ۔۔علی ارمان کی جانب آیا جو نیچے پانی کے پاس بیٹھا نیچے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔کوئ اور ہوتا تو سمندر کی طرف دیکھ کے ڈر جاتا لیکن ارمان اسی جگہ دیکھ رہا تھا جہاں ارحم گرا تھا۔۔۔

فاطمہ نے رو رو کے اپنا بڑا حال کر دیا تھا۔۔۔راحم بلکل چپ خالی نظروں سے نیچے زمین کو گھور رہا تھا۔۔

اجالا خرم کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔۔۔۔

ارمان یار اٹھو گھر چلو رات بہت ہوگئ ہے اب پولیس ہی کچھ کر سکتی ہے۔۔۔

اجالا پولیس کا نام سن کے کانپ گئ ۔۔۔۔

ارمان نے غصے سے علی کو گھورا۔۔۔

گھر چلوں میں اپنے بھائ کو یہاں اس حالت میں چھوڑ کے گھر چلا جاوں۔۔۔

پاگل ہوگئے ہو تم اس اس پانی م می میرا بھائ ہے اسے چھوڑ کے گھر چلا جاوں۔۔۔۔۔۔

اسے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اسے پانی سے ڈر لگتا ہے اگر میں اسے یہاں اکیلے چھوڑ کے گھر چلا گیا تو وہ کیا سوچے گا کہ میں کیسا بھائ ہوں

اپنے بھائ اپنے ارحم کو یہاں اندھیرے میں چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔۔

جب وہ وہ اتنا سا تھا نہ تو میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی زندگی میں اسے اکیلے نہیں چھوڑونگا۔۔۔۔

ارمان پلیز خود کو سمبھال وہ دیکھ فاطمہ اور راحم کی حالت ٹھیک نہیں ہے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔۔

تم لوگ جاو اور کسی کو لے کے آو مجھے میرا بھائ چائیے ۔۔۔ارمان غصے سے بولا۔۔۔

علی سب کو لے کے گھر چلا گیا۔۔۔

ایک گھنٹے بعد گھر پہنچے ۔۔۔سامنے صوفے میں بیٹھے سب بڑے بچوں کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔

فرحان صاحب غصے میں علی کی جانب آئے ۔۔۔

اتنی رات ہوگئ ہے

تم لوگ اتنی دیر سے کیوں آئے کہا بھی تھا کہ شام تک آجانا پھر اتنی دیر کیوں لگی

۔رات کا ایک بج رہا ہے کچھ خ۔۔۔فرحان صاحب غصے میں بول رہے تھے کہ پیچھے سب بچوں کی حالت دیکھ کے چپ ہو گئے۔۔۔۔

یہ تم لوگوں نے کیا حالت بنا رکھی ہے یہ ارمان تم لوگوں کے ساتھ تھا کیا ابھی نظر کیوں نہیں آرہا صبح سے گھر پہ نہیں ہے اور یہ ارحم کہاں ہے وہ تو تم لوگوں کے ساتھ تھا نہ۔۔۔

راحم صدمے کی حالت میں کھڑا تھا کہ اچانک زمین میں گر گیا۔۔۔علی راحم کی طرف بھاگا۔۔۔

راحم میرے بچے۔۔۔آمنہ بیگم راحم کی جانب بھاگی ۔۔۔

امی سب ختم ہوگیا ارحم مر گیا وہ پانی میں گر گیا۔۔۔امیی ۔۔۔

کیاآااا آمنہ بیگم وہیں ڈھےگئیں۔۔دادو نغمہ بیگم فرحان صاحب نجمہ بیگم سب ساکت ہوگئیں۔۔۔۔

گھر میں کہرام مچ گیا تھا۔۔۔

علی جنید فرحان صاحب تیراکو کو لے کے اس جگہ پہنچے جہاں ارحم ڈوبا تھا۔۔۔

ارمان شام سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا پانی کو گھور رہا تھا جیسے سب قصور اس پانی کا ہی ہو۔۔۔

دو تین گھنٹے بیت گئے لیکن ارحم کا کچھ پتا نہیں چلا۔۔۔

فرحان صاحب معزرت کے ساتھ ہم سے جتنی کوشش ہو سکی ہم نے کی آپ کے بچے کو پانی بہا کے لے گیا دیکھیں پانی کا بہاو بہت ذیادہ ہے۔۔۔

اب اس سے آگے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *