Qalb E Momin by Afifa Durrani NovelR50796 Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode
Rate this Novel
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode01 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode02 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode03 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode04 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode05 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode06 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode07 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode09 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode10 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode11 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode12 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode13 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode14 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode15 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode16 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode18 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode19 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode20 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode21 Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode (Watching)
Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode
Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode
شام چار بجے کا وقت تھا جب روم میں ہلکی سی دستک ہوئی ہے۔کچی نیند ہونے کی وجہ سے شہریار پہلی دفعہ کھٹکھٹانے پر ہی جاگ گیا۔آنکھیں کھولنے سے پہلے اُس نے کسی معصوم بچے کی طرح اللہ سے دعا کی کہ اُس کے ساتھ گزشتہ دن جو بھی ہوا ہو وہ خواب ہو مگر آنکھیں کھونے کے بعد اپنے آپ کو ہسپتال میں پاکر ایک بار پھر وہ مایوسی کے سمندر میں ڈوب گیا۔لیکن جونہی اُس نے روم میں آنے والے انسان کی طرف دیکھا، اُسے نظریں چرانے میں دیر نہیں لگی۔کیونکہ سامنے حیا جو تھی۔
” حیا، تم یہاں، ماما بابا کہاں ہیں” شہریار نے تھوک نگلتے ہوئے کہا
” وہ کچھ دیر آرام کرنے کے لیے گھر گے ہیں، ویسے فکر نہ کرو، تم بھی کل ہسپتال سے ڈسچارج ہوجاؤں گے” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” تم کیوں نہیں گئی” شہریار نے سوالیہ نظروں سے حیا کو دیکھا۔ ایکسیڈنٹ ہونے کے بعد یہ پہلا لمحہ تھا جب اُس نے حیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی۔
” اگر میں چلی جاتی تو تمھارے ساتھ کون رُکتا” حیا نے اپنی مسکراہٹ برقرار رکھی
شہریار کو حیا کا ملنسار رویہ بہت پسند آیا. حیا کے اس اچھے سلوک کی وجہ سے اُس کے دل میں حیا کے لیے عزت اور بھی بڑھ گئی. ورنہ وہ کم ازکم حیا سے اچھے سلوک کی امید نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ جاگنے کے بعد تو اُسے سب سے پہلا خیال بھی یہ آیا تھا کہ حیا اُس کا مزاق اڑائیے گی اور سدرہ کے ساتھ تو وہ پتا نہیں کیا کرۓ گی، اُسے اپنے سے زیادہ سدرہ کی فکر تھی کہ کہیں حیا، سدرہ کی شکایت نہ لگا دے، کتنا معصوم اور وفادار سمجھتا تھا وہ، سدرہ کو مگر وہ تب غلط ثابت ہوا جب سدرہ نے اُسے ٹھکرا دیا۔ہم ہمیشہ لوگوں کو ویسا سمجھتے ہیں جو لوگ ہمیں دکھاتے ہیں۔ مگر لوگوں کے اصلی چہرے تب سامنے آتے ہیں جب ہم پر برا وقت آتا ہے۔
” کیا سوچ رہے ہو شہریار” حیا نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
” ککککک….. کچھ نہیں” شہریار نے بوکھلا کر جواب دیا کیونکہ حیا کا سوال جو اُسے خوابوں کی دنیا سے واپس لے آیا تھا۔
” حیا، تم اتنی اچھی کیوں ہو، میں نے تو تمھارے ساتھ اتنا برا کیا ہے پھر تم کیوں میرا ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کررہی ہو” شہریار سے رہا نہیں گیا اور وہ سوال حیا سے پوچھ بیٹھا جو اُس کے دل کو کب سے تنگ کر رہا تھا۔
” کیونکہ میں شہریار خان یا سدرہ راشد نہیں بلکہ میں حیا سیلم ہوں، میں اُس باپ کی بیٹی ہوں جس کو دوسروں کی عزت کرنی آتی یے۔اگر میں بھی تم لوگوں کی طرح بدلہ لینے بیٹھ جاؤ تو کیا فرق رہے گا، مجھ میں اور تم لوگوں میں ، کیا میرے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ میرا اللہ دیکھ رہا کہ کون میرے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے۔ اور جہاں تک معاف کرنے کی بات ہے تو میں اُس ماں کی بیٹی ہوں جس نے مجھے بچپن سے درگزر کرنا سکھایا تو پھر میں کیونکر برائی کا راستہ چن کر تمھارے ساتھ برا سلوک کروں” حیا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا
” حیا، پلیز مجھے معاف کردو” شہریار نے حیا کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا
” اسکی ضرورت نہیں، تم نے میرے ساتھ جو کیا، اُس کی سزا تم بھگت چکے ہو شہریار، اب میں کون ہوتی ہوں، تمھیں نہ معاف کرنے والی” حیا نے شہریار کو ٹشو پکڑاتے ہوۓ کہا کیونکہ شہریار ندامت کے آنسوؤں میں بھیگ چکا تھا۔
” حیا، مجھ سے پیار سے بات مت کرو، میں اس پیار کے لائقِ نہیں، میں سدرہ کی باتوں میں آگیا تھا۔ اور نجانے اُس کی باتوں میں آکر تمھارے ساتھ کیا کچھ کرنے کا سوچ رہا تھا۔مت کرو تم مجھے معاف، بلکہ بدعا دو مجھے، جس کے قابل ہوں میں، مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی سدرہ کو کسی بات سے انکار کیا ہو بلکہ میں نے تو سدرہ کی ہر جائز ناجائز فرمائش آنکھیں بند کر کے پوری کی اور انہی چکروں میں اللہ سے دور ہوگیا۔ میں بھول گیا تھا کہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے، میں بھول گیا تھا کہ مکافات سے کوئی انسان نہیں بچ سکتا، نامحرم کی محبت میں اندھا ہوکر میں نے رب کو ناراض کردیا تھا۔جس کی وجہ سے میں صحیح غلط کی پہچان بھول گیا۔ میں بھول گیا تھا کہ جو ہم کرتے ہیں وہی ہمارے آگے آتا ہے، میں بھول گیا تھا کہ اگر میں کسی کی عزت سے کھیلوں گا تو کل کو کوئی میری بھی عزت سے کھیل سکتا ہے اور پھر ان سب گناہوں کا نتیجہ ایسا نکلا جس کا میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا، میری سدرہ، وہ سدرہ جس کی وجہ سے میں اللہ سے دور ہوا، جس کو خوش کرنے کے لیے نجانے کتنی لڑکیوں پر بہتان لگاۓ، آخر میں وہی مجھے چھوڑ کرچلی گئی۔ حیا میں تمھارا مجرم ہوں نہ تو پلیز دعا کرو کہ میں مر جاؤں، کیونکہ میرے اعمال مجھے چین سے جینے نہیں دیتے، میں نے سدرہ کو پانے کے لیے سب کو چھوڑ دیا تھا، یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کو بھی، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میری سدرہ سے شادی ہو، شاید اس لیے کہ وہ تجربکار تھے، لوگوں کی پہچان اُن کو آتی تھی، مگر میں نے اُن کی بھی نہیں سنی، صرف اپنے مردہ دل کی سنی جس کی وجہ سے آج میں ہسپتال میں ہوں۔ میں بھول گیا تھا کہ دوسروں کی زندگی تباہ کرکے آپ خود بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتے، میں دوسروں کا گھر اُجاڑ کر سدرہ سے شادی کرنا چاہتا تھا ، مگر میں بھول گیا تھا کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے”
” شہریار تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، میرے لیے یہی کافی ہے، اور جہاں تک سدرہ کی جانے کی بات ہے تو سدرہ جیسے لوگ ہر کشتی کے عارضی مسافر ہی ہوتے ہیں، جو ہوا، اُسے بھول جاؤ، ہم ویسے بھی تو اچھے دوست ہیں، اور دوست تو آپس میں ناراض نہیں ہوتے، اس لیے اپنا پھولا ہوا منہ جلدی جلدی ٹھیک کرو، تاکہ میرے نکاح پر ہینڈسم لگ سکو” حیا نے مسکراتے ہوۓ ٹاپک چینچ کرتے ہوۓ کہا
وہ جانتی تھی کہ شہریار سدرہ کے جانے پر پہلی ہی بہت دکھی ہے اس لیے اُس نے شہریار کا موڈ خوشگوار کرنے کے لیے اپنی شادی کی بات چھیڑی
” ماشااللہ، کب ہے تمھارا نکاح، مجھے تو نہیں پتا تھا” شہریار نے دل میں ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا، اُسے آہستہ آہستہ احساس ہورہا تھا کہ اُس نے سدرہ جیسا کھوٹا سکا نہیں بلکہ حیا جیسا ہیرا کھویا ہے۔
” اگلے مہینے، تمھارے آپریشن کے بعد” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” ہمممم اچھا ہے” شہریار نے صرف اتنا کہنا ہی ضروری سمجھا۔
**************************
” کیا کر رہی ہو فاطمہ، جانا نہیں ہے کیا، جلدی کرو، اُن کو ہم نے چار بجے کا وقت بتایا ہوا ہے، تم نے یہی پانچ بجوا دیے ہیں” سالار نے کہا جس کے مطابق اُس نے فاطمہ کے کمرے کے تین چار چکر مار لیے تھے مگر میڈم تیار نہیں ہوئی تھی۔
” اففف، بھائی آرہی ہوں، تیار تو ہونے دیں، اب شادی بار بار تو نہیں آتی ” فاطمہ نے حجاب سیٹ کرتے ہوئے کہا
” تیار ہونے کا تو میڈم ایسے بول رہی ہیں جیسے فیشن شو پر جارہی ہوں ” سالار نے فاطمہ کو غصہ دلاتے ہوئے کہا
” اب، آپ کی طرح تو نہیں ہوں، کہ منہ دھوۓ بغیر ہی چلی جاؤں ” فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
” فاطمہ، تم ادھر ہی رہ جاؤ، ہم بہت لیٹ چکے ہیں، باہر زوہیب گاڑی پر بیٹھا بار بار ہارن بجا رہا ہے ” ارم نے اپنی لپسٹک ٹھیک کرتے ہوئے کہا
” واؤ، ارم آپی، آپ تو سسرال جاتے ہی بدل گئی ہیں ” فاطمہ نے معصومیت سے کہا
” نہیں بدلی میں، تمھیں جانا یے تو جلدی تیار ہو کر باہر آؤ” ارم نے باہر جاتے ہوئے کہا
” سالار بھائی مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ زوہیب بھائی کو اچانک رانیہ کسیے پسند آگئی” ارم کے جاتے ہی فاطمہ شروع ہوگئی
” رانیہ، زوہیب کی نہیں، تائی امی کی پسند ہے” سالار نے کہہ تو دیا تھا مگر وہ بھی جانتا تھا کہ سچ کیا ہے
” شکر ہے کہ تائی امی کو بھی کوئی پسند آیا ” فاطمہ نے ہنستے ہوئے کہا
” ہاں یہ تو ہے، اب چلو باہر، ہم لیٹ ہوگے ہیں ” سالار نے مسکراتے ہوئے کہا
*************************
“کب سے دروازے پر دستک ہورہی ہے، مجال ہے جو کوئی دروازہ کھولے، نسرین بیگم کہاں ہو، دروازے پر کوئی آیا ہے” راشد صاحب نے نسرین بیگم کو آواز دیتے ہوئے کہا
” تم بس آوازیں ہی دیتے رہنا، دروازے کے پاس بیٹھے ہو پر مجال ہے کہ دروازہ کھول” نسرین بیگم نے راشد صاحب کے الفاظ ہی انھیں واپس لوٹاۓ اور دروازہ کھولنے چلی گئی مگر دروازہ کھولنے پر انجان شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
” جی کس سے ملنا ہے آپ کو؟” نسرین بیگم نے سنجیدگی سے کہا
” آنٹی، یہ سدرہ کا گھر ہے، میں سدرہ کا فرینڈ، زین شیخ “
” او بیٹا آپ، تو باہر دھوپ میں کیوں کھڑے ہو، آؤ اندر آؤ، اسے اپنا ہی گھر سمجھو” نسرین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” ہیلو انکل” زین نے راشد صاحب کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا
” آنٹی سدرہ کہاں ہے، نظر نہیں آرہی “زین نے نسرین بیگم ست پوچھا کیونکہ راشد صاحب تو سلام کرنے کے فوراً بعد کمرے میں چلے گے تھے۔
” بیٹا، وہ یونیورسٹی گئی ہوئی ہے” نسرین بیگم نے جواب دیا
” دراصل آنٹی، میں آپ سے سدرہ کا ہاتھ مانگنے آیا تھا، میں چاہتا ہوں کہ میں اور سدرہ اگلے مہینے نکاح کرلیں کیونکہ پھر میں انگلینڈ شفٹ ہوجاؤں گا”
” ہاں یہ تو بہت بہتر رہے گا، بیٹا مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر آپ کے گھر میں کوئی بڑا نہیں ہے جو آکر شادی کی بات کرسکے ” نسرین بیگم نے افسوس کے ساتھ زین کے بڑے ہوۓ بالوں کو دیکھا
” نہیں آنٹی، میری ایک ہی بہن ہے، وہ بھی انگلینڈ ہی رہتی ہے مگر آپ بےفکر رہیں حق مہر، بری، سب آپ کی مرضی کا ہوگا “
” یہ تو اچھی بات ہے، جب سدرہ کو کوئی اعتراض نہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں “
” اچھا آنٹی میں چلتا ہوں ” زین نے اٹھتے ہوئے کہا
” بیٹا، کہاں جاری ہو،ابھی تو آۓ ہو بیٹھو ابھی تھوڑی دیر، میں آپ کے لیے چاۓ لے کر آتی ہوں” نسرین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” نہیں آنٹی پھر کبھی”
یہ کہہ کر زین گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔
*************************
” بی بی جی، مہمان آگے ہیں” ملازمہ نے سحرش بیگم سے کہا
” اچھا تم اُن کو ڈرائنگ روم میں بیٹھاؤ، میں آتی ہوں” سحرش بیگم نے ٹیبل سے موبائل اُٹھاتے ہوئے کہا
” چلیں شیخ صاحب” سحرش بیگم نے ارشد صاحب کو کہا
” ہممم، چلو” ارشد صاحب نے جواب دیا
” السلام علیکم” ارشد صاحب اور سحرش بیگم نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے سلام کیا
” وعلیکم السلام ” سب نے بیک وقت کہا اور احتراماً کھڑے ہوگے
” نہیں، نہیں آپ سب کو کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے ” ارشد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” مجھے بات کو طول دینا کچھ خاص پسند نہیں اس لیے میں آپ کو صاف صاف بتانا چاہتا ہوں کہ میں ایک پریکٹیکل انسان ہوں، میرے خیال سے لڑکیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں اُتنا ہی اچھا ہوتا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں رانیہ کی شادی جلد ہی کردوں” ارشد صاحب نے فرقان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
” ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ زوہیب اور رانیہ کی شادی جلدی ہوجانی چاہیے، ویسے بھی اب ماشاءاللہ سے زوہیب کا بزنس بھی سیٹ ہوگیا ہے، مگر ہم چاہتے ہے کہ ابھی صرف نکاح ہو اور رانیہ کی پڑھائی کے بعد رخصتی ہو، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے” فرقان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ یہ تو بہت بہتر رہے گا” سحرش بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” دراصل ہم اپنے بڑے بیٹے سالار کا نکاح حیا سے اگلے مہینے کو کر رہے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ زوہیب اور رانیہ کا نکاح بھی اُن کے ساتھ ہی ہو، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ” سعدیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے سحرش بیگم سے پوچھا
” یہ تو بہت بہتر رہے گا، ویسے بھی رانیہ اور حیا بچپن کی سہیلیاں ہیں، چلیں پھر اگلے مہینے کی نو تاریخ کیسی رہے گی ” سحرش بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” بہتر رہے گی” فرقان صاحب نے جواب دیا
زوہیب اور رانیہ کے نکاح کی تاریخ طے ہونے کے بعد سحرش بیگم نے تابش کے حق میں بولنے کا فیصلہ کیا۔
” رانیہ اور زوہیب کی شادی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے بیٹے تابش کی شادی آپ کی بیٹی فاطمہ سے کروانے چاہتے ہیں”
” فاطمہ سے” عالیہ بیگم کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا جبکہ فاطمہ کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اس وقت رانیہ کے کمرے میں تھی۔
” جی، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے” ارشد صاحب نے پوچھا
” نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہے، بلکہ تابش تو بہت اچھا لڑکا ہے” آفتاب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” چلیں پھر طے ہوگیا کہ اگلے مہینے کی نو تاریخ کو تین نکاح ہونگے” سحرش بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” انشااللہ” سب نے ایک ساتھ کہا
**********************
ایک ماہ بعد
آج شیخ ہاؤس، خلافِ معمول لوگوں سے بھرا پڑا تھا. ورنہ تو شاید چڑیاں بھی شیخ ہاؤس کا رخ کرنا کچھ خاص پسند نہیں کرتی تھیں. مگر آج کی تو بات ہی الگ تھی. آج تو ارشد صاحب بھی اپنی روزمرہ کی زندگی سے وقت نکال کر لوگوں سے خوش گپوں میں مصروف تھے. پاکستان کے نامور بزنس مین اپنی فیملی کے ساتھ یہاں موجود تھے. سب ہاتھوں میں جوسز پکڑے باتوں میں مصروف تھے. یہ سب اختتام سالار اور حیا، تابش اور فاطمہ، زوہیب اور رانیہ کے نکاح کے لیے کیا گیا تھا. نکاح کی تقریب گارڈن میں رکھی گئی تھی. گارڈن کو بہت اچھی طرح سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا. گارڈن میں ہر طرف ریڈ اور وائٹ کلر کے پھول سجاۓ ہوئے تھے. سٹیچ اور انٹریس میں ریڈ کلر کے غبارے سجاۓ ہوۓ تھے. سب سے زیادہ شامت تو یہاں کام کرنے والوں کی آئی ہوئی تھی. گارڈن میں ملازموں کی ایک فوج لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے تیار کھڑی تھی. کچھ ویٹر ہاتھوں میں جوسز کی ٹرے پکڑے پورے ہال کا چکر لگا تھے. جبکہ کچھ صوفوں پر بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑ رہے تھے. سحرش بیگم پرپل کلر کی ساڑھی پہنے مہمانوں سے مل رہی تھی.
” فرزانہ، ذرا جا کر دیکھو کہ رانیہ تیار ہوئی ہے کہ نہیں” سحرش بیگم نے فرزانہ سے کہا
” جی بی بی” فرزانہ یہ کہہ کر گھر کے اندر چلی گئی
” چھوٹی، بی بی، اور کتنا وقت لگے گا آپ کو، بیگم صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں “
” میں تو تیار ہوگئی ہوں مگر حیا ابھی تیار نہیں ہوئی، آپ مام کو بولیں کہ حیا تیار ہوجائے تو ہم آتے ہیں “
” جی اچھا” فرزانہ نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی
” حیا اور رانیہ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے” فاطمہ نے معصومیت سے کہا
” ڈر کس بات کا، ہم ہیں نہ تمھارے ساتھ” رانیہ نے حیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کہ بیوٹیشن سے میک اپ کروانے میں مصروف تھی۔
” تو تم لوگ میرے ساتھ تھوڑے ہی رہو گے، یہ تو تم دونوں کے مزے ہیں کہ دونوں ایک ہی گھر میں رہو گے” فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
” اچھا کچھ نہیں ہوتا، ہم تم سے ملنے آتے رہیں گے، ویسے بھی یہ تو میرا اپنا گھر ہے” رانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
” پھر بھی میں ابھی بہت نروس ہورہی ہوں ” فاطمہ نے ایک بار پھر سرجھکاتے ہوئے کہا
” یار کچھ نہیں ہوتا، صرف نکاح ہی تو ہے، ابھی رخصتی تو نہیں ہے”
” ہاں، بس اسی بات کا سہارا ہے” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا
” میڈم یہ تیار ہوگئی، آپ ایک بار ان کا میک اپ چیک کرلیں تاکہ جہاں سے بھی خرابی ہو، میں ٹھیک کرلوں” بیوٹیشن نے رانیہ سے کہا
” نہیں میک اپ ٹھیک ہے، آپ جاسکتی ہیں ” رانیہ نے مسکراتے ہوئے حیا کی طرف دیکھا جس نے آج سلور کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا جو کہ دیکھنے میں کافی نفیس دکھائی دے رہا تھا۔خود رانیہ نے ریڈ کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔رانیہ اور حیا نے بیوٹیشن کے لاکھ اصرار کرنے کے باوجود کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔ جبکہ فاطمہ نے کسی معصوم بچے کی طرح بیٹویشن کی بات مانتے ہوئے بالوں کا جُوڑا بنایا ہوا تھا۔ فاطمہ نے لہنگا کریمی کلر کلر کا پہنا ہوا تھا۔ وہ تینوں ہی آج بہت پیاری لگ رہی تھی، تینوں میں سب سے پیارا کون لگ رہا ہے، اس بات کا اندازہ لگانا ناممکن تھا۔تیار ہونے کے بعد وہ تینوں باہر چلی گئی جہاں سے اُن کی نئی زندگی کا آغاز ہونا تھا۔
سالار، زوہیب اور تابش بھی تیاری میں کسی سے کم نہیں لگ رہے تھے۔زوہیب نے وائٹ کلر کی قمیض اور شلوار کے ساتھ ریڈ کلر کی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔تابش نے کریمی کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا جبکہ سالار نے بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔
**************************
نکاح کچھ دیر میں ہونے ہی والا تھا کہ سٹیچ پر بیٹھی رانیہ زور سے چلائی۔اُس کے یوں چلانے پر گارڈن میں موجود سب لوگ اُس کی طرف دیکھنے لگے۔
” کیا ہوا رانیہ ، کچھ تو شرم کرلو، ابھی کچھ ہی دیر میں تمھارا نکاح ہونے والا ہے” پاس بیٹھی حیا نے کہا
” حیا وہ دیکھو، شہریار” رانیہ نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا
رانیہ کے کہنے کی دیر تھی کہ حیا نے ایک دم اپنی نظریں گارڈن میں موجود لوگوں پر دوڑائی۔ ذرا سی کوشش کے بعد اُسے شہریار نظر آگیا۔وہ گارڈن کے ایک کونے میں کھڑا اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔حیا نے اُسے ہاتھ کے اشارے سے سٹیچ پر بلایا۔ لیکن جو بات حیا کو حیران کر گئی تھی وہ یہ تھی شہریار بغیر کسی چیز کا سہارا لیا اکیلے کھڑا ہے
” بہت بہت مبارک ہو آپ سب کو، اللہ آپ سب کو خوش رکھے” شہریار نے مسکراتے ہوئے سٹیچ پر رکھے گے صوفے ہر بیٹھتے ہوئے کہا
” شکریہ” تینوں نے ایک ساتھ کہا
” شہریار تم کہاں غائب ہوگے تھے” حیا نے شہریار سے کہا
” حیا، میں کل ہی انگلینڈ سے واپس آیا ہوں، ایک ہفتہ پہلے میرا آپریشن تھا تو اسی کے سلسلے میں انگلینڈ گیا ہوا تھا”
” ماشااللہ، تمھیں بہت بہت مبارک ہو” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” شہریار، تمھیں پتا ہے کہ سدرہ نے نکاح کرلیا ہے، اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی ہے” رانیہ نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا
حالانکہ حیا بالکل نہیں چاہتی تھی کہ شہریار کو یہ بات پتا چلے۔
” یہ تو اچھی بات ہے، اللہ اُسے خوشیاں دے” شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا
شہریار کی بات سن کر وہ تینوں حیران رہ گئی، کم ازکم وہ شہریار سے ایسی باتوں کی امید نہیں رکھتی تھیں۔
**************************
چار ماہ بعد
” کیا یہ صباحت کا گھر ہے” شہریار نے دروازہ کھولنے والے سے پوچھا
” جی مگر آپ کون”
” میں اُس کا کلاس فیلو ہوں، آگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے دو منٹ بات کر سکتا ہوں” شہریار نے کہا
” آجاؤ اندر”
شہریار گھر کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ لوگ گھر کے نام پر جھونپڑی میں رہ رہے تھے۔ بیٹھنے کے لیے صحن میں ٹوٹی پھوٹی سی چارپائی رکھی ہوئی تھی۔ ابھی شہریار گھر کا اندازہ ہی لے رہا تھا کہ کمرے سے صباحت باہر نکلی
” امی کون آیا ہے” صباحت نے کہہ تو دیا تھا مگر سامنے چارپائی پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی، اُس کا مجرم اُس کے سامنے کھڑا تھا۔مگر مجرم کو بجاۓ سزا دینے کے وہ ڈر کر کمرے میں بھاگ گئی۔
” آنٹی، انکل نظر نہیں آرہے، انکل کہاں ہیں”
شہریار کی بات نے تو ثمینہ بیگم کے پرانے زخم ہرے کردیئے۔
” بیٹا، تمھارے انکل تو آج سے دو سال پہلے اللہ کو پیارے ہوگے تھے”
شہریار کو مرنے کی وجہ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قصوروار وہ خود ہے۔
” آنٹی، میں صباحت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ” شہریار نے آخرکار ہمت کرکے بول ہی دیا
” یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا” ثمینہ بیگم نے شہریار سے ایسے پوچھا جیسے اٗن کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔
” جی آنٹی ، میں صباحت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اور اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے گھروالوں کو آپ سے ملوانے کے لیے ادھر لاسکتا ہوں”
” مگر پھر بھی بیٹا، تم کہاں، ہم کہاں، یہ رشتہ بے مول ہوگا، تمھارے گھر والے نہیں مانیں گے “
” آنٹی، میرے گھر والوں کے نزدیک پیسوں سے زیادہ انسان کی اہمیت ہے، اس لیے آپ بےفکر ہوجائیں، میں ذرا صباحت سے تھوڑی دیر بات کرنا چاہتا ہوں “
” اچھا تم رکوں، میں اُس کو بلاتی ہوں” اس کے بعد ثمینہ بیگم صباحت کو آوازیں دینے لگی۔ جس کو سن کر صباحت ڈوپٹہ سر پر رکھ کر باہر آگئی۔
ثمینہ بیگم کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا، ان کو یوں لگ رہا تھا کہ طویل عرصے کے بعد خوشیاں ان کے دروازے پر آئی ہیں۔
” آپ دونوں باتیں کرو، میں چاۓ لے کر آتی ہوں “
” تم ادھر کیوں آۓ ہو” صباحت نے شہریار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
” اپنی غلطیوں کا مداوا کرنے”
” کیسی غلطیاں، تمھارے نزدیک تم نے تو سب صحیح کیا تھا، غلط تو میں نے کیا تھا، میرے باپ کو تو تم نے مار دیا، اب کیا میری ماں کو بھی مارنا چاہتے ہو ” سدرہ نے آنکھوں میں آۓ ہوۓ آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا
” مجھے غلط نہ سمجھو صباحت، میں مانتا ہوں کہ میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا جس کی سزا مجھے اللہ نے بھرپور دی، مجھے سے میرا غرور یعنی میری سدرہ چھین لی”
” ککککک….. کیا ہوا سدرہ کو ” صباحت نے شہریار کی بات کاٹتے ہوۓ کہا
” فکر نہ کرو، وہ اپنی زندگی میں بہت خوش ہے، بس فرق یہ ہے کہ پہلے وہ میرے ساتھ خوش تھی، اب کسی اور کے ساتھ خوش ہے، اُس نے شادی بھی کر لی ہے، آج کل انگلینڈ ہوتی ہے”
” میں پوچھنے کا حق تو نہیں رکھتی مگر میں پھر بھی پوچھنا چاہوں گی کہ سدرہ نے تمھیں کیوں چھوڑا ” صباحت نے سوالیہ نظروں سے شہریار کی طرف دیکھا
“آج سے پانچ مہینے پہلے میں سدرہ کے کہنے پر اُسی کی کزن کی زندگی تباہ کرنے جارہا تھا کہ راستے میں میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور میں نے چلنے کی صلاحیت کھو دی۔ مجھے وقتی طور پر یہی لگا کہ میں نے صرف چلنے ہی کی صلاحیت کھوئی ہے مگر مجھے ہوش تب آیا جب سدرہ نے مجھے چھوڑ دیا یہ کہہ کر کہ وہ ایک معزور انسان کے ساتھ گزرا نہیں کرسکتی، پہلے میں بہت رویا، اللہ سے بھی سدرہ کی بےوفائی کی شکایت کی، مگر جلد ہی مجھے احساس ہوگیا کہ میں تو مکافات کی آگ میں جل رہا ہوں، پھر میں نے اللہ سے توبہ کی، اور اللہ نے بھی میری توبہ قبول کی جس کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تم میرے سامنے بیٹھی ہو “
” تمھارے ساتھ جو بھی ہوا، مجھے اُس کا افسوس ہے، میں نے تمھیں بدعا نہیں دی تھی”
” میں جانتا ہوں کہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جن کے ساتھ جو مرضی کرو، وہ بدعا نہیں دیتے مگر ظالم کو خود ہی سزا مل جاتی ہے کیونکہ اللہ تو دیکھ رہا ہے، اور بےشک اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے”
” اب تم کیا چاہتے ہو” صباحت نے شہریار سے پوچھا
” میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “
” کیا تمھیں یقین ہے کہ تمھیں ایسا کرنا چاہے “
” یقین نہ ہوتا تو یہاں نہ آتا “
” پھر تو میں یہی کہوں گی کہ اگر امی کو کوئی اعتراض نہیں تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ” صباحت نے کہا اور اندر کمرے میں چلی گئی
اور یہی وہ لمحہ تھا جب شہریار نے سکون کا سانس لیا۔
**************************
” زین یہ تم مجھے کہاں لے کر آگے ہو، تم نے تو کہا تھا کہ ہم ہوٹل میں رہیں گے، جب تک کوئی اچھا سا گھر نہیں مل جاتا، ہمیں پاکستان آنا ہی نہیں چاہیے تھا ” سدرہ نے چھوٹے سے گھر کو دیکھتے ہوئے کہا
” یہ میرے دوست کا گھر ہے، جب تک ہمیں کوئی اچھا سا گھر نہیں مل جاتا تب تک ہم یہی رہیں گے”
” مگر زین تم نے اس گھر کی حالت دیکھی ہے، رنگ تک نہیں کیا گیا اس گھر کو ، افففف، اتنے گندے گھر میں ہم کیسے رہ سکتے ہیں “
” تمھیں نہیں رہنا تو نہ رہو” زین نے غصے سے کہا
” یہ تم کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہے ہو، میں نے صرف یہی تو کہا ہے کہ اس گھر میں نہیں رہتے اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے “
” غصہ کرنے کی ہی تو بات ہے، تنگ آچکا ہوں میں تمھارے روز روز کی فرمائشوں سے، تین چار مہینے میں ہی تم نے مجھے کنگال کردیا ہے اب پاکستان آیا ہوں تو پاکستان بھی سکون سے نہیں رہنے دے رہی”
” میں نے کنگال کیا ہے، خود تو تم جیسے بہت شریف ہو، ہر روز تم پارٹیوں میں میرے منع کرنے کے باوجود لاکھوں روپے ضائع کرتے تھے، اور اب الزام مجھ پر لگا رہے ہو “
” آگے بھی کروں گا ضائع، تم کون ہوتی ہو مجھے منع کرنے والی، میرے پیسے، میری مرضی، ادھر رہتی ہو تو رہو ورنہ دفعہ ہو جاؤ” زین نے چیختے ہوۓ کہا
” کیا ہوگیا ہے زین تمھیں، اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو، اچھا ادھر ہی رہ لیتے ہیں ہم” سدرہ نے زین کی بگڑتی ہوئی شکل دیکھتے ہوئے کہا
” مجھے کافی پینے کا دل کر رہا ہے، جاؤ میرے لیے کافی بنا کر لاؤ”
” اچھا تم روکو ، میں بنا کر لاتی ہوں “
” ہممممم” زین نے سپرنگ نکلے ہوئے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
**************************
” حیا میری جان تم خوش تو ہو نہ سالار سے نکاح پر، مت یہ نہ ہو کہ تم نے صرف میری خوشی کے لیے نکاح کیا ہو” آسیہ بیگم نے اپنی گود میں لیٹی، حیا کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا
” نہیں ماما، میں بہت خوش ہوں، آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں خوش نہیں ہوں”
” نہیں بس ایسی ہی پوچھ رہی تھی، عالیہ بھابی بہت اچھی ہے وہ تمھارا بہت خیال رکھیں گیں”
” اوہو، ماما آپ تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے کل میری رخصتی ہو”
” ہاہاہاہا، کیوں اب میں اپنی بیٹی سے ایسی باتیں بھی نہیں کرسکتی ” آسیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” نہیں، نہیں ضرور کر سکتی ہیں، ماما سدرہ کا کچھ پتا ہے کہ وہ آج کل کہاں ہوتی ہے” حیا نے سر اٹھا کر آسیہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
” پتا نہیں کہاں ہے وہ، نسرین بھابی بتا رہی تھی کہ پہلے تو وہ ہر دن کال کرتی تھی مگر اب دو تین مہینے سے اُس کی کوئی کال نہیں آئی، جب بھی کال کرو، نمبر بند دیکھنے کو ملتا ہے”
” اچھا، جہاں بھی رہے، خوش رہے “
” آمین “
**************************
چار سال بعد
” آپ مسٹر زین کی وائف ہے”
” یس ڈاکٹر”
” سوری ہم ان کو بچا نہیں سکے، بہت زیادہ ڈرنک کرنے کی وجہ سے اُن کی موت ہوگئی ہے، آپ پیسہ جمع کروا کر لاش گھر لے کر جاسکتی ہیں”
” یہ آپ کیا کہہ رہیں ڈاکٹر، اب ہمارا کا کیا ہوگا” سدرہ نے گود میں اٹھائے ہوۓ ایک سالہ علی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“اللہ آپ کو صبر دے، ہم کچھ نہیں کرسکتے ” یہ کہہ کر ڈاکٹر روتی ہوئی سدرہ کو چھوڑ کر چلا گیا۔
” ماما، بابا کہاں ہیں” تین سالہ علینہ نے سدرہ سے پوچھا
سدرہ نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ نہ تو اس کے پاس نہ ہمت تھی نہ ہی الفاظ کہ وہ تین سال کی معصوم بچی کو یہ بتاتی کہ اس کے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
**********************
” صباحت ،میں آج بہت خوش ہوں، میری بہت بڑی خواہش تھی کہ میں تمھارے ساتھ عمرہ کرنے آؤں،میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کرو کم ہے، تم مجھے میرے اعمال سے بڑھ کر ملی ہو” شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا
” الحمداللہ، میں بھی اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے، کہ آپ مجھے بطورِ شوہر اس دنیا میں ملے” صباحت نے مسکراتے ہوئے کہا
” سدرہ کو کھونے کے بعد مجھے یوں لگتا تھا کہ میں اب کبھی مسکرا نہیں سکوں گا بلکہ جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو تب سے میں رونا بھول گیا ہوں، تم نے میری زندگی مکمل کر دی ہے”
” نعیم سے منگنی ٹوٹنے کے بعد میں بہت اداس ہوگئی تھی، ابا کے مرنے کے بعد تو مجھ میں زندہ رہنے کی خواہش ہی باقی نہیں رہی تھی مگر تمھارے آنے کے بعد سب بدل گیا، میں ایک بار پھر ہنستی مسکراتی صباحت بن گئی ہوں، تم میری عبادت کا نتیجہ ہو ” صباحت نے مسکراتے ہوئے کہا
” اور تم میری توبہ کا” شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا
*************************
پانچ سال بعد
” حیا جلدی کرو، کب تیار ہوگی، زوہیب اور رانیہ ہمارا شاپنگ مال پر انتظار کر رہے ہیں” سالار نے حیا سے کہا جو کہ سالار کے بقول پیچھلے ایک گھنٹے سے تیار ہورہی تھی
” تم نے عاشو کا فیڈر رکھ لیا ہے نہ میرے بیگ میں” حیا نے لپسٹک لگاتے ہوئے کہا
” ہاں، ہاں رکھ لیا ہے، اب جلدی کرو، ہم بہت لیٹ ہوچکے ہیں”
” تم اور عاشو چلے جاؤ، میں خود آجاؤں گی” حیا نے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
” ایسا کیوں بول رہی ہو” سالار نے سوالیہ نظروں سے حیا کی طرف دیکھا
” اب میں ایسا نہ بولو، تو کیا بولو، تم نے جان کھائی ہوئی ہے میری، سکون سے تیار بھی نہیں ہونے دے رہے ” حیا نے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا
” اچھا تم تیار ہو، میں نہیں بولتا اب” سالار نے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا جس کو دیکھ کر حیا ہنسنے لگی۔
*************************
” کہاں تھے تم لوگ، ہم کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہے تھے” زوہیب نے سالار سے ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا
” میں تو تیار ہوگیا تھا مگر حیا نے….. ” سالار اپنی بات مکمل نہ کرسکا کیونکہ اُس نے حیا کی غصے سے بھری آنکھیں دیکھ لی تھی۔
” عاشر، چاچو کی جان، آجاؤ چاچو کے پاس ” زوہیب نے عاشر کو اٹھاتے ہوئے کہا
” ہیلو، خالہ کی جان” حیا نے ننھی حورین سے ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا
” رانیہ ، فاطمہ اور تابش کب پاکستان آرہے ہیں”
” ایک دو سال تک ہی، کیونکہ تابش ابھی وہاں اپنا بزنس سیٹ کر رہا ہے”
” ہممم، اچھا “
” چلو، سب کھانا کھاتے ہیں، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے” رانیہ نے کہا
” تم تو ہو ہی بھوکی” زوہیب نے رانیہ کو چھیڑتے ہوۓ کہا
” کیا کہا تم نے” رانیہ نے زوہیب کو آنکھیں نکالتے ہوئے کہا
” کچھ نہیں” زوہیب نے معصومیت سے کہا
” پھر اچھا ہے” رانیہ نے ہنستے ہوئے کہا
تقریباً تین گھنٹے بعد وہ لوگ شاپنگ سے فارغ ہوگے تھے۔ اب سب کا ارادہ حیا اور سالار کے گھر، رات کا کھانا کھانے کا تھا۔اس لیے ابھی وہ گھر ہی جارہے تھے کہ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے حیا کو فٹ پاتھ پر ایک فقیرن بیٹھی نظر آئی۔ جس کو دیکھ کر حیا، اُس کو پیسے دینے چلی گئی۔
” باجی اللہ کے نام پر کچھ دے دو….. ” اس سے آگے سدرہ سے کچھ بولا نہیں گیا کیونکہ اُس نے حیا کو پہچان لیا تھا۔
” یہ لو” حیا نے پیسے سدرہ کو پکڑاتے ہوۓ کہا
” کیا ہوا نہیں لینے ” حیا نے سدرہ سے کہا
” نہیں” سدرہ سے صرف اتنا ہی بولا گیا
” کیوں نہیں لینے، لے لوں، کام آئیں گے” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور پیسے اُس کی گود میں رکھ کر واپس گاڑی میں بیٹھ گئی۔
حیا کو دیکھ کر سدرہ کا دل کیا کہ وہ اپنا سر دیوار پر مار مار کر مر جاۓ مگر اپنے بچوں کا سوچ کر وہ چپ کر گئی اور اوپر سے افسوس کہ برے لوگوں کو موت بھی تو جلدی نہیں آتی۔ ان چار سالوں میں وہ ایک رات بھی چین کی نیند نہ سو سکی۔ پچھتاوا اُسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا، بھوک اور زندہ رہنے کی خواہش نے اُسے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا سیکھا دیا تھا۔اس لیے اب وہ بھول چکی تھی کہ اُس کا بھی کوئی گھر تھا، رشتہ دار تھے۔وہ آج حیا کو دیکھ کر اپنے ماضی کو یاد کرکے چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی مگر اُس کے پاس رونے کے لیے آنسوؤں بھی نہیں بچے تھے۔ زین کے مرنے کے بعد، اُس کے پاس کوئی سہارا نہیں بچا تھا، جیسے تیسے کرکے، اُس نے ایک سال زیور بیچ کر گزار کیا۔ مگر آخر کب تک، اُس نے جاب تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر کون صرف بارہویں جماعت پاس کو جاب پر رکھتا ہے، یونیورسٹی کی ادھوری تعلیم ہونے کی وجہ سے اُس کو کہیں بھی مناسب جاب نہیں ملی، مگر اس مردوں کے معاشرے میں مجبور عورت کے لیے کیا جگہ ہے، ناچاہتے ہوۓ بھی اُس نے لوگوں کے گھر کام کرنا شروع کردیا، مگر وہاں پر بھی عزت کو خطرہ تھا تو اُسے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا ایک ہی ذریعہ نظر آیا۔گزشتہ چار سالوں سے وہ اپنے ماضی کو یاد کرکے رو ہی تو رہی تھی، در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد مشکلوں سے وہ بھیگ مانگ کر اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کر رہی تھی۔ اس لیے اُس نے ایک بار پھر اپنی ماضی کو بھلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے صدا لگانا شروع کردی
” رب دا واسطہ، اس بدنصیب کو کچھ دے جاؤ، اللہ تواڈی مرادہ پوری کرۓ گا”
ختم شد
