Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode
No Download Link
715.9K
8
Rate this Novel
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode03 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode04 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode05 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode (Watching)
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode
شاہ اس وقت فل اسپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا
کہاں گئی ہو گی وہ
اچانک شاہ کے مائنڈ مین کچھ کلک ہوا اس نے یوٹرن سے گاڑی موڑ لی
شاہ کے اندازے کے مطابق حیا یہاں ہی تھی
حیا سامنے تین قبروں کے پاس بیٹھی رو رہی تھی
شاہ.حیا کے پاس آکر بیٹھ گیا فاتحہ پڑی
حیا چلو شاہ بولا
حیا چپ چاپ اٹھ کر حیا کے ساتھ چل دی
شاہ اور حیا واپس آئے تو سب ڈائینگ ٹئبل پر موجود تھے
شاہ بی بی نے آگے بڑھ کر حیا کو گلے لگا لیا
میری بچی
تو ایک بار آکر مجھے تو بتاتی سارے ظلم اپنی ننھی جان پر سہتی رہی
میرے بچے کا قاتل میرے گھر میں گھوم رہا تھا اور مجھے خبر تک ناہوئی
شاہ بی بی روتے ہوئے بولی
شاہ نے آگے بڑھ کر حیا کو شاہ بی بی سے علیحدہ کیا
اور شاہ بی بی کو اشارہ کرتے ہوئے حیا کو لے کر روم کی طرف چل دیا
حیا کسی بھی احساس سے خالی تھی
شاہ حیا کے پاس بیٹھ گیا
حیا شاہ حیا کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
شاہ
ہاں حیا بولو
شاہ مجھے معاف کردو میں نے تم سے جھوٹ بولا
نہیں حیا تم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا
میرا باپ اسی کا حق دار تھا
شاہ میں نے ایک اور جھوٹ بھی تم سے بولا
کیسا جھوٹ حیا
شاہ
ہاں
مجھے طلاق چاہیے
واٹ تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا
نہیں شاہ
پلیز
اور میرے ساتھ چلو مجھے تمہیں کسی سے ملوانا ہے
حیا اس وقت کہاں جانا ہے اور کس سے ملوانا ہے
صبح چلے گے
نہیں ابھی اب امانت لوٹانے کا وقت آگیا ہے
کیسی امانت
حیا مجھے سمجھ نہیں آرہا تم کیسی باتیں کررہی ہو
شاہ میرے ساتھ چلو سب سمجھ آجائے گی
حیا شاہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی
سکندر شاہ کسی بھی ڈاکٹر کے کنٹرول میں نہیں تھے آرہے
آخر کار ڈاکٹرز نے تھک کر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا
سکندر شاہ ہسپتال سے باہر نکل آئے
وہ مسلسل ایک ہی بات بول رہے تھے
میں قاتل ہوں
اب میں اور امیر ہوجاؤگا
اپنے بیٹے کی شادی امیر گھر میں کروں گا
سکندر شاہ کبھی ہنسنے لگتے اور کبھی رونے
سکندر شاہ پسماندہ حال میں سڑک کے کنارے پر بیٹھے تھے
اور مسلسل خود لو قاتل کہتے ہوئے معافی مانگ رہے تھے
آنے جانے والے انہین بھکاری سمجھ کر کچھ پیسے دے کر گزر جاتے
حیا ہم کہاں جارہے ہیں شاہ نے کئی بار کیا جانے والا سوال ایک بار پھر سے کیا
حیا چپ چاپ ڈرائیونگ کررہی تھی
حیا شاہ غصے سے بولا
حیا نے شاہ کی طرف دیکھا
حیا کی آنکھوں میں بیزاری سرد مہری اور اجنبیت تھی
یہ وہ حیا تو نہیں تھی جسے شاہ جانتا تھا
یہ تو کوئی اور ہی حیا تھی
شاہ نے اب کی بار خاموش رہنا بہتر سمجھا
میں دشت دشت رُسوا،
تُو سراب سا مسلسل..
میں لمحہ لمحہ تنہا،
تُو خواب سا مسلسل..
مشہور ہیں نگر میں
میری تشنگی کے قصے
میں قریہ قریہ پیـاسی،
تُو آب سا مسلسل..
میں عکسِ آشنائی،
تُو سراپا دل لگی ہے..
میں خار خار زندگی،
تُو گلاب سا مسلسل..
میں گلی گلی مسافر،
تیرے قُرب کی دیوانی،
میں کوچہ کوچہ بکھری،
تُو نایاب سا مسلسل…..!!
میں جب چھوٹی تھی تو مجھے ایک ملازم نے سنبھالا تھا وہ میرے لئے باپ کا درجہ رکھتے ہیں
حیا گویا ہوئی
شاہ سمجھ نا سکا کہ اس بات کا کیا مطلب ہے
انہوں نے ہمیشہ میری زندگی کا ایک ہی مطلب بتایا
سکندر شاہ کی بربادی
اور میں نے اس بات کو ذہن مین رکھا
اور کبھی کسی کو دوست نا بنایا
عمر بشیر بابا کا بیٹا تھا میرا بچپن اسکے ساتھ ہی گزرا پر کبھی بہت اچھی دوستی نا ہو سکی
وہ عمر جو پاپا کا سیکرٹری
ہاں لیکن حقیقت میں وہ میرا سیکرٹری تھا
پھر ایک دن مجھ سے ایک لڑکی ٹکرائی ہو بہو میرے جیسی پر اسکے چہرے پر داغ تھا جو مجھے بہت اچھا لگتا پر اسے میرا بے داغ چہرہ اچھا لگتا
میرہ طرح اسکا بھی کوئی نہیں تھا
وہ میری دوست بن گئی اور میرے ساتھ ہی رہنے لگی
پھر وہ میرا بدلہ لینے کے لئے تمہاری زندگی میں آئی اور تم سے محبت کر بیٹھی
حیا ان سب باتوں کا مطلب
عمر میرا سیکرٹری بن کر کام کررہا تھا
پر وہ مجھ سے محبت کرنے لگا لیکن اس نے ہمیشہ خود کو میرا غلام سمجھا
لیکن میں اسکی آنکھوں میں اپنی محبت دیکھ سکتی تھی
لیکن مجھے اپنی زندگی کا مقصد پورا کرنا تھا
اس لئے میں نے تم سے نکاح کیا
آئی نو تم مجھے مظلوم سمجھ کے میرے ساتھ کمپرومائز کرنے کو تیار ہو
لیکن میں نہیں
جس دن عمر نے مجِھے تمہارے ساتھ دیکھا تھا تو میں نے اسکی آنکھوں میں دکھ دیکھا
شاہ میں محبت کی بھوکی لڑکی ہوں ساری عمر محبت کو ترسی ہوں
مجھے اب کمپرومائز نہیں مجبت چاہیے
حیا میں تمہیں محبت دوں گا
شاہ محبت صرف ایک سے ہوتی ہے اور اگر سب سے ہوجائے تو وہ وقت گزاری ہے
اور تم بانو سے محبت کرتے ہو
مجھے نا تم سے محبت ہے نا عمر سے
پر مجھے پتا ہے مجھے عمر کی محبت سے محبت ہو جائے گی
حیا
شاہ بولا
اسکے ساتھ ہی حیا نے گاڑی روک دی
اور شاہ کو اترنے کا اشارہ کیا
شاہ خاموشی سے گاڑی سے اتر گیا
حیا بھی اتر آئی
یہ ایک خوبصورت گھر تھا
حیا نے کسی کو کال کی
ہاں دروازہ کھولو
تھوڑی دیر میں دروازہ کھل گیا
تتتت تم دروازہ کھولنے والے کو دیکھ کر شاہ کے منہ سے نکلا اور وہ منجمد ہو کر اس چہرے کو دیکھنے لگا
کچھ ایسا ہو پھر سے
میں تیرے درد کی دوا بنوں
تو پھرے در بدر
تو جاگے رات بھر
تو بھی محسوس کر سناٹوں کو
تجھے بھی رلاۓ تیری وحشتیں
تو پھرے نگر نگر
لا حاصل ہو تجھے کونو ومکاں
کچھ ایسا ہو پھر سے
میں تیری درد کی دوا بنوں
تو پھر محسوس کر اپنی اذیتوں میں میری اذیتوں کو
تو پھر تلاش کر اپنی خاموشیوں میں میری خاموشیوں کو
تو پھر سن نہ سکے اپنی آہٹوں میں میری آہٹوں کو
تجھے رلاۓ تیرے درد
تو پھر محسوس کر میرے درد کو
پھر پکار اٹھے
اپنے ڈوبتے وجود میں
میرے نام کو
تجھے بھی وہی لاحق ہو
جو مجھے لے ڈوبا
کچھ ایسا ہو پھر سے
میں تیرے درد کی دوا بنوں۔
تم شاہ حیرانگی سے بولا
جی جیجو جی میں
جبکہ حیا تو اسکے طرز تخاطب پر حیران رہ گئی
مائے ڈئیر وائف منہ بند کر لیجیے شاہ نے حیا کے کھلے ہوئے منہ پر چوٹ کی
حیا اور شاہ صوفے پر بیٹھ گئی
تو جیجو جی کیا لینا پسند کریں گے آپ
وہ آنکھیں مٹکاتی ہوئے بولی
حیا شاہ کا دوبدو جواب آیا
شاہ کی بات پر دونوں نے فلک شگاف قہقہ لگایا جبکہ حیا دونوں کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی
حیا یار مراقبے سے نکل بھی آؤ بانو چائے لاتے ہوئے بولی
یار ایکچلی ہم دونوں نے مل کر تمہارے ساتھ ایک گیم کھیلی
ڈونٹ ٹیل می کے تم عمر کا ہر بار شاہ کو اچھا کہنے کی وجہ سے ہی شاہ سے محبت کرنے لگی تھی
شاہ کے نام پر میں نے تمہاری آنکھوں کی بڑھتی ہوئی چمک دیکھی تھی
بانو ایک بار پھر سے گویا ہوئی
اینڈ آئی نو یہ میری ساحرہ نہیں سحرش بانو ہے اب کی بار شاہ بولا
ایکچلی مجھے بانو نے سب کچھ بتا دیا تھا تو میں نے تمہارا ساتھ دینے کا سوچا لیکن تم بہت ٹیڑھی کھیر تھی
اس لیے ہم نے وہ نکاح کا ناٹک کیا
اور اپنے آدھے پلین میں تمہیں بھی شامل کیا
واٹ حیا بولی
ارے سویٹ ہارٹ آہستہ بولو ہم بہرے تو نہیں ہیں شاہ شرارت سے بولا
بانو تم بھی
کیا کروں یار اب جیجو کا بھی تو ساتھ دینا پڑتا ہے نا
اور وہ جو تم نے کہا تھا کہ تم شاہ سے محبت کرتی ہو حیا اچھنبے سے بولی
مزاق تَھا یار
صرف تمہیں شیشے میں اتارنے کے لئے جیجو کے کہنے پر بولا تھا بانو مزے سے بولی
اور وہ جو آپ اس دن اس لڑکی کی قبر پر بیٹھ کر رو رہے تھے جسے بانو بنا کر دفنایا تھا
ہاہاہا میں جانتا تھا تم مجھے دیکھ رہی تھی میں اس وقت یہ سوچ رہا تھا کہ بیچاری یہ لڑکی بھی سوچ رہی ہو گی یہ میرا پتا نہیں کونسا نیا عاشق پیدا ہوگیا جو اتنا رو رہا ہے
شاہ ہنس کر بولا
آپ دونوں نے مجھے بے وقوف بنایا حیا غصے سے بولی
نوڈارلنگ وہ تو اللِلہ نے بنایا
ہم نے تو بس اللِلہ کی کاریگری کا فائدہ اٹھایا ہے شاہ حیا کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
شاہ کی بات پر بانو نے قہقہ لگایا جبکہ حیا نے دونوں کو گھور کر دیکھا
آپ دونوں بات نہیں کریں مجھ سے حیا اٹھ کر جانے لگی
رکو سویٹ ہارٹ ابھی تو ایک اور سرپرائز ہے
کیسا سرپرائز حیا اچھنبے سے بولی
دے بوتھ آر گوئنگ ٹو ڈو دا میرج
شاہ بانو اور عمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
واٹ حیا چیخ کر بولی
یس
ہاں حیا آئی لائک ہیم بانو بولی
اوہ واؤ مزہ آئے گا حیا بانو کے گلے لگتے ہوئے بولی
عمر بانو کو ہمیشہ خوش رکھنا حیا عمر سے بولی
جی میم
اب تو میم نابولو حیا ہنس کر بولی
اوکے میم
عمر کی بات پر سب ہنس دیے
تو ڈارلنگ ہم چلیں شاہ حیا سے مخاطب ہوا
شاہ حیا کو دیکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئی
چل شاہ آج تو تیری خیر نہیں شاہ سر کھجاتا ہوا بولا
شاہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی حیا نے گاڑی اسٹارٹ کردی
حیا یار اب میرے سے ناراض کیوں ہو شاہ نے پوچھا
حیا چپ چاپ گاڑی جلاتی رہی
یا اللِلہ آج بچا لینا
آج تک بیویوں سے مار پڑتے سنا تھا آج خود کو بھی.پڑنے والی ہے شاہ بڑبڑایا
شاہ کی بات پر حیا نے بامشکل ہنسی روکی
حیا یار تیز گاڑی چلاؤ پر حیا کے سر تو کچھ اثر نہیں ہورہا تھا
ایک گھنٹے کا سفر وہ دوگھنٹوں میں طے کررہے تھے
حیا بار بار ٹائم دیکھ رہی تھی
دفعتاً حیا کو کسی کی.کال آئی ہاں کام.ہو گیا
جی میم ہو گیا
اوکے حیا نے گاڑی کی اسپیڈ تیز کردی
حیا نے گھر پہنچ کر گاڑی روکی
شاہ روم.میں داخل ہوا تو روم.میں فل اندھیرا تھا شاہ نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی
سارا کمرہ جگمگا رہاتھا.
ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ہسبنڈ
تمہین میری برتھ ڈے کا کیسا پتا شاہ نے پوچھا
کیونکہ اگر آپکو یاد ہو تو میرا اور آپ کا برتھ ڈے سیم ہے
اور مجھے تو یاد بھول گیا تھا
ہیپی برتھ ڈے دئیر وائفی
شاہ حیا کو اپنے بازوؤں میں لیتا ہوا بولا
پھر دونون نے مل کع کیک کٹنگ کیا
شاہ نے آگے بڑھ کر حیا کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا
تھینکیو دئیر وائف ٹو دس بیوٹیفل نائٹ شاہ حیا کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا
حیا نے شاہ کے سینے میں منہ چھپا لیا کیونکہ وہ جانتی تھی ان ایک محبتوں سے بھری زندگی اسکی منتظر تھی
کچھ دن بعد
حیا یار جلدی کرو شاہ کوئی پانچویں بار بولا
تمہاری بہن کی شادی ہے اور تم ہی لیٹ جاؤ گی
شاہ کی بات پر حیا مڑی
حیا بلیک ساڑھی پہنے بالوں کو اسٹریٹ کیے کمر پر کھلا
چھوڑے ہلکے میک اپ اور جیولری کے ساتھ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
شاہ.مبہوت ہوئے حیا کو دیکھ رہا تھا
حیا شاہ کی نظروں سے پزل ہورہی تھی
شاہ چلیں حیا کی بات پر شاہ ہوش مین آیا
ہاں چلیں شاہ بولا
نکاح ہو چکا تھا
بانو اور عمر ایک ساتھ بیٹھے بہت خوبصورت لگ رہے تھے
عمر کریم.کلر کی شیرونی پہنے بہت خوبصورت لگ رہا تھا
حیا ریڈ میکسی اور نفاست سے کیے گئے میک اپ میں ستم ڈھا رہی تھی
اور حیا کے بقول اسکا داغ اسکو اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا
حیا اور شاہ بانو کے پاس بیٹھے اسے تنگ کررہے تھے
کہ فوٹا شوٹ کا سلسلہ جاری ہوگیا
یے ڈاکٹر شاہ میر آپ یہاں
واٹ آ پلیزینٹ سرپرائز
ہو از شی وہ شخص حیا کو دیکھ کر بولا
شی از مائی وائف ہیلو
حیا نے مسکرا کر جواب دیا
تو ڈارلنگ اب میری اپنی پہچان ہے ڈاکٹر شاہ میر شاہ کی بات ہر حیا مسکرا دی
حیا اور شاہ.نے. سامنے دیکھا تو بانو عمر کی.کسی بات پر شرما رہی تھی
یار میں سوچ رہا ہوں ہم دوبارہ سے شادی کر لیں جبکہ حیا نے زاہ کی بات پر آنکھیں پھاڑ کر دیکھا
وہ ہمارا یوں فوٹو شوٹ نہیں تھا ہوا. اور…..
اور کیا سہاگ رات بھی
شاہ.کی بات پر حیا مے شاہ کو گھور کر دیکھا
جبکہ شاہ.نگ قہقہ.لگایا
حیا یار یو آر بلشنگ
حیا نے پلکیں جھکا لی
چاند نے ان دونوں کو مسکرا کر دیکھا اور چاند کی چاندنی بھی انکی محبت پر سرشار ہو گیا
ختم شد
