Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06

715.9K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06

Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06

صدقہ جو مانگے کوئی تیرے نام کا
ہم اپنی جان اسے خیرات میں دیں دیں
بانو کا حوالہ ایسا تھا کہ شاہ کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنے قدم روکنے پڑے
جھوٹ بول رہی ہو تم شاہ واپس مڑتے ہوئے بولا
جھوٹ بولنے پر مجھے ثواب نہیں ملے گا حیا نے طنز کیا
ہاں پر تم شاہ میر کو حاصل کرنا چاہتی ہوں
شاہ کی اس بات پر تو گویا حیا شاہ کو جھٹکا لگا
اچھا ایسا کیا ہے تم میں کوئی سپر اسٹار ہو یا اقبال کے رشتے دار ہو جو میں تمہیں حاصل کرنا چاہوں گی
تمہاری حقیقت صرف یہ ہے کہ تم ایک قاتل کی اولاد ہو
اوہ ہاں تمہارے پاس ایک شناخت ہے کہ تم قاتل کے بیٹے ہو
چچچ تمہارے پاس تو اپنی شناخت بھی نہیں ہے
لیکن حیا شاہ کی ایک شناخت ہے ہر انسان حیا شاہ کو پانا چاہتا ہے
لیکن میں صرف اپنی دوست کی خواہش پوری کرنا چاہتی ہوں اس لیے تمہارے پاس آئی لیکن تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ بات کی جائے تم سے
دعوے تو بہت کرتے تھے بانو سے محبت کے اسکی ایک خواہش نہیں پوری کرسکتے مطلب تمہاری محبت جھوٹی ہے اور میری دوستی سچی
حیا اپنی بات پوری کرکے وہاں سے جاچکی تھی
اور شاہ کو پاتال میں کھڑا گئی
کیا اسکی محبت جھوٹی تھی کیا اتنی سی محبت تھی اسکی کہ وہ اپنی محبت کی خواہش نہیں پوری کرسکتا
میری محبت جھوٹی ہے کیا شاہ نے خود سے سوال کیا
فریاد کررہی ہے ترسی ہوئ نگاہ
دیکھے ہوئےکسی کو بہت دن گزر گئے
❤❤❤
حیا مسلسل مسکرا رہی تھی ایک کام تو ہوگیا اب دوسرا
اور ساتھ ہی حیا نے کسی کو کال ملادی
ہیلو سکندر شاہ اسپیکنگ
آئی ایم حیا شاہ.
جی بولیے کیسے یاد کیا
میں آپ سے پارٹنر شپ کرنا چاہتی ہوں
آپ میرا مزاق اڑا رہی ہیں سکندر شاہ نے سوال کیا
میں ایسا کیوں کروں گی حیا نے الٹا سوال کیا
کیوں کہ آپ جانتی ہیں میرا بزنس آجکل مکمل خسارے میں ہے تو کوئی مجھ سے کیوں ڈیل کرنا چاہے گا
کیونکہ میں آپ سے رشتہ داری کرنا چاہتی ہوں حیا مدعے پر آئی
میں کچھ سمجھا نہیں
ارے سر مطلب تو صاف ہے میں آپ کے بیٹے سے شادی کرنا چاہتی ہوں
آپ سچ کہہ رہی ہیں
میں بھلا آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گی
لیکن میرا بیٹا نہیں مانے گا سکندر شاہ مایوسی سے بولے
کیوں حیا نے پوچھا
کیونکہ اس پر آج کل محبت کا بھوت سوار ہے
وہ بھی اس بدچلن عورت کا جو مرچکی ہے خود تو مرگئی ہماری زندگی حرام کر گئی
حیا نے بہت مشکل سے یہ الفاظ برداشت کیے
مرگئی ہا ماری گئی حیا ہنستے ہوئے بولی
اپنے بیٹے کو آپ مجھ پر چھوڑ دیں آپ شادی کی تیاریاں کریں اور ساتھ ہی کال بند کردی
سکندر شاہ اب میں تمہیں جسمانی اذیت نہیں ذہنی اذیت دوں گی
تم خود موت مانگو گے
❤❤❤
خاموشی بے وجہ نہیں صاحب۔۔۔۔
کوئی درد سہا ہے۔۔کسی کی لاج رکھی ہے۔۔۔۔
شاہ ابھی تک حیا کے الفاظ میں گم تھا
کیا واقعی میں اسکی محبت جھوٹی ہے
کیا کررہے ہو ساحل شاہ کے پاس بیٹھتا ہوا بولا
ساحل
ہاں
کیا میری محبت جھوٹی ہے
کیا میری محبت سچی نہیں ہے
یہ کس نے کہا تجھ سے ساحل بولا
بتا نا وہ کہہ رہی تھی میری محبت جھوٹی ہے
نہیں تو تو میری چاہت کو گواہ ہے نا بتا میری محبت سچی ہے نا شاہ بچوں کی طرح پوچھ رہا تھا
جبکہ ساحل حیرانگی سے شاہ کو دیکھ رہا تھا
کہ یہ کیسی باتیں کررہا ہے
ساحل
شاہ نے ساحل کو ایک بار پھر پکارا
کیا میں قاتل کی اولاد ہوں کیا میری کوئی پہچان نہیں ہے کیا میری ہہچان یہی ہے کہ میں ایک قاتل کی اولاد ہوں
یار تو سوجا تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ساحل شاہ کو بیڈ پر لٹاتا ہوا پریشانی سے بولا
تم ایک قاتل کی اولاد ہو تمہاری کوئی پہچان نہیں ہے
تمہاری محب جھوٹی ہے اور میری دوستی سچی
شاہ کے کانوں میں ایک بار پھر سے حیا کے الفاظ گونجے
نننن نہیں میں اپنی پہچان بناؤں گا میری محبت سچی ہے شاہ اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا
❤❤❤
حیا آفس میں کسی فائل پر سر جھکائے بیٹھی تھی کہ دروازہ ناک ہوا
یس کم اِن حیا بولی
آپ حیا شاہ کو دیکھتے ہوئے بولی.
وہ سمجھ گئی کہ اسکی باتیں کام کرگئی ہیں اب وہ صرف اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی
بیٹھیے حیا بولی
کیسے آنا ہوا
مممم میں آپ سے شادی کرنے کو تیار ہوں اور میری محبت سچی ہے اور میں آپکو اپنی پہچان بنا کے دکھاؤن گا
ویل تو آپ اپنے گھر شادی کی بات کب کررہے ہیں
آج ہی اور صبح ہمارا نکاح ہو گا اور میں یہ نکاح سادگی سے کرنا چاہتا ہوں
ہمم ایز یو وش
تو کیا لیں گے آپ.
آج کچھ نہیں نیکسٹ سہی یہ کہہ کر شاہ اٹھ کھڑا ہوا
اوکے میں چلتا ہون
اوکے
تو مس حیا آپکا پھینکا پتا کام کر گیا حیا یہ کہہ کر مسکرادی
❤❤❤
رات سب کھانا کھا رہے تھے خلاف معمول آج شاہ بھی موجود تھا
شاہ بی بی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
ہاں بولو
میں شادی کرنا چاہتا ہوں شاہ آرام سے بولا
جبکہ سکندر شاہ کے علاوہ باوی سب کو شاہ کی بات سن کر جیسے سانپ سونگھ گیا
❤❤❤
ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﻮﮔﻮ
ﺍﮔﺮ ﺑﺘﺎﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ !!
!!ﺟﻮ ﺳﻦ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
!! ﯾﮧ ﮨڈﯼ ﺑﻮﭨﯽ ﭘﮧ ﭘﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﮮ ﻧﺴﺐ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ
ﮐﮩﯿﮟ ﻣﻼ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
!! ﯾﺘﯿﻢ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﺗﻠﻮﮞ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﻗﺼﺎﺹ ﻣﺎﻧﮕﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺱ ﺩﮮ ﮐﺮ
ﺍﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
ﺍﮮ ﮔﻮﻧﮕﻮ !! ﺑﮩﺮﻭ !! ﺟﯿﻮ ﮔﮯ ﮐﺐ
ﺗﮏ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻦ
ﮐﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
ﯾﮧ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﻠﮯ
!! ﮔﺎ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺧﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻏﺬ ﻗﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺑﮭﯽ
ﺟﻼ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
!! ﺍﮔﺮ ﻃﻠﺐ ﮨﮯ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ
!! ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﺎ ﺳﻮﻟﯽ ﭼﮍﮬﻨﺎ
!! ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺋﮯ ﻣﻘﺘﻞ
ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺳﮩﮧ ﺳﮑﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﯾﺮﺍ !!
ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﻮﻧﮓ ﺩﻝ
ﮐﮯ ﺩﯾﺎ ﺟﻼﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
ﯾﮧ ﺳﭻ ﮐﺎ ﮨﯿﻀﮧ ﺟﺴﮯ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ !! ﻭﮦ
ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺳﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﻋﺎﺑﯽ !! ﺍﺳﮯ
ﺟﮕﺎﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو شاہ بی بی نے حیرانگی سے پوچھا
شاہ بی بی یہ میرا آخری فیصلہ ہے شاہ تلخی سے بولتا ہوا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
جبکہ سب پیچھے حیران و پریشان بیٹھے تھے
شاہ بی بی میرا خیال ہے ہمیں شاہ کی بات مان لینی چاہیے یہ تو خوشی کی بات ہے کہ وہ زندگی کی طرف واپس لوٹ رہا ہے
ہاں یہ تو ہے شاہ بی بی بولی
شاہ بی بی آپ شاہ سے پوچھ کے جہاں وہ چاہتا ہے شادی کردیں
اوکے ہم آج ہی بات کرتے ہیں شاہ سے
ہمیں تو بس شاہ کی خوشیاں چاہیے
جی شاہ بی بی سکندر شاہ چاپلوسی سے بولے
❤❤❤
شاہ بیٹا ہمارے کمرے میں آؤ ہمیں تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
شاہ بی بی شاہ میر سے مخاطب ہوئی
جی شاہ بی بی
شاہ میر شاہ بی بی کے روم میں داخل ہوتا ہوا بولا
بیٹا تم کس سے شادی کرنا چاہتے ہو
تم بتاؤ ہم وہاں تمہارا رشتہ لے کر جائین گے
اسکی ضرورت نہیں ہے شاہ بی بی ساری بات طے ہو چکی ہے صبح نکاح ہے آپ بارات لے جانے کی تیاری کریں
اور حیا شاہ آپکی ہونے والی بہو ہے
شاہ میر شاہ بی بی کو حیران چھوڑ کر چلا گیا
پتا نہیں یہ شاہ کیا کرتا پھر رہا ہے سب سمجھ سے باہر ہے
خدا میرے بچے کو اپنے حفظ وامان میں رکھیں
شاہ بی بی دعا کرتے ہوئے بولی
❤❤❤❤
واہ بیٹا اتنی جلدی منا لیا شاہ کو
سکندر شاہ حیا شاہ سے بولے
بس دیکھ لیں گیم ہی ایسی کھیلی
ارے واہ کہان سے سیکھا گیمز کھیلنا
اپنے تایا ابو سے
حیا نے برجستہ جواب دیا
ارے واہ پھر تو ملنا پڑے گا آپ کے تایا ابو سے
سکندر شاہ ہنستے ہوئے بولے
جی ضرور بہت جلد ملواؤ گی سب سے
حیا بھی ہنستے ہوئے بولی
ویسے بیٹا منایا کیسے شاہ کو سکندر شاہ تجسس سے بولے
اسکو چھوڑیں بس منا لیا ہے یہ کافی نہیں ہے کیا حیا نے الٹا سوال کیا
ارے نہیں ایسی بات نہیں ہم تو بہت خوش ہیں
اور تمہاری یہ خوشیاں میں نے غارت نا کی تو میرا نام بھی حیق وجدان شاہ نہیں
حیا نے دل میں سوچا
اوکے سسر جی صبح ملتے ہیں پھر حیا بولی
آخر کو شادی ہے میری تیاری تو کرنی ہے نا اکلوتی شادی ہونی ہے میری حیا ہنستے ہوئے بولی
ہاہاہا اوکے بیٹا سکندر شاہ ہنستے ہوئے بولے
❤❤❤
کیا میں یہ سب ٹھیک کر رہا ہوں سب سمجھ سے باہر ہے کیا کروں
کیا میں حیا کو اسکے حقوق دے پاؤں گا
شاہ انہی الجھنوں میں الجھا ناجانے کب نیند کی وادی میں گم ہوگیا
❤❤❤
آج کا دن کسی کے لئے خوشی کق باعث تھا اور کسی کے لئے ماتم کا
اللَلہ اللَلہ کرکے دن گزرا
اور اس وقت حیا وجدان شاہ حیا شاہ میر بن کے شاہ میر کے کمرے میں بیٹھی تھی
سب حیا کو شاہ کے روم میں چھوڑ کر چلے گئے
حیا بھی اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی
کیونکہ وہ کوئی عام دلہن تو نہیں تھی کہ بیٹھ کے حسین سپنے سجاتے ہوئے اپنے دلہے کا انتظار کرتی
وہ زبردستی شاہ کی زندگی میں داخل ہوئی
وہ کوئی من چاہی دلہن تھوڑی تھی جو سج سنور کے اپنے دلہے کا انتظار کرتی
اسکا اس گھر میں آنے کا صرف ایک مقصد تھا سکندر شاہ کی بربادی
اسکے بعد شاہ اسکو اپنی زندگی سے نکال بھی دیتا تو اسے کوئی دکھ نہیں تھا
❤❤❤❤
شاہ روم میں داخل ہوا تو حیا دھلے دھلائے کپڑے پہنے صوفے پر بیٹھی تھی
شاہ میر چینج کرکے ٹیرس پر چلے گئے اور کھڑے ہو کے سگریٹ کا شغل فرمانے لگے
وہ عام طور پر یہ شغل نہیں کرتے تھے لیکن کبھی کبھار
حیا کچھ دیر تو شاہ کا ویٹ کرتی رہی پھر بلینکٹ لے کر صوفے پر سوگئی
شاہ میر روم میں داخل ہوا تو حیا سو چکی تھی
شاہ میر ہوا میں سانس خارج کرتے ہوئے بیڈ پر جاکے لیٹ گئے
❤❤❤
حیا صبح اٹھی تو شاہ کمرے میں نہیں تھا مطلب کہ وہ جاچکا تھا
حیا فریش ہونے چلی گئی فریش ہو کر اس نے چینج کیا اور کچھ سوچتے ہوئے شاہ کے کپڑے پریس کر دیے اور خود باہر چلی گئی
حیا نیچے آئی تو شاہ بی بی لان میں بنے سنگی بہنچ پر بیٹھی تھی
السلام علیکم حیا نے سلام کیا
وعلیکم السلام بچہ ادھر کیوں کھڑی ہو آؤ یہاں آکر بیٹھو
شاہ بی بی اپنے پاس اشارہ کرتے ہوئے بولی
بیٹا کیا تم اس شادی سے خوش ہو
جی حیا کو سمجھ نا آئی کہ وہ کیا جواب دیں
دیکھو بیٹا شاہ بہت مشکل سے گزرا ہے وہ ابھی نارمل نہیں ہے تم چاہو تو اسو واپس زندگی کی طرف لاسکتی ہو
جبکہ حیا دل مسوس کرکے رپ گئی
بیٹا اب تم اس گھر کی بہو اور بیٹی ہو اس گھر میں خوشیاں بکھیرنا تمہاری ذمہ داری ہے شاہ بی بی کی اس بات پر حیا کو اہسا لگا جیسے اسکے حلق میں کچھ اٹک گیا ہو
وہ انکو کیا بتاتی وہ تو اس گھر کی رہی سہی خوشیاں بھی چھیننے آئی تھی
اسکی تو زندگی مقصد ہی اس گھر کی بربادی تھا
کیا ہوا بیٹا کہاں کھو گئی شاہ بی بی نے حیا کو کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں بس ایسے ہی
اگر آپ برا ما منائیں تو کیا میں آپکو دادو کہہ سکتی ہوں حیا بات بدلتے ہوئے بولی
(دادو دادو
دادو نہیں ہیں وہ ثوبان شاہ منہ بسورتا ہوا بولا
میری تو دادو ہیں حیا نے جواب دیا
نو وے یہ شاہ بی بی ہیں
دادو آپ میری دادو ہیں نا حیا نے شاہ بی بی سے پوچھا
ہان میں تمہاری دادو ہوں)
اگر آپکو برا لگا تو سوری میں نے بس ایسے ہی پوچھا
حیا شاہ بی بی کو کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر بولی
ارے نہیں میرا بچہ مجھے بہت اچھا لگے گا اگر تم مجھے دادو بلاؤ گی
شاہ بی بی نرمی سےبولی
سچ حیا خوشی سے چہکتے ہوئے شاہ بی بی کے گلے لگ گئی
جبکہ شاہ بی بی حیا کی اتنی محبت پر حیران رہ گئی
سوری ایکچلی ساری عمر میں نے تنہا گزاری ہے تو اسلیِے زیادہ ایکسائٹڈ ہو گئی
حیا شرمندہ ہوتے ہوئے بولی
ارے اب ہماری بچی تنہا نہیں ہے اب ہم سب تمہارے ساتھ ہے شاہ بی بی حیا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
❤❤❤
کیا ہوا دادو آپ رو رہی ہیں حیا شاہ بی بی کی نم آنکھیں دیکھ کر بولی
کچھ نہیں بچہ تمہی دیکھ کر مجھے اپنی بچی یاد آگئی
دادو وہ اب کہاں ہے پتا نہیں کہاں کھو گئی
اچھا دادو کیا نام تھا اسکا حیا نے اگلا سوال کیا
حیا
دادو اگر میں کہوں کہ میں ہی آپکی حیا ہوں
کیا
جی دادو میں آپکی پوتی حیا وجدان شاہ
تم سچ کہہ رہی ہو
ہاں دادو میں ہی آپکے وجدان کی بیٹی ہوں
میری بچی اتنی دیر سے کہاں تھی تم
شاہ بی بی حیا کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی
دادو شہر میں تھی
تو ہم سے ملنے کیوں نا آئی تجھے اپنی دادو کی یاد نا آئی شاہ بی بی روتے ہوئے بولی
دادو یاد آتی تھی بہت
تو پھر تو ملنے کیوں نا آئی
اب آگئی ہوں نا کبھی نا جانے کے لیِے
حیا روتے ہوئے بولی
میری بچی چپ ہوجا شاہ بی بی حیا کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
دادو آپ مجھ سے ایک وعدہ کریں
کیسا وعدہ
آپ کسی کو نہیں بتائیں گی میری اصلیت شاہ میر کو بھی نہیں اور بڑے پاپا کو بھی نہیں
کیوں بیٹا
دادو پلیز میں خود بتا دوں گی لیکن ابھی نہیں
چلو ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی
دادو چلیں روم میں کافی وقت ہو گیا
ہاں میرا بچہ جاؤ شاہ بھی آگیا ہو گا
اوکے دادو حیا شاہ بی بی کا گال چومتے ہوئے بولی
شاہ بی بی نے نم آنکھوں سے حیا کو دیکھا اور مسکرا دی
❤❤❤
شاہ روم میں آیا تو حیا روم میں نہین تھی البتہ اسکے کپڑے بیڈ پر پڑے تھے جو یقیننا حیا نکال کر گئی تھی
ہوں ان طریقوں سے تم ساحرہ کی جگہ نہیں لے سکتی شاہ بڑبڑایا
شاہ نے آگے بڑھ کر پردے سائیڈ پر کیے تو سامنے حیا شاہ بی بی کے پاس بیٹھی تھی
شاہ کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر چینج کرنے چلا گیا
حیا روم مین آئی تو شاہ روم میں نہیں تھا البتہ واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی
حیا صوفے پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی
حیا شاہ کے لِیے جو ڈریس نکال کر گئ تھی وہ ویسے ہی بیڈ پر پڑا تھا
شاہ واشروم سے باہر آیا تو اس نے کوئی اور کپڑے پہن رکھے تھے
حیا کو دیکھ کر بہت غصہ آیا سمجھتا کیا ہے خود کو نواب زادہ کہیں کا حیا بڑبڑائی
شاہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر بال بنانے لگا البتہ نظریں حیا پر ہی تھی
اگر آپکی تیاری پوری ہو گئی ہو تو چلیں مجھے بھوک لگی ہے حیا تنگ آکر بولی
حیا کی بات سن کر شاہ چپ چاپ نیچے چل دیا
❤❤❤
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺁ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﺑﺮﻭ
ﺗﺠﻬﮯb ﭘﺎﺱ ﭘﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭﮞ
ﻣﺠﻬﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﻋﺸﻖ ﭘﮧ ﻫﻮ ﯾﻘﯿﮟ
ﺗﺠﻬﮯ ﺩﻫﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﺳﺠﺎﻟﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﻬﯽ ﺗﺴﺒﯿﺤﻮﮞ ﭘﮧ ﭘﮍﻫﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﭼﻮﻡ ﻟﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﻬﻮﮞ ﮐﻮ
ﮐﺒﻬﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﯾﻮ ﺑﻬﯽ ﺁ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﺑﺮﻭ
ﺗﺠﻬﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ….
سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جبکہ شاہ حیا کے انداز پر حیران ہو دہا تھا وہ سب سے ایسے باتیں کرنے میں مصروف تھی جیسے بچپن سے دوستی ہو
ڈئر ہسبیںڈ اگر میرا ایکسرے ہوگیا ہو تو ناشتہ کر لیں
حیا شاہ میر کی طرف جھکتے ہوئے بولی
جبکہ شاہ میر حیا کی بات پر بل کھا کر رہ گیا
❤❤❤
حیا سکندر شاہ کے پاس بیٹھی تھی کہ سکندر شاہ کو فون بجنے لگا
ہیلو
مبارک ہو بیٹے کی دوسری شادی کر لی ویسے بڑا کمال کا ہاتھ مارا ہے
چلو جی پہلی بہو کو قتل کروانے کا کچھ تو فائدہ ہوا
کون ہو تم اور تمہیں سب کیسے پتا سکندر شاہ بوکھلاتے ہوئے بولے
ارے ہر بار بھول جاتے ہو ثوبان شاہ ہوں میں
میرے پاپا سے بات کرو گے مطلب وجدان شاہ سے
ثوبان شاہ ہنستے ہوئے بولے
جبکہ سکندر شاہ نے گھبرا کر کال بند کردی
کیا ہوا انکل کس کو کال تھی حیا نے پوچھا
کسی کی نہیں سکندر شاہ نے جواب دیا
کیا ہوا آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے حیا نے مصنوعی پریشانی سے پوچھا
ہہہ ہاں ٹھیک ہے مجھے کیا ہونا اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے
❤❤❤
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮ !!! ﺟﺎﻭ ﻧﺎ
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎﺍ
ﻭﮦ ﮐﺐ ﮐﺐ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ؟
ﻭﮦ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺳﻮﺗﺎ ﮬﮯ؟
ﻭﮦ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ؟
ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﺟﺐ ﺳﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ؟
ﺟﺐ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﮬﮯ ﺗﺐ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﺗﻢ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﺅ ﻧﺎﺍ
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎ !!!!!!
ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻢ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﻦ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﮩﺪﯾﻨﺎ ,
ﮐﻮﯾﺊ ﯾﺎﺩ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﺗﺎ هے
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮ !!! ﺟﺎﻭ ﻧﺎﺍ
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎﺍ!!!
شاہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر مصروف تھا سامنے صوفے پر حیا کسی فائل میں سر گھسائے بیٹھی تھی
شاہ گاہے بگاہے حیا پر نظر ڈال دیتا
کچھ دیر بعد حیا کا فون بجنے لگا
حیا فون اٹھا کر باہر چلی گئی
کچھ دیر بعد حیا واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں دو کپ کافی کے تھی
حیا نے ایک کپ شاہ کی طرف بڑھا دہا
شاہ نے کافی چپ چاپ تھام لی کیونکہ اس وقت شاہ کو شدت سے کافی کی طلب محسوس ہو رہی تھی
حیا مسکرا واپس صوفے پر فائل لے کر بیٹھ گئی
❤❤❤
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *