Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode20

Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode20

زوہیب کی تیار کردہ چکن کڑاہی سے انصاف کرنے کے بعد سب ایک بار پھر ٹی وی لاونچ میں آکر بیٹھ گے تھے. جبکہ فرقان صاحب اور آفتاب صاحب کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی شہریار کو دیکھنے ہسپتال چلے گے. چونکہ آج کے دن حیا کا پسندیدہ ڈرامہ “فریحہ ” لگتا تھا تو وہ سب سے لاتعلق ہوکر ٹی وی لاونچ کے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی. حیا کی اس ڈرامے سے الفت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی تھی کہ وہ یہ ڈرامہ دو بار مکمل دیکھنے کے بعد بھی تیسری دفعہ دیکھ رہی تھی. جبکہ رانیہ اور فاطمہ اپنی ادھوری کھیلی ہوئی گیم کو مکمل کرنے میں مصروف تھیں. زوہیب اور سالار کچن میں تھے. زوہیب کا ماننا تھا کہ کھانا اُس نے بنایا ہے تو چاۓ سالار بناۓ گا تو ناچاہتے ہوۓ بھی سالار سب کے لیے چائے بنانے میں مصروف تھا. جبکہ زوہیب اُسے چھیڑتے ہوۓ اُس کی ویڈیو بنا رہا تھا. سعدیہ بیگم اور عالیہ بیگم بھی حیا کا پسندیدہ دیکھنے میں مصروف تھیں.
” حیا آؤ نہ یار تم بھی کھیلو ہمارے ساتھ” رانیہ نے اپنی باری کرتے ہوئے کہا
رانیہ کی بات سن کر سعدیہ بیگم کو رانیہ دنیا کی سب سے پیاری لڑکی لگی. بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی انھیں ڈرامے کی کہانی سمجھ نہیں آرہی تھی. انھوں نے حیا سے دو تین بار ڈرامے کی کہانی کے متعلق سوال بھی پوچھے مگر جن کے جواب رانیہ نے دیے کیونکہ ڈرامہ دیکھنے کے دوران حیا نے نو لفٹ کا بورڈ لگایا ہوا تھا.
” نہیں میں ڈرامہ دیکھ رہی ہوں”
” یار تم پہلے بھی دیکھ چکی ہو یہ ڈرامہ، آجاؤ نہ، یار بہت مزا آئیگا”
” بس دس منٹ کا رہ گیا ہے، ڈرامہ دیکھ کر آتی ہوں” حیا نے ڈرامہ دیکھتے ہوئے کہا
حیا کی بات سن کر سعدیہ بیگم کی بےچین روح کو تسکین ملی. ورنہ ترکی ڈرامے تو دور کی بات ان کو تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ ان نے آخری دفعہ پاکستانی ڈرامہ کب دیکھا تھا.
” میں جیت گئی، فاطمہ تم ہار گئی. میں نے تمھیں کہا بھی تھا کہ مجھے ہارانا مشکل نہیں ناممکن ہے ” رانیہ نے مسکراتے ہوئے اپنے چہرے پر آۓ ہوئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
” دھاندلی کرکے جیتنے کا کوئی فائدہ نہیں” فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
” ہارنے کے بعد ہر انسان جیتنے والے سے یہی کہتا ہے” رانیہ نے لڈو کو بند کرتے ہوئے کہا
” اوکے میڈم آپ جیت گئی میں ہار گئی، اب خوش”
” چلو شکر ہے تم نے ہار تو مانی” رانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا حالانکہ وہ بھی جانتی تھی کہ اُس نے “چھوٹی موٹی” دھاندلی کی ہے.
” آہ، اب کیا ہوگا، فریحہ کا بھائی تو اُسے نہیں چھوڑتا، ایک تو یہ سارے زبردست سین نیکسٹ اپیسوڈ کے پرومو میں ہی کیوں دکھاۓ جاتے ہیں ” حیا نے منہ بناتے ہوئے کہا
” تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمھیں پتا نہیں کہ آگے کیا ہوگا، مت بولو کہ تم یہ ڈرامہ پہلے بھی دو بار دیکھ چکی ہو ” رانیہ نے حیا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
“یار رانیہ یہ میرا فیورٹ ڈرامہ ہے. یہ مجھے اتنا پسند ہے کہ جتنا بھی دیکھ لوں دل ہی نہیں بھرتا” حیا نے مسکراتے ہوئے چینل چینچ کرتے ہوئے کہا
” پر میرا تو فیورٹ ” پیار لفظوں میں کہاں ” ہے”
” ہاں وہ بھی مجھے پسند ہے” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
**************************
” فرقان بھائی، آپ یہاں” سلیم صاحب نے کہا جو کہ رات کے کھانے کے لیے کچھ خریدنے کینٹین پر آۓ تھے مگر فرقان صاحب کو کینٹین پر دیکھ کر حیران رہ گے.
” میں شہریار کی طبعیت دریافت کرنے ہسپتال آیا ہوں. آفتاب بھی میرے ساتھ آیا ہے. وہ گاڑی پارک کر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ بچے کے لیے کچھ لے لوں تبھی کینٹین پر آیا تھا” فرقان صاحب نے سیلم کو شاپر پکڑاتے ہوئے کہا
” ان سب کی کیا ضرورت تھی فرقان بھائی، آپ ہسپتال ملنے آۓ یہی کافی تھا”
” نہیں کچھ نہیں ہوتا، سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا لوں بچے کے لیے، تو اس لیے پھر جوسز ہی لے لیے، آپ یہ بتائیں کہ شہریار کی اب طبعیت کیسی ہے؟ ” فرقان صاحب نے سلیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
” الحمداللہ بھائی، شہریار کو اب ہوش آگیا ہے، کوئی پریشانی والی بات نہیں، اُس کے ڈاکٹر سے بھی بات ہوگئی، اگلے مہینے اُس کا آپریشن ہے، پھر وہ ٹھیک ہوجائے گا “
” یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ شہریار کو ہوش آگیا ، اللہ اُسے صحت عطا کرے”
” آمین، آئیں اندر چلتے ہیں “
” نہیں آفتاب آجائے تو پھر اُس کے ساتھ ہی چلتے ہیں ” فرقان صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
” جی اچھا ” سلیم بھی کرسی پر بیٹھ گیا
ابھی بامشکل پانچ منٹ ہی ہوۓ تھے کہ آفتاب صاحب کینٹین آگے. ان کو آتا دیکھ کر سیلم صاحب اور فرقان صاحب اپنی کرسیوں سے آٹھ کھڑے ہوئے. اور آفتاب صاحب کے پاس چلے گے.
” السلام علیکم” سیلم صاحب نے مسکراتے ہوئے آفتاب صاحب کو سلام کیا
” وعلیکم السلام” آفتاب صاحب نے جواب دیا
” شہریار کیسا ہے اب” آفتاب صاحب نے سلیم سے ہوچھا
” الحمداللہ، آفتاب بھائی بہتر ہے اب”
” ماشااللہ، اللہ اُسے لمبی عمر دے ” آفتاب نے مسکراتے ہوئے کہا
” آمین ” سلیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
**************************
” گرما گرم چاۓ تیار ہے” سالار نے چاۓ کی پیالیوں سے بھری ٹرے ٹی وی لاونچ میں لاتے ہوئے کہا
چاۓ کا سن کر حیا، رانیہ اور فاطمہ کمرے سے باہر آگئیں. جوکہ کچھ دیر پہلے ٹی وی دیکھنے حیا کے کمرے میں چلی گئیں تھیں کیونکہ سعدیہ بیگم میں اب اتنا حوصلہ نہیں باقی تھا کہ وہ نیوز سننے کے بجاۓ دوسرا ڈرامہ دیکھیں. ان ہی کے اصرار پر حیا، رانیہ اور فاطمہ، حیا کے کمرے میں ٹی وی چلی گئیں جو کہ اب چاۓ کا سن کر باہر بھی آگئی تھیں.
” بھائی مجھے بھی دیں نہ” فاطمہ نے سالار سے کہا جو کہ فاطمہ کو تنگ کرنے کی غرض سے اُس کو چاۓ کا کپ دیے بغیر ہی پاس سے گزر گیا.
” کیا کرو گی، چاۓ پی کر، ویسے بھی اتنی کالی ہو، اور کالی ہو جاؤ گی” زوہیب نے فاطمہ کو چھیڑتے ہوۓ کہا
” مجھ پر تو آپ ایسے تنقید کر رہے ہیں جیسے آپ خود فرانس کے شہزادے ہو” فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا
” فرانس کا شہزادہ نہ ہوا تو کیا ہوا پاکستان کا تو ہوں” زوہیب نے چاۓ کا کپ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا
” بیٹا، رضیہ سے بات ہوئی آپ کی”اس سے پہلے فاطمہ کچھ بولتی عالیہ بیگم نے حیا سے پوچھا
” جی امی ہوئی تھی، ماما نے کہا ہے کہ شہریار اب ٹھیک ہے”
” ماشااللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے، اللہ اُسے زندگی دے”
عالیہ بیگم کی بات پر جب صرف سعدیہ بیگم نے آمین کہا تو عالیہ بیگم نے سب کو نظر اٹھا کر دیکھا جس پر سب نے ایک ساتھ اونچی آواز میں آمین کہا
“میں اور فاطمہ نماز پڑھ کر آتے ہیں، آج پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے ” عالیہ یگم نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
ان کی اٹھنے کی دیر تھی کہ فاطمہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور عالیہ بیگم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں نماز پڑھنے چلی گئی. ان لوگوں کے جاتے ہی زوہیب اپنی بتیسی کا نظارہ کرواتے ہوئے سالار کے سامنے والے صوفے بیٹھ گیا.
” ڈیئر ججز، کیسی لگی آپ لوگوں کو میری ہاتھ کی چاۓ ” سالار نے کہا جس کا کب سے موڈ ہورہا تھا اپنی تعریف سننے کا مگر جب کسی نے نہیں کی تو اُس نے خود ہی سب سے پوچھ لیا.
” بالکل آپ کی طرح کڑوی” زوہیب نے اپنی بتیسی دکھاتے ہوئے کہا
” آپ سے کس نے پوچھا، آپ کو شاید پتا نہیں مگر میں نے صرف ججز سے پوچھا ہے” سالار نے اپنا کپ صوفے کے پاس پڑے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
” تو کیا میں جج نہیں” زوہیب نے منہ بناتے ہوئے کہا
” جی نہیں، آپ صرف مفت کی روٹیاں توڑنے والے ہیں” سالار نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوۓ کہا
” ہاں اب تو آپ یہی کہے گے، میری ہاتھوں کی بنی ہوئی چکن کڑاہی جو آپ کو ہضم ہوگئی ہے” زوہیب نے سالار کو جتاتے ہوئے کہا
” ہاہاہاہا، سچ میں، زوہیب، کوئی جتانا تم سے سیکھے ” سالار نے ہنستے ہوئے کہا
” حیا اب ہمیں اجازت دو”سعدیہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا
” کیا مطلب، آپ جارہی ہیں ” حیا نے سوالیہ نظروں سے سعدیہ بیگم کو دیکھا
” ہاں میرا بچہ، میں، زوہیب اور سالار گھر جارہے ہیں، فاطمہ تمھارے پاس ہی رہے گی ” سعدیہ بیگم نےصوفے سے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا
” او اچھا ” حیا کو اس سے بہتر جواب نہیں سوجھا
” مائی ڈیئر کزن بہت شکریہ آپ کا کہ آپ نے مجھ سے اپنے گھر میں ملازموں کی طرح کام کروایا ” زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا
” نہیں اس میں شکریہ کہنے والی کیا بات ہے، آپ تو ہمارے اپنے ہیں. بلکہ جب اگلی دفعہ آئیگے تو آپ سے برتن بھی دھلواؤں گی” حیا نے ہنستے ہوئے کہا
ابھی زوہیب حیا کو جواب دینے ہی والا تھا کہ سعدیہ بیگم کی نظروں نے اُسے سگنل دیا. جس دیکھ کر اُس نے خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی
” بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں، اپنے گھر بلایا، اچھا کھانا کھلایا، اب آپ ہمارے گھر بھی آنا” سعدیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” اس میں شکریہ کہنے والی کیا بات ہے، یہ تو آپ کا اپنا گھر ہے، جب دل چاہے آئیں” حیا نے مسکراتے ہوئے سعدیہ بیگم سے کہا
” یہ تو بیٹا آپ کا بڑاپن ہے کہ آپ نے اتنی عزت دی، اب آپ نے بھی رضیہ اور سیلم بھائی کے ساتھ ہماری طرف چکر لگانا ہے”
” جی ضرور آنٹی، اللہ حافظ “
” اللہ حافظ” سعدیہ بیگم نے حیا سے ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا
” اللہ حافظ حیا” سالار نے مسکراتے ہوئے حیا سے کہا جس کا جواب دینا حیا نے ضروری نہیں سمجھا.
**************************
” کہاں تھے آپ سیلم، کھانا لینے گے تھے، یا بنانے گے تھے، آپ کو پتا تھا جب کہ صائمہ بھابی دن سے بھوکی ہیں تو آپ کو جلدی آنا چاہیے تھا” سیلم کے ویٹنگ روم میں داخل ہوتے ہی آسیہ شروع ہوگئی کیونکہ وہ اس بات سے انجان تھی کہ اُس کے دو بھائی بھی سیلم کے ساتھ آۓ ہیں.
” فرقان بھائی اور آفتاب بھائی آۓ ہیں” سیلم نے آسیہ کی شکایتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا
” افففف گڑیا تم کتنا تنگ کرتی ہو بےچارے کو، ہم نے سب سن لیا، دو ہی تو منٹ لیٹ ہوا تھا ” آفتاب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” بھائی اب تو گڑیا نہ کہے ، اب تو میں خود ایک گڑیا کی ماں ہوں” آسیہ نے شرمندہ ہوتے ہی بات کو کو بدلتے ہوئے کہا
” تو کیا ہوا، تم جتنی بھی بڑی ہوجاؤ ہمارے لیے تو بچی ہی رہو گی” اب کی بار فرقان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” رضا صاحب کہاں ہیں” آفتاب صاحب نے آسیہ سے ہوچھا
” وہ شہریار کے پاس ہیں، شہریار ابھی سو کر اٹھا ہے تو اُس کو دیکھنے گے ہیں” آسیہ نے جواب دیا
” اچھا ہم بھی ان ہی کے پاس چلتے ہیں ” فرقان صاحب نے کہا
” جی چلیں ” سیلم نے کھانے کا شاپر آسیہ کو پکڑاتے ہوۓ کہا
*************************
” السلام علیکم” فرقان صاحب اور آفتاب صاحب نے ایک ساتھ کہا
” وعلیکم السلام ” رضا نے سلام کا تو جواب سے دیا تھا مگر ساتھ ہی میں سوالیہ نظروں سے سلیم صاحب کی طرف دیکھا
” رضا، یہ آسیہ کے بھائی ہیں، شہریار کو دیکھنے آۓ ہیں”
سلیم کی بات سنتے ہی رضا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور آفتاب صاحب اور فرقان صاحب سے ہاتھ ملایا
” آئیں بیٹھیں ” صائمہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
“نہیں بہن آپ بیٹھی رہیں، ہم کھڑے ٹھیک ہیں” آفتاب صاحب کو صائمہ بیگم کا کھڑا ہونا مناسب نہیں لگا
” آپ لوگ بیٹھیں، میں ملازم سے کہہ کر آپ لوگوں کے لیے کچھ منگواتا ہوں” رضا صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا
” نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہم کھانا کھا کر آۓ ہیں، آپ ہمارے پاس ہی بیٹھیں رہیں “
” اچھا پھر رکیں، میں آپ کے لیے ملازم سے کہہ کر کرسیاں منگواتا ہوں” رضا نے کہا
” نہیں رضا تم بیٹھو رہو، میں منگواتا ہوں ” سلیم نے اٹھتے ہوئے کہا
” شہریار اب کیسی طبعیت ہے آپ کی ” آفتاب صاحب نے شہریار سے پوچھا
” اب بہتر محسوس کر رہا ہوں، بس تھوڑا سر میں درد ہے باقی سب ٹھیک ہے ” شہریار نے بیڈ پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا
” یہ تو بہت اچھی بات ہے، دیکھنا اب بہت جلد پھر چل پھر رہے ہوگے، بس آپ نے ٹینشن نہیں لینی. یہ اللہ کے کام ہیں تو بس اللہ پر بھروسہ کرو” فرقان صاحب نے کہا
” جی انکل”
**************************
تقریباً رات بار بجے کا وقت تھا جب حیا کو اچانک پیاس لگی. اُس نے کمرے کی لائٹ آن کرکے بیڈ کے ساتھ رکھے گے ٹیبل پر پانی کے جگ سے پانی پینا چاہا مگر جگ میں پانی نہیں تھا. حیا نے غصے سے ساتھ ہوئی رانیہ کو دیکھا جس نے سارا پانی حیا کے منع کرنے کے باوجود فاطمہ کے اوپر پھینکنے پر ضائع کردیا تھا. حیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سوئی ہوئی رانیہ کو جگایا اور اُس سے پانی منگوایا مگر یہ کرکے اُس نے رانیہ سے جوتے تھوڑے ہی کھانے تھے تو اس لیے ناچاہتے ہوۓ بھی ڈرپوک حیا کو خود رات کے بارہ بجے کچن میں جانے کا شرف حاصل ہوا. وہ جونہی کچن میں انٹر ہوئی اُسے سلیم صاحب کچن میں پسنی پیتے ہوئے دیکھائی دیۓ. ان کو دیکھ کر حیا کے بےجان جسم میں جان آئی کہ چلو شکر ہے کہ بابا کچن میں ہی ہیں.
” بابا آپ کب آۓ” حیا نے سلیم صاحب سے پوچھا
” بس ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے، آپ سوئی نہیں ہو ابھی تک”
” سوئی ہوئی تھی، پیاس لگنے کی وجہ سے آنکھ کھل گئی تو کچن میں ہانی پینے کے لیے آئی ہوں”
” اچھا، باقی لوگ کہاں ہیں”
” سعدیہ ممانی، زوہیب اور سالار تو نو بجے ہی چلے گے تھے، عالیہ ممانی، فاطمہ اور رانیہ ادھر ہی ہیں ” حیا نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے کہا
” اچھا میری بیٹی نے کھانا کھایا ہے” سلیم صاحب نے مسکراتے ہوئے ہوچھا
” جی بابا، کھا لیا ہے، آپ نے کھایا ہے”
” میں نے بھی ہسپتال میں کھا لیا تھا”
” او ہاں، بابا شہریار کیسا ہے” حیا نے اس انداز میں سلیم صاحب سے پوچھا جیسے اُسے اچانک سے کچھ یاد آگیا ہو
“الحمداللہ ٹھیک ہے وہ اب ” سلیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
” میں بھی اُسے کل دیکھنے جاؤں گی” حیا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا
” ہاں ضرور، میں اپنی بیٹی کو خود لے کر جاؤں گا “
” اچھا بابا، میں سونے جارہی ہوں، اب بھی آپ جاکر ریسٹ کریں، شب بخیر “
” شب بخیر”
*************************
” شہریار آنکھیں کھولو، دیکھو کون ملنے آیا ہے تم سے” صائمہ بیگم نے شہریار کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
ان کے ہاتھ پھیرنے کی وجہ سے شہریار نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا تو سامنے سدرہ کھڑی تھی. جس کو دیکھتے ساتھ ہی اُس نے اپنی دونوں آنکھیں کھول کر بیٹھنے کی کوشش کی.
” تم دونوں باتیں کرو، میں آتی ہوں اپنی جان کے لیے ناشتہ لے کر”
” سدرہ تم…… کہاں تھی تم….. کل کیوں نہیں آئی مجھ سے ملنے…. اتنا انتظار کیا میں نے تمھارا…. بس ایک بار مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دو، حیا کے گھر میں خود تصویریں بھیجواؤں گا، دیکھو تم ناراض نہ ہونا،میں ٹھیک ہونے کے بعد سب سے پہلے تمھارا کام کروں گا، میں کل بھی حیا ہی کے گھر جارہا تھا کہ گاڑی کی بریک فیل ہوگئی اور میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا” شہریار نے سدرہ کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا
” مجھے تمھاری کوئی مدد نہیں چاہیے، تم نے جتنی میری مدد کی، اُس کے لیے تمھارا بہت شکریہ” سدرہ نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
” ناراض کیوں ہورہی ہو سدرہ، میں نے تمھیں بتایا بھی ہے کہ میں بس ٹھیک ہو جاؤ، پھر سب سے پہلے تمھارا کام ہی کرو گا” شہریار نے سدرہ کو دیکھتے ہوئے کہا
” میں تم سے نہیں ناراض “
سدرہ کا رویہ شہریار کی سمجھ سے باہر تھا. اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے کوئی جزبات نہ دیکھ کر اُس کی روح تک کو تکلیف ہوئی تھی.
” تو پھر منہ کیوں بنایا ہوا ہے” شہریار نے سدرہ سے ہوچھا
” کیا کروں، منہ ہی ایسا ہے” سدرہ نے معصومیت سے جواب دیا
” سدرہ میرے پاس ایک بہت اچھی خبر ہے، جس کو سن کر تم بہت خوش ہوجاؤ گی” شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا
” کیا خبر” سدرہ نے بس اتنا ہی کہنے میں اکتفا کیا
” اگلے مہینے میرا اور تمھارا نکاح ہے، ماما مان گئی ہیں”
” یہ کیا کہہ رہے ہو تم، نکاح وہ بھی میرا اور تمھارا، لگتا ہے کچھ زیادہ ہی چوٹ لگی ہے تمھارے دماغ پر ” سدرہ نے غصے سے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
” ایسا کیوں کہہ رہی ہو” شہریار نے پوچھ تو لیا تھا مگر ایک انجان خوف اُسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا.
” شہریار تم اتنے بھی بچے نہیں ہو کہ میری بات کا مطلب نہ سمجھ پاؤ، میں مانتی ہوں کہ ہماری منگنی بھی ہوئی تھی مگر تب کی بات اور تھی. اب تم ایک معزور انسان ہو، اور میں ایک معزور انسان سے شادی کرکے اپنی زندگی تھوڑے ہی خراب کر سکتی ہوں، میں آج ہسپتال بھی تم سے اِسی بارے میں بات کرنے آئی تھی. شہریار تم مجھے بھول جاؤ کیونکہ تمھاری وجہ سے میں اپنی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتی. میں بہت جلد تمھیں انگوٹھی اور تمھارے باقی تحائف بھیجوا دوں گی”
” یہ کیا کہہ رہی ہو تم سدرہ، تم میری محبت ہو تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی، اور تمھیں بھی تو مجھ سے محبت ہے”
” محبت وہ بھی تم سے، ہے کیا تمھارے پاس سوائے دولت کے، میں نے صرف دولت کی وجہ سے ہی تم سے منگنی کی تھی مگر میں دولت کی اتنی بھی پوچاری نہیں ہوں کہ دولت کی خاطر اپنی زندگی قربان کردوں، میں جارہی ہوں، باۓ، آئی ہوپ، آئی ول نیور سی یو ان مائی ہول لائف ” سدرہ نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا
” سدرہ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی، پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ، میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکوں گا، دیکھو یہ سب میں نے تمھارے ہی لیے کیا ہے، اگر میں تمھارے باربار کال کرنے کی وجہ سے گاڑی تیز نہ چلاتا تو میں آج تمھارے سامنے کھڑا مسکرا رہا ہوتا، تمھارے لیے میں نے اپنی جان تک کی پروا نہ کی اور تم میرے ساتھ یہ کر رہی ہو “
” ہاہاہاہا میرے لیے کیا ہے، کیا بات ہے شہریار، میں نے تو تمھیں نہیں کہا تھا کہ حیا کے گھر جاؤ، تمھیں یاد ہوتو تم نے ہی کہا تھا کہ میں اس طرح حیا کو مزا چکھاؤں گا، یہ سب تمھارا پیلن تھا، اب تم ہی بھگتو “
” مگر یہ سب تمھیں ہی تو خوش کرنے کے لیے کیا تھا” سدرہ کی باتیں شہریار کے دل کو نہیں روح کو تکلیف دے رہی تھی.
” تم بچے نہیں تھے جو میری باتوں میں آگے یہ سب تم نے اپنی انا کی تسکین کے لیے کیا اور اب الزام مجھ پر لگا رہے ہو، آج اگر تم ہسپتال کے بستر پر پڑے ہو تو اپنے کرتوتوں کی سزا بھگت رہے ہو، اور تمھارے لیے ایک اہم خبر، اگلے مہینے میرا، زین شیخ جو کہ مشہور بزنس مین ہے، کے ساتھ نکاح ہے تم ضرور آنا، مجھے تمھارا انتظار رہے گا، میں بھی تو دیکھوں گی کہ تم ویل چیئر پر کیسے دکھائی دیتے ہو “
یہ کہہ کر سدرہ روتے ہوئے شہریار کو اکیلا چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل جاتی ہے
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *