Qalb E Momin by Afifa Durrani NovelR50796 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17
Rate this Novel
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode01 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode02 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode03 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode04 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode05 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode06 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode07 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode08 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode09 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode10 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode11 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode12 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode13 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode14 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode15 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode16 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17 (Watching)Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode18 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode19 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode20 Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode21 Qalb E Momin by Afifa Durrani Last Episode
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17
Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode17
ملازم کے جانے بعد جب سلیم صاحب نے فائل کھولی تو انھیں حیا کی کچھ تصویریں نظر آئی. وہ حیا کے بچپن کی تصویریں تھیں. انھوں نے مسکراتے ہوئے فائل سے ساری تصویریں نکال لی اور ہاتھ میں پکڑ کر دیکھنے لگے. ابھی ان نے تین چار ہی تصویریں دیکھی تھی کہ آسیہ بیگم نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا
” کیا ہے اس فائل میں سلیم”
” کچھ خاص نہیں…. بس حیا کے بچپن کی کچھ تصویریں ہیں. شاید اُس کی کسی دوست اس خاص موقعے پر نے بھجوائی ہیں”
” بھائی صاحب ہمیں بھی دکھائیں ذرا ہماری گڑیا کی تصویریں” عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” کیوں نہیں باجی یہ لیں” سیلم صاحب نے مسکراتے ہوئے فائل عالیہ بیگم کو پکڑاتے ہوئے کہا
اپنی تصویروں کا سنتے ہی حیا نے سوالیہ نظروں سے رانیہ کو دیکھا. جو کہ اب حیا کو دیکھ کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس رہی تھی. رانیہ کو دیکھ کر حیا کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی، اور وہ کچھ ہی دیر میں بغیر کچھ کہہ رانیہ کی شامت کرنے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑ اُسے کر ٹی وہی لاونچ میں لے گئی. جبکہ سالار اور فاطمہ حیا کی تصویروں کا سنتے ہی عالیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گے.
” ماشاءاللہ، ہماری حیا تو بالکل رضیہ تم پر گئی ہے، یہ دیکھو وہی چھوٹی چھوٹی آنکھیں” سعدیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” پتا نہیں بھیجی کس نے ہیں یہ؟” سلیم نے سوالیہ نظروں سے آسیہ کی طرف دیکھا
” مجھے لگتا ہے کہ رانیہ نے بھیجی ہیں تبھی کچھ تصویریں اُس کی بھی ہیں حیا کے ساتھ ” آسیہ نے مسکراتے ہوۓ تصویروں کو صوفے کے ساتھ رکھے گے چھوٹے ٹیبل پر رکھ دیا.
” رانیہ کون ہے” سعدیہ بیگم جو کہ سوال کرنے کی عادت سے مجبور تھی پوچھنے لگیں
” رانیہ، حیا کی دوست ہے، بہت ہی اچھی بچی ہے، ہمارے گھر بھی اُس کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ابھی بھی وہ آئی ہوئی ہے ” سلیم نے جواب دیا
” سعدیہ بھابی، آئی تو تھی رانیہ، ارم کی شادی پر، بھول گئی کیا آپ” عالیہ بیگم نے سعدیہ بیگم کی یادداشت پر ماتم کرتے ہوئے کہا
” او ہاں، یاد آیا، رانیہ تو ماشاء اللہ کافی ہنس مکھ بچی ہے، مجھے تو وہ اُس دن بھی بہت اچھی لگی تھی” سعدیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” ارے یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی، پہلے آپ ہمیں ہماری بچیوں سے تو ملا لیں” فرقان صاحب نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا
” جی بھائی، ابھی بلا کر لاتی ہوں ” عالیہ نے اٹھتے ہوۓ کہا
**************************
” یہ کیا مزاق تھا رانیہ ” حیا نے رانیہ کا بازو مڑورتے ہوۓ کہا
” آ آہ…. جنگلی کہی کی… چھوڑو میرا بازو.. میں نے تمھیں گفٹ دیا ہے اور تم میرے ساتھ یہ سلوک کر رہی ہو” رانیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
” یہ گفٹ تھا…. ایسا گفٹ کوئی کسی کو دیتا ہے… کوئی کسی کو اُس کی گندی گندی تصویریں گفٹ کرتا ہے اور وہ بھی اُس دن جب اُس کا رشتہ لینے لوگ آۓ ہوں ” حیا نے اپنی اونچی آواز برقرار رکھی
” یار میں نے تو نیک نیتی سے یہ تصویریں تمھیں پارسل کی تھی تاکہ عالیہ آنٹی لوگ بھی دیکھ سکے کہ حیا بچپن میں کیسی دِکھتی تھی ” رانیہ نے معصوم بنتے ہوۓ کہا
” ہاں مجھے پتا ہے تمھاری نیک نیتی کا…. اگر پارسل کرنی ہی تھی تو مجھ سے اچھی تصویریں لے کر پارسل کر دیتی” حیا نے” نیک نیتی” کو زور دیتے ہوۓ کہا
” کسی کا گفٹ کسی سے تھوڑا ہی لے کر دیا جاتا ہے، یہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور میں قانون کا احترام کرنے والی انسان ہوں ” رانیہ نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے کہا
ابھی حیا اس کو کچھ کہنے ہی والی ہوتی ہے کہ آسیہ بیگم ٹی وی لاونچ میں آجاتی ہیں. حیا ان کو دیکھ کر اپنا ارادہ ملتوی کر دیتی ہے ورنہ وہ رانیہ کو مزا چکھانے کا موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیتی
” حیا اور رانیہ چلو، اندر سب آپ کو بلا رہیں ہیں اور خبردار کوئی الٹی سیدھی حرکت کی” آسیہ بیگم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا
” مجھے کیوں بلا رہیں ہیں” رانیہ نے سوالیہ نظروں سے آسیہ بیگم کی طرف دیکھا جس کی خوشی آج دیکھنے کے قابل تھی
” بیٹا آپ حیا کی دوست ہو نہ، اس لیے وہ لوگ آپ سے بھی ملنا چاہتے ہیں، آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں “
” نہیں آنٹی کوئی بات نہیں، آپ جائیں، ہم آتے ہیں”
” اچھا پھر میں جارہی ہوں، تم لوگ مجھے دس منٹ میں ڈرائنگ روم کے اندر نظر آؤ” عالیہ بیگم نے ڈرائنگ روم کی طرف جاتے ہوئے کہا
” اوکے ماما”
***************
“شہریار کام ہوگیا “
” نہیں سدرہ ابھی تک نہیں ہوا، بس ابھی حیا کے گھر ہی جارہا ہوں”
” ککککک… کیا مطلب، تم ابھی تک گے نہیں، میں ہی بیوقوف تھی جو تم جیسے سست انسان پر بھروسہ کیا، تمھارے جانے سے پہلے اگر حیا نے چاچو کو کچھ بتا دیا نہ تو مجھے اپنی جان سے جانا پڑے گا”
” یار جا جو رہا ہوں، دن کو ایک دوست کے گھر چلا گیا تھا، تبھی لیٹ ہوگیا، ابھی راستے میں ہوں، دس منٹ تک پہنچ جاؤں گا اُس کے گھر”
” یار پلیز جلدی کرو، جب تمھیں پتا تھا کہ آج تم نے حیا کے گھر جانا ہے تو تمھیں کیا ضرورت تھی اپنے دوست کے گھر جانے کی”
” تم اتنا کیوں ڈر رہی ہو، کیا اکھاڑ لیں گے تمھارے چاچو میرا”
” تمھیں تو شاید اللہ کے نام پر معاف بھی کردیں مگر مجھے تو وہ ذبح کر کے رہیں گے اگر انھیں ہمارے پلین کا پتا چل گیا تو”
” تم پریشان نہ ہو، میں بس پہنچنے ہی والا ہوں”
” دس منٹ سے تم یہی کہہ رہے ہو کہ پہنچنے والا ہوں، پتا نہیں کب پہنچوں گے”
” اچھا یار ادھر ٹریفک بہت ہے، میں حیا کے گھر پہنچ کر کال کرتا ہوں، باۓ” شہریار نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے کہا
” اوکے باۓ”
************************************
” پہلے تم جاؤ اندر، پھر میں تمھارے بعد جاؤں گی” حیا نے رانیہ کو دھکا دیتے ہوۓ کہا جو کہ حیا کے ساتھ ڈرائنگ روم کے دروازے کے پیچھے کھڑی تھی
” میں کیوں جاؤ،. تم جاؤ پہلے، رشتہ تمھارا آیا ہے، میرا نہیں” رانیہ نے حیا کو جتاتے ہوۓ کہا
” پھر ادھر ہی کھڑی رہو، کیونکہ میں تو نہیں جانے والی پہلے” حیا نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا
” کتنی ضدی ہو تم” رانیہ نے ہار مانتے ہوۓ کہا
” بہت شکریہ آپ کا کہ آپ نے مجھے بتایا ، مجھے تو پتا نہیں تھا کہ میں ضدی بھی ہوں “
” تمھارا تو میں، بعد میں علاج کروں گی” رانیہ نے حیا کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
” ضرور کرنا، کس نے منع کیا ہے، ابھی اندر چلوں، اس سے پہلے ماما باہر آجائیں” حیا نے ہنستے ہوئے کہا
” ہاں چلو”
” السلام علیکم” حیا اور رانیہ نے ایک ساتھ کہا
” وعلیکم السلام” جیسی کہی آوازیں ایک ساتھ سنائی دی
” کیسی ہو آپ دونوں ” آفتاب صاحب نے بات کا آغاز کرتے ہوۓ کہا
” الحمداللہ ٹھیک ہیں” حیا نے جواب دیا
” پوچھ تو ایسے رہیں ہیں جیسے اندھے ہو، لگتا ہے کہ اللہ نے آنکھیں بنٹے کھیلنے کے لیے دی ہیں” رانیہ نے حیا کے کان میں کہا جس کو سن کر حیا ہنسنے لگی مگر آسیہ بیگم کی گھورتی آنکھیں دیکھ کر ایک بار پھر چپ کرکے بیٹھ گئی.
” بیٹا، ادھر آؤ، اپنی ماموں جان کے پاس آکر بیٹھو” آفتاب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” کہاں کے ماموں جان، اگر میں اتنی ہی پیاری تو میری زندگی کے انیس سال گزرنے کے بعد ہی کیوں آپ کو خیال آیا کہ آپ کی ایک عدد بھانجی بھی ہے” حیا نے یہ سب صرف سوچا، کیونکہ آسیہ بیگم کے سامنے بول کر وہ اپنا منہ نہیں تڑوانا چاہتی تھی.
” بیٹا آگے آپ کا کیا ارادہ ہے”
” کس بارے میں انکل ” حیا نے جان بوجھ کر لفظ ” انکل” پر زور دیا
” بیٹا آپ مجھے ماموں کہو تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا”
” جی ماموں ” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” تو بیٹا آپ نے بتایا نہیں، آگے آپ کے کیا ارادہ ہیں” آفتاب صاحب نے ایک بار پھر اپنا سوال دھرایا
” ابھی تو میں پڑھنا چاہتی ہوں، ویسے بھی ابھی میرا میڈیکل کا پہلا سال چل رہا ہے”
” یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ ابھی بات پڑھنا چاہتی ہو، پھر ایسا کرتے ہیں کہ ہم ابھی منگنی کر لیتے ہیں اور حیا کی پڑھائی کے بعد ہم شادی کی تاریخ رکھ لیں گے، تمہارا کیا خیال ہے آسیہ “
” بھائی منگنی کو چھوڑیں، ہم ابھی ان دونوں کا نکاح کروا دیتے ہیں اور حیا کی پڑھائی کے بعد ہم رخصتی کر لیں گے” آسیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ حیا کا نکاح کے بارے میں سن کر منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
” ہاں یہ زیادہ صحیح رہے گا” عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ اگلے مہینے کے پہلے جمعے کو نکاح کی تاریخ رکھ لیتے ہیں، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے سلیم “
” نہیں، مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے، بس آپ ایک بار حیا سے پوچھ لیں کہ اُسے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ” سلیم نے کھوئی ہوئی حیا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
” مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے” حیا نے اپنی نظریں نیچے کرتے ہوۓ کہا. وہ اعتراض کرنا چاہتی تھی مگر چاہ کر بھی نہ کر سکی کیونکہ وہ اپنی ماں کو اداس نہیں دیکھنا چاہتی تھی. جب سے وہ ڈرائنگ روم میں آئی تھی. اس نے ایک بار بھی سالار کی طرف نہیں دیکھا مگر فاطمہ کی طرف اُس نے ضرور دیکھا کیونکہ وہ کب سے اُسے ہی دیکھے جارہی تھی.
” یہ تو بہت اچھی بات ہے، چلو جی اگلے مہینے کے پہلے جمعے کو حیا اور سالار کا نکاح ہوگا”
” انشاءاللہ” سب نے ایک ساتھ کہا جس میں سب سے اونچی آواز سالار کی تھی.
” باتیں تو ہوتی رہیں گی، پہلے آپ سب کھانا کھا لیں”
آسیہ بیگم کے کہنے کی دیر تھی کہ سب آٹھ کھڑے ہوۓ ہو اور ٹی وی لاونچ میں کھانا کھانے چلے گے
************************
سدرہ کب سے شہریار کو فون کر رہی تھی مگر اس کا نمبر ہی بند جارہا تھا جس کی وجہ سے سدرہ غصے سے ہاتھ میں فون پکڑے صحن کے چکر لگا رہی تھی
” مجھے بھروسہ ہی نہیں کرنا چاہیے تھا اس بیوقوف انسان پر، اس سے اچھا تھا کہ میں خود ہی یہ کام کر لیتی، مجھے اب ملے نہ دوبارہ، انگوٹھی اتار کر اُس کے ہاتھ میں دوں گی، افففف شہریار سے زیادہ لاپروا انسان آج تک نہیں دیکھا، اوپر سے اس نکمے نے فون بھی آف کر رکھا ہے، میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی، بھاڑ میں جاۓ منحوس، میں جاکر سو جاتی ہوں ” سدرہ نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا
***************************
کھانے میں سالار کی پسندیدہ چکن بریانی بنی ہوئی تھی ساتھ میں سلاد اور رائتہ بھی سب کی بھوک کو بڑھا رہا تھا. جبکہ دوسری طرف ٹھنڈی کوک بھی دیکھنے والوں کی پیاس بڑھا رہی تھی. تلی ہوئی مچھلی اور چکن روسٹ بھی دیکھنے والوں کی نظروں میں ستائش پیدا کر رہا تھا. حیا اور رانیہ نے ڈائیٹنگ کا لیبل لگاتے ہوۓ صرف بریانی ہی پلیٹ میں ڈالی. ابھی سب گرما گرم بریانی اور ٹھنڈی کوک کا مزا ہی لے رہے تھے کہ سلیم کے فون پر رضا کی کال آئی
” ہیلو ہاں رضا بولو “
” ککککک…کیا…… تم فکر نہ کرو، میں ابھی آیا”
” کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نہ” آسیہ نے سوالیہ نظروں سے سلیم سے پوچھا
” شہریار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، رضا بہت پریشان ہے، بھابی کا رو رو کر برا حال ہے، ہمیں جانا ہوگا”
” شہریار کون ہے” سعدیہ بیگم نے رضیہ سے پوچھا
” سلیم کے دوست کا بیٹا”
” اللہ خیر کرے، ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں ” آفتاب صاحب نے کہا
” نہیں آپ ادھر ہی رہیں ، میں اور آسیہ چلتے ہیں”
” اللہ کرے منحوس بچے ہی نہ” رانیہ نے حیا کے کان میں کہا
” کیا ہوگیا ہے، رانیہ کسی نے سن لیا نہ، ہماری شامت آجائے گی”
” اچھا پھر ہم چلتے ہیں، آپ کھانا صحیح سے کھائیں گا”
” ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے تو زیادہ بہتر رہتا ” فرقان صاحب نے کہا
” نہیں بھائی، اس کی ضرورت نہیں، ہم لیٹ ہو رہے ہیں، ہم چلتے ہیں اب، اللہ حافظ “
” اللہ حافظ”
” اللہ اس معصوم بچے کو زندگی دے” عالیہ بیگم نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا
” آپ کے منہ میں خاک… آپ اُسے معصوم کہہ رہی ہیں جسے شیطان کہنا، شیطان کی توحین ہے” رانیہ نے حیا کے کان میں کہا
” اگر تمھیں گالیاں سننے کا بہت شوق ہے تو سب کے سامنے بولو، جو بھی بولنا ہے، ایسے اگر میرے کان میں بولو گی تو اپنے ساتھ مجھے بھی مار کھلاؤ گی”
” اچھا اب کچھ نہیں کہتی ” رانیہ منہ میں ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی.
جاری ہے
