Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02

715.9K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02

ہائے سویٹی
شاہ آج پھر اس لڑکی کے پاس موجود تھا سب کے منع کرنے کے باوجود نا جانے اس لڑکی میں ایسی کیا کشش تھی جو اسے یہاں کھینچ لاتی تھی
حالانکہ ابھی تک شاہ نے اس لڑکی کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا
شاہ نے اس لڑکی کر طرف دیکھا
آج کپڑے بدلے ہوئے تھے بالوں کی چوٹی بنی ہوئی جس میں سے بہت سے بال باہر نکل کر بکھرے ہوئے تھے
اور بہت سی آوارہ لٹیں چہرے پر پھیلی تھی
جو چہرے کو ڈھانپنے کا کام باخوبی سر انجام دے رہی تھی البتہ ہمیشہ کی طرح چہرہ آج بھی جھکا ہوا تھا
شاہ اس کے پاس بیٹھ گیا
تم نے کل نظیریں کا سر کیوں پھاڑا
کون نظیرا
جس کا سر پھاڑا تھا
وہ میرے پاس آیا تھا اس لئے
تو میں بھی تو تمہارے پاس آتا ہوں
بابو مجھے مردوں سے بہت ڈر لگتا ہے لیکن تم پہلے مرد ہو جس سے مجھے ڈر نہیں لگتا پتا نہیں کیوں
تم ایسے کیوں بیٹھی رہتی ہو اور ایسا حلیہ کیوں بنا رکھا یے جبکہ تم پاگل نہیں ہو
بابو سب مجھے پاگل سمجھتے ہیں اس لیِے اب تک محفوظ ہوں اور کوئی درندہ میری طرف نہیں بڑھتا
اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ میں پاگل نہیں ہوں تو وہ تو مجھے نوچ کھائیں گے
شاہ کے پاس اسکی بات کا کوئی جواب نہیں تھا اتنی گہری باتیں
تو تمہیں شاہ بی بی نے کوارٹر رہنے کو دیا تھا تم وہاں رہ لیتی
کیوں بابو تمہارے گھر مرد نہیں ہیں کیا
وہ شاہ کو ایک بار پھر سے لاجواب کر چکی تھی
تم مجھے بابو کیوں کہتی ہو جبکہ میرا نام شاہ میر ہے شاہ نے بات بدلنے کو کہا
کیونکہ آپ شہر سے پڑھ کے آیا ہے نا اس لیے
تو پھر کیا ہے تم مجھے شاہ میر کہہ کر بلایا کرو
نہیں بابو ہم بابو ہی بلائیں گے
چلو ٹھیک ہیں کل ملتے ہیں
اور شاہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
❤❤❤
شاہ اپنے روم میں بیٹھا مسلسل اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا
ناجانے کیا ہے اس لڑکی کی باتوں میں جو وہ ہمیشہ لاجواب ہو جاتا تھا
شاہ ان ہی خیالوں میں کھویا تھا کہ اس کے فون کی بیل بجی
شاہ نے فون دیکھا تو ساحل کالنگ لکھا تھا
ہیلو
ہاں کیسے یو میں بالکل ٹھیک
ایک گڈ نیوز ہے ساحل بولا
کیا
کل میں تیرے گاؤں آرہا ہوں
اس میں گڈ کیا ہے شاہ ساحل کو تپانے کے لئے بولا
اور ادغر ساحل تپ بھی چکا تھا
میرا دماغ خراب ہے اس لیے تجھے کال کی
مجھے یاد بھول گیا تھا کہ تو بے غیرت پیدا ہوا یے
ساحل کے کہنے پر شاہ کا قہقہ گونجا. جب کہ ساحل نے جل کو فون بند کردیا
❤❤❤
رات کو سب ڈائینگ ٹیبل پر موجود تھے
پاپا آپ کی میٹنگ کیسی گئی شاہ نے پوچھا
بیٹا میٹنگ کینسل ہو گئی
وہ کیوں پاپا
میں دس منٹ لیٹ تھا
واٹ صرف دس منٹ کی وجہ سے میٹنگ کینسل کر دی
جی بیٹا وہ میڈم تو کوئی ایک منٹ بھی لیٹ ہو تو میٹنگ کینسل کردیتی ہیں
ایسے ہی تو وہ کامیابی کی بلندیوں کو نہیں چھو رہی
ہمم پاپا لگتا ہے ان محترمہ سے ملنا پڑے گا جس کی میرے ڈیڈ اتنی تعریف کررہے ہیں
شاہ کی بات پر سکندر شاہ قہقہ لگا کر ہنس پڑے
پاپا میں کھیتوں کا ایک چکر لگانا چاہ رہا تھا
بیٹا عمر کا ساتھ لے جانا اور صبح چلے جانا
اوکے پاپا
❤❤❤
شاہ صبح کھیتوں میں جانے کو تیار تھا کہ ثانیہ اور ثونیہ چلی آئی
شاہ ہم بھی آپ کے ساتھ کھیتوں میں چلے
نہیں میں اکیلا نہیں جا رہا عمر بھی ساتھ ہے اور ویسے بھی میرا دوست آرہا یے اس لیے آچھے سے صفائی وغیرہ کرواؤ
اوکے وہ دونوں منہ بنا کر وہاں سے جانے لگی
جب شاہ بولا
میری بات سنو دونوں
جی وہ دونوں یک زبان ہو کر بولی
میں تم دونوں سے بڑا ہوں اور یہ تم دونوں مجھے بھائی کس خوشی میں نہیں کہتی
شاہ آواز میں غصہ سما کر بولا
سسسوری شاہ بھائی
آج کے بعد میں تم دونوں کی زبان سے اپنا نام نا سنو
اوکے بھائی
اور وہ دونوں شاہ کا غصہ دیکھ کر ایسے غائی ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ
❤❤❤
شاہ اور عمر کھیت دیکھنے کے ساتھ ساتھ باتوں میں مصروف تھے کہ عمر کا فون بجنے لگا
ایکسیوزمی سر
عمر ایک سائیڈ پر جا کے فون سننے لگا
ہیلو عمر
جی میڈم
تم شاہ میر کے ساتھ کیا کررہے ہو
میڈم میں یہاں ایک نوکر کے طور پر کام.کررہا ہوں اور سکندر شاہ نے مجھے اسکے ساتھ بھیجا ہے
اوکے کہہ کے حیا نے کال بند کردی
جبکہ عمر لب بھینچ کر رہا گیا اسکو شاہ میر اچھا لگا تھا
لیکن افسوس وہ اپنے باپ کے گناہوں کے بھینٹ چڑھنے والا تھا اور عمر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کر سکتا تھا
عمر تم میڑیڈ یو شاہ نے پو چھا
نو سر
ریلیشن میں ہو
نو سر
اوہ میں سمجھا تمہاری وائف یا فیانسی کی کال ہے
سر میں آپکو کیسے بتاؤ یہ آپ کی بربادی کی کال تھی
سر مجھے معاف کر دیں آپ مجھے اچھے لگتے ہیں لیکن میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتا
عمر اپنے دل میں شاہ سے مخاطب ہوا
❤❤❤
میں تجھ سے جان چھڑوا کے یہاں آیا اور تو پھر سے یہاں ٹپک پڑا شاہ ساحل کے گلے لگتے ہوئے بولا
بکواس نہ کر
شاہ نے اپنی مسکراہٹ چھپائی جتنا مزہ ساحل کو جلانے میں آتا تھا اتنا مزہ بھلا اور کسی چیز میں کہاں
ساحل اور شاہ کافی دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے
اوکے تو فریش ہو جا مجھے ضروری کام سے جانا ہے شام میں ملتے ہیں
شاہ ساحل کو اس کے روم میں چھوڑتا ہوا بولا
ہمم اوکے
اور وہ ضروری کام کیا ہے اگر ساحل کو پتا چل جاتا تو اسکی جان نکال لیتا
لیکن شاہ بھی مجبور تھا کیا مجبوری تھی اس بات سے وہ خود بھی بے خبر تھا
❤❤❤
شاہ کو آج اس لڑکی سے ملتے ہوئے آٹھ دن ہو چکے تھے لیکن ابھی تک شاہ اسکا چہرہ بھی نا دیکھ سکا
لیکن پھر بھی اس میں نا جانے ایسی کونسی کشش تھی کہ وہ اس کے پاس کھینچا چلا آتا
یہ واقعی ایک ڈاکٹر کی مریض سے ہمدردی تھی یا کچھ اور یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا
ہیلو
شاہ اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا ہمیشہ کی طرح جواب آج بھی نادارد تھا
سنو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تمہیں یوں بیٹھیں دیکھ کر
شاہ کی اس بات پر اس لڑکی نے چہرہ اوپر اٹھا کر دیکھا
دودھ کی طرح چمکتا ہوا رنگ تیکھا ناک پنکھڑی جیسے ہونٹ لیکن جو چیز سب سے زیادہ اٹریکٹ کرنے والی تھی وہ ٹھی اسکی آنکھیں رائل بلیو کلر کی شاہ کا پسندیدہ رنگ
بالکل چاند جیسا چہرہ تھا
لیکن چاند کو گرہن بھی ہوتا بالکل اس طرح اس لڑکی کے چہرے پر بھی گرہن کا نشان تھا ٹھوڑی سے لے کر گردن تک گرہن کا نشان تھا نشان نہیں دھبا تھا جو اسکی خوبصورتی کو ماند کررہا تھا
بابو تم ہی بتاؤ کہاں جاؤ شاہ اس لڑکی کے پوچھنے پر ہوش میں آیا
سکندرشاہ اس گاؤں کا چوہدری بہت امیر ہے وہ تمہں سر چھپانے کو جگہ اور کھانے کے لئے اچھی روٹی دے سکتا ہے
نہیں بابو امیر لوگ تو ہم غریبوں پر ظلم کرنے کے لئے پیدا ہوتا ہے اس نے غیر مرئی نقطے کوگھورتے ہوئے جواب دیا
نہیں ایسا نہیں ہے میں نے تم پر کوئی ظلم کیا
بابو تم کو ہمیں جاننے کا تجسس ہے کہ ہم کون ہے جس دن وہ ختم ہوگیا تم بھی خدا بن جائے گا
وہ ہمیشہ ہی تو اسے اپنی باتوں سے لاجواب کر دیتی تھی
اور وہ روز اسکی باتوں کے جواط گھر سے تیار کرکے آتا لیکن ہمیشہ ہی لاجواب ہوجاتا
اچھا تمہارا نام کیا ہے
شاہ میر نے بات بدلنے کو پوچھا
بابو نام تو تب ہوتا جب کوئی آپ کو پکارنے والا ہو ہمیں پکارنے والا کوئی نہیں ہے
ہاں یہ گاؤں کے لوگ ہم کو پاگل کہتے ہیں
اور یہاں کے بچے ہمیں پاگل سمجھ کر پتھر بھی مارتے ہیں
وہ ایک بار پھر سے شاہ میر کو لاجواب کرچکی تھی
ہاں لیکن خدا تو ہے نا شاہ میر نے پھر سے ایک دلیل دی
کہاں ہے خدا
خدا بس امیروں کا ہے ہمارے خدا تو امیر ہیں چاہیں تو ہمیں برباد کردیں چاہیں تو بخش دیں اسکی باتوں سے ایک دکھ چھلک رہاتھا
خدا تو سب کا ہوتا ہے
اچھا تو میرا خدا کدھر ہے اس نے شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
شاہ میر ایک بار پھر سے خاموش ہوگیا
بابو تم یہاں مت آیا کرو ورنہ لوگ تم کو بھی پاگل کہیں گے
کیوں میں تو آؤں گا
کیوں بابو
کیونکہ تم میری دوست ہو
بابو غریب اور پاگل کا کوئی دوست نہیں ہوتا
تم پاگل نہیں ہو شاہ میر نے کہا
بابو ایسا بس تم سمجھتے ہو دنیا نہیں
شاہ میر ایک بار پھر سے لاجواب ہو گیا
لیکں اس لڑکی میں ناجانے ایسا کیا تھا وہ سب کے منع کرنے کو باوجود اس کے پاس چلا آتا جو دھوپ چھاؤں کی پرواہ کیے بنا ایک ہی جگہ پر بیٹھی رہتی
❤❤❤
ہیلو میڈم
ہاں بولو عمر
میڈم شاہ میر آج پھر اس لڑکی سے ملنے گیا
ہاہاہا ملنے دو ملنے دو
تھوڑے ہی دن ہے اس کے پاس
حیا کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جو اس ٹھٹھکنے پر مجبور کر رہا تھا
عمر
جی میڈم
تمہاری ہمدردی آج کل کچھ زیادہ نہیں جاگ رہی سکندرشاہ کے بیٹے کے لِیِے
نہیں میڈم ایسی کوئی بات نہیں وہ جلدی سے خود کو کمپوز کرتا ہوا بولا
خیر یہ تو وقت بتائے گا کیسا ہے لیکن تم جانتے ہو حیاشاہ کو دھوکہ دینے کا انجام کیا ہوسکتا ہے
جی میڈم عمر لب بھینچتا ہوا بولا
❤❤❤
کہاں سے آرہا ہے تو ساحل شاہ کو دیکھتا ہوا بولا
بتایا تو تھا کہ ضروری کام ہے
وہ ضروری کام کیا تھا یہ پوچھ رہا ہوں میں
میں بتانا ضروری نہیں سمجھتا
تو کیا ضروری سمجھتا ہے کیا نہیں اس بات سے مجھے فرق نہیں پڑتا
شاہ نے اگنور کیا
یہ جو تو کرتا پھر رہا ہے سدھر جا
اوہ تو پتا چل گیاتجھے
یہ یقیننا ثانیہ اور ثونیہ کی کارستانی ہے
ساحل خاموش ہو گیا
جبکہ شاہ لب بھینچتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا
❤❤❤
رات شاہ اپنے بیڈ پر لیٹا مسلسل اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا
بابو نام تو پکارنے کے لئے ہوتے ہیں مجھے کوئی پکارنے والا نہیں یے تو نام کیسے ہوگا
شاہ کے کانوں میں اس لڑکی کی آواز گونجی
میں تمہیں پکارا کروں گا شاہ نے دل میں اس لڑکی کو مخاطب کیا
وہ میری زندگی میں سحر بن کر آئی ہے تو اسکا نام سحر
نہیں وہ بالکل چاند جسی ہے تو اسکا نام مہتاب
نہیں وہ ہر ایک پر اپنا سحر پھونکنا جانتی یے تو اسکا نام ساحرہ
وہ ناجانے کتنی دیر یوں ہی لیٹا کبھی کوئی نام سوچتا اور خود ہی مسترد کر دیتا
اَبھی وہ ناجانے اور کتنی دیر سوچتا کہ ساحل اس کے روم میں داخل ہوا
شاہ
جواب ندارد
شاہ ساحل نے شاہ کا کندھا ہلایا
ہاں شاہ جیسے ہوش میں آیا
کہاں کھویا تھا تو
ہمم کہیں نہیں
شاہ ایک بات پوچھوں
اگر میں کہوں گا نہیں ہھر بھی تو نے پوچھنی یے تو تو پوچھ لیں
ہاہاہا ساحل نے بنا شرمندہ ہوئے قہقہ لگایا
یار تو اس لڑکی کو پسند کرتا ہے
پتا نہیں
پر اس سے ناجانے ایسا کون سا رشتہ ہے کہ میں خود ہی اسکی جانب کھینچتا چلا جاتا ہوں
پر وہ تو پاگل ہے نا ساحل نے کہا
وہ پاگل نہیں یے وہ بالکل صحیح ہے یہ تم لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ پاگل ہے
اچھا پھر مجھے اسے سے کب ملوا رہا یے ساحل نے بات بدلنے کو کہا
پوچھ کے بتاؤ گا
اوہو اوہو ابھی سے فرمابرداریاں ساحل نے شاہ کو چھیڑا
ساحل کی بات پر شاہ جھینپ گیا
❤❤❤
شاہ بیٹا کہاں جارہے ہو شاہ بی بی نے پوچھا
شاہ بی بی ضروری کام سے جارہا ہوں
اس لڑکی سے ملنے
شاہ نے خاموشی سے نظریں جھکا لی اور وہاں سے چلا گیا
شاہ اسی درخت کے پاس آگیا پر ہمیشہ کی طرح آج وہ وہاں نہیں تھی
شاہ نے ادھر ادھر دیکھا پر وہ وہاں نہیں تھی
شاہ وہاں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگا
کوئی دو گھنٹے گزر گئے پر اسکو نا آنا تھا اور وہ نا آئی
❤❤❤
بات سنو شاہ نے پاس سے گزرتے ایک آدمی سے پوچھا
جی صاحب جی
یہاں جو لڑکی بیٹھی ہوتی ہے وہ کہاں ہے
صاحب جی وہ تو آج صبح سے نہیں ہے
اور وہ ایسے ہی اچانک غائب ہو جاتی ہے اور پھر وہ اچانک کہیں سے آجاتی ہے
پورے گاؤں نے نا کبھی اسکو آتے دیکھا یے اور نا ہی جاتے
جب وہ آتی ہے تو اسی درخت کے پاس پائی جاتی ہے
شاہ حیرانگی سے اس آدمی کی بات سن رہا تھا
شاہ کچھ دیر وہاں اور بیٹھ اٹھ کر چلا گیا
❤❤❤
ساحل اور شاہ باتوں میں مصروف تھے لیکن شاہ کا دھیان تو کہیں اور ہی تھا
شاہ کہاں گم ہو یار
شاہ نے اجنبی نظروں سے ساحل کو دیکھا
یار وہ چلی گئی
کون چلی گئی
وہ لڑکی
کہاں چلی گئی
پتا نہیں جہاں سے آئی تھی وہاں چلی گئی
یار میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا شاہ ٹرانس کی کیفیت میں بولا
ہم اسے ڈھونڈ لیں گے ساحل اسے دلاسا دینے کو بولا
کیسے
میں تو اسکا نام بھی جانتا
یار تو فکر نا کر ہم اسے ڈھونڈ لیں گے ساحل پریشانی سے بولا
❤❤❤
ہیلو
جی میڈم
کیا خبر ہے پھر
میڈم وہ شاہ میر اس لڑکی سے محبت کرنے لگا ہے
مطلب اپنا پلین کامیاب جا رہا ہے
عمر نے حیا کی بات پر لب بھینچے
میں نے کہا تھا وہ لڑکی بہت جام دینے والی ہے اس لڑکی پر نظر رکھو
میڈم وہ لڑکی صبح سے غائب ہے اور کہاں ہے اور کیسے گئی کسی کو کچھ خبر نہیں
اوکے حیا نے جواب دیا اور فون بند کردیا
مسٹر سکندر شاہ آپکے بیٹے کی بربادی کا وقت شروع ہوا جاتا ہے روک سکتے ہو تو روک لو.حیا سکندر شاہ سے دل میں مخاطب ہوتے ہوئے بے ہنگم قہقہے لگانے لگی
❤❤❤
آج سکندرشاہ بہت خوش تھے کیونکہ انکی ڈیل حیا سے ہوگئی تھی
حیا کا بزنس اس وقت بلندیوں کا چھورہا تھا سب لوگ ان سے ڈیل کرنا چاہتے تھے لیکن صرف سکندر شاہ کی قسمت نے انکا ساتھ دیا
اس وقر سکندر شاہ حیا شاہ کے آفس میں بیٹھے تھے کہ حیا کے فون کی بیل بجنے لگی حیا ایکسیوز کرتی یوئی چلی گئی
تھوڑی دیر میں سکندر شاہ کا فون بھی بجنے لگا
سکندر شاہ کے سیکرٹری احمد نے کال اٹینڈ کی
سر آپ کی کال ہے
ہیلو سکندر شاہ اسپیکنگ
سکندر شاہ سنا یے حیا شاہ کے ساتھ بزنس ڈیل کرنے آئے ہو
آپ کون
میں تمہاری بربادی
کیا مطلب
چلو آسان لفظوں میں سمجھاتا ہوں
مسٹر وجدان شاہ کو جانتے ہو
ہوں تو اگر وجدان شاہ کو جانتے ہو تو مسز وجدان شاہ کو بھی جانتے ہو گے
ارے اتنی خاموشی لگتا یے اچھے طریقے سے یاد ہے وہ تمہیں
جبکہ سکندرشاہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھی
تم کون ہو
میں ثوبان شاہ وجدان شاہ کا بیٹا
جسے تمہارے بقول تم مار چکے ہو
پر افسوس وہ زندہ ہے اور تمہیں برباد کرنے کو لوٹ آیا ہے
کال بند ہو چکی تھی اور سکندر شاہ ہنوز ویسے ہی بیٹھے تھے
کیا ہوا مسٹر سکندر شاہ آپ ایسے کیوں بیٹھے ہیں
حیا کی آواز پر سکندر شاہ ہوش میں آئے
پانی سکندر شاہ کے منی سے بے ساختہ نکلا
حیا نے پانی سکندر شاہ کی طرف بڑھایا
سر آپ ٹھیک ہے
جی میں ٹھیک ہوں
اوکے ہم چلتے ہیں اور یہ کہہ کر سکندر شاہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے
❤❤❤
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *