Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01
No Download Link
715.9K
8
Rate this Novel
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01 (Watching)Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode03 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode04 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode05 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی
ارے نورین دیکھو کس کا فون ہے
او کرمو دیکھ تو کس کا فون ہے شاہ بی بی کی آواز بھی فون کے ساتھ مسلسل گونج رہی تھی
پتا نہیں کہاں مرگئی سب کی سب
آہ یہ گھٹنوں کا درد تو جان لے لے گا میری شاہ بی بی اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
ہیلو
سلام شاہ بی بی
وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچہ
میں ٹھیک ہوں شاہ بی بی آپ کیسی ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں میرا بچہ
ملنے کب آؤ گے تمہیں دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں شاہ بی بی بھرائی ہوئی آواز میں بولی
شاہ بی بی میں کل گاؤں آرہا ہوں
سچ کہہ رہے ہو پتر
ہاں شاہ بی بی بالکل سچ
اچھا اب میں فون رکھتا ہوں مجھے تیاری کرنی ہے
ٹھیک ہے میرا بچہ
ارے او نورین
جن اماں
کل شاہ پتر آرہا ہے
اماں سچ میں
ہاں تیاریاں شروع کرواؤ
اور کرمو کو بول کر شاہ پتر کا روم بھی صاف کرواؤ
ٹھیک ہے اماں میں بولتی ہوں
نورین بیگم کرمو کو شاہ کاروم صاف کرنے کا بول کر سدرہ بیگم کے روم میں گئی انکو یہ خوشخبری سنانے
سدرہ
جی آپی
شاہ آرہا ہے کل گاؤں
واقعی میں
ہاں
اوہ واؤ شاہ بھائی آرہے ہیں
ثانیہ اور ثونیہ تو باقاعدہ اُٹھ کے دھمال ڈالنے لگی
شاہ ہاؤس میں ہر طرف شاہ بی بی کی حکومت تھی اور انکے ہر حکم کو بجا لایا جاتا تھا
کچھ وہ اس قابل بھی تھی کچھ بھی ہوتا کبھی بھی جھوٹ کا ساتھ نا دیتی چاہے اپنے بچوں کے خلاف کیوں نا جانا پڑتا
شاہ بی بی کے شوہر یعنی کہ شاہ فاروق جوانی میں ہی گزر گئے اس وقت شاہ بی بی کے دو بچے تھے
سکندر شاہ اور زمان شاہ
شاہ فاروق کے گزرنے کے بعد بچوں اور کاروبار دونوں کو شاہ بی بی نے سنبھالا اور باخوبی اپنے فرائض سرانجام دیِئے
سکندر شاہ تھوڑے بڑے ہوئے تھے تو ماں کا برابر میں ہاتھ بٹانے لگے
سکندر شاہ اپنے نام کو لے کے کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گئے اور خود کو مقدر کا سکندر سمجھنے لگے
لیکن شاید وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ وقت تو سب کے ساتھ کھیلتا ہے اور وقت کے کھیل بہت زبردست ہوتے ہیں
سکندر شاہ اور نورین بیگم کا ایک بیٹا شاہ میر جو شہر سے اپنی پڑھائی پوری کرکے کل لوٹ رہا تھا
اور زماں شاہ اور سدرہ زمان کی دو بیٹیاں ثانیہ اور ثونیہ تھی
نورین بیگم ثانیہ یا ثونیہ دونوں میں سے ایک کو بہو بنانا چاہتی تھی لیکن انکو ڈر تھا کہ شاہ میر کہیں شہر میں ہی کوئی لڑکی پسند نا کر لیں
لیکن ایسا کچھ نا ہوا
اور شاہ میر بنا کسی لڑکی کو پسند کیِے کل گاؤں واپس لوٹ رہے تھے
شاہ ہاؤس کو دلہن کی طرح سجایا گیا
سجایا بھی کیوں نا جاتا
اس خاندان کا اکلوتا وارث واپس لوٹ رہا تھا
ہر طرف چہل پہل تھی
اوئے نظیرے اچھے سے تیاری ہونی چاہیے کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے
شاہ بی بی نوکر کو مخاطب کرتی ہوئی بولی
جی شاہ بی بی سب اچھے سے ہو گا
سکندر پوتر تین کالے بکرے منگواؤ شاہ پتر کا صدقہ دینے کے لئے
شاہ بی بی سکندر سے بولی
جی شاہ بی بی میں بول دیتا ہوں تھوڑی دیر تک آجائیں گے
شاہ تیاری پوری ہوگئی تیری ساحل نے ہوچھا
ہاں ہو گئی
کیا ہوا پریشان ہے تو خوش نہیں ہے کیا
یار خوش ہوں چار سال بعد گاؤں واپس لوٹ رہا ہوں سب سے ملنے کی خوشی ہے
لیکن تو جانتا ہے اماں نے جاتے ہی میری شادی کے چکروں میں پڑ جانا
اور میں شادی کسی صورت نہیں کروں گا
اور وہ ثونیہ یا ثانیہ سے میں نے انہیں ہمیشہ چھوٹی بہنیں سمجھا ہے
اور ان ان سے نکاح کر لوں ابھی اتنا بھی بے غیرت نہیں ہوا میں شاہ میر غصے سے بولا
اچھا یار گاؤں جا کے دیکھ لینا ابھی وہ کون سا گن پوائنٹ پر تمہارا نکاح کروانے والے ہیں ساحل نے گویا بات ختم کی
ہاں یہ بھی ہے شای مسکراتا ہوا وہاں سے اٹھ گیا
ہیلو میڈم
ہاں عمر بولو کیا خبر ہے
میڈم سکندر شاہ کا بیٹا شاہ میر کل گاؤں واپس لوٹ رہا ہے
اوہ
لیکن میڈم
لیکن کیا
وہ بہت اچھا لڑکا ہے
اس میں سکندر شاہ کا نہیں شاہ بی بی کا خون دوڑتا ہے
تو عمر یہ بھی بتادو سکندر شاہ میں کس کا خون دوڑتا ہے
حیا کے اس سوال پر وہ لب بھینچ کا خاموش ہو گیا
عمر میری بات کان کھول کر سنو
جی میڈم
مکافات عمل کا نام سنا ہے نا تم نے
جی میڈم
تو یہ بھی مکافات عمل ہے عمر
جب ایک مرد کسی لڑکی کو دھوکا دیتا ہے نا تو
کہا جاتا ہے اسکی بہن یا بیٹی اس دھوکے کا قرض چکاتی ہے
لیکن میں اس بار کہانی بدلنے والی ہوں
سکندر شاہ کے بیٹے کو اپنے باپ کے گناہوں کا بدلہ چکانا ہو گا
میں اس دنیا میں سکندر شاہ کی زندگی کو اجاڑنے کے لئے آئی ہوں اور یہی میری زندگی کا مقصد ہے
حیا کی آواز میں سے اس وقت وحشت چھلک رہی تھی
لیکن میڈم
عمر حیا کی آواز میں کچھ ایسا تھا جسے سن کر عمر نے اپنے لب بھینچ لیے
لیکن اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا کہ سکندر شاہ کی زندگی میں اب طوفان آنے والا ہے
لیکن یہ طوفان کس کس کو اپنے ساتھ بہا کے لے کے جانے والا ہے یہ تو وقت طے کرنے والا تھا
ارے نورین اوہ سدرہ دیکھو تو کون آیا ہے
شاہ بی بی شاہ میر کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی
شاہ میرا بچہ
نورین بیگم شاہ کو خود سے لپٹاتے ہوئے بولی
نورین بیگم سے علیحدہ ہو کر شاہ باری باری سب سے ملا
ارے لیڈیز میں آپ کو رلانے تھوڑی نا آیا ہوں
شاہ نورین اور شاہ بی بی کو روتے ہوئے دیکھ کر شرارت سے بولا
شاہ میر کی بات پر سب ہنس دیے
شاہ بی بی میں نے آپ کو بہت یاد کیا شاہ میر شاہ بی بی کی گود میں سر رکھ کر لیٹتا ہوا بولا
ہوں اگر یار کرتا تو ملنے نا آجاتا
شاہ بی بی آپکو پتا تو ہے میری اسٹڈیز کتنی مشکل تھی
اپکے کہنے پر ہی تو ڈاکٹر بننے گیا تھا
اپکی ہی تو خواہش تھی کہ آپکا بیٹا ڈاکٹر بنے اب خود ہی گلے کر رہی ہیں
شاہ بی بی شاہ میر کے یوں شکایت کرنے پر اسکے صدقے واری جانے لگی
جاؤ میرا بچہ نہا دھو کر تھوڑا آرام کرو میں کھانا لگواتی ہوں میرا بچہ تھگ گیا ہو گا
شاہ میر نے اٹھتے ہوئے ثانیہ اور ثونیہ کو دیکھا جو ٹکٹکی باندھے شاہ میر کو دیکھ رہی تھی
اوہ خدا کہاں پھنس گیا
ڈئیر سسٹرز کیسی ہو شاہ میر بشاشت سے بولا
ہم ٹھیک ہیں وہ دونوں ایک ساتھ بولی
اوکے بعد میں ملتا ہوں تم دونوں سے شاہ میر یہ کہتا ہوا اپنے روم کی طرف چل دیا
شاہ پتر کھانا کھا کے آرام کر لو
نہیں شاہ بی بی کھانا کھا کے میں باہر جاؤں گا گھومنے پھرنے پھر یہ وقت نہیں ملنا
ٹھیک ہے بچہ ثونیا اور ثانیہ کو ساتھ لے جانا
اب یہ وہاں بھی ساتھ جائیں گی شاہ دل میں بولا
اوکے شاہ بی بی بظاہر شاہ بشاشت سے بولا
جبکہ دوسری طرف ثانیہ اور ثونیا تو کھل اٹھی
وہ جانتی تھی کہ ان دونوں میں سے شاہ کو کسی ایک کا تو شوہر بننا ہی تھا
لیکن کس کا یہ تو وقت نے بتانا تھا
شاہ میر کا ارادہ اپنے دوستوں سے ملنے کا تھا
لیکن ان ثونیا اور ثانیہ کے ساتھ تو نہیں تھا مل سکتا
اس لیِے اس نے گاؤں ک سیر کا سوچا
ارے وہ درخت کے نیچے کون بیٹھا ہے شاہ کسی ذی روح کو دیکھ کر بولا
وہ پاگل ہے ثانیہ نے جواب دیا.
پا گل
ہاں یہ چار سال پہلے کسی گاؤں سے بھٹکتی ہوئی آئی تھی
بہت پتا ڈھونڈا اسکا لیکن نہیں ملا شاہ بی بی نے کہا ہمارت کوارٹرز میں رہ لو
لیکن یہ کچھ بولتی ہی نہیں ہے بس دیکھتی رہتی ہے اور اس درخت کے نیچے پھر سے آکر بیٹھ جاتی ہے
کیا یہ ہمیشہ یہیں بیٹھی رہیتی ہے شاہ نے پھر سے پوچھا
نہیں ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے کبھی کسی گاؤں میں اور کبھی کسی
اوہ میں دیکھ کے آتا ہوں
نہیں شاہ کوئی بھی لڑکا جب اس کے پاس جاتا ہے تو یہ پتھر اٹھا کر مارنے لگتی ہے عورتوں کو کچھ نہیں کہتی ثانیہ شاہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی
کچھ نہیں ہوتا شاہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولا
شاہ اس لڑکی کے پاس جا کر بیٹھ گیا
ہائے شاہ نے اسے مخاطب کیا پر وہ ہنوز سر جھکائے بیٹھی رہی
نام کیا ہے تمہارا
پھر کوئی جواب نا آیا
دوست بنو گی میری
جواب پھر سے ندارد
لگتا ہے تم بات نہیں کرنا چاہ رہی
لیکن میں کل پھر آؤں گا ابھی میری کزنز بلا رہی ہیں
واؤ شاہ اس نے تمہیں کچھ نہیں کہا ثانیہ چہکتی ہوئی بولی
اوکے تم لوگ گھر جاؤ مجھے اپنے دوست سے ملنا ہے
شاہ ثانیہ کی بات کو اگنور کرتے ہوئے بولا
اوکے اور وہ دونوں وہاں سے چلی گئی
شاہ نے مڑ کر اس لڑکی کو دیکھا وہ ہنوز چہر جھکائے بیٹھی تھی
سی یو سون ڈیئر یو آر مائے فرسٹ پیشنٹ ہیئر
شاہ مسکراتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھ گیا اسے یہ معاملہ کافی دلچسپ لگ رہا تھا
ہاں عمر بولو کیا خبر ہے حیا فون کان کو لگاتے ہوئے بولی
میڈم شاہ میر گاؤں آگیا
کون شاہ میر
میڈم سکندر شاہ کا بیٹا
اوہ
مجھے اسکی تصویر واٹس ایپ کرو
اوکے میڈم
سنو کیا سکندر شاہ کافی خوش ہے
جی میڈم
عمر دیکھنا کیسے یہ خوشیاں میں مٹی میں ملاتی
حیا ہاتھوں کی مساج کرتے ہوئے بولی
جب کہ عمر ہمیشہ کی طرح لب بھینچ کر رہ گیا
شاہ گھر آیا تو شاہ ہاؤس میں ایک طوفان مچا ہوا تھا
شاہ میر شاہ بی بی کی غصے سے بھری آواز گونجی
جی شاہ بی بی
تم اس لڑکی کے پاس کیوں گئے تمہیں پتا وہ کتنی خطرناک پاگل ہے
اوہ تو یہ ان محترماؤں کی مہربانی ہے
شاہ بی بی جس نے آپ کو یہ بتایا کہ میں اس لڑکی کے پاس گیا انہوں نے یہ بھی بتایا ہو گا کہ اس نے مجھے کچھ نہیں کہا
وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن بیٹا وہ پاگل ہے شاہ بی بی متانت سے بولی
شاہ بی بی میں ایک ڈاکٹر ہوں اس لیے یہ میرا فرض ہے
اور اپنے فرض سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا
اور شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
شاہ اگلے دن پھر اسی درخت کے نیچے اس لڑکی کے پاس موجود تھا
وہ لڑکی آج بھی اسی لباس میں ویسے ہی سر جھکائے بیٹھی تھی
ہائے ڈول
کیا کر رہی ہو
وہ لڑکی ویسے ہی سر جھکائے بیٹھی رہی
اچھا اپنا نام تو بتاؤ
ہنوز خاموشی
ارے یار کسی بات کا جواب تو دو
روٹھی ہوئی محبوبہ کی طرح بیٹھی ہو
شاہ شرارت سے بولا
کہیں یہ لڑکی گونگی تو نہیں شاہ اشاروں سے اس کے ساتھ بات کرنے لگا
بابو تم یہاں کیوں آتے ہو اس لڑکی نے سر جھکائے پوچھا
اوہ تھینک گاڈ تم بول سکتی ہو
میں تم سے ملنے آتا ہوں
کیوں
ویسے ہی
تم یہاں کیوں بیٹھی رہتی ہو
بابو اگر آپ کو مسئلہ ہے تو ہم کہیں اور بیٹھ جاتا ہے
ارے نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا شاہ شرمندہ ہوا
تمہارا گھر کونسا ہے
اس لڑکی نے سامنے جھونپڑے کی طرف اشارہ کیا
اوہ تمہیں ڈر نہیں لگتا کیا
اس لڑکی نے نہیں میں سر ہلایا
اچھا تمہارا نام کیا ہے
بابو جاؤ یہاں سے
کیوں
پھر سے خاموشی
اوکے میں کل پھر سے آؤ گا
اپنا خیال رکھنا.
حیا کے فون کی بپ بجی
واٹس ایپ پر کسی لڑکے کی تصویر عمر نے بھیجی تھی
ساتھ میسج تھا
اوہ تو یہ ہے سکندر شاہ کا بیٹا
شاہ میر
اوہ بے بی یو آر لوکنگ بیوٹیفل
میٹ ود یو سون
حیا تصویر کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
اسکی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا تو جو سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کردیتا
سکندر شاہ آرہی ہوں میں تمہاری بربادی کے ساتھ
حیا سکندر شاہ سے مخاطب ہوئی
شاہ آج پھر تم اس لڑکی کے پاس گئے شاہ بی بی غصے سے بولی
شاہ نے سر جھکا لیا
آج کے بعد تم اس لڑکی سے نہیں ملوگے
کیوں شاہ بی بی
اوئے نظیریں شاہ بی بی نے کسی کو آواز دی
وہاں ایک آدمی آیا جس کے سر پر پٹی بندھی تھی
یہ اس کا سر اس لڑکی نے پھاڑا
اور ہم تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتے
اوہ شاہ نے ہونٹوں کو سکیڑا
اوکے شاہ بی بی
اور اپنے روم میں چلا گیا
شاہ بیٹا
جی شاہ بی بی
میرے کمرے میں آؤ تم سے کچھ بات کرنی ہے
جی شاہ بی بی
شاہ بی بی آپ نے بلایا کیا حکم ہے میرے لئے
شاہ میر ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں
شاہ بی بی اتنی جلدی کیا ہے
کیونکہ اب ہم تمہاری خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں
ٹھیک ہے شاہ بی بی پر پہلے آپ میری بہنوں کی شادی کروائیں
تمہاری بہنیں
کونسی بہنیں
ثونیہ اور ثانیہ شاہ متانت سے بولا
وہ تمہاری بہنیں نہیں ہیں شاہ میر
لیکن میں تو انہیں اپنی بہنیں ہی سمجھتا ہوں نا
اور جب تک ان کی شادی نہیں ہو گی میں شادی نہیں کرواؤن گا
شاہ وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا
شاہ بنا کہیں ثونیہ اور ثانیہ سے شادی سے انکار کر چکاتھا
لفظوں کا کھلاڑی تو وہ بچپن سے رہا تھا
پاپا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
شاہ ناشتے کی ٹیبل پر سکندر شاہ سے مخاطب ہوتا ہے
سوری بیٹا آج میری بہت ضروری میٹنگ ہے
اور یہ بہت ضروری ہے اور یہ میڈم بہت وقت کی پابند ہے
پاپا کس کے ساتھ ہے میٹنگ
موسٹ فیمبیس بیسنس لیڈی حیا شاہ کے ساتھ
اوکے پاپا
میں رات میں بات کر لوں گا
اوکے بیٹا
سکندر شاہ میٹنگ کے لئے پہنچتے ہیں تو حیا وہاں پہلے سے موجود ہوتی ہے
مسٹر سکندر آپ پدس منٹ لیٹ ہیں
اس لیے اب یہ میٹنگ صبح ہوگی
سوری
ناؤ یو کین گو
سکندر شاہ بادل ماخواستہ اٹھ کر آجاتے ہیں
سکندر شاہ کے آفس سے نکلتے ہی حیا کا قہقہ گونجتا ہے
سکندر شاہ خود کو مقدر کا سکندر سمجھتے ہو اب دیکھنا حیا شاہ تم سے کیسا کھیل کھیلتی ہے
تم کیا سمجھتے ہو میں تمہارے ساتھ بیسنس کرنا چاہتی ہوں
نہیں سکندر شاہ میں تو تمہیں برباد کرنا چاہتی ہوں
اور اپنی بربادی کے پاس تم خود آئے ہو
تمہیں ایسی زندگی دوں گی کہ تم موت کو ترسو گے
سکندر شاہ یہ حیا شاہ کا تم سے وعدہ ہے
اور حیا شاہ اپنے قول و قرار کی بہت پکی ہے
جاری ہے
