Rehnuma By Mishal Khan NovelR50787 Rehnuma By Mishal Khan Episode02
Rate this Novel
Rehnuma By Mishal Khan Episode02
Rehnuma By Mishal Khan Episode02
کے اچانک دروازے پر دستک ہوئی دستک پہ دونوں چونکے عدن نے خالد کو پیچھے کیا میں دیکھتی ہوں
عدن سر جھکا کر دروازے کی طرف چلی گئی
ابے یار خالد نے افسوس سے کہا اور صوفے پہ ڈھے گیا
بھیا آ گئے عدن چہکی
کیا حال ہے یار بڑے دنوں بعد بوتھی دیکھائی خالد نے گلے لگتے ہوئے کہا
بس بھائی تھوڑا کام میں مصروف تھا
کااااام خالد نے مسکرا کر اک آنکھو دبائ
بھائی مجھے نہیں رہنا ان کے ساتھ عدن نے نروٹھے پن سے کہا
کیوں بھائی کی جان ساویار ماتھے پہ بوسہ لیتے ہوئے پوچھا
یہ تنگ کرتے میری بہن کو ساویار نے کشن آٹھا کر مارا
بتاتا ہوں یار خالد نے بمشکل ہنسی دبا کے کہا
میں بتاتی ہوں عدن جلدی سے بول پڑی
انھوں نے چائے بنانے کا کہا تو چینی دو چمچ زیادہ ڈال دی
اب اس میں کون سی بڑی بات تھی عدن نے معصومیت سے کہا
خالد نے جلدی سے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیئے
مگر وہ ساویار کیا جو بخش دے
ساویار نے زور سے کان مروڑا
خالد کی چیکھے نکل گئی
اب بتا میری بہن کو تنگ کرے گا
ارے کیسی بیوی ہو اپنے شوہر کو تکلیف میں دیکھ کہ ہنس رہی
عدن جو اس کی یہ حالت دیکھ کہ ہنس ہنس کر دوہری ہو چکی تھی
خالد کی چہکھوں نے گھر سر پہ اٹھا رکھا تھا
سب دروازے کی دستک پہ سمبھلے
میں دیکھتا ہوں ساویار اٹھ کر دروازے کی طرف چلا گیا
آج دیکھنا کیا سارے بدلے لوں گا خالد نے کان ملتے دھمکی آویز لہجے میں کہا
بھیااااااا عدن چلائی
خالد نے جلدی سے منھ بند کروایا
پاپا جلدی سے عدن گلے لگی
جبکہ ساویار کا منھ لٹک گیا
میں چائے بنا کے لاتی عدن اٹھ کھڑی
میرے لئے شوگر فری خالد نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا
عدن نےکشن اٹھایا ابھی بتاتی
بچاؤ خالد ڈرنے کی ایکٹنگ کر کے بھاگنے لگا اور وہ دونوں ہنسنے لگے
یہ کبھی نہیں سدھریں گے جمشید نے ہنستے ہوئے کہا
فر ساویار کی طرف متوجہ ہوئے
بیٹا اب بات نوکری کی ہے تم اس لڑکی کو چھوڑ دو میں کیس گول کر کے تمہیں بچا لوں گا جمشید سنجیدہ ہوئے
جی انکل کل ساویار نے نظریں جھکا کر کہا
دیکھوں بیٹا تمہارے بہت احسان ہم پہ مگر۰۰۰۰۰ جمشید نے جملہ ادھورا چھوڑا
جی انکل کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا
******************
***********
میری بچی کس حال میں ہو گی زبیدہ جو بستر پہ لگ چکی تھی رو کر کہہ رھی تھی
تم بس دعا کرو جلد پتہ چل جائے گا
فاروق نے تسلی دیتے ہوئے کہا مگر اندر سے خود بھی ڈرے ہوئے تھے
****************
***********
مجھے نماز پڑھنی ہے ادھے گھنٹے سے سمایا منتں کر رہی تھی
جانے کیوں ساویار کو ترس آیا اور ہاتھ کھول دیے
فر کولر سے جگ بھر کر وضو کروانے لگا
وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا
سفید رنگ سیاہ بڑی بڑی آنکھیں گلابی ہونٹ اسے بہ تحاشہ معصوم اور پیاری لگی
آج پہلی بار کہنیوں تک دیکھا تو ساویار نے نظریں جھکا لی
سمایا نے آپنی چادر بچھا کر نماز شروع کر دی
اور ساویار اکطرف بیٹھ کر شراب پینے لگا نہ جانے پھر بھی سکون نہیں مل رہا تھا
جبکہ سمایا اسے بہت پرسکون لگی روشن دان سے روشنی سمایا کہ چہرے پہ پڑ رہی تھی اور چہرہ چمک رہا تھا
دو بوتلیں پی کر بھی سکون نہیں مل رہا تھا مگر سمایا کو دیکھ ک عجیب ساسکوں ملتا
فر اس نے سمایا کو دیکھا اور دیکھتا رھا نہ جانے کب وہ اس کے دماغ سے دل میں گھر کر گئی
وہ صدیوں بنا پلک جھپکے اسے دیکھ سکتا تھا
نماز پڑھ کے فآرغ ہوئی تو ساویآر نے کہا تم جا سختی
سمایا کو خوشی اور حیرانی اک ساتھ ہوئی
لیکن جانے سے پہلے اکنظر دیکھا ہری آنکھیں تھوڑی بڑھی شیو کوئی لڑکی بھی مر سکتی تھی مگر سمایا کو زہر لگا
******************
***********-
زبیدہ جو مصلیٰ پہ رو کر بیٹی کلیے دعا کر رہی تھی اچانک سمایا کی آواز پہ چونکی
اور حیرت سے دیکھنی لگی اور پھر گلے لگا کر خوب روئ
بیٹا تو ٹھیک ہے نہ اس نے کچھ غلط تو نہیں کیا بولو نہ بیٹا
نہیں موم اؤر سیدھا کمرے میں چلی گئی ۔
کافی عرصہ بیت گیا سب نارمل ہو گئے بات زہنوں سے نکل گئی سمایا نے بھے یونیورسٹی جانا شروع کر دیا
مگر جو کچھ بھی نہیں بھولا وہ ساویار تھا
اس کی آنکھوں نے سمایا کے علاوہ کسی اور کو دیکھنے سے انکار کر دیا تھا
لیکن اس بات سے انجان سمایا اپنی زندگی میں مشغول تھی
ساویار نے بھی سمایا کے ساتھ اسی یونیورسٹی میں اڈمیشن لے لیا اب وہ ہر وقت سمایا کو دیکھ سکتا تھا اور یہی بات اس کےلئے کافی تھی
سمایا کو اس کی موجودگی پہلے پہل تو زہر لگتی مگر وقت کے ساتھ ہی زہر شہد بننے لگی ساویار
سب سے الگ تھا سمایا نے کبھی کسی لڑکی کہ ساتھ نہیں دیکھا تھا اور یہی بات سمایا کو پسند تھی
****************
**********
ارے دیکھ کیا مال ہے اک۔لڑکے نے سمایا پہ تبصرہ کیا
چپ بے بھابھی ہے تیری دوسرے نے جھڑکتے ہوئے قہقہہ لگایا
ساویار جو سب دیکھ رہا پارہ آسمان کو چھو رہا تھا
چل میری جان تھوڑی مستی کرتے اک نے اٹھ کے سمایا کا بازو پکڑا
نہ جانے کیوں اسے ساویار کی شدت سے چاہ ہوئ
اس سے پہلے کے کچھ اور کہتا ساویار نے اس کے منھ پہ زور دار مکا مارا
راجو جو اس کارروائی کےلئے تیار نا تھا لڑکھڑا کر گر گیا
ابے تو ہے کون تیری اتنی ہمت مجھے تھپڑ مارا راجو کا منھ سے خون بہنے لگا
ہا لگاو گا اور اگر ائندہ آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا جان لے لوں گا ساویار راجو کو کالر۔سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر بولہ اور واپس زمین پر پھینک دیا
دیکھوں گا اور جو جی میں آیا کروں گا تجھے کیوں تکلیف ہو رہی معشوق ہے تیری راجو نے شیطانی قہقہہ لگایا
پھر ساویار نے نہ آو دیکھا نہ تاؤ روجو پہ ٹانگوں اور مکوں کی برسات کر دی
خدا کےلئے چھوڑ دے مر جائے گا سمایا بازو سے پکڑ کر چھڑوانے لگی مگر ساویار جیسے اپنے آپے میں نہ تھا
چیخوں کی آواز۔سے لوگ جمعہ ہوئے آور بمشکل چھوڑیا
کیوں میری عزت کا تماشہ بناتے ہو پہلے وہ سب کر کے سکون نہیں ملا جو اب یہ سب کر کے سمایا روتی ہوئ چیہخ کے بولی
تم صرف ساویار کی ہو صرف ساویار سکندر کی ائ سمجھ
وہ اسے شہادت کی انگلی دیکھا کر بولا
اور سمایا اس کی اچانک۔اقرار سے ششدر رہے گئ
ساویار آنکھوں سے اجھل ہو چکا تھا
اور۔سمایا وہی بت بنی کھڑی رہی
پھر مرے مرے قدم اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑی
*********************
*************
بیٹا تم ٹھیک ہو
سمایا کے اندر داخل ہوتے ہی فاروق صاحب فکرمندی سے بولے
جی پاپا
سمایا نے مختصر سا جواب دیا اور کمرے میں چلی
یہ کچھ دنوں سے کافی بدلی ہوئی ہے نہ کچھ بولتی نہ کچھ کھاتی
زبیدہ نے فاروق صاحب کو فکر منری سے کہا
بچی ہے باتیں دل پہ لے لیتی اور اس واقعہ کو بھی ابھی زہین سے نہیں نکال پائ فاروق صاحب نے بیوی کو تسلی دیتے ہوئے کہا
اچھا سنے زبیدہ نے جھجکتے ہوئے کہا
جی سنائیں فاروق مسکرا کر بولے
وہ آپآ شادی کی تاریخ مانگ رہی ہیں زبیدہ نے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے ںات مکمل کی
ہممم فاروق صاحب سنجیدہ ہوئے
سمایا سے بات کر لے اگر اسے کوئی عتراض نہیں تو پھر ٹھیک ہمیں بھی کوئی عترآض نہیں
بچپن کی منگنی ہے اور امجد بھی سلجھا ہوا لڑکا ہے زبیدہ نے اک۔ںار پھر یاد کروایا
فاروق صاحب نے بس سر ہلانے پہ اکتفاہ کیا
***************
جاری ہے
