Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808

Last updated: 23 July 2026

715.9K
8

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی
ارے نورین دیکھو کس کا فون ہے
او کرمو دیکھ تو کس کا فون ہے شاہ بی بی کی آواز بھی فون کے ساتھ مسلسل گونج رہی تھی
پتا نہیں کہاں مرگئی سب کی سب
آہ یہ گھٹنوں کا درد تو جان لے لے گا میری شاہ بی بی اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
ہیلو
سلام شاہ بی بی
وعلیکم السلام کیسا ہے میرا بچہ
میں ٹھیک ہوں شاہ بی بی آپ کیسی ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں میرا بچہ
ملنے کب آؤ گے تمہیں دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں شاہ بی بی بھرائی ہوئی آواز میں بولی
شاہ بی بی میں کل گاؤں آرہا ہوں
سچ کہہ رہے ہو پتر
ہاں شاہ بی بی بالکل سچ
اچھا اب میں فون رکھتا ہوں مجھے تیاری کرنی ہے
ٹھیک ہے میرا بچہ
❤❤❤
ارے او نورین
جن اماں
کل شاہ پتر آرہا ہے
اماں سچ میں
ہاں تیاریاں شروع کرواؤ
اور کرمو کو بول کر شاہ پتر کا روم بھی صاف کرواؤ
ٹھیک ہے اماں میں بولتی ہوں
نورین بیگم کرمو کو شاہ کاروم صاف کرنے کا بول کر سدرہ بیگم کے روم میں گئی انکو یہ خوشخبری سنانے
سدرہ
جی آپی
شاہ آرہا ہے کل گاؤں
واقعی میں
ہاں
اوہ واؤ شاہ بھائی آرہے ہیں
ثانیہ اور ثونیہ تو باقاعدہ اُٹھ کے دھمال ڈالنے لگی
❤❤❤
شاہ ہاؤس میں ہر طرف شاہ بی بی کی حکومت تھی اور انکے ہر حکم کو بجا لایا جاتا تھا
کچھ وہ اس قابل بھی تھی کچھ بھی ہوتا کبھی بھی جھوٹ کا ساتھ نا دیتی چاہے اپنے بچوں کے خلاف کیوں نا جانا پڑتا
شاہ بی بی کے شوہر یعنی کہ شاہ فاروق جوانی میں ہی گزر گئے اس وقت شاہ بی بی کے دو بچے تھے
سکندر شاہ اور زمان شاہ
شاہ فاروق کے گزرنے کے بعد بچوں اور کاروبار دونوں کو شاہ بی بی نے سنبھالا اور باخوبی اپنے فرائض سرانجام دیِئے
سکندر شاہ تھوڑے بڑے ہوئے تھے تو ماں کا برابر میں ہاتھ بٹانے لگے
سکندر شاہ اپنے نام کو لے کے کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گئے اور خود کو مقدر کا سکندر سمجھنے لگے
لیکن شاید وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ وقت تو سب کے ساتھ کھیلتا ہے اور وقت کے کھیل بہت زبردست ہوتے ہیں
سکندر شاہ اور نورین بیگم کا ایک بیٹا شاہ میر جو شہر سے اپنی پڑھائی پوری کرکے کل لوٹ رہا تھا
اور زماں شاہ اور سدرہ زمان کی دو بیٹیاں ثانیہ اور ثونیہ تھی
نورین بیگم ثانیہ یا ثونیہ دونوں میں سے ایک کو بہو بنانا چاہتی تھی لیکن انکو ڈر تھا کہ شاہ میر کہیں شہر میں ہی کوئی لڑکی پسند نا کر لیں
لیکن ایسا کچھ نا ہوا
اور شاہ میر بنا کسی لڑکی کو پسند کیِے کل گاؤں واپس لوٹ رہے تھے
❤❤❤

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *