Qalb E Momin by Afifa Durrani NovelR50796 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08
Rate this Novel
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode01 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode02 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode03 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode04 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode05 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode06 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode07 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08 (Watching)Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode09 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode10 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode11 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode12 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode13 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode14 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode15 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode16 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode18 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode19 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode20 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode21 Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08
“یار تمھیں کیا لگتا ہے،شہریار مان تو جاۓ گا نہ”حیا نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوۓ کہا
“تمہارے لیۓ وہ کب سے اتنا اہم ہوگیا ہے کہ تمھیں اس کی ناراضگی سے فرق پڑتا ہے”
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا،مگر ایک دوست ہونے کے ناطے اس کو منانا میرا فرض ہے”
“لیکن تم جس طرح برتاؤ کر رہی ہو اس سے تو مجھے یہی لگ رہا ہے کہ وہ تمہارے لیۓ دوست سے بڑھ کر ہے”رانیہ نے شاپنگ بیگ سے کپڑے نکالتے ہوۓ کہا
“نہیں، یار ایسی کوئی بات نہیں ہے” حیا نے نظریں چراتے ہوۓ کہا
ابھی رانیہ اس کو کچھ کہنے ہی والی ہوتی ہے کہ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔حیا دروازہ کھولتی ہے۔باہر سلیمہ ہاتھوں میں ٹرے پکڑے کھڑی ہوتی ہے۔ٹرے میں چاۓ کے ساتھ دیگر لوازمات بھی ہوتے ہیں۔حیا اس سے ٹرے لے کر کمرے میں آکر دروازہ پھر بند کر دیتی ہے۔
“اوہو، یار ابھی کون کھاۓ گا،ابھی تو ہم نے تیار ہونا ہے”رانیہ نے ٹرے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“کھا لو یار ، پتا نہیں، وہاں کھانا کس ٹائم ملے”
حیا کے کہنے کی دیر تھی کہ رانیہ نے ہاتھوں میں اٹھاۓ ہوۓ کپڑے بیڈ پر رکھے اور صوفے پر بیٹھ کر چاۓ اور دیگر لوازمات سے بھرپور انصاف کرنے لگی۔
“یار قسم سے آسیہ آنٹی کے ہاتھوں میں کتنا ذائقہ ہے،کیا مست کباب بنائیں ہیں”رانیہ نے تیسرا کباب کھاتے ہوۓ کہا
” ہاں نہ یار،تمھیں تو پتا ہے کہ مجھے گوشت کا سالن نہیں پسند تو ماما خصوصاً میرے لیۓ بناتی ہیں”
“اب جلدی جلدی کھاؤ، ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکے ہیں” رانیہ گھڑی دیکھتے ہوۓ کہا
” ہاں میں جاکر کپڑے پہنتی ہوں،اس کے بعد تم میرا میک اپ کر لینا”
“ہاں جلدی جاؤ”رانیہ نے کپ ٹرے میں رکھتے ہوۓ کہا
دس منٹ بعد حیا نے کپڑے پہن لیۓ تھے۔ گھٹنوں تک آتی گہرے سبز رنگ کی قمیض اور پنک کلر کے تنگ چوڑی دار پاجامے میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔اس نے پنک کلر کا ڈوپٹہ گلے میں لیا ہوا تھا۔اس کے کمر تک آتے ہوۓ بال بہتی ہوئی آبشار کی طرح لگ رہے تھے۔
“تم نے لہنگا کیوں نہیں پہنا”رانیہ نے حیا کے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوے کہا
” میرے چاچو کی شادی تو نہیں تھی کہ لہنگا پہنتی “
” اچھا،پھر میں بھی لہنگا نہیں پہنتی، میں بھی فراک پہن لیتی ہوں”
“ہاں ٹھیک ہے،دونوں ایک ہی جیسے لگے گے ، چلو تم جاکر چینچ کر آؤ، پھر میک اپ بھی تو کرنا ہے نہ” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” ہممم ٹھیک ہے، تم میرا ویٹ کرو، میں خود تمھیں تیار کروں گی”
یہ کہ کر رانیہ واشروم چلی گئی۔دس منٹ بعد وہ باہر آگئی۔ اورنج کلر کی فراک اور گرین کلر کے چوڑی دار پاجامے میں وہ بھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔بےشک وہ خوبصورتی میں حیا سے تھوڑا پیچھے تھی۔مگر وہ بھی بہت پیاری تھی۔اور آج تو وہ بالکل حیا کی طرح نازک سی کلی لگ رہی تھی۔بال اس نے بھی کھلے چھوڑے تھے۔اس کے بال کندھوں تک آتے تھے۔اس پر بھی اس نے براؤن کلر کا رنگ کروایا ہوا تھا۔
حیا اس کو باہر آتا دیکھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی۔دس منٹ بعد وہ حیا کا میک اپ کر چکی تھی۔اس نے حیا کے بالوں کی فرینچ بنائی۔پنک کلر کی لپسٹک، کاجل اور مسکارے نے حیا کی خوبصورتی کو چار چاند لگ دیے۔اب وہ اپنا میک اپ کرنے میں مصروف تھی۔کچھ دیر بعد وہ بھی تیار ہوچکی تھی۔اس نے اپنے بالوں کو کھلا چھوڑا تھا۔اوپر کے کچھ بالوں کو سٹریٹ کیا ہوا تھا جبکہ کچھ بالوں کو رول کیا ہوا تھا۔
” یار ہم دونوں کتنے پیارے لگ رہے ہے نہ، کاش حیا تم بھی بال کھول دیتی، تمہارے تو بال ہے بھی بہت بڑے”
” یار کل کھول دوں گی ، جب فراک پہنوں گی”
“ہمم چلو اچھا ہے، ابھی باہر چلتے ہیں ، فاطمہ بھی آنے والی ہوگی”
” ہاں چلو ، ٹائم تو ہوگیا ہے، بس آنے ہی والی ہوگی” حیا نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
حیا نے کمرےکی لائٹ آف کی ، اپنا فون اٹھایا اور رانیہ کے ساتھ کمرے سے باہر آگئی۔
___________________________
” تم آج حیا کو کال کرو گے، اور اسے پھر ملنے کا کہو گے”
“نہیں یار ابھی کچھ دیر ناراض ہی رہنے دوں ، بےچاری کو صیح طریقے سے منتیں تو کرنے دو میری” شہریار نے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوۓ کہا
” اگر یہی کچھ کرو گے، تو وہ تمھیں بھول ہی جاۓ گی”
” میں کوئی بھولنے والی چیز تھوڑی ہی ہوں، میں شہریار خان ہوں، ہاہاہاہاہاہا” شہریار نے موچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ کہا
” اس میں کوئی شک نہیں ، پھر بھی تم اسے میسچ کرو گے، آخر کو وہ میری کزن ہے، اتنا تنگ نہیں کرنا چاہیے اسے ” رانیہ نے ہنستے ہوئے کہا
” جو حکم ملکہ عالیہ، ابھی تو مجھے تھوڑا کام ہے ، حیا سے بات کرنے کے بعد تمھیں کال کروں گا”
” ہممم ، ضرور کرنا، میں انتظار کروں گی”
” باۓ میری جان” شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا
” باۓ”
_________________________
“کیسے لگ رہیں ہیں ہم دونوں، ماما بابا”
“ماشااللہ ، آج تو میرے بچے بہت پیارے لگ رہیں ہیں” سلیم صاحب نے حیا اور رانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
” آیتہ الکرسی پڑھ کر نکلنا گھر سے باہر ” آسیہ بیگم نے حیا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
” ہاہاہاہاہاہا آنٹی ضرور”
اچانک فون پر فاطمہ کا میسچ آیا” ہم آپ کے گھر کے ہیں، جلدی آئیں”
“اچھا ماما بابا ، میں اور رانیہ چلتے ہیں ، فاطمہ آگئی ہیں “
” اوکے بچوں ، اللہ کے حوالے”سلیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” گھر جلدی واپس آنا حیا ، اور موبائل آن رکھنا، اللہ حافظ”
” اللہ حافظ”
__________________
یہ کہ کر وہ دونوں گھر سے باہر نکل گئی۔گیٹ کے بالکل باہر سالار اور حیا اپنی کلٹس میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ ان کو باہر آتا دیکھ کر سالار گاڑی سے نکلا اور گاڑی کا دروازہ ان کو کھول کر دیا۔سالار گہرے سبز کی قمیض اور وائٹ شلوار میں بےحد خوبصورت لگ رہا تھا۔اس نے بال سیٹ کی ہوۓ تھے۔حیا اور رانیہ نے دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی کی داد دی۔
” ماشااللہ ، آپ دونوں بہت پیاری لگ رہی ہیں”فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا
” شکریہ، پر آپ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہی”رانیہ نے فاطمہ کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا
“میری بھی کوئی تعریف کر دے”سالار نے سامنے والے شیشے سے حیا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“بھائی آپ بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں” رانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“آج پھر آپ کو چپ کا روزہ لگ گیا ہے، مس حیا”سالار نے مسکراتے ہوئے کہا
” جی نہیں، مجھے اجنبیوں سے بات کرنے کی عادت نہیں” حیا نے سالار کو دیکھے بغیر کہا
“تعلق بنانے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے مس حیا” سالار نے آگے دیکھتے ہوئے کہا
سالار نے کہ تو دیا تھا مگر حیا کے چہرے کے تاثرات کو بدلتے ہوئے دیکھ کر اس نے ریڈیو لگا دیا۔جبکہ حیا اس کی بات سن کر سوچنے لگ گئی کہ واقعی میں کسی سے تعلق بنانے میں ٹائم ہی کتنا لگتا ہے۔ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ہیں ،اسے اور شہریار کو ملے ہوۓ مگر یوں لگتا ہے کہ کافی عرصے سے جانتے ہیں ایک دوسرے کو، کہیں یہ محبت تو نہیں، ہاں یہ محبت ہی ہے شاید، چلو ٹھیک ہے اگر آج شہریار کا میسچ آیا تو اس کے دل میں میرے لیۓ فیلنگز ہونگی۔کیونکہ جن سے محبت کی جاتی ہے ان سے ناراض نہیں ہوا جاتا۔
یہ سوچ کر حیا مسکرانے لگی۔مگر ساتھ میں ہی اسے ٹھکرا جانے کا ڈر تھا۔ کہیں کچھ ایسا نہ ہو جاۓ کہ اس کا دل ٹوٹ جاۓ۔
ابھی وہ یہی کچھ سوچ رہی ہوتی ہے کہ فاطمہ کا گھر آجاتا ہے۔فاطمہ کا گھر ڈبل سٹوری گھر ہے۔اگرچہ یہ گھر حیا کے گھر جتنا بڑا نہیں ہے مگر پھر بھی کافی پیار لگ رہا تھا۔نیچے والی سٹوری میں اسکے تایا ابو رہتے ہیں جبکہ اوپر والی سٹوری میں فاطمہ کی فیملی رہتی ہے۔
آج چونکہ اس گھر میں شادی ہوتی ہے تو پورے گھر کو روشنی سے سجایا ہوا ہوتا ہے۔گھر کے باہر کچھ بچے پٹاخوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔
“اتریں”سالار نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا
فاطمہ حیا اور رانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر جاتی ہے، جبکہ سالار باہر ہی کچھ لوگوں سے بات کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔
لان میں مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگائی ہوئی ہوتی ہیں۔فاطمہ کو ایک کونے میں عالیہ بیگم مہمانوں سے بات کرتے ہوئے دیکھائی دیتی ہیں۔وہ رانیہ اور حیا کو عالیہ بیگم سے ملوانے کے لیۓ لے کر جاتی ہے۔
” امی یہ میری دوست حیا اور رانیہ ہیں”
“السلام علیکم ، کیسے ہو بچوں”
“وعلیکم السلام، الحمدللہ ہم دونوں ٹھیک ہیں ، آپ سنائیں ،آپ کیسی ہیں “رانیہ نے کہا
” میں بھی ٹھیک ہوں ، ابھی کچھ مہمانوں سے مل لوں، آپ سے بات میں بات ہوتی ہے”
حیا ابھی ان کے گھر کا جائزہ ہی لے رہی ہوتی ہے کہ شہریار کا میسچ آتا ہے۔
____________________
“کیا ہم تھوڑی دیر بات کرسکتے ہیں”شہریار نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
“ہاں کیوں نہیں”حیا نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوۓ کہا۔
اس کی کہنے کی دیر تھی کہ شہریار کی کال آگئی۔حیا نے پہلے ہی رنگ میں فون اٹھا لیا۔رانیہ کو فاطمہ کے پاس چھوڑ کر لان کے اس کونے میں جاکر شہریار سے بات کرنے لگی جہاں لوگ کم تھے۔
“شہریار، سوری یار آئندہ ایسا نہیں ہوگا، پکا”حیا نے مسکراتے ہوۓ کہا
“اوہو، حیا کچھ نہیں ہوتا”
” اب ناراض تو نہیں ہو نہ “
“نہیں یار، غلطی تمہاری نہیں تھی، تمھیں کیا پتا تھا کہ تمہاری دوست وہاں آجاۓ گی، آئی ایم سوری، اگر تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہو تو”
” نہیں، یار تمہارا غصہ ہونا بنتا تھا”
“چلو یہ بتاؤ پھر کب مل رہیں ہیں ہم”
“کل کالج میں، ہاہاہاہاہاہا”
“تو کیا پھر بریانی کھانے کا ارادہ ہے”شہریار نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ کہا
“نہیں، اس بار کھلانے کا ارادہ ہے”حیا نے مسکراتے ہوۓ کہا
اس نے رانیہ کو دیکھا جو کب سے سالار سے بات کر رہی تھی۔اب حیا کو بھی بلا رہی تھی۔
“مطلب”شہریار نے بیڈ پر لیٹتے ہوتے کہا
“مطلب یہ کہ کل کی بریانی میری طرف سے”
” ہاہاہاہاہاہا چلو سہی ہے”
“شہریار،ابھی میں شادی میں آئی ہوں، آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں”
“ہممم، بعد میں بات کرتے ہیں،اللہ حافظ”
“اللہ حافظ”
حیا نے دیکھا کہ رانیہ اس کے پاس آرہی تھی۔شاید جب حیا اس کے بلانے پر ان لوگوں کے پاس نہیں آئی تھی۔تو وہ خود حیا کو لینے آرہی تھی۔رانیہ تو بےصبری میں حیاکا نمبر بھی کراس کرتی تھی۔
___________________________________
“کس سے بات کر رہی تھی تم”رانیہ نے آتے ساتھ ہی سوال پوچھا
“شہریار سے”حیا نے سٹیچ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“ہممم ، تو ناراضگی دور ہوئی اس کی”
“ہممم، اب دور ہوچکی ہے، بلکہ مجھے بھی سوری بول رہا تھا”
“تمھیں کیوں سوری بول رہا تھا”
“مجھے اس لیے سوری بولا اس نے، کہ مجھے اس کی کوئی بات بری نہ لگی ہو”
” یار کتنا اچھا ہے نہ شہریار”
“اچھا تو وہ واقعی میں بہت ہے،آخر کو دوست کس کا ہے”
“اوہو” رانیہ نے حیا کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا
“ہاہاہاہاہاہا”حیا نے ہنستے ہوۓ کہا
“اچھا چلو ابھی، وہاں پر سالار اور فاطمہ کب سے تمہارا انتظار کر رہیں ہیں”
“ہاں چلو”
___________________________________
حیا فاطمہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔جبکہ رانیہ سالار کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔اب وہ چاروں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ تھے۔
“آپ یہاں کیوں بیٹھ گئی ہیں ، ادھر بیٹھے نہ”سالار نے رانیہ کی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
“دوست میں فاطمہ کی ہوں، آپ کی نہیں”حیا نے غصے سے انگلی دیکھاتے ہوۓ سالار کو کہا۔جبکہ اس کی بات سن کر وہ تینوں ہنسنے لگے۔
” ہاہاہاہاہاہا ، آپ تو ناراض ہوگئی، میں تو صرف مذاق کر رہا تھا۔ویسے ہر لڑکی کو آپ کی طرح ہی ہونا چاہیےکہ ہر کسی کو منہ نہ لگاۓ” سالار نے حیا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
” اف بھائی، آپ اس موقعے پر بھی اسلامی باتیں لے کر بیٹھ گے، آئیں ہم سب تصویریں بناتے ہیں”فاطمہ نے پرس سے موبائل نکالتے ہوئے کہا
” اف ایک تم سلیفی کی دیوانی”سالار نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
اس کے بعد وہ چاروں تصوریں بنانے لگے۔حیا بھی تصوریں بنانے میں ان کا مکمل ساتھ دے رہی تھی۔شہریار سے بات کرکے وہ کافی خوش تھی۔وہ کافی حد تک ریلیکس ہوچکی تھی۔ ابھی وہ تصوریں ہی بنا رہے تھے کہ دلہن آگئی۔دلہن کی دوستوں نے دلہن کو سٹیج پر بٹھایا۔حیا مسکراتے ہوۓ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔جبکہ سالار کافی دلچسپی سے حیا کو دیکھ رہا تھا۔دلہن کو سٹیج پر بیٹھاتے ہوۓ ہی مہندی کی رسمیں شروع ہوگئی۔حیا اور رانیہ نے بھی مہندی کی رسم کی۔اور دلہن کے ساتھ تصویریں بھی بنوائی۔
آدھے گھنٹے بعد کھانا لگ گیا۔ کچھ لوگ کھانے کو دیکھتے ہی کھانے کی طرف بھاگے۔ کھانے میں چکن کا سالن اور پلاؤ تھا۔کچھ لوگ دوسرے لوگوں کی نظروں سے چھپ کر شاپر میں کھانا بھی ڈال رہے تھے۔کچھ بچے تو ماں باپ سے بھی دو ہاتھ آگے تھے۔پلیٹوں میں پلاؤ کا پہاڑ بنا رہے تھے۔وہ تینوں اپنی کرسیوں پر ہی بیٹھی رہی۔البتہ سالار مہمانوں کو کھانے کا پوچھنے لگا۔کچھ ہی دیر بعد سالار ان تینوں کے لیۓ کھانا لے آیا۔
“اچھی سے کھائیے گا، تکلف نہیں کیجیئے گا” سالار نے مسکراتے ہوئے رانیہ اور حیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“فکر نہ کریں سالار بھائی، ہم کھانے سے انصاف کرنے والے لوگ ہیں”رانیہ نے ہنستے ہوئے کہا
” حیا کو بھی کھلائیے گا اپنے ساتھ، مجھے تو یہ کھانے کے معاملے میں کافی چوزی لگ رہی ہیں”
“آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کھا لوں گی میں کھانا” حیا نے غصے سے کہا
سالار اسے ابھی کچھ کہنے ہی والا ہوتا ہے کہ ایک آنٹی اس کو آواز دیتی ہیں اور وہ چلا جاتا ہے
کھانا کھانے کے بعد حیا اور رانیہ فاطمہ کی امی ، تائی امی ،دلہن سے سٹیج پر جاکر ملتی ہیں۔
“بیٹا کل بھی آنا آپ لوگ”عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
“جی آنٹی کوشش کریں گے”
“کوشش نہیں، ضرور آنا ہے”دلہن نے مسکراتے ہوئے کہا
“ہاہاہا،چلیں اب ہم چلتے ہیں،ویسے بھی کافی دیر ہوگئی ہے”
” اوکے بیٹا اللہ حافظ، سالار جاؤ جاکر بہن کو چھوڑ کر آؤ” عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے رانیہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“امی ان دونوں نے جانا ہے ، صرف رانیہ نے نہیں”فاطمہ نے حیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
” پہلے یہ بیٹی پرامس کریں کہ کل بھی آئی گی۔کیونکہ مجھے پتا ہے میری رانیہ بیٹی کل ضرور آئی گی۔مگر یہ بہانہ کریں گی”
“نہیں آنٹی ، میں کل ضرور آؤں گی، پرامس”حیا نے مسکراتے ہوئے عالیہ بیگم سے گلے ملتے ہوئے کہا
“بیٹا ، یہ مٹھائی آپ دونوں کے امی ابو کے لیۓ”
“آنٹی اس کی کیا ضرورت تھی”حیا نے مٹھائی کا ڈبہ پکڑتے ہوۓ کہا
“کچھ نہیں ہوتا بیٹا، صرف مٹھائی ہی تو ہے،اللہ حافظ بچو”
“اللہ حافظ “
یہ کہنے کے بعد وہ چاروں لان سے گزرکر گھر سے باہر آگے اور گاڑی میں بیٹھ گے۔پہلے سالار نے رانیہ کو گھر چھوڑا اس کے بعد حیا کو چھوڑنے جانے لگے۔کچھ ہی دیر بعد گاڑی حیا کے گھر سامنے تھی۔
“کل آنا حیا، آج بھی آپ لوگوں کی وجہ سے کافی مزا آیا”
“جی ضرور، اللہ حافظ”
“اللہ حافظ”
___________________________________
حیا جب گھر کےاندر آئی تو اسے سلیم صاحب اور آسیہ بیگم لاؤنچ میں بیٹھے ہوۓ نظر آۓ۔
“آگئی ہماری بیٹی،مزا آیا شادی میں”
“جی بابا بہت مزا آیا، فاطمہ کی فیملی بہت اچھی ہے۔ان نے ہمیں بہت اچھا پروٹوکول دیا ہے، یہ مٹھائی ان نے آپ لوگوں کے لیۓ بھجوائی ہے”حیا نے مٹھائی کا ڈبہ آسیہ بیگم کو دیتے ہوئے کہا
” کیا ضرورت تھی لانے کی مٹھائی”
“ماما وہ لوگ اتنا فورس کر رہے تھے۔اب کل بارات پر جانے کا بھی آنٹی نے وعدہ لیا ہے”
” ہمیشہ خوش رہو” سلیم صاحب نے حیا ے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“اچھا ماما بابا، میں بہت تھک گئی ہوں،تھوڑا آرام کر لوں”
” اللہ حافظ”
“اللہ حافظ”
___________________________________
حیا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں آگئی۔کمرے میں آتے ساتھ ہی وہ واشروم میں کپڑے چینچ کرنے چلی گئی۔دس منٹ بعد وہ کپڑے چینچ کر چکی تھی۔وہ لائٹ آف کر کے بیڈ پر لیٹ گئی۔
“کیا سچ میں شہریار مجھے پسند کرتا ہے، یار پھر یہ ایک طرفہ پیار ہے۔نہیں ایک طرفہ نہیں ہو سکتا۔میں اتنی پیاری ہوں،اچھی ہوں،امیر ہوں، شہریار مجھے کیوں نہیں پسند کرۓ گا۔ویسے بھی وہ جس انداز میں مجھ سے بات کرتا ہے۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ویسے محبت کتنا اچھا جزبہ ہے۔یہ بےجان جسم میں روح ڈال دیتا ہے۔ قسم سے محبت وہ مرض کے جس کی کوئی دوا نہیں۔یہ انسان کو ایک جہان سے دوسرے جہان میں لے جاتا ہے۔
اگر ماما بابا کو یہ بات پتا چلی وہ کتنا خوش ہونگے۔ ان کو تو شہریار بہت پسند ہے۔ویسے بھی میں ان کی اکلوتی بیٹی ہوں۔وہ مجھے منع نہیں کرینگے۔
ابھی وہ یہی کچھ سوچ رہی تھی کہ اسے پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کب نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔
___________________________________
“مجھے ڈر ہے کہ حیا میری والی غلطی نہ کر لے”عالیہ بیگم نے بیڈ پر لیٹتے ہوۓ کہا
“نہیں حیاکافی سلجھی ہوئی ہے”
“تو کیا مطلب میں نہیں تھی”
“نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔میرا کہنا کا یہ مطلب ہے کہ ہم اتنے سخت والدین تھوڑی ہی ہیں کہ اپنی بیٹی کی پسند کو ترجیح نہ دیں”
“ہاں یہ بھی ہے، حیا کو جو کوئی بھی پسند آیا ، میں اسی سے اس کی شادی کرواؤں گی”
“انشاللہ ،ابھی سو جاتے ہیں ،کافی رات ہوگئی ہے”
“ہممم شب بخیر”
“شب بخیر”
___________________________________
“بھائی آپ کو حیا پسند ہے نہ، دیکھے جھوٹ مت بولیے گا ،مجھے سب پتا ہے”فاطمہ نے سالار سے پوچھا جو کہ اب کپڑے چینچ کرکے لیپ ٹاپ آن کرکے کام میں مصروف تھا۔
“ہاں پسند ہے مجھے، اور دیکھنا وہی تمہاری بھابی بنیں گی،میں جلد ہی امی ابو کو اس کے گھر بھیجو گا “
“ہممم انشاللہ،مجھے بھی بہت پسند ہے حیا آپ کے لیۓ”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے، شادی کے بعد تم دونوں لڑو گے نہیں”
“ہاہاہاہاہاہا بھائی، یہ بھی ہے، ابھی میں سو جاؤ ، صبح جلدی اٹھ کر کام بھی کرنا ہے”
“شب بخیر”
“شب بخیر”
___________________________________
جاری ہے
