Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rehnuma By Mishal Khan Last Episode

Rehnuma By Mishal Khan Last Episode

*************
******
ساوی کو ڈھونڈتے دو ماہ گزر چکے تھے
ان دو ماہ نے ساوی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا تھا
ہری انکھیں مرجھا چکی تھی
گندمی رنگت زرد پڑ چکی تھی ڈمپل بھی ڈاڑھی میں کہی چھپ گیا
وہ کہی سے بھی وہ ساوی نہیں لگتا تھا جو ہر لڑکی کو پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کرے
ساوی جاگ رہا تھا جب گھڑی نے بارہ بجنے کا علان کیا
ساوی کو سیلف میں رکھے مصحف کو دیکھ کے یاد آیآ
سامی یہی تو پڑھتی تھی اسی سے ہی تو باتیں کرتی تھی
ساوی اٹھا وضو کیا
جائے نماز اٹھائ اور تہجد کی نیت کی
وہ اٹک اٹک کر تہجد پڑھ رہا تھا
نہ جانے پچھلی بار کب نماز پڑھی تھی اسے یآد نہیں تھا
انسو گالوں سے بہ کر تھوڑی پہ لڑھک رہے تھے
ساوی نے اٹکتی نماز مکمل کی اور کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھائے
وہ کچھ نہیں بول پا رہا تھا لفظ زبان تک آ کر دم توڑ دیتے
وہ ساویار سکندر تھا اس نے زندگی کبھی کچھ مانگا ہی کب تھا
ساوی بیس منٹ بے آواز روتا رہا
ساوی کو جو سکون بڑی بڑی شراب کی بوتلیں نہیں دے سکی بڑے بڑے کلب نہیں دے سکے حسین سے حسین منظر نہیں دے سکا وہ اک گز پہ اسے مل رہا تھا
وہ دل ہی دل میں خدا سے معافی مانگ رہا تھا
زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی
سامی کے سارے درد تکلیف اسے یاد آئی وہ اک بار پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
اسے لگا آاس کے گناہوں کی کوئی تلافی نہیں
ساوی اٹھا آنسو صاف کے اور سیلف میں پڑا مصحف اٹھایا
بچپن کے بعد اب مصحف کو ہاتھ لگایا تھا
وہ کانپ رہا تھا اس کا روم روم کانپ رہا تھا
ساوی نے کانپتے ہاتھوں سے مصحف کھولا
پہلی آیت پہ نظر پڑتے ساوی اک بار پھر ظبط کھو بیٹھا
مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہوں ۔
********
وہ توبہ کر رہا تھا وہ رو کر معافی مانگ رہا اسے اک اور امید ملی تھی
ساوی کو لگا یہ بس اسی کےلۓ اتارا گیا ہے وہ سب جانتا ہے
فھر ساوی نے ہمت کر کے اک بار فر مصحف کھولا
********
مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
*********
ساوی روتا روتا نیند کی وآدی میں جا پہنچا
ساوی کی آنکھ اللهُ اکبر کی اواز سے کھلی
ساوی کا چہرہ کھلے قرآن کریم پر تھا
ساوی اٹھا وضو کیا
نماز فجر ادا کی
اور روز کے معمول کے مطابق سامی کے گھر کا رخ کیا
جیبوں میں ہاتھ ڈآلے سر جھکائے وہ دنیا سے بےخبر سڑک کنارے چل رہا تھا
دل میں بس ایک حسرت تھی کہ سامی مل جائے
وہ اس کے پاؤں پکڑے اسے مناے
وہ مان جائے اور ساوی سامی کو دیے سارے دکھوں کا مداوا کر دے
مگر قسمت نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا
ہمیشہ کی طرح تالے پہ لگی زنگ نے گواہی دی
کے عرصے سے کسی آدم زاد نے ہاتھ نہیں لگایا
ساوی دروازے کو دیکھ کر بےبسی سے مسکرایا اور واپس مڑ آیآ
خدا کےلیے کچھ دے دو کئ دنوں سے کچھ نہیں کھایا
وہ اک دس سال۔کی بچی تھی جس نے ساوی کی یادوں کا تسلسل توڑا
ساوی نے اسے غور سے دیکھآ یہ وہی لڑکی تھی جس کو ساوی نے اک۔ماہ پہلے ٹک ٹاک پر فیمس ہونے کےلئے ہزار کا نوٹ تھما کر وڈیو بنا کر دس کا نوٹ تھما کر کہآ تھا
شکل ہے ہزار والی کبھی دیکھے ہیں زندگی میں
ساوی اس کا تمسخر اڑاتا آگے بڑھ گیا تھا
صاحب کچھ دے نہ لڑکی اک بار پھر ساوی کو خیالوں کی دنیآ سے واپس کھینچ لائ
ساوی گھوٹنوں کے بل لڑکی کے پاس بیٹھ گیا
تم بہت پیاری ہو ساوی نم آنکھوں سے بولا
لڑکی حیرت سے دیکھ رہی تھی
شاید یہ جملہ اس نے پہلی بار سنآ تھآ
ساوی نے جیب سے ہزار کا۔نوٹ نکالا اور لڑکی کی طرف بڑھایا
لڑکی نے پہلے نوٹ اور پھر ساوی کو دیکھا
آپ مزاق کر رہے ہیں نہ اس دن کی طرح لڑکی نے معصومیت سے کہا
ساوی کو اک۔دم دھجکا لگا
اس نے لڑکی کو گلے لگایا
مجھے معاف کر دو بیٹا مجھ سے بہت غلطی ہوئی ہے
ساوی روتا ہوا بول رہا تھا
لڑکی کو جدا کرتے نوٹ اسے تھما کر ساوی جیسے اٹھآ لڑکی نے ساوی۔کا۔ہاتھ تھام لیا
انکل مجھ سے کیوں معافی مانگ رہے میری کیا اوقات آپ اس رب سے مانگے جس کے بس میں سب کچھ ہے جو سب کرنے کی قدرت رکھتا ہے
لڑکی ساوی کے آنسو صاف کرتی ساوی کو حیران چھوڑ کر آگے بڑھ چکی تھی
****************
********
ساوی ںدل چکا تھا اس نے شراب جویا سب ترک کر دیا تھا
ساوی کو مسجد بنانے کی حسرت ہوئ تو اس نے عثمان کے حرام کے پیسے کی بجائے اپنا کراچی کا فلیٹ بیچنا مناسب سمجھا
ساوی۔رات کو اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوا
رات وہی گزاری صبح تمام کام۔نپٹا کے واپسی کا رخ کیا
واپسی پہچنے تک ساوی کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم ٹرنسفر ہو چکی تھی
ساوی نے بنا وقت ضائع کے۔تعمیر کا کام شروع کر دیا
خالد اور عدن آب خوش تھے کے ساوی اب خود کو مصروف کر رہا تھا
اور پہلے سے کافی بہتر تھا
مگر وہ کیا جانے دن میں خوش نظر آنے والا رآت کو کتنا تڑپتا ہے کتنا روتا ہے
سامی اب بھی نہیں سونے دیتی
بیشک سہی۔کہا کسی نے رات کے اندھیرے سے بہتر رازدار کوئی نہیں
اسے اب بھی سامی کا جلا چہرہ سونے نہیں دیتا تھا
ساوی نے مسجد کآ سارا کام اپنی نگرانی میں کروایا نہیں بلکہ ساتھ مل کے کیا
آج مسجد تیار تھی ساوی نم آنکھیں لئے مسجد دیکھ رہا تھا
آج اگر سامی ہوتی تو کتنا خوش ہوتی
ساوی کو بے اختیار یاد ائ ساوی نم آنکھوں سے مسکرا دیا
میں نے تمہیں معاف کیا ساوی مگر تقدیر اپنا بدلہ ضرور لے گی
اسے آچانک سامی کے لفظ یاد آئے جو وہ تنہا خدا سے مخاطب ہو کر کہے رہی تھی
ساوی مسجد کے اندر داخل ہوا پہلے سے ہی کافی لوگ موجود تھے
ساوی لڑکھڑاتے قدموں سے آزان دینے کےلئے بڑھا
آج پہلی بار وہ ازان دے رہا تھا
ساوی کی گلے میں آنسو کا گولہ پھندے کی طرح بن گیا
ساوی کی۔نہ چاہتے ہوئے بھی آواز بھر آئ
ساوی کی ہچکیاں بندھ گئی
لوگ آک دوسرے کا منہ تکنے لگے
ساوی۔نے بامشکل ازان مکمل کی اور زمین بوس ہو گیا
لوگوں نے بھاگ کر ساوی کو اٹھایا اور ہاسپٹل کی طرف بھاگے۔
***************
ساوی کی آنکھ ہسپتال میں کھلی
سامنے نرس کھڑی پیشاورنہ انداز میں مسکراتی پوچھ رہی تھی
سر اپکو ہوش آ۔گیا طبیعت کیسی
ساوی۔بھی زرا سا۔مسکرایا
میں کس جگہ ہوں
سر آپ لاہور میں ہیں
میں یہاں کتنے دنوں سے ہوں
سر تین دن سے
یہ کہتے نرس باہر کی۔جانب بڑھ گئی
ساوی اٹھا اور کھڑکی سے پردہ کھسکایا
اک خوبصورت صبح نے ساوی کا۔استقبال کیا
کے اچانک اک جملے نے ساوی کے حوش اڑا دیے
سمایا فاروق کے فادر کہاں ہیں
اک نرس کی آواز سماعت سے ٹکرائ
ساوی۔بامشکل دیوار کا۔سہارا لے کر باہر کی جانب بڑھا
سر آپ کو ریسٹ کرنی چایئے آپ باہر
ساوی نرس کو نظر انداز کرتا آگے بڑھ رہا تھا
کے فاروق کو ویل۔چیئر گھسیٹتے دیکھ کر قدم وہی جم گئے
اک آنسو ساوی کی آنکھ سے گرا اور فرش میں جزب ہو گیا
ساوی مرے مرے قدم اٹھاتا ان کے قریب پہنچا اور ان کے قدموں میں گر گیا
حافظے کی کمزوری کی وجہ اور کچھ ساوی کے بدلے ہلیے کی وجہ سے پہچان نہ سکے
ساوی نے پانچ منٹ بعد سر ان کے قدموں سے اٹھایا
تو ساوی کو دیکھ کے پہلے حیرانی اور پھر غصے نے جگہ لے لی
وہ ساوی کو۔نظر انداز کرتے آگے بڑھنے لگے کے ساوی پھر ان کے قدموں میں بیٹھ
آپ کو مجھے معاف کرنا ہو گا
ساوی بچوں کی طرح بضد بولا
ساوی کی بیس منٹ کی۔منت سماجت اور آنسوؤں نے ان کا دل پھگلا دیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے
کیا ہوا تھا اس رات اور آپ یہاں کیسے سب بتا مجھے
اس رات فاروق انسو صاف کرتے ہوئے بولا
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶
ڈاکٹر جیسے کمرے سے نکلا زبیدہ اور فاروق بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچے
ڈاکٹر صاحب میری بیٹی کیسی ہے
جی وہ اب بھی خطرے میں ہیں اگر چوبیس گھنٹے میں حوش نہ آیا تو کوما میں جانے کے نینانوے پرسنٹ چانس ہے
اور سوری ہم ان کے بچے کو نہیں بچا سکے
ڈاکٹر تسلی دے کر آگے بڑھ گیا
زبیدہ پچھلے چار گھنٹے سے دروازےکے سامنے کھڑی سامی کے بے حس جسم کو دیکھ رہے تھے
کے
اچانک سامی کا ہاتھ ہلا
اسے ہوش آ رہا ہے زبیدہ خوشی سے چلاتی فاروق کو۔بتآ رہی تھی
فاروق نے جلدی سے ڈاکٹر کو۔بلایا
ڈاکٹر دس منٹ بعد کمرے سے باہر نکلا
اب آپ ان سے مل سکتے ہیں
لیکن وہ اب بھی خطرے سے باہر نہیں اس لئے کو پریشانی کی بات نہ کیجئے گا
ڈاکٹر کے جاتے ہی زبیدہ کمرے میں آئی
زبیدہ کو آتے دیکھ کر سامی نے آنکھیں میچ لی
زبردستی اک آنسو آنکھ سے بے گھر ہوتا تکیہ میں جزب ہو گیا
زبیدہ نے اک نظر اپنی بستر پہ لگی بیٹی کو دیکھا جس کے ہاتھ کی ہتھیلی جلی ہوئی تھی
اور جگہ جگہ منہ پر جلنے کے نشان تھے
ماتھے پر پٹی باندھے وہ منہ دوسری طرف کر گئی
سامی بیٹا زبیدہ سامی کا۔ہاتھ تھامتے نرمی سے بولی
بیٹا سامی نے اک بے جان قہقہہ لگایا
بیٹا اپنی مآں کو معاف کر دو
پیسے اور دولت کے لالچ نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی
میں چآہتے ہوئے بھی خود کو نہیں روک پائ
زبیدہ جان چکی تھی کہ اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں
سامی کو اتنی تکلیف ساوی کے منہ سے نہیں ہوئی تھی جتنی تکلیف اسے ماں کے منہ سے سن کر ہو رہی تھی
اچانک سامی کی سانسیں اکھڑھنے لگی اور وہ تیزی سے سانسیں لینے لگی
زبیدہ یہ سب دیکھ کر گھبرا گئی اور باہر کی طرف بھاگی
سامنے ڈاکٹر فراز حامدی کو آتے دیکھ کر ان کی جانب لپکی
ڈاکٹر وہ سامی وہ سانس وہ زبیدہ کو سمجھ نہ آیآ کیا کہے
ڈاکٹر جلدی سے سامی کی طرف دوڑا
زبیدہ وہی روتی روتی دیوار کے ساتھ لگ گئی
یہ سب میرے گناہوں کی سزا ہے یہ سب
اور زبیدہ اک۔دم روتے روتے چپ ہو گئی
فاروق جو بیٹی کے حوش میں آنے کی خوشی میں مسجد گئےتھے
واپسی پر کچھ پھلوں کے شاپر ہاتھ میں تھآمے
ویل چیئر پر خود کو کھسیٹتے اندر داخل ہوئے
ڈاکٹر کو دیکھ کر مسکرا کر بولے
ڈاکٹر صاحب اب میں بیٹی سے مل سکتا ہو یہ کچھ پھل
فاروق کی نظر ڈاکٹر پر پڑی تو کچھ انہونی کا احساس ہوا
جیسے نظر پیچھے لاتے لاش پر پڑی رنگت لٹھے کی مانند سفید پڑ گئی
وہ کبھی بے یقینی سے ڈاکٹر اور کبھی لاش پر ڑالتے جس کے اوپر سفید کپڑا ڈالا ہوا تھا
اچانک اک جھونکے نے کپڑا منہ سے ہٹایا تو فاروق کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی
وہ اس کی دکھ سکھ کی ساتھی تھی
وہ اس کی زندگی تھی
وہ اس کی محبت تھی
وہ زبیدہ تھی
آج فاروق کو سمجھ آیا تھا کے پاؤں سے زمین نکلنا کسے کہتے ہیں
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶۶
شام۔تک زبیدہ کی تدفین کر کے جب ہسپتال پہنچے تو اک اور قیامت سر پہ گری
ڈاکٹرز کا۔کہنا تھا کے کسی شدید صدمے کی وجہ سے سامی کوما میں جا چکی تھی
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶
پھر میں نے گھر فروخت کیا اور ڈاکٹرز کے کہنے پہ سامی کو یہاں لاہور لے آیآ
فاروق نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
ساوی سن ہو چکا تھا
میں سب ٹھیک کر دو گا میرا وعدہ ہے
ساوی کچھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوا
فاروق تلخی سے مسکرایا
مجھے کچھ دوائی لینی ہے فاروق کہے کر آگے بڑھنے لگا
نہیں میں لاتا ہوں آپ کو تکلیف ہو گی
اب عادت ہو چکی ہے کہے کر فاروق آگے بڑھ گئے
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶
آپ سمایا کے کچھ لگتے ہیں
نرس نے کچھ دیر پہلے ساوی کو فاروق کے پاس کھڑے دیکھا تھا
جی ہہہہزبینڈ
ساوی نے بمشکل کہا
مبارک ہو انھیں ہوش آ گیا ہے آپ کچھ دیر تک ان سے مل سکتے ہیں ڈاکٹر مسکراتی آگے بڑھ گئی
اور۔ساوی سوچ رہا تھا کے وہ سامی کا سامنا کیسے کرے گا
ابھی ساوی اسی۔اثناء میں تھا کہ بآہر شور شرابے کی آواز سن کر باہر کی جانب بڑھا
یہ کیا ساوی نے ںے اختیار اپنی آنکھوں کو رگڑا جیسے اس نے کچھ غلط دیکھ لیا ہو مگر آنکھیں بند کرنے سے سچ بدل نہیں جاتا
وہ فاروق ہی تھے
نہیں نہیں وہ خون میں لت پت فاروق کی لاش۔تھی
فاروق کی روح تو پرواز کر چکی تھی
کچھ چیزیں لینے سڑک سے پار جا رہے تھے کہ اچانک کسی تیری رفتار کار نے کچل دیا
لوگ افسوس کا۔اظہار کر رہے تھے مگر ساوی کا دماغ سن ہو چکا تھا
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶۶
ساوی فاروق کو قبر کی لہد میں اتآر کر آیا تو
ڈاکٹر نے کہا اب آپ مل۔سکتے ہیں
ساوی غائب دماغی سے نفی میں سر ہلاتا مرے مرے قدموں سے اندر داخل ہوا
آج اسے سامی کا سامنا کرنا تھا اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی تھی آج اپنا حساب دینا تھا
وہ سامی کے پاس کھڑا بے آواز رو رہا تھا
ساویکآ۔آنسو سامی کی بازوں پر گرا جہاں اب بھی جلنے کا۔نشان تھا
سامی نے اہستہ سے انکھیں کھولی
ساوی نے بمشکل نظر اٹھا کر سامی کے کمزور زرد چہرے کو دیکھآ
سامی اسے اجنبی نظروں سے دیکھ رہی تھی
آآآآآپ کون سامی نے مشکل سے آواز نکالی
ساوی نے اس کی کمزور آواز سنی اور روتآ چلا گیا
سامی حیرت سے اسے دیکھتی رہی
اک۔بار پھر سوال دہرایا
مممیں تمہارا گنہگار ہوں تمہاری اس حالت کا۔زمیدار
میں تمہارا بدنصیب شوہر ہو ساوی کو اپنی اواز کسی کھائ سے آتی ہوئ محسوس ہوئ
سامی۔اسے حیرانگی سے روتا دیکھتی رہی
ساوی کے لئے اور بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا
اور وہ باہر کی طرف بھاگا
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶
ہمیں لگتا ہے اتنا عرصہ کوما میں رہنے کی وجہ سے ان کی میموری لوس ہو چکی ہے انھیں کچھ یاد نہیں
آپ انھیں گھر لے جائے باقی انشاءاللہ یادداشت کچھ دنوں تک واپس آ جائے گی
ساوی نے محض سر ہلایا
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
۶۶۶۶۶۶
دس۔سال بعد
۶۶۶۶
ساوی اٹھے نہ نماز کا ٹائم ہو گیا ہے
وہ ساوی کے پاؤں کو ہلاتی جگانے کی کوشش کر رہی تھی
جی جانے ساوی اٹھ گیا
آٹھے وضو کریں دیر ہو رہی ہے سامی لال پڑتے گالوں سے بولی
ساوی اٹھا سامی کے ماتھے پر بوسہ لیا اور بآتھ روم میں گھوس گیا
پآنچ منٹ بعد ساوی نکلا تو سامی مصلیٰ بچھائے اسی کا۔انتظار کر رہی تھی
ساوی نے نماز قران سیکھا دیا تھا
مل کر فجر کی نمآز ادا کی تو سامی نے قران سننے کی ضد کی جسے ساوی اک بوسہ لے کر مان گئے
ساوی نے اپنے خوبصورت اواز میں قرآن پڑھنا شروع کیا
تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
۶۶
پڑھتے ہی بے اختیار ساوی کی نظر سامی پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
ساوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
سامی کو دیکھآ اور کہا بیشک
۶۶۶۶۶۶۶
سامی آفس سے لوٹا تو سامی کو کچن میں کھڑے پایآ
جسے آٹا گھوندتے ہوئے زلفے پریشان کر رہی تھی چہرے پہ جگہ جگہ آٹا لگا ہوا تھا اسے سامی کسی بچی کی مانند معصوم اور پیاری لگی
کھانا ہمیشہ ساوی بناتا تھا آج سامی کو دیکھ کر حیرت ہوئی
ساوی نے بریف کیس میز پر رکھا اور کیچن کی طرف چلا آیا
اپ آ گئے سامی نے مسکرا کر کہا
ہاں ساوی کی جان وہ اس کی زلفیں جو اس کے رخساروں پہ جھول رہی تھی پیچھے کرتا ہوا بولا
آپ فریش ہو جائے میں سامی نے گردن جھکاتے ہوئے کہا
میں تو فریش ہوں ساوی بیچ میں ہی بول پڑا
آپ جائے یہاں سے
کیوں
مجھے کھانا بنانا ہے
تو میںنے کیآ کہا ?
وہ اس۔کے قریب آآتآ زلفیں پیچھے کرتا اپنے ہونٹ سامی کے ماتھے پہ رکھ دیے
سامی کی ڈھڑکنں بے ترتیب ہونے لگی
اچانک گلا کھنکھارنے کی اواز پہ دونوں چونکہ
وہ خالد تھا ساتھ عدن اور نو سالآ میران بھی تھا
ہم غلط ٹائم پر تو نہیں آئے
خالد بتیسی دیکھاتا سامی کو دیکھ کر اک آنکھ دبائ سامی کا سر اور جھک گیآ
آج سامی کچن میں عدن گلے ملتے ہوئے بولی
جی وہ
وہ اس لیے کے اگر اک دن جناب گھر نہیں ہو گے تو یہ کیآ کریں گی
خالد کی بتیسی چھپنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
عدن
جی بھائی
تم بھی اب نیل پولیش لگانا سیکھ لو۔اگر جنآب گھر پر نہ ہوئے ساوی نے خالد پر نظریں جما کر معصومیت کے سارے ریکورڈ توڑتے ہوۓ کہا
خالد کی بتیسی اک دم چھپ گئی
اس نے نو سالہ میران کو دیکھا جو انجان بننے کی کوشش کر رہا تھا
تیری تو آستین کے سانپ
خالد ساوی کی طرف بڑھا
اور سب کآ اک ساتھ قہقہہ بلند ہوا
😊
کسی شام مجھ میں قیام کر
میرے رنگ روپ کو نکھار دے
جو گزر گئ سو گزر گئ
میری باقی کی زندگی سنوار دے
۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶۶
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *