Qalb E Momin by Afifa Durrani

کچھ ہی دیر بعد دروازے پر پھر دستک ہونے لگی۔”ایک تو ان لوگوں کو بھی آرام نہیں، سکون سے سونے بھی نہیں دیتے، کھڑے رہیں باہر، میں تو نہیں کھولتی دروازہ”وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے بولی۔آج تو اس کا پکا پروگرام تھا یونیورسٹی نہ جانے کا مگر سالار کی معصوم آواز سن کر وہ اٹھ گئی اور منہ بناتے ہوئے دروازہ کھولنے لگی۔سامنے چار سالہ سالار کھڑا تھا۔جو کہ اگلے ہفتے پانچ سال کا ہونے والا تھا۔
” پھپھو، دادی جان آپ کو ناشتے کے لیے بلا رہی ہیں” سالار نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں گھماتے ہوئے کہا
” امی کے چمچے ، آج سکول جانا ہے کہ نہیں”رضیہ نے سالار کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا
” آج تو چھٹی ہے پھپھو”
” واؤ پھر تو مزا آئیگا، میں بھی آج یونیورسٹی نہیں جارہی، تم ادھر بیڈ پر بیٹھ کر میرا انتظار کرو، میں منہ ہاتھ دھو کر آتی ہوں اور خبردار جو میری چیزوں کو ہاتھ لگایا”
” میں کوئی بچہ تھوڑی ہی ہوں جو آپ کی چیزوں کو ہاتھ لگاؤں گا” سالار نے منہ بناتے ہوئے کہا
” اچھا انکل جی آپ کی اجازت ہو تو میں واشروم جاسکتی ہوں”
” جا سکتی ہیں” سالار نے ہنستے ہوۓ کہا
اس کے واشروم جاتے ہی سالار بیڈ پر چھلانگیں لگانے لگا۔بیڈ کا ستیاناس کرنے کے بعد اس کا اگلا شکار ڈریسنگ ٹیبل تھا۔رضیہ کا دانت برش جو وہ کل ہی بازار سے نیا لے کر آئی تھی اور غلطی سے واشروم ساتھ لے کر جانا بھول گئی تھی سے دانت چمکانے کے بعد اس نے کریم کا ڈھکن کھول کر کریم کے ڈبے کو کارپٹ پر پھینک دیا۔اب اسے پیاس لگ رہی تھی۔اس نے بیڈ کے ساتھ رکھی گئی پانی کی بوتل کو تھوڑا سا پیا اور باقی پانی بیڈ پر گرا دیا۔”اب مزا آئیگا پھپھو کو، اور میری شکاتیں لگائیں بابا کو” یہ کہنے کے بعد وہ ایک پل کے لیے بھی نہ رکا کیونکہ اسے پتا تھا اگر پھپھو باہر آگئی تو وہ اسے کچا چبا جائیں گی۔کچھ دیر بعد جب رضیہ دانت برش لینے کے لیے واشروم سے باہر نکلی تو کمرے کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئی۔کچھ ہی دیر بعد پورے گھر میں ایک ہی آواز گونجی”سالار”
وہ جلدی جلدی بغیر بال باندھے ، ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی اور کچن میں چلی گئی۔جہاں وہ ” سالار کا بچہ ” چاۓ کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا۔
” امی یہ سالار کا بچہ آج میرے ہاتھوں قتل ہو جاۓ گا، آپ ذرا جاکر میرا کمرہ دیکھے، اس نے میرے کمرے کو کباڑخانہ بنا دیا ہے” رضیہ نے غصے سے سالار کی طرف دیکھا جو اس ٹائم غزالہ بیگم کی پنا میں تھا
“کیا بک رہی ہو، کیا کیا ہے اس معصوم نے ، تمھیں صرف جگانے ہی تو گیا تھا”غزالہ بیگم نے غصے سے رضیہ کی طرف دیکھا جو کہ انتقام کی آگ میں جل رہی تھی
” کیا کیا ہے اس نے ، ایک بار میرا کمرہ دیکھیں ذرا اور یہ معصوم نہیں پورے کا پورا شیطان ہے”
” بری بات کتنی دفعہ میں تم سے کہو کہ بچوں کو شیطان نہیں کہنا چاہیے”
” بھابی آپ انصاف کریں ، اس نے میرا نیو دانت برش استعمال کیا ہے جو کہ میں نے ایک دفعہ بھی استعمال نہیں کیا تھا”رضیہ نے غزالہ بیگم کو نظر انداز کر کے عالیہ بیگم کو کہا کیونکہ اسے پتا تھا کہ غزالہ بیگم کے سر پر پوتے کا بھوت سوار تھا۔
” تو پھپھو اب اتنا بھی بدھو نہیں ہے سلو، پرانا کون یوز کرتا ہے کسی کا بریش” ارم نے دانت دکھاتے ہوۓ کہا
” تم چپ کرو، سالار کی وکیل” رضیہ نے غصے سے سات سالہ ارم کو دیکھا
” آپ نے ایسا کیوں کیا ہے سالار سوری بولو پھپھو کو”
” صرف سوری سے کچھ نہیں بنے گا، آفتاب بھائی، آپ اسے بولیں کہ میرا کمرہ بھی صاف کرۓ”
” کیا ہو گیا ہے رضیہ ، اتنے سے بچے سے اب کمرہ بھی صاف کرواؤں گی”
” امی آپ بیچ میں نہ بولیں، یہ میرا اور سلو میاں کا معاملہ ہے، اس نے گندا کیا ہے ، اب یہی صاف کرۓ گا”
“میں ناشتہ کرنے کے بعد خود اپنی گڑیا کا کمرہ صاف کروں گی، ابھی ناشتہ کرو، تم نے یونیورسٹی بھی جانا ہے”
” بھابی میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ میں یونیورسٹی نہیں جاؤں گی”
” کیوں نہیں جارہی یونی، اگر اتنی چھٹیاں کرو گی تو پڑھو گی کیسے”
” بس یہ آخری چھٹی ہے فرقان بھائی”
” تم ہر بار یہی کہتی ہو ، لیکن اگلی بار پھر کر لیتی ہو”
” امی آپ کہاں کھوئی ہوئی ہیں” اس نے غزالہ بیگم کو دیکھا جو کب سے ہاتھ میں نوالہ پکڑے اسے دیکھ رہی تھی۔
” مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے”
” تو کریں نہ پیاری امی، آپ کو کس نے منع کیا ہے”
” کل پھر سلمہ کی کال آئی تھی ، وہ کہ رہی تھی کہ اب ہمیں تمھاری اور امجد کی شادی کر دینی چاہیے”
” امی میں آپ کو کتنی بار کہو کہ مجھے اس میٹرک پاس آوارہ امجد سے شادی نہیں کرنی ، محلے میں ہر لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی ہے، اور آپ مجھے کہ رہی ہیں کہ میں اس آوارہ امجد سے شادی کر لوں”
” جو بھی ہے شادی تو تمھیں امجد سے ہی کرنی ہوگی، منگیتر ہے وہ تمھارا”
” میں اس کو منگیتر نہیں مانتی” رضیہ نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا
” تمھارے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت بدل نہیں سکتی”
” امی آپ سمجھتی کیوں نہیں ، مجھے امجد نہیں پسند”
” تم کیوں نہیں سمجھتی ، تمھارے محروم باپ کی خواہش تھی کہ تمھاری شادی امجد سے ہو”
” ابا خود تو اوپر چلے گے ہیں، میری زندگی عزاب بنا کر ، جو کرنا ہے آپ کر لیں ، میں امجد سے شادی نہیں کرتی”
” آخر امجد میں برائی ہی کیا ہے، شادی تم نے کسی نہ کسی سے کرنی ہی ہے تو امجد سے کیوں نہیں”
” برائی کو چھوڑیں ، آپ مجھے وہ اچھائی بتا دیں اس کی ، جس کی وجہ سے آپ میری شادی اس سے کروانے چاہتی ہیں”
” تو تم اب اتنی بڑی ہوگئی ہو کہ تم اپنے بڑوں کے فیصلے کو غلط کہو گی”
” بات بڑے یا چھوٹے کی نہیں ہے امی، بات میری زندگی کی ، اور میں کسی کا وعدہ پورا کرنے کے لیے اپنی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتی”

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Action & Adventure Adventure After Marriage after nikah Age Difference Based Comedy Cousin Marriage Based family drama funny novel Hero Based Innocent heroin Joint Family love after marriage
Tags: After Marriage COMPLETE NOVEL cute love story Family drama Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *