Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir NovelR50808 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07
No Download Link
715.9K
8
Rate this Novel
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode01 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode02 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode03 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode04 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode05 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode06 Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07 (Watching)Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Last Episode
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07
Raqsam E Ishq by Maryam Dastgir Episode07
سکندر شاہ رات کو سو رہے تھے کہ اچانک انکا فون بجنے لگا
ہیلو
کیون سکندر شاہ بہت آرام کی نیند سو رہے ہو
کون بات کررہا ہے
ارے اپنے بڑے بھائی کو بھول گئے
ککک کیا مممم مطلب
اوہو بڑے بھائی کا نام سن کر اتنا ہکلانے کیوں لگے ہو
کون بڑا بھائی
وجدان شاہ
جنکہ سکندر شاہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے انکے جسم سے جان نکال لی ہو
آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے مائی ڈئیر برادر
اور کال بند ہوگئی
سکندر شاہ کو اے سی کی موجودگی میں بھی پسینے آرہے تھے
یہ وجدان شاہ کیسے
اور
کہاں سے آگیا
سکندر شاہ پریشانی سے سوچ رہے تھے
وجدان شاہ کے بارے میں سوچتے سوچتے ناجانے کب انکی آنکھ لگی
صبح سب ناشتے کی ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے سوائے سکندر شاہ کے
یہ سکندر کہان ہے شاہ بی بی نے پوچھا
جی صاحب ابھی اٹھے ہی نہیں ملازم نے جواب دیا
خیر تو ہے ابھی تک کیوں نہیں اٹھا
میں دیکھتی ہو شاہ بی بی اٹھتے ہوئے بولی
دادو آپ رہنے دین میں دیکھتی ہوں حیا جلدی سے بولی
جبکہ باقی سب حیا کے منہ سے دادو کا لفظ سن کر مراقبے میں چلے گئے
حیا سکندر شاہ کے روم کا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے سکندر شاہ سو رہے تھے
حیا نے ہاتھ بڑھا کر انہیں اٹھانا چاہا تو اسے ایسے لگا جیسے تپتے لوہے کو ہاتھ لگایا ہو
حیا مسکرا دی
انکل انکل حیا انکو ہلاتے ہوئے بولی
ممم مجھے چھوڑ دو مجھ سے غلطی ہو گئی
مجھے معاف کردو میں بہک گیا تھا سکندر شاہ حیا کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولے
انکل کیا ہوا یہ میں ہوں حیا
حیا کے یون کہنے پر سکندر شاہ نے آنکھیں کھول کر حیا کو دیکھا
وہ میں ناشتے کے لئے آپکو اٹھانے آئی ہوں
ہمم تم چلو میں آتا ہوں
یہ کہہ کر سکندر شاہ فریش ہونے چلے گئے
ارے ڈیئر انکل ابھی تو شروعات ہے اور آپ ابھی سے معافیان مانگنے لگیں
حیا دل میں سکندر شاہ سے مخاطب ہوئی
کیا ہوا بیٹا سکندر آیا نہیں
دادو آنے لگے ہیں حیا بیٹھتے ہوئے بولی
یہ دادو نہیں شاہ بی بی ہیں شاہ حیا کو ٹوکتے ہوئے بولا
میری مرضی میں جو مرضی کہوں اگر آپ جیلس ہورہے ہیں تو آپ بھی کہہ لیں
حیا منہ ٹیڑھا کرکے بولی
جبکہ حیا کی بات پر شاہ بی بی مسکرا دی
تمیز سے بات کرو شاہ غصے سے بولا
میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی
حیا نے برجستہ جواب دیا
کس سے شاہ نے الٹا سوال کیا
تمیز سے
شاہ بی بی اسکو منع کریں اور اسکو بتائیں آپ دادو نہیں شاہ بی بی ہیں
بیٹا کہنے دو مجھے اپنی بچی کے منہ سے دادو سننا اچھا لگتا
اور شاہ کو تو میری بچی پر آگ ہی لگ گئی
حیا نے شاہ کو زبان دکھائی
اس سے پہلے کے شاہ کوئی جوابی کاروائی کرتا
سکندر شاہ آگئے اور سب ناشتہ کرنے لگے
شاہ انکل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ انکا چیک اپ کردیں حیا نے شاہ سے کہا
میں کسی کا غلام نہیں ہوں یہ اپنے ڈاکٹر کو بلالیں کہ علاج کروالیں
شاہ نے جواب دیا
شاہ شاہ بی بی تنبیہی آواز میں بولی
پلیز شاہ بی بی
شاہ نے گویا بات ختم کی
پھر میرا علاج کر دو انکل کا نہیں کرنا تو حیا بات بدلنے کو بولی وہ ایک سکندر شاہ کی وجہ سے شاہ بی بی کو پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی
تمہیں کیا ہوا شاہ نے پوچھا
لیکن اسے یہ پوچھنا مہنگا پڑا
میرے دل کا علاج کر دو حیا برحستہ بولی
حیا کی بات سن کر شاہ کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا
جبکہ باقی سب کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی
کچھ شرم کرو
شاہ حیا کی طرف دیکھ کر بولا
شرم مجھ سے خود شرماتی ہے میں کیا کروں
ہاں تم تو ہو ہی بے شرم
ہاں یونیق پیس ہوں حیا نادیدہ کالر کو جھاڑتے ہوئے بولی
اوکے میں چلتا ہوں میرا ناشتہ ہوگیا
شاہ نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا
میں گیٹ تک ساتھ چلوں حیا اٹھتے ہوئے بولی
مجھے راستہ آتا ہے
شاہ اگر بچی کہہ رہی ہے تو جانے دو شاہ بی بی نے بات ختم کرتا ہوئے کہا
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
جبکہ حیا پیچھے سے مسکرا دی
ساحل گھر آیا تو اسکے ساتھ ایک عورت اور مرد بھی تھا
ساحل بچے یہ کون ہے شاہ بی بی نے پوچھا
شاہ بی بی یہ میرے والدین ہیں
تو یہ یہاں کیا کررہے ہیں شاہ بی بی سخت آواز میں بولی
شاہ بی بی ووووہہہہ وہ
کیا وہ وہ لگا رکھا ہے
ارے بھئی ہمارے مہمان ہیں انکو بٹھاؤ کوئی خاطر مدارت کرو اور تم یہاں لے کر کھڑے ہو
ساحل نے شاہ بی بی کی بات پر سکون کا سانس لیا
رات کو سب کھانا کھانے میں مصروف تھے
آج ٹیبل پر دو لوگوں کا اضافہ تھا
اور وہ تھے ساحل کے والدین
شاہ بی بی ہم آپ سے ضروری بات کرنا چاہتے ہیں
جی حکم کریں
شاہ بی بی انکی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی
ہم آپکی بیٹی سوہنیا کو اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہیں
اسی وقت سوہنیا نے ساحل کو دیکھا
جو پہلے ہی اسے دیکھنے میں مصروف تھا
نظر ملنے پر ساحل مسکرایا
سوہنیا نے گھبرا کر نظریں جھکا لی
ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے پر سوہنیا سے تو ایک بار پوچھنا بنتا ہے
تو دیر کس بات کی ابھی پوچھ لیں حیا جلدی سے بولی
بتاؤ سوہنیا کوئی مسئلہ تو نہیں
جیسے آپکی مرضی سوہنیا شرماتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
لوجی ہماری طرف سے تو ہاں ہیں شاہ بی بی نے کہا
یاہو شادی
مزہ آئے گا
حیا چلا کر بولی
حیا کے یوں چلانے پر سب نے اسے حیرانگی کے ساتھ جبکہ شاہ نے اسے گھور کر دیکھا
سوری
حیا جلدی سے بولی اور سر جھکا کر کھانا کھانے لگی
حیا کمرے میں آئی تو شاہ بیڈ پر لیٹا تھا
Please! Baby put me in your arms
and hug me tight
i wanna to feel you
حیا شاہ کو تنگ کرنے کے لئے گنگنائی
شاہ نے حیا کو گھور کر دیکھا
شاہ اٹھ کر حیا کے پاس آیا
اور اسے بیڈ پر دھکا دیا
U wanna to feel me
Now feel me
شاہ حیا پر جھکتے ہوئے کرخت لہجے میں بولا
جبکہ شاہ کے یوں کہنے پر حیا اندر تک کانپ گئی
شاہ چھوڑو ہلیز
نو بے بی فیل می ناؤ
اور شاہ حیا کے اوپر جھک گیا
حیا کی مزاحمت کچھ ہی دیر میں دم توڑ گئی
آخر وہ نازک سی لڑکی کب تک تن ومند شاہ کا مقابلہ کرتی
شاہ کچھ ہی دیر میں سوچکا تھا
جبکہ حیا شاہ کے مضبوط بازوؤں میں خود کو بے بس محسوس کررہی تھی
یہ شام نا جانے حیا کے لئے خوشیاں لائی تھی یا غم.
کیونکہ اس وقت حیا خود کو خالی محسوس کررہی تھی
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺁ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﺑﺮﻭ
ﺗﺠﻬﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭﮞ
ﻣﺠﻬﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﻋﺸﻖ ﭘﮧ ﻫﻮ ﯾﻘﯿﮟ
ﺗﺠﻬﮯ ﺩﻫﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﺳﺠﺎﻟﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺒﻬﯽ ﺗﺴﺒﯿﺤﻮﮞ ﭘﮧ ﭘﮍﻫﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﭼﻮﻡ ﻟﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﻬﻮﮞ ﮐﻮ
ﮐﺒﻬﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﯾﻮ ﺑﻬﯽ ﺁ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﺑﺮﻭ
ﺗﺠﻬﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ….
حیا صبح اٹھی تو اسکے چہرے پر بہت سکوت تھا
جو یا تو آنے والے کسی طوفان کا خیمہ زن تھا
یا خاموشی کا
حیا نے صبح اٹھ کر معمول کے مطابق شاہ کے کپڑے نکالےجو کہ آج شاہ نے پہن لیے تھے
یعنی کہ وہ بھی بامشکل ہی سہی لیکن تعاون کرنے کو تیار تھا
کچھ دن بعد
سب کی زندگی معمعول پر آچکی تھی
شاہ اور حیا کے درمیان ایک سرد جنگ چل رہی تھی
حیا شاہ کے معمول کے سارے کام کر دیتی لیکن مخاطب کرنا ضروری نا سمجھتی
اور دوسری طرف شاہ حیا کا کام کرنا اپنا حق سمجھتا لیکن اپنے فرض بھول گیا
جو اسکو وقت نے یاد کروانے تھے
سکندر شاہ بستر پر لیٹے ناجانے کن سوچوں میں گم تھے نیند آنکھوں سے کوسون دور تھی
کیونکہ جیسے ہی انکی آنکھ لگتی کبھی وجدان شاہ کی کال آجاتی اور کبھی ثوبان شاہ کی
اور اگر کال نا آتی تو وہ خوابوں میں آجاتے
سکندر بیٹا
نہیں مممم مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ہوگئی
خدا کا واسط مجھے معاف کردو
سکندر شاہ کیا کہہ رہے ہو شاہ بی بی اسکا کندھا ہلاتے ہوئے بولی
سکندر شاہ نے آنکھیں کھولی تو سامنے شاہ بی بی تھی
سکندر شاہ
شاہ بی بی کا ہاتھ پکڑ کر رونے لگے اور یہ رونا تو زندگی بھر کا تھا
اچانک سکندر شاہ نیچے گرے اور شاہ بی بی کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگے
اور یہ رونا تو شاید عمر بھر کاتھا
سکندر شاہ روتے روتے وہین گر پڑے
اس وقت سب ہسپتال کے کوریڈور مین کھڑے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کررہے تھے
سکندر شاہ کو اٹیک آیا تھا
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آیا
کیا ہوا میرے بچے کو شاہ بی بی نے آگے بڑھ کر پوچھا
وہ کسی شاک یے میں ہیں انکی مینٹلی حالت کافی خراب ہے
ڈاکٹر کی بات سن کر شاہ بی بی نے دل پر ہاتھ رکھا
لیکن ایک خوبصورت مسکراہٹ نے حیا کے ہونٹوں کا احاطہ کیا
شاہ نے ٹھٹھک کر حیا کی مسکراہٹ کو دیکھا
لیکن خاموش رہا
سکندر شاہ ہوش میں آئیں تو مسلسل چلا رہے تھے
میں قاتل ہوں میں نے قتل کیاہے سکندر شاہ کا دماغی توازن بگڑ چکا تھا
سب پریشانی سے سکندر شاہ کو دیکھ رہے تھے
حیا آگے بڑھی اور سکندر شاہ کے سامنے کھڑی ہوگئی
سکندر شاہ
سب نے حیرت سے حیا کو دیکھا اور سکندر شاہ بھی خاموش ہوگئے
اسکو کہتے ہیں مکافات عمل
ارے نہیں ایک بیٹی کا بدلہ
حیا پھر سے گویا ہوئی
حیا گھٹنو کے بل سکندر شاہ کے پاس بیٹھ گئی
پہچانو مجھے
شاید تم نے میرا نام دھیان سے نہیں سنا تھا
حیا وجدان شاہ
اس دن تم نے تین قتل کیے اور چوتھا قتل کرنا بھول گئے
وجدان شاہ کی بیٹی کا
اور وہ بیٹی تمہاری بربادی بن کے آئی
تمہاری وہ فیکٹری میں نے جلائی تھی
تم سے ہاتھ ملانے کا مطلب تمہیں ڈبونا تھا
میں چاہتی تو تمہیں بہت پہلے کا مار سکتی تھی
لیکن میں چاہتی تھی تم اپنا گناہ خود قبول کرو
اس لیے میں نے کالز کروا کے تم میں وجدان شاہ اور ثوبان شاہ کا ڈر پیدا کیا. جس نے تمہارے دماغ پر اثر کیا اور نتیجہ اب سامنے ہے
حیا کھلکھلائی
لیکن اس قہقے میں ایک درد تھا اپنوں کو کھونے کا درد
میرا بدلہ آج مکمل ہوا
میں نے تمہیں موت نہیں دی ہاں پر موت سے بدتر زندگی دی ہے
حیا اٹھنے لگی
لیکن پھر بیٹھ گئی
اب یہ تو بتا دو اپنی بہو کو کیسے مروایا تھا
اسکو میں نے مار دیا
میں نے مار دیا
میں اپنے بیٹے کی اب امیر گھر میں شادی کروں گا
میں امیر ہو جاؤں گا
اب مجھے وجدان کی بیٹی کو مارنا ہے
سکندر شاہ ہنستے ہوئے بول رہے تھے
حیا نے مڑ کر سب کی طرف دیکھا
سب کے چہرے شرمندگی سے جھکے تھے
شاہ نم آنکھوں سے حیا کو دیکھ رہا تھا حیا سرعت سے وہاں سے نکل گئی
شاہ نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کو تھامنا چاہا
رک جاؤ شاہ
بے آسرا چھوڑ دو اسکو
اسکو اسکے کیے کی سزا ملنی چاہیے
شاہ بی بی روندھی ہوئی آواز میں بولی
سب سکندر شاہ کو ہسپتال میں اکیلا چھوڑ کر گھر چلے گئے
کیونکہ اس وقت انکے پاس کوئی بھی رکنا نہیں چاہ رہا تھا
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو
کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے ،ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہں کوئی ،مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئی تو رو دیا ، جو توُ مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں ، تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا
شاہ بیڈ پر لیٹا آج کے بارے میں سوچ رہا تھا
وہ لڑکی دکھوں سے بھری تھی میں نے بھی اسے دکھ دیے
اسکے قہقے ویران تھے
میں نے وہ ویران قہقے بھی چھین لیے
شاہ افسوس سے بولا
ہاں حیا صحیح کہا تم نے میں ایک قاتل کی اولاد ہوں
یہی پہچان ہے میری شاہ کرب سے بولا
حیا
حیا کہاں تھی
حیا ہسپتال سے پہلے آگئی تھی
لیکن شاہ نے گھر آکر اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا
شاہ جلدی سے اٹھ بیٹھا
شاہ نے سار گھر چھان مارا لیکن وہ کہیں نہیں تھی
کہاں چلی گئی یہ لڑکی
شاہ جلدی سے باہر گاڑی کی طرف بڑھا
جاری ہے
