Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rehnuma By Mishal Khan Episode01

Rehnuma By Mishal Khan Episode01

دسمبر کا مہینہ تھا اور آج پہلے کی نسبت زیادہ ٹھنڈ تھی
تمام سٹوڈنٹ کلاس ختم ہوتے ہی کینٹین میں آ بیٹھے سب خوش گپیوں میں مصروف تھےکہ اک کار نے چند لمحے کلیے سب کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا سب جیسے ہی کار کا دروازہ کھلا کئی لڑکیاں سانس لینا بھول گئی سفید شلوار قمیض پہنے ہری آنکھوں پہ چشمہ لگائے گندمی رنگت اونچا لمبا قد میں وہ بہت پرکشش لگ رہا تھا کینٹین میں سب کو نظر انداز کرتے وہ چاروں طرف کسی کو متلاشی نظروں سے ڈھونڈنے لگا اور اچانک اس کی نظر سمایا پہ ٹیر گئی برقعے پہنے سیاہ بڑی بڑی آنکھیں وہ سب سے مختلف لگ رہی تھی اسے دیکھتے ہی ساویار سکندر کے لبوں پہ شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی وہ تیز تیز چلتا سمایا کے پاس آیا اور بازوں سے پکڑ کر کھنچا سمایا جو اچانک اس حرکت کلئے تیار نہ تھی گڑبڑا گئی ساویار سکندر اس تیزی سے چلا کہ سمایا گر گئی ساویار نے سمایا کی کلائ چھوڑ دی اور ارام سے سمایا کو کسی گڑیا کی طرح آٹھا لیا سمایا نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر بے سود سمایا کے مکوں کا اس پہ کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ساویار نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور سمایا کو گاڑی میں پھینک کے خود ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی
*****************************
زبیدہ(سمایا کی ماں) رو رو کر برا حال تھا زینب نے انہیں سارا واقعہ سنا دیا تھا فاروق صاحب اسی سلسلے میں انسپکٹر جمشید سے بات کر رہے تھے
دیکھیں فاروق صاحب اگرآپ کا کسی قسم کا جھگڑا ہے عثمان سکندر (ساویار کا والد) تو ہمیں بتا دے
نہیں انسپکٹر صاحب کوئی جھگڑا نہیں بلکہ میں تو کبھی ملا بھی نہیں
ٹھیک ہے فاروقی صاحب ہمیں جیسے کوئی خبر ملتی ہم اپ کو اطلاع کرتے
ٹھیک ہے انسپکٹر صاحب
خدا حافظ
خدا حافظ
ساویار بیٹا آئو ناشتہ کر لو عائشہ نے بہت پیار سے کہا
مجھے نہیں کرنا چھوٹے ساویار نے نروٹھے پن سے کیا اس سے پہلے کہ عائشہ کچھ کہتی عثمان سکندر نے مداخلت کی اور بیٹے کو کہاں آ جاو یار اتنی پیاری چیز کو تنگ نہیں کرتے
عثمان کی بات سنتے ہی عائشہ کہ چہرے پہ مسکراہٹ رینگ گئی
اک شرط پہ اگر آج موم سکول چھوڑنے جائے تو
یس سر عائشہ نے ہاتھ ماتھے پر رکھ کر کہا اور ساویار خوش ہو کر ناشتہ کرنے لگ گیا
*************************
*******************
************
اک بار ہاتھ کھولو پھر بتاتی سمایا نے غصے سے کہا
رسی جل۔گئی پر بل نہیں گیا ساویار دل سے مسکریاں جس سے گال کا ڈمپل گہرا ہوگیا
مگر دل۔میں حیران تھا جو وہ چاھتا تھا وہ ڈر اسے نظر نہیں آ رہا تھا
ساویار نے ڈرانے کی آخری کوشش کی
ٹھیک ہے میرے کچھ دوست آ ریے ہیں انہیں خوش کر کے فر چھوڑ دو گا
یہ سنتے ہی سمایا کی محاورتن نہیں سچ میں ہی زمین پاؤں سے نکل گئی
سمایا کو دو آنسو گال پہ لڑھک گئے
اور وہ رو کر ساویار کی مینتں کرنے لگی
پلیز مجھے جانے دے میں میں خدا کےلئے مجھے جانے دے
میری ماما بہت پریشان ہوں گی پلیز
مما ساویار زیر لب بڑبڑایا
ساویار کو ناجانے کیوں سمایا کے آنسو تکلیف دے رہے تھے
ساویار ضبط کر کے وہاں سے اٹھ آیآ
اور سمایا کی رونے کی آوازیں سماعت سے ٹکراتی رہی
******************
**********
دیکھیں عثمان صاحب اب پانی سر سے گزر رہا آب بات میری نوکری کی ہے جمشید نے بے بسی سے کہا
میں سمجھ سکتا ہوں انسپکٹر میں نے بات کی مگر وہ زد پر ہے آپ کل تک سمبھال لے
بار بار اوپر سے آرڈرز آ رہے کے ابھی تک ارسٹ کیوں نہیں کیا ان کے پاس گواہ ہے مجھے اب ایکشن لینا پڑے گا ورنہ میری نوکری جا سکتی
ہمممم
**********************
*************
ساویار گھر آیا تو دین بخش بھاگا آیا
صاحب کھانا لگاؤ
ساویار نے سنا یا نہیں نہ میں سر ہلا کر کمرے کی جانب بڑھا
واش روم میں گھس کے زور سے دروازہ بند کیا
اور منھ پہ پانی کے چھنٹے مار کے آئینہ دیکھنے لگا آئینہے پہ دھند چھانے لگے اور دھند میں شکلیں بننے لگی
**********************
*************
ساویار
نے عثمان کے گال پہ بوسہ لیا اور عائشہ کی انگلی پکڑ کر گاڑی کی طرف آیا
عائشہ نے کار کا پچھلا دروازہ کھول کے ساویار کو بٹھایا
آوہ میں اپنا فون اندر بھول گئی ابھی آئی
عائشہ پیار سے کہتی اندر داخل ہوئی
عثمان کسی سے کال پہ بات کر رہا تھا
جی جی کچھ دنوں تک کام ہو جائے گا اور ساتھ ہی محبت بھرا قہقہہ لگایا
عثمان جیسے کال کاٹ کر مڑا عائشہ کو پیچھے کھڑے دیکھ بوکھلا گیا
تم تو وہ اس سے پہلے کے عثمان جملہ پورا کرتا کون سا کام عائشہ نے جلدی سے پوچھا
وہ وہ آفس میں کا کام
عائشہ کو عثمان کا لہجہ چبھا مگر آچھا کہہ کر فون اٹھایا اور باہر نکل گئی
آہستہ آہستہ شکلیں مٹنے لگی دھند چھٹنے لگی اور ساویار کی ہری آنکھیں جو درد اور غصے کی وجہ سے لال ہو رہی رھی واضح ہوئی
ساویار کو اپنے گالوں پہ کچھ بہتا محسوس ہوا
وہ آنسو تھے درد غصہ نفرت جنھیں بے دردی سے پونچھ دیا خود کو نارمل کر کے اس نے خالد کے گھر کا رخ کیا
******************
**********
چھ گھنٹے ہو گئے میری بیٹی کو لا پتہ ہوئے آپ اب تک کیا کر رہیں ہیں فاروق صاحب غصے سے بولے
دیکھیں ہم کوشش کر رہے کل تک پتہ چل جائے گا جمشید نے تسلی دیتے ہوئے کہا
کوشش کیسی کوشش سب جانتے سب کے سامنے میری بیٹی کو اٹھا کے لے گیا
ارسٹ کریں سب بتا دے گا
سر اتنا آسان نہیں جتنا سھمج رہے فاروق صاحب وہ عثمان سکندر کا بیٹا ہے جمشید نے سمجھانا چاہا
اس کا مطلب یہ نہیں کے دوسروں کی عزت کے ساتھ کھیلے
مجھے آج ہی اپنی بیٹی چاہیے ورنہ آپ کی نوکری گئی فاروق صاحب نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور فون بند کر دیا
*********************
**************
آ لینے دے بھائی کو خبر لیتے آپکی عدن نے فخریہ اناز میں کہا
وہ تو بعد کی بات پہلے میں تیری خبر لیتا
خالد نے عدن کو دیوار کے ساتھ لگایا
عدن کو خالد کی سانس اپنے چہرے پہ محسوس ہو رہی تھی عدن نے سختی سے آنکھیں بند کر لی
خالد نے اپنی محبت کا نشان عدن کی پیشانی پہ ضبط کی
عدن کی سانس رکنے لگی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *