Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan NovelR50669 Last updated: 5 May 2026
Rate this Novel
Sange Dar e Janan (Episode 01)Sange Dar e Janan (Episode 02)Sange Dar e Janan (Episode 03)Sange Dar e Janan (Episode 04)Sange Dar e Janan (Episode 05)Sange Dar e Janan (Episode 06)Sange Dar e Janan (Episode 07)Sange Dar e Janan (Episode 08)Sange Dar e Janan (Episode 09)Sange Dar e Janan (Episode 10)Sange Dar e Janan (Episode 11)Sange Dar e Janan (Episode 12)Sange Dar e Janan(Last Episode)
Sange Dar e Janan by Muqaddas Awan
اکرم صاحب کی بیوی جن کا نام راشدہ ہے ان کے چار بیٹے تھے سب سے بڑے بیٹے عمران کی شادی اکرم صاحب کے دوست کی بیٹی(نغمہ ) سے ہوئ جن کا ایک بیٹا جنید اور ایک بیٹی زوجاجہ ہے۔۔۔
دوسرے بیٹے عرفان نے اپنی پسند(آمنہ ) کی شادی تھی جن کے تین بیٹے سب سے بڑا بیٹا ارمان، ارحم،راحم اور ایک بیٹی فاطمہ تھی۔۔
۔تیسرے بیٹے راشد صاحب نے اپنی پسند(عالیہ ) کی شادی کی جن کا ایک بیٹا خرم اور ایک بیٹی اجالا ہے ۔ ۔۔۔چوتھے بیٹے فرحان نے شادی اپنی امی کی خالہ کی بیٹی(نبیلا)سے کی جن کا ایک بیٹا علی اور ایک بیٹی ثوبیہ ہیں ۔۔۔۔
اکرم صاحب اپنے بیٹے راشد اور اپنی بہو کے ساتھ عمرے سے آرہے تھے کہ ہوائ جہاز کریش ہوگیا ادھر ہی تینوں کا انتقال ہو گیا راشد صاحب اور ان کی بیگم کے انتقال کے وقت اجالا چھ سال کی تھی جبکہ خرم پندرہ سال کا تھا یہ پوری فیملی خان ویلا میں ایک ساتھ رہتی تھی لیکن عمران صاحب کی بیگم(نغمہ ) ہر وقت خرم اور اجالا کو باتیں سناتی رہتی خرم پڑھائ ختم کر کے اجالا کو خان ویلا سے دور اپنی محنت سے بنائے گھر میں چلا گیا۔۔۔اس دن کے بعد آج تک خرم اور اجالا خان ویلا میں نہیں گئے لیکن خان ویلا کے سب بچے خرم اور اجالا سے ملنے آتے رہتے تھے اب خرم کو بزنس کے سلسلے میں باہر ملک جانا تھا تو اجالا کو دوبارہ خان ویلا بھیج دیا اب اجالا بڑی ہوگئ تھی اجالا اب کسی کی کوئ باتیں نہیں سنتی تھی اور جو کوئ غلط بات کرتا اجالا کھری کھری سنا دیتی۔۔۔۔
عمران صاحب ،عرفان صاحب دونوں ایک ساتھ بزنس کرتے تھے دونوں کی دیتھ کے بعد بزنس ان کے بچے جنید ارمان سمبھالتے ہیں جنید اور ارمان میں بہت گہری دوستی تھی ارمان اور جنید اپنی پڑھائ مکمل کر کے اپنے والد کا بزنس سمبھال رہے ہیں۔۔۔جنید اوباش قسم کا دل پھینک فلرٹ آوارہ قسم کا لڑکا ہے جبکہ ارمان چلبلا خوش مزاج تھا۔۔۔ارحم راحم دونوں ماسٹر کے لاسٹ ائیر میں ہیں اجالا اور فاطمہ نے بیچلر کمپلیٹ کر کے پڑھائ کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔۔۔خرم کا اپنا الگ بزنس تھا جسکو اسٹیبلشمنٹ کرنے کے لیے باہر ملک چلا گیا۔۔۔فرحان صاحب آرمی سے رٹائمنٹ لے کے گھر بیٹھ گئے تھے ان کے نقشہ قدم پہ چل کے علی آرمی جوائن کرنا چاہتا تھا لیکن ابھی اس کی پڑھائ ختم ہونے میں ایک سال اور ہے زوجاجہ اور ثوبیہ بیچلر کے لاسٹ ائیر میں تھیں۔۔۔۔
اجالا لان میں بیٹھیں ٹھنڈی ہوا کے مزے لوٹ رہی تھی کہ سامنے گیٹ سے ایک گاڑی اندر آتی دیکھائ دی۔۔ جنید آفس سے تھکے ہارے گاڑی سے اتر رہا تھا کہ سامنے اجالا نظر آگئ جنید اجالا کے پاس چلا گیا۔۔۔
اجالا بے زاریت سے جنید کی طرف دیکھ رہی تھی "جنید بھائ آپ"
"تم سب سے ملی لیکن مجھ سے نہیں ملی تم"
"اوہ سوری ایکچلی کل میں سب سے ملی لیکن آپ وہاں نہیں تھے" ۔۔۔اجالا نے نظرین نیچے کر کے جواب دیا ۔۔اجالا جانتی تھی کہ جنید کس قسم کا لڑکا ہے جنید ارمان اور علی نے ساتھ کبھی کبار خرم کے گھر چلا جاتا تھا اجالا کو جنید کی نظروں سے الجھن ہوتی تھی۔۔۔
کوئ بات نہیں کل میں گھر پہ نہیں تھا۔۔۔
اجالا کو جنید کی بےتکلفی برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ کسی بھی طریقے سے اندر جانے کا سوچ رہی تھی لیکن سامنے جنید اجالا کا راستہ روکے کھڑا تھا۔۔۔۔
یااللہ یہ تو کچھ ذیادہ ہی فری ہو رہا ہے اب میں کیا کروں کوئ تو آجائے کمبخت سب پتا نہی کہاں مرے وے ہیں ویسے تو سب میرے پاس چوبیس گھنٹے بنبناتے رہتے ہیں اور آج جب یہ ہے تو کوئ نظر نہیں آرہا اللہ پوچھےگا ان سب کو ۔۔اجالا اپنے دل ہی دل میں بولی جا رہی تھی ۔۔۔
اجالا اندر آجاو دادی بلا رہی ہیں۔۔۔ثوبیہ نے اپر بالکونی سے اجالا کو آواز دے کے اندر بلایا۔۔۔اجالا فورا سے اندر بھاگ گئ۔
رات کے پہر سب بچے اوپر چھت میں محفل جمائے بیٹھے تھے۔۔۔
"بھئ اجالا سب تمہارے ہاتھ کی چائے کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن ارمان بھائ نہیں مانتے۔۔کیوں کہ آج تک انہوں نے تمہارے ہاتھ کی چائے پی نہیں" ۔۔۔۔ارحم نے ارمان کو آنکھ مار کے کہا۔۔۔
"تمہیں چائے پینی ہے تو سیدھا سیدھا بول دو یوں اپنے بھائ کے کاندھے پہ بندوق کیوں چلا رہے ہو"۔۔۔اجالا غصے سے بولی۔۔۔
"اب جب سمجھ گئ ہو تو جاو چائے بنا کے لاو جاو ثوبیہ تم اجالا کی ہیلپ کرو چائے بنانے میں"۔۔۔ارحم نے ثوبیہ سے کہا جو سب سے بے خبر اپنے موبائل میں لگی تھی...
"او ہیلو میں مہمان ہوں اور تم مجھ سے کام کروا رہے ہو"اجالا نے ارحم کو آنکھیں دیکھائ۔۔۔
"بیٹا مہمان تین دن کے ہوتے ہیں چوتھے دن میزبان بن جاتے ہیں اب شرافت سے اٹھ جاو چلو"۔۔۔۔
اجالا اور ثوبیہ دونوں چائے نبانے چلی گئ
آدھے گھنٹے بعد دونوں چائے بنا کے آئیں۔۔۔
چائے ہوگئے یا پائے اتنی دیر میں آئ ہو ۔۔۔۔
نیچے دادی نے پکڑ لیا تھا بہت مشکل سے بچ کے آئے ہیں۔۔۔اجلا سب کو چائے دے کے ارمان کے پاس آئ۔۔
چائے۔۔۔۔اجالا نے چائے کا کپ ارمان کے سامنے کیا۔۔۔
ارمان نے چائے لے کے شعر پڑھا۔۔
چائے پيئیں، چائے پِلائیں، چائے پہ بُلائیں
کہ چائے سے ہی چاہت کا دروازہ کھُلتا ہے ...!!!۔۔۔
اجالا نے ارمان کو آنکھیں دیکھائ۔۔۔
اسلام و علیکم دادو کیا حال ہے کیسی ہو میری جان دادو جان۔۔۔ارمان نے دادی کے گلے میں اپنی بازو ڈال دیے۔۔۔
مل گئ فرصت کبھی بوڑھی دادی کے پاس بھی بیٹھ جایا کر کمبخت پوچھتا ہی نہیں ہے اپنی دادی کو۔۔۔
ارے دادی میں آپ کا حال نہ پوچھو ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔آپ ہی میرا حال نہیں پوچھتی میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔اچھا چل بتا لیا حال ہے تیرا ۔۔۔۔
مدت کے بعد غالب اس لاپروا نے
حال پوچھ کر پھر وہی حال کر دیا......
اسے کیا پتہ میرے حال کا۔
ارمان نے سامنے سے آتی اجالا کو دیکھ کے شعر پڑھا۔۔۔
چھچھورا کہیں کا جب دیکھو شعر سناتا رہتا ہے ۔۔۔
کس کے خیال میں گم ہے جانی آج تو اپنے بھائ کو پوچھا بھی نہی۔۔۔جنید جو ابھی ابھی آفس سے آیا تھا سیدھا ارمان کے برابر صوفے میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔جو نا جانے کتنی دیر سے کسی خیال میں گم تھا۔۔
اِک تمہارے خیال میں ہم نے
جانے کتنے خیال چھوڑے ہیں..
ارمان نے سامنے بیٹھی اجالا کو دیکھ کے شعر سنایا۔۔
یااللہ یہ اتنا چھچھورا کیوں ہے۔۔۔اجالا منہ ہی منہ میں بڑبڑائ۔۔
یا اللہ میرے بھائ کو نیک ہدایت دے یاپھر مجھے بہرا کر دے قسم نے تنگ آگیا ہوں تیری اس دو ٹکے کی شاعری سے۔۔ارحم دانت پس کے بولا۔۔۔
خبردار جو میری شاعری کو دو ٹکے کا کہا ہو تجھے نہیں پتا میری شاعری پہ لاکھوں فدا ہیں۔۔۔
تو جو لاکھوں فدا ہوئ ہیں انکو جا کے سنا نہ ہمارے کان کیوں کھا رہا ہے
کہوں گا ہزار بار کہوں گا اور جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو۔۔ارحم منہ چڑا کے بھاگ گیا
یار تم سب کیسے کزن ہو مجھے یہاں آئے ایک ہفتہ ہوگیا اور تم میں سے کسی نے مجھے کہاں بھی نہیں کہ آو اجالا تمہیں کہیں باہر لے چلوں تم سب کے سب کنجوس ہوں تم سب یہی سوچ رہے ہوگے کہ جو مجھے باہر لے کے جائے گا اس کی جیب بھی خالی ہوگی۔۔۔۔
اجالا اونچی آواز میں بولی تاکہ آس پاس بیٹھے سب سن سکیں خاص کر ارمان ۔۔۔۔
اجالا کی بات پہ ارمان مسکرا دیا۔۔۔
واہ اجالا تم نے تو ہمارے دل کی بات کہہ دی واقعی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ تمہیں کہیں گھمانے لے کے جائیں لیکن جب ہم نے اپنی جیب دیکھی تو توبہ کر لی۔۔۔ارحم کی بات پہ اجالا تپ گئ۔۔۔
یار اجالا دو دن رک جاو یونی کی چھٹی ہوجائے پھر سب کہیں گھومنے چلیں گے۔۔۔
راحم موبائل میں مصروف انداز میں بولا۔۔۔
"راحم تم تو رہنے دو ایک نمبر کے کنجوس ہو"۔۔۔
لووو ایک تو بھلا کر رہا ہوں اوپر سے تم مجھے ہی کنجوس کہہ رہی ہو ارحم ٹھیک ہی کہتا ہے بوٹکی۔۔۔
اوٹ تم نے مجھے بوٹکی کہا رک تیری تووو ۔۔۔
اجالا ہم آج شام کو شاپنگ کرنے چلیں گے ۔۔۔
ثوبیہ نے اپنی رائے پیش کی۔۔
یار لے کے کون جائے گا ۔۔اجالا اداسی سے بولی۔۔۔۔
میں چلا جاتا ہوں تمہارے ساتھ آج شام کو جلدی آجاؤںگا آفس سے۔۔۔۔
جنید اجالا کو دیکھ کے بولا۔۔
نہیں تم رہنے دو ارمان تم تو شام میں فارغ ہوگے نا تو تم چل لینا ہمارے ساتھ۔۔اجالا نے جلد بازی میں کہہ کہ اپنی زبان دانتوں تلے دبائ۔۔۔
وہ تو شکر کسی نے نوٹ نہیں کی جنید اور ارمان کے علاوہ
ارمان جو چائے ہی رہا تھا ایک دن چونکا۔۔۔
ایک منٹ تمہیں کیسے پتا میں آج شام فارغ ہونگا ۔۔۔
ارمان نے جانچتی نظروں سے اجالا کو دیکھا
وہ آج صبح تمہاری اور دادو کی باتیں سن لی تھی۔۔۔
اجالا سر کجھا کے بولی۔۔
ارمان تم لے جاو جنید آفس سے چھٹی لے کے میرے ساتھ جائے گا ۔۔۔
جنید کی امی سامنے بیٹھی اجالا کی باتیں سن رہی تھیں کہ اچانک بول پڑیں۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے لے چلتا ہوں۔۔۔
