Rehnuma By Mishal Khan NovelR50787 Rehnuma By Mishal Khan Episode04
Rate this Novel
Rehnuma By Mishal Khan Episode04
Rehnuma By Mishal Khan Episode04
سوری گائز طبیعت خراب تھی جس وجہ سے دوپہر پوسٹ نہیں کر سکی اس کےلئے معزرت
*********
سامی ابھی حیرت میں ہے تھی کہ سامی کو کچھ جلتا محسوس ہوا
وہ ہاتھ تھا
سامی چیخ رہی تھی مگر ساوی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا
چیخنا بند کرو اور میری بات غور سے سنو
اگر اب تم نے اپنی ماں کو کال کی تو بہت برا ہوگا
اور کام دھیان سے کیا کر ہر وقت اپنے عاشکوں کی طرف توجہ نہ دی کر
وہ سن رہی تھی مگرآنسوں آنکھوں کےپیالوں سے باہر آ رہے تھے اسے آگ سے زیادہ لفظ تکلیف دے رہے تھے
تم میری ماں سے بات کرنے سے نہیں روک سکتے وہ اپنا ہاتھ چھوڑاتے ہوئے چیخی
اوو بہت زبان چل رہی نہ ساوی سامی کے بالوں سے پکڑتا ہوا بولا
اور اپنی انگلیوں کے نشان سامی کے گالوں پہ چھوڑ گیا
میں
کروں گی جو تم سے ہو سکتا کرو
تم ایسے نہیں مانو گی
ساوی نے بیلٹ نکالتے ہوئے کہا
آج تمہیں کوئی نہیں بچائے گا شوہر کے سامنے بولنے کا آنجام دیکھو
اور بیلٹ سامی کی کمر پہ نشان چھوڑتا پھر ہوا میں بلند تھا
سامی جو ہاتھ جلنے کے درد سے نہیں نکل پائ تھی مزید درد سے بلبلاہ ااٹھی
ساوی نے جیسے مارنے کے لئے ہاتھ جھکایا کسی نے پکڑ لیا
وہ خالد تھا
وہ خالد جو سامی کےلئے فرشتہ بن کے آیآ
یہ کیا کر رہا ہے
خالد ساوی کو قابو کرتے ہوئے بولا
سامی جو ڈر کے مارے عدن کے پیچھے چھپی تھی ساوی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر چلا اٹھی
عدن پلیز مجھے بچا لو
خدا کےلئے عدن مھجے بچا لو
خالد نے ساوی کو قابو کرتے عدن کو اندر لے جانے کا اشارہ کیا
****************
*********
تم چھوڑ کیوں نہیں دیتی بھابھی
عدن ساوی کہ منھ سے بہتے خون کو صآف کرتے ہوئے کہا
نہیں چھوڑ سکتی اس کے ساتھ رہنا اب میری مجبوری بن چکا ہے سامی نے روتے ہوئے کہا
وہ ایسا نہیں تھا نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے
عدن افسردگی سے بولی
بھائی کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں عدن ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی
ارے تم۔کیوں مانگ رہی تیری کون سی کوئی غلطی ہے تو تو جان ہے میری اور چھوٹی بہن بھی اور ویسے بھی اب عادت پڑ چکی ہےسامی عدن کے سر پہ پیار سے چپت لگاتی ہوئی بولی
آہہہہہ سامی کی ریڑھ کی ہڈی میں درد کی لہر دوڑ گئی
کیا ہوا بھابھی
کچھ نہیں سامی نے مسکرانے کی کوشش کی
*************
*******
یار کوئی اپنی بیوی کے ساتھ بھی ایسا کرتا ??خالد غصے سے کہہ رہا تھا
بیوی ہاہاہاہاہا بیوی بیوی والی اک بھی بات ہے اس میں زبان چلاتی میرے سامنے ساوی نے بھی جواباً غصے میں کہا
اچھا اب گزری باتوں کو بھولا دو تم نے بھی اس کے ساتھ کتنا برا کیا اس کا رشتہ ٹوٹ گیا باپ معزور ہو گیا ماں ہارٹ پیشنٹ بن گئی خالد نے اک سانس میں سب یاد دلا دیا
اور ساوی سر۔ہلا کے رہے گیا
تم معافی مانگ کے بات ختم کرو اور نئ زندگی شروع کر
خالد نے فیصلہ کن انداز میں کہا
ہمممم ساوی نے بس اتنا کہا
اب ہم ۔چل رہے اور آئندہ ایسی کوئی حرکت کی تو شہادت کی انگلی دیکھا کر وارن کر رہا تھا
اوکے ساوی نے بیزاری سے کہا جیسے وہ اس موضوع پہ مزید بات نہ کرںا چاہآ رہا ہو
خالد کچھ دیر تکتا رہا پھر ڈرائنگ روم سے نکل گیا
******************
*********
کس نے فون کیا خالد کوساوی ملازموں پہ چلا رہا تھا
جبکہ وہ سب سر جھکائے چپ کھڑے تھے
میں تم سب سے کچھ پوچھ رہا ساوی دھاڑ رھا تھا
جب ان کی طرف سے مسلسل چپ رہی تو
کل کوئی اس گھر میں نظر نا آئے
کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا
اور ان سب پہ گویا بمب پھوٹ گیا ہو
***************
********
سامی جب رو رو کر تھک گئی تو اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئی
باتھ روم سے نکل کر۔مصلیٰ بچھا کر خدا کے حضور خوب روئ
پھر عشاء کی نماز ادا کر کے قرآن پاک کھولا
اور پہلی آیت پہ نظر پڑتے ہی سامی کی آنکھیں پھر سے بھر
ہ آئی
﷽
ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پا لے گا ۔
***********
یا خدا تو سب جانتا ہے تو جانتا ہے کے میرا ظاہر اور باطن دونوں پاک ہیں فر اس طرح میرے کردار کی مجھے اس مشکل وقت میں ثابت قدم۔رکھ اور مجھے لڑھکنے مت دینا
وہ سر۔جھکائے رو رہی تھی اس بات سے بے خبر کے اس۔کے ساتھ کسی اور کی آنکھیں بھی نم تھی
ساوی اسے دروازے میں کھڑا دیکھ رہا تھا
چاند کی روشنی سامی پہ پڑ رہی تھی
سفید رنگ زرد پڑ چکا تھا
سیاہ انکھوں پہ سیاہ دھبے پڑ چکے تھے
وہ بہت کمزور لگ رہی تھی
ساوی کو خود پہ بہت غصہ آیا
اس کا۔دل۔چاہا جا کر اسے گلے سے لگا لے اس کے سارے زخم بھر دے ساوی مصلہ پہ سر جھکاۓ رو رہی تھی جس کے سبب سارا جسم ہل رہا تھا
سامی کے چہرے پہ دھند چھانے لگی دھند میں تصویریں بنتی گئی اور تصویروں میں معاضی کی۔کہانی چلنے لگی
***************
*********
چھوٹا سا ساوی جیسے سکول سے نکلا
عائشہ کو دیکھ کے چہک اٹھا
ماما۔ساوی۔چلاتا ہوا عائشہ کے گلے لگا
ہاں ماما۔کی جان عائشہ ساوی کے ماتھے پہ بوسہ لیتے ہوئی بولی
آج فرائیڈے تھا تو سوچا اپنی۔جان کا۔وعدہ پورا کر لیا جائے
مطلب ہم آئسکریم کھانے چل رہے ساوی خوش ہو کے بولا
ہاں اور آئسکریم کے بعد شوپنگ بھی
یوئر والڈ اف دآ بیسٹ مما ساوی خوشی سے چلایا
اب مسکے لگانا بند کرو
************
آئسکریم کھانے کے بعد اب وہ شاپنگ مال میں موجود تھے
مما مجھے بہت سارے کھلونے لینے ہے
ٹھیک ہے بیٹا جو دل چاہے لے لو
عائشہ مسکراتی ہوئی بولی
کے اچانک اسے عثمان نظر آئے
عائشہ کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی مگر۔۔۔۔۔۔۔کچھ پل کےلئے
عثمان کے ساتھ اک عورت تھی
یہ کون ہے عائشہ بڑبڑائی
ماما کو۔مسلسل ادھر دیکھتے ساوی نے ادھر نظر دوڑائ تو پاپا کو۔دیکھ کے تالیاں بجانے لگا
ماما وہ دیکھو پاپا
مگر ماما یہ آنٹی پاپا۔کے ساتھ یہاں کیا کر رہی
ساوی نے ننھے سے دماغ پے زور دیتے ہوئے کہا
تم۔اسے جانتے عائشہ نے ساوی سے پوچھا
یس ماما
کون ہے یہ عائشہ نے جلدی سے پوچھا
یہ پاپا کے آفس میں کام۔کرتی اور روز پاپا۔کے ساتھ گھر بھی آتی
گگھر آتی کیوں عائشہ کے آلفاظ اٹک رہے تھے
پاپا سے پوچھا تو پاپا نے کہا آفس۔کا۔کچھ کام ہوتا اس لیے انھیں ہیلپ کےلئے لاتا
اور عائشہ گنگ رہے گئی آنکھوں سے آنسو بیہ نکلے
دھوکا درد۔مآن ٹوٹنے کی تکلیف
ماما۔اپ رو۔کیوں رہی ساوی نے نہ سمجھی سے پوچھا
کچھ نہیں بیٹا گھر چلے ماما کی طبیعت خراب پھر آئے گے عائشہ نے سمجھایا اور واپس مڑ گئی
پر ماما وہ پاپا
ساوی میں کہا چلو عائشہ نے ساوی کو ڈانٹتے ہوئے کہا
*************
*******
معاضی ہٹنے لگا دھند ختم ہو گئی
ساوی نے دیکھا سآمی ابھی تک جھکی ہوئی تھی
سامی کا وجود اب نہیں ہل رہا تھا شاید وہ سو چکی تھی
ساوی نے ہلایا وہ سچ میں سو چکی تھی
ساوی نے اسے اٹھا کر۔بڈ پے لٹا کر کمبل ڈالا
اور اک۔نظر چہرے پہ ڈالی۔وہ سو کر ااور بھی معصوم لگ رہی تھی
ساوی نے چہرے پہ آئی لٹوں کو پہچھے کیا اور اس کی روشن پیشانی پہ اک بوسہ لیا
مجھے معاف کرنا میری جان ہاتھوں پہ اک بوسہ لے کر کمرے سے نکل گیا
**************
جاری ہے
