Rehnuma By Mishal Khan NovelR50787 Rehnuma By Mishal Khan Episode05
Rate this Novel
Rehnuma By Mishal Khan Episode05
Rehnuma By Mishal Khan Episode05
سامی کی آنکھ فجر کی آزآن پہ کھولی
سامی خود کو بیڈ پہ دیکھ کہ حیران ہوئ
جہاں تک مجھے یاد میں تو
اس سے پہلے کے سامی کچھ اور سوچتی
درد کی اک لہر جسم میں دوڑ گئی
سامی کراہتی ہوئی اٹھی
سلیپر پہن کے جیسے اٹھی سر چکرایا اور وہ گرنے لگی کے کسی نے تھام لیا
آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ ساوی تھا
ساوی کو دیکھتے ہی درر کی جگہ خوف نے لے لی
ساوی اس کا کانپتا ہوا وجود محسوس کر سکتا تھا
دھیان سے گر جاو گی ساوی فکر مندی اور شرمندگی سے بولا
سامی کو اس کا یہ لہجا اور خوف دلا رہا تھا
اسے لگا وہ اس کا سر ابھی دیوار پہ دے مارے گا
ساوی اسے تھامے باتھ روم تک لایا اور واپس مڑ گیا
***********
******
سامی نماز پڑھ کر نکلی گھر میں مکمل خاموشی کا راج تھا
اس نے سب نوکروں کو آواز دی مگر کوئی نہیں آیا
وہ سارا ماجرا سمجھ گئی
اب سارا کام اسے کرنا تھا
سامی ٹھنڈی اہ بھرتی کچن میں داخل ہوئی
کچن میں چائے کا خالی کپ گواہی دے رہا تھا کہ سامی آفس جا چکا ہے
سامی نے بدلی سے اپنے لئے چائے بنائی
لیکن اک گھونٹ سے زیادہ ہلق سے نہ اتری
****************
******
سامی مغرب کی نماز کے بعد فری تھی تو سٹوروم میں صفائی کے غرض سے گھس گئی
اچانک اس کی نظر عثمان کی تصویر پہ پڑی
یہ تصویر تو ساوی کے پاپا کی اسے اور کہا دیکھا
وہ اپنے زہن پہ زور دے رہی تھی کہ اچانک کسی کے گلہ کھنکھارنے اواز پہ چونکی
تصویر ہاتھ سے چھوٹ کر چھن کی اواز کرتی فرش پر کانچ بکھیر گئی
اسے لگا اج پھر اسے مار کھانی پڑے گی
مگر مجھے اک کپ چائے بنا دو کہتا اک تلخ نظر تصویر پہ ڈالتا واپس مڑ گیا
جججی
سامی بس اتنا کہہ پائ
سامی نے کانچ کے ٹکڑے اٹھاکر ڈسٹ بین میں پھینکے اور چائے بنانے لگ گئی
*************
چچاے سامی کانپتے ہاتھوں سے میز پر رکھ کر مڑی
رکو سامی کی آواز سے قدم وہی رک گئے
جججی سامی نے اٹکتے ہوئے کہے کر جیسے مڑی ساوی گرم چائے کے کپ کو سامی کی طرف اچھالا
جو سامی کے سفید نازک چہرے پہ نشان چھوڑتا زمین پر گر کر اپنی جان دے چکا تھا
سامی منھ پے ہاتھ رکھے چلا رہی تھی اسکا سارا چہرہ جل رہا تھا مانو کسی نے تندور میں ڈالا ہو
میں نے سو دفعہ کہا ہے کہ میرا کام دھیان سے کیا کر
اک تو ادھے گھنٹے بعد لائ بنا چینی کے شوگر کا مریض نہیں ہوں میں ساوی چلایا
تیری ماں بھی ایسی ہو گی تیرے کردار سے تیری ماں کی تربیت چھلک رہی ہے
آج سامی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا جو کب سے چھلکنے کو تیار تھا آج چھلک پڑا تھا
چپ اگر اک اور لفظ نکالا تو زبان کھینچ لوں گا ساوی چلایا
کیوں ؟ سچ برداشت نہیں ہو رہا یا سامی اس سے پہلے کے جملہ مکمل کرتی
ساوی نے اسے دیوار کے ساتھ لگایا
میری ماں کی تربیت میری ماں کا کردار تو سن ساوی سامی کے گال سختی سے دبوچتے ہوئے بولا
*****************
*********
آج عائشہ ٹائم سے بہت پہلے آ چکی تھی اور ساتھ ساوی بھی تھا
جیسے اندر داخل ہوئے عثمان کی باتیں کرنے اور ہنسنے کی آوازیں آئ
عائشہ ساوی کا ہاتھ پکڑے ٹی وی لاؤنج میں آئی
آگے کا منظر حیران کن تھا یا شاید
عائشہ کو دیکھ کے عثمان کے چہرے پہ کئ رنگ گئے اور آئے
عائشہ تمممم تم تو عثمان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کے وہ کیا کہے
عائشہ نے ساوی کو جانے کا اشارہ کیا اور ساوی سر ہلا کر نکل گیا شاید وہ بےخبر تھا وقت کے ظلم سے
*******
************
عثمان میں نے تم پر خود سے زیادہ بھروسہ کیا تھا
عائشہ کپھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی تو دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثر لئے بولی
دیکھو عائشہ تم غلط سمجھ رہی ہو یہ بس آفس کے کام
بس عثمان میں کوئ ساوی یا چھوٹی بچی نہیں
ایسا کون سا آفس کا کام جو بانہوں میں بھر کے کیا جاتا ہو
عائشہ اب کے بار غصے سے بولی
جبکہ عثمان چپ رہا
سامان اٹھاؤ اور دفعہ ہو جاؤ میرے گھر سے
تلاق کے پیپر کل آ جائے گے
عائشہ روتی ہوئی چلائی
اور تم عائشہ جیسے مڑی زبیدہ نے عائشہ کے پیٹ میں چھری گھونپ دی
اک۔نہیں زبیدہ نے کئ وار کے
عائشہ بنا آواز کے زمین پہ ڈھے گئی
وہ اس بات سے بےخبر تھے کے ساوی دروازے کے پیچھے کھڑا سب دیکھ رہا تھا
********************
**********
ان کی آنکھوں میں کوئ درد نہیں تھا بہت بےدردی سے مارا میری ماں کو ساوی آنسو صاف کرتے ہوئے چلایا
اور وہ بت بنی ساوی کو دیکھ رہی تھی
تتتتم جھوٹ بول رہے ہو سامی کچھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی
ابھی۔تو میں نے تم پر ترس کھا رکھا تھا ابھی تو میں نے تمہیں کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں چھوڑنا ساوی غصے سے بولا
اب دفعہ ہو جاؤ اس گھر سے اور یہ مت سمجھنا میرا بدلہ پورا ہوا ابھی بہت تڑپانا تجھے اور تیری ماں کو
ساوی۔کا لہجہ زہر ہو چکا تھا
سامی کو بازو سے پکڑ کر گھر سے باہر پھنکا اور دروازہ بند کر دیا
ساوی بنا منت سمآجت کے مرے مرے قدم اٹھاتی چل پڑی
وہ نہیں جانتی تھی وہ کدھر جا رہی وہ بس غیر دماغی سے چل رہی تھی
ماما۔آپ۔ سر عثمان کی آفس میں کیا کر رہی
سامی ماں کوعثمان کے آفس سے نکلتا دیکھ کے حیران ہوئی
ککچھ نہیں بیٹا اپنی دوست سے ملنے آئی تھی
زبیدہ تم عثمان سکندر کو جانتی ہو
فاروق ناشتےکرتے پوچھ رہے تھے
ننیں تو زبیدہ نے اٹکتے ہوئے کہا
پر ماما
اس سے پہلے کے سآمی کچھ کہتی
بیٹا تمہاری بس آ گئی
زبیدہ نے جلدی سے بات کاٹ کر کہا
بیٹا سامی دیکھنا کس کی کال ہے
جی ماما سامی نے اٹھ کر دیکھا
ماما کسی عثمان کی کال ہے
زبیدہ کے کام کرتے ہاتھ رک گئے
اٹینڈ مت کرنا
کیوں ماما
لگتا تیرے پاپا آ گئے جا جا کے دروازہ کھول
ماما۔یے فوٹو کس کی ہے سامی ماں کے واٹسپ کانٹیکٹ میں لگی تصویر کے بارے میں پوچھ رہی تھی
یییہ یہ تو میرا دبئ کا۔کزن
سامی کڑی سے کڑی ملا رہی تھی
وووہ سچ کہہ رہا تھا وہ سچ کہہ رہا تھا
ماما اپنی دوست سے نہیں عثمان سکندر سے ملنے گئی تھی
اور ماما نے جھوٹ بھی تو بولا تھا کے وہ نہیں جانتی
آور۔کال بھی تو عثمان انکل کی تھی
اور اور وہ فوٹو بھی تو ماما کے فون میں دیکھی
تھی مطلب ماما نے
وہ رو رہی تھی نہیں نہیں وہ چہیخ رہی تھی
وہ اپنے سر کے بال نوچ رہی تھی
پھر جب رو رو۔ کر تھک گئی آنسوؤں نے اور بہنے سے انکار کر دیا
تو اس نے آس۔پاس نظر دوڑائی
وہ کسی۔سنسان جگہ پر تھی
اس نے جلدی سے اٹھ کر کپڑے صاف کے اور گھر کی طرف چل پڑی
بھابھی اس وقت اور یہاں خالد۔کو اک منٹ لگا سب سمھجنے میں وہ جیسے سامی کی طرف بڑھا
کے اک۔تیز کار اک۔پل کےلئے سامی کے پاس رکی
اور اگلے لمحے وہ غائب تھی
گاڑی بہت دور جا چکی۔تھی بھاگنا فضول تھا
خالد نے جلدی سے ساوی کا۔نمبر ملایا جو مسلسل بند جا رہا تھا
*****************
*****
***
خالد مسلسل بیس منٹ سے دروازہ کھٹکا رہا تھا مگر اندر سے مسلسل خاموشی رہی
خالد اک۔ٹھوکر دروازے کو رسید کر۔کے گھر کی طرف چل دیا
**********
*****
گھڑی دن کے پانچ بجا رہی تھی جب ساوی ہوش کی دنیا میں لوٹا
ساوی آنکھیں ملتا لڑکھڑاتے قدموں سے سیڑھیاں چھڑتا کمرے میں آیا
چاروں طرف نظر دوڑائی سامی نظر نہیں آئی اسے لگا شاید باتھ روم میں ہو مگر دروازہ کھلا تھا
مصلیٰ اور مصحف اپنی جگہ پر پڑے تھے
ساوی کو حیرانی ہوئی کہ اس وقت کہاں گئی میری اجازت کے بغیر ساوی۔کو غصہ آیا
اور ساتھ ہی رات والا واقعہ آنکھوں کے سامنے گھوم گیا
ساوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے یہ میں نے کیا کر دیا ساوی سر تھام کر زمین پر بیٹھ گیا
شاید وہ دروازے کے باہر بیٹھی ہو
یہ خیال آتے ہی۔ساوی دروازے کی طرف لپکا
اور ساتھ ہی شراب کی بوتلوں پہ لعنت کرنا نہ بھولا
ساوی نے جیسے دروازہ کھولا
سامنے خالد اور عدن کو۔کھڑے۔پایا
سامی۔کہاں ہے ? خالد نے دروازے کھولتے ہی سوال کیا
بھائی وہ
خالد نے اک۔نظر اندر ڈالی جہاں شراب کی چند خالی بوتلیں ٹوٹا فون گواہی دے رہا تھا کہ کچھ بہت برا ہوا ہے
ساوی کے بات کرنے سے پہلے اک زناٹے دار تھپڑ کی آواز آئی
ساوی نے پہلے خالد کو سوالیہ نظروں سے دیکھا پھر عدن کو جو تھپڑ لگنے کے باوجود سر جھکائے کھڑی تھی جو مزاق میں لگائی چپت سے تڑپ جایا کرتی تھی
ساوی سامی کدھر ہے کیا کروایا تم نے اس کے ساتھ
ممیں نے کچھ نہیں
اک اور زناٹے دار تھپڑ دوسری گال پر بھی نشان چھوڑ گیا
آدھی رات کو گھر سے نکال۔دیا یہ جانتے ہوئے کے وہ تیرے بچے کی ماں بننے والی ہے خالد کے منہ سے نکلا لفظ گویا بمب تھا بچہ میرا میرا بچہ ساوی کی آنکھیں بھر آئی
بھائی کہاں ہے سامی پلیز بتائے
میں نہیں جانتا خالد نے سر جھکا کے کہا
اور رات کا سارا واقعہ ساوی کے گوش گزار دیا
آتنا سب ہو گیا اور آآپ اب بتا
میں نے رآت کتنی کال کی مگر تیرا نمبر بند تھا اور دروازہ بھی نہیں کھولا
ساوی جن لوگوں نے کرنیپ کیا تھا رات ہی انہیں پولیس پکڑ کر لے گئ
خالد۔نے بتایا
سامی ٹھیک ہے نہ ساوی نے نم آنکھوں سے پوچھا
ہاں خدا کا شکر ہے پولیس کے وقت پر پہنچنے کی وجہ سے سامی محفوظ ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔
مگر کیا ساوی نے تڑپ کر کہا
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو پیٹ میں مکے اور ٹانگیں لگنے کی وجہ سے شدید درد ہوا جس کی وجہ سے اسے ہسپتال ایڈمٹ کیا
ساوی کی نم آنکھیں اور بہنے لگی اور وہاں سے اٹھ کر باہر بھاگا
وہ رآت ساوی کےلئے قیامت سے کم نہیں تھی
ساوی نے سب ہسپتال چیک کر لئے تھے مگر سامی کہی نہیں ملی
ساوی ساری رات پاگلوں کی طرح پھرتا رہا سامی کو دیوانہ وار ڈھونڈتا اور پکارتا رہا
صبح ساوی نے پولیس سٹیشن کا رخ کیا
وہاں راجو کو دیکھ کر ساوی کو حیرانی ہوئی
یہ کون ہے ساوی نے جمشید سے پوچھا
یہ وہی ہے جس نے سآمی کو کرنیپ کیا تھا
ساوی کا۔خون کھول۔اٹھا غصے سے ساری رگیں تن گئی
مجھے اس سے بات کرنی ہے ساوی غصے پہ قابو کرتے ہوئے بولا
مگر بیٹا
انکل۔پلیز
ٹھیک ہے بیٹا مگر کوئی بیوقوفی نہیں
جیسے ہی ساوی اندر داخل ہوا راجو پر۔ٹوٹ پڑا
کیوں کیا میری بیوی کے ساتھ ایسا
بدلہ بدلہ چاہیے تھا اس دن کے تھپڑ کا رآجو نے قہقہہ لگایا
مگر ان۔پولیس والوں کو جانے کس نے خبر کر دی
راجو آفسردہ ہوا
************
جاری ہے 
