Rehnuma By Mishal Khan NovelR50787 Rehnuma By Mishal Khan Episode03
Rate this Novel
Rehnuma By Mishal Khan Episode03
Rehnuma By Mishal Khan Episode03
سمایا ساویار کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی
آ۔جائیں سمایا سیدھا بیٹھتے ہوئے بولی
بیٹا سو تو نہیں رہی تھی زبیدہ نے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
نہیں مختصر سا جواب
بیٹا کوئی مسلہ کوئی پریشانی ہیں زبیدہ نے پیار سے گال کو چھوتے ہوئے پوچھا
نہیں ماما کوئی کام تھا سمایا نے بات بدلی
ہاں بیٹا دراصل زبیدہ بات کرنے کےلئے سہی لفظ تلاش کر رہی تھی
جی ماما کہیئے ماں کو خاموش دیکھ کر سمایا نے پوچھا
وہ بیٹا تمہاری خالہ شادی کی تاریخ مانگ رہی ہیں
سمایا کو جھٹکا لگا
مگر امی ابھی تو میری سٹڈی
بیٹا شادی کے بعد پڑھ لینا انھیں کوئی عتراض نہیں زبیدہ نے جلدی سے یہ بہانا بھی ناکام بنایا
اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو بتا دو زبیدہ نے نظریں گاڑھے پوچھا
تو دور دل۔کی گہرائیوں سے ساویار سکندر کا نام جاگا جسے جھڑک کر سمایا نے پھر سے سلا دیا
نن نہیں ماما سمایا نے اٹکتے ھوئے جواب دیا
تو بیٹا تمہاری طرف سے ہاں سمجھوں
ساویار کا کیا بھروسہ کتنی لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کر چکا ہو گا اور اس سے اپنی عزت محفوظ رھکنے کا یہی طریقہ سمایا نے سوچتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا
جیتی رہے میری بچی زبیدہ نیک دعائیں دیتی کمرے سے نکل گئی
******************
*********
اگر تم نے کسی اور سے رشتہ جوڑنے کا سوچا تو ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا
سمایا کو کئی نمبروں سے مسجز آ چکے تھے اور بلاک بھی کر چکی تھی
وہ جانتی تھی وہ کون کررہا تھآ
*****************
*********
آج
سمایآ کی شادی تھی زبیدہ اور فاروق کے چہرے سے ان کی خوشی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا
سارا گھر مہمانوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا
گھر گویا جنت کا ٹکڑا لگ رہا تھا
بارات آ چکی تھی
لال لہنگا پہنے لائٹ سا میک اپ بالوں کا جوڑا بنائے گلے میں ہیروں کا نکلس پہنے وہ واقعی ہی شہزادی لگ رہی تھی
لیکن دل میں انجانے سے خدشے آ رہے تھے
تم نے میری بات نہیں مانی سزا سارا خاندان بھگتے گا
مسج پڑھ کے سمایا کا دل منھ کو آ رہا تھا
بظاہر مسکراتی مگر دل سے خیریت کی دعا مانگتی رہی
مگر شاید وقت کسی اور پہ مہربان ہو چکا تھا
****************
**********
یار یہ تو کیا کر رہا ہے
جو پستول میں گولیاں ڈالنے میں مصروف تھا کوئی جواب نہ دیا
خالد کو چھٹی حس کچھ غلط ہونے کی اطلاع دے رہی تھی
پستول ہاتھ میں پکڑے بنا کوئی جواب دیا باہر نکل گیا
اور خالد پکارتا رہے گیا
******************
***********
قق قبول
اس سے پہلے کے سمایآ آخری جملہ مکمل کرتی
فائر کی آواز نے سب کو چوکنے پر مجبور کر دیا
*********
ڈد کے مارے سارے مہمان بھاگنے لگے
ساویار نے اک اور فائر کیا اور سب کو رکنے کا کہا
ساویار کو دیکھ کہ سمایا کو جھٹکا لگا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس حد تک جائے گا
ہری آنکھیں تیش کے مارے لال ہو چکی تھی
بھورے بال بکھرے ہوئے تھے
میں نے کہا تھا نہ تم صرف ساویار سکندر کی ہو سمایا فاروق
وہ سمایا پہ دھاڑ رھا تھا
اور سمایا کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا ماںو کسے نے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا ہو
نقاب پہن کہ پڑھائی کہ نام پہ یا سب کرتی پھرتی ہمیں نہیں کرنا یہاں رشتہ کرنا
امجد کا بازوں پکڑ کر باراتیوں کو نکلنے کا اشارہ کرتے اول فول کہتی امجد کی ماں جا چکی تھی
زبیدہ اور فاروق اپنی عزت کا تماشا بنتے دیکھ رہے تھے
نکاح کےلئے تیار ہو ساویار مسکراتا ہوا پوچھ رہا تھا
تمہاری ہمت کیسے ھوئی میری بیٹی کو ہاتھ لگانے کی فاروق صدمے سے سنبھلے تو لرزتی زبان سے دھاڑے
آآآآ کوئی آواز نہیں کرے گا ساویار نے پستول ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے کہا
تمہیں تو میں اس سے پہلے کے فاروق ساویار کا گریبان پکڑتے ساویار نے ان کی ٹانگ پہ گولی ماری
فاروق صاحب وہی گر گئے
پاپا سمایا جیسے بھاگنے لگی
ساویآر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اگر تم نے یہاں سے اک قدم بھی ہلی تو نشانہ سیدھا دل پہ لگے گا
خدا کےلئے ہمیں بخش دو چھوڑ دو میری بیٹی کو
زبیدہ ساویار کے پاؤں پکڑ کر منتیں کر رہی تھی
ٹھیک ہے چھوڑ دیتا ہوں ساوی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
اور فون کی سکرین زبیدہ کہ سامنے کر دی
جیسے ہی نظر سکرین پر پڑی
ان کا زرد پڑا چہرہ سفید پڑ گیا جسم گویا برف ہو کوئی ہاتھ لگا لے تو وہ لاش لگے
اب بتائے فیصلہ آپکا ساوی مسکرایا زبیدہ ساوی کی آواز پہ چونکی
زبیدہ نہ اک نظر زخمی شوہر پہ ڈالی اور پھر سمایا کو التجائ نظروں سے دیکھا
ہمیشہ کی طرح سامی سر جھکا کے رہے گئی
بال جوڑے سے نکل کر گالوں پر جھول رہی تھی آنکھوں کا سارا کاجل بہہ کر گالوں پر آ چکا تھا
کانپتے ہونٹوں کے ساتھ اخری بار قبول ہے کہا
اور ساتھ ہی ساوی نے اک زور دار قہقہہ لگایا
****************
********
لاحاصل کی محبت حاصل تک
دو ماہ گزر چکے تھے
اور دو ماہ میں ساوی کئی رنگ دیکھا چکا تھا
گاڑی جیسے دروازے میں داخل ہوئی
سامی کی دل کی دھڑکن بڑھنے لگی
وہ جلدی سے کانپتے ہاتھوں سے چائے کی پتیلی چولہے پہ رکھ کے مڑی
ساوی کو اپنے پیچھے کھڑا پا کر سامی کی ڈھڑکنے بڑھنے لگی
ہیلو ڈئیر وائف ساوی نے نشے میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا
وہ میں میں وہ آپ کے لئے چچاے بنا رہی تھی
سامی کی آواز اٹک اٹک کر نکل رہی تھی
چائے ہاہاہاہاہاہا چائے ساوی چلتے ہوئے پتیلی کے پاس آیآ اور پتیلی اٹھا کر سامی کے سامنے کی
یہ چائے بنا رہی تھی
جس طرح پتیلی میں چائے جم چکی تھی سامی کا خون بھی جم رہا تھا
ساوی نے پتیلی زور سے زمین پر ماری اور سامی کے قریب آیآ
سامی کا ہاتھ پکڑ کر چولہے کے قریب آیا
ایم سوری میری جان میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا
اور میں شرمندہ ہو ساوی سامی کا ہاتھ تھامے بول رہا تھا
سامی حیران کھڑی دیکھ رہی تھی
*************
*********
جاری ہے ۔
