Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode19

Qalb E Momin by Afifa Durrani Episode19

” میرا گریبان چھوڑو سدرہ، شہریار کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ اُس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے، جہاں تک شہریار کو پسند کرنے کی بات ہے تو میرا اللہ مجھ سے اتنا بھی ناراض نہیں ہے کہ وہ میرے دل میں شہریار جیسے گناہگار شخص کے لیے ہمدردی پیدا کرے” حیا نے سدرہ کا ہاتھ خود سے دور کرتے ہوئے کہا
” ہاں اب تو تم یہی کہوں گی کہ شہریار ایسا ہے، ویسا ہے، تمھارا پول جو کھول دیا میں نے” سدرہ نے اپنی اونچی آواز کو برقرار رکھتے ہوئے کہا
” ہاہاہاہا پول وہ بھی میرا، پہلے تم اپنی خیر مناؤ کہ جب ماما گھر آئیگی تو تمھارے ساتھ جو بھی ہوگا، اُس کی ذمہ دار تم خود ہوگئی، اب تو تمھیں بچانے والا بھی کوئی نہیں بچا، ایک شہریار ہی تو تھا وہ بھی تمھارے مطابق آپریشن تھیٹر پر پڑا موت سے لڑ رہا ہے” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
حیا کی باتوں نے سدرہ کو نئی کشمکش میں مبتلا کر دیا. وہ تو یہاں پر حیا کو نیچہ دکھانے آئی تھی مگر حیا نے تو بازی ہی پلٹ دی. اب اُس کے پاس دو ہی راستے بچے تھے. ایک تو یہ کہ وہ یہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچاۓ یا پھر آسیہ بیگم سے جوتے کھاۓ. اُسے پہلا راستہ زیادہ مناسب لگا.
” ابھی تو میں جارہی ہو حیا مگر جونہی شہریار کو ہوش آیا، میں پھر آؤں گی اور تمھیں، تمھارے انجام تک پہنچاؤں گی” سدرہ نے حیا کو انگلی دکھاتے ہوئے کہا
” یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون اپنے انجام کو پہنچتا ہے”
حیا کی بات سن کر سدرہ غصے سے اپنا بیگ اٹھاتی ہے اور گھر سے باہر نکل جاتی ہے.
” بھئی کوئی ہمیں بھی بتاۓ گا کہ آخر مسئلہ کیا ہے ” فرقان صاحب نے کہا جو اب شوروغل سے تنگ آچکے تھے.
” ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی امتحان میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں. سدرہ بھی انھی لوگوں میں سے ایک ہے. سدرہ کے منگیتر نے نجانے کتنی لڑکیوں کی زندگی تباہ کی ہے، جن کی بدعاؤں کی وجہ سے وہ آج ہسپتال میں ہے. مگر سدرہ صرف اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے الزام دوسروں پر ڈال رہی ہے” حیا نے کہا
حیا کی بات سن کر تو رانیہ حیران ہی رہ گئی. حیا بھی کبھی اتنے اچھے الفاظ بولے گی ایسا اُس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں سوچا تھا. یہ وقت ہی تو تھا جس نے حیا کو لوگوں سے مقابلہ کرنا سکھا دیا تھا. وقت دنیا کا بہترین استاد ہے. وقت ہمیں لوگوں کے اصلی چہرے دکھاتا ہے. گزرا ہوا وقت ہمیں آنے والے وقت کے بارے میں پہلے سے ہی خبردار کرتا ہے. اچھا وقت ہمیں خوشیاں دیتا ہے اور برا وقت ہمیں سبق سکھا کر جاتا ہے.
” مگر وہ تو ٹھیک ہے بیٹا، پر سدرہ تمھارا نام کیوں لے رہی ہے” سعدیہ بیگم نے حیا سے سوال پوچھا
” آنٹی سدرہ کی بچپن سے لے کر آج تک مجھ سے نہیں بنی. وہ ہمیشہ سے ہی مجھ سے دنیاوی چیزوں کی خاطر حسد کرتی آرہی ہے. وہ شہریار کے ذریعے مجھے بدنام کرنا چاہتی تھی مگر شاید وہ یہ بات بھول چکی تھی کہ انسان کی عزت اور شہرت اللہ کے ہاتھوں میں ہے. اللہ کے کرم کے سے میں اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھنے میں کامیاب ہوگئ اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے آج آپریشن تھیٹر پر پڑے موت سے لڑ رہے ہیں ” حیا نے ایک گہری سانس اپنے اندر اترتے ہوئے کہا
” ہمیں اپنی بیٹی پر یقین ہے، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہمیں پتا ہے کہ ہماری بیٹی ایسے کوئی کام نہیں کرۓ گی جس سے اُس کے گھر والوں کی عزت پر نام آۓ” عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” تھینک یو آنٹی” حیا نے بھی مسکراتے ہوئے کہا
” آنٹی نہیں، امی بولو، آپ میرے لیے فاطمہ کی طرح ہو “
” اوکے امی” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” اففففف، بس ختم کرو یہ خاندانی ڈرامہ، قسم سے میں تو بہت بور ہوچکا ہوں، چلو سب مل کر کوئی گیم کھیلتے ہیں” زوہیب نے کہا جو کہ اب حیا کی باتوں سے تنگ آچکا تھا
” شرم کریں آپ ، اُدھر شہریار آپریشن تھیٹر میں پڑا موت سے لڑ رہا ہے، اور ادھر آپ کو کھیلنے کی پڑی ہے” رانیہ نے زوہیب کو چڑاتے ہوئے کہا
” شہریار یہ، شہریار وہ، پیچھلے ایک گھنٹے سے میں یہ سب سن کر تھک چکا ہوں، اگر وہ بندہ نیک ہوتا تو شاید میں بھی اُس کے لیے دعا کر ہی لیتا، مگر حیا کی ساری بات سن کر تو مجھے یہی لگ رہا ہے کہ ہم اُس کے لیے دعا کرکے اپنا ہی قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں “
” بری بات زوہیب ایسا نہیں کہتے، شہریار نے حیا کے ساتھ جو کچھ بھی کیا وہ اُس کا ظرف تھا، اگر ہم بھی اُس کے ساتھ یہی سب کریں گے تو ہم میں اور شہریار میں کیا فرق رہ جائے گا، اور جہاں تک نیک ہونے کی بات ہے تو یہ تو اللہ کے کام ہیں جس کو چاہے ہدایت دے، اگر تمھیں دی ہے تو تم تو اُس کے لیے دعا کرسکتے ہو ” سعدیہ بیگم نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا
” اچھا” زوہیب نے ہار مان لی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لے، سعدیہ بیگم سے نہیں جیت سکتا. اس لیے اُس نے چپ کرکے بات ماننے میں ہی اپنی عافیت سمجھی.
**************************
” آپ پیشنٹ شہریار خان کے رشتہ دار ہیں؟” نرس نے رضا صاحب سے پوچھا
” جی”
” پیشنٹ کو ہوش آگیا، ہم انھیں کچھ دیر میں روم میں شفٹ کر رہے ہیں، پھر آپ ان سے مل لیجیے گا”
نرس کی بات سن کر رضا صاحب صوفے سے آٹھ کھڑے ہوئے
” تھینک یو سو مچ” رضا نے برس کو کہا
” دیکھا رضا میں نے تمھیں کہا بھی تھا کہ کچھ نہیں ہوتا، اللہ سب بہتر کرے گا، اب دیکھو شہریار کو ہوش بھی آگیا ہے” سلیم نے رضا کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا
” کیا فائدہ سلیم، میرا بچہ اپنی ٹانگیں تو کھو بیٹھا ہے ، میں اب شہریار کو کیسے سنبھالوں گا، اُسے اب نظریں کیسے ملاؤں گا، اُس کو تسلی کیسے دوں گا، اُس کی ماں الگ بستر پر پڑی ہوئی ہے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ شہریار کو سنبھالوں یا اُس کی ماں کو، اللہ نے مجھے کسی آزمائش میں ڈال دیا ہے “
” ایسا نہیں کہتے رضا، آزمائشیں ہی تو انسان کو انسان بناتی ہے. آزمائشوں سے کبھی بھی گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ یہ تو اس فانی زندگی کا حصہ ہے، رہی بات شہریار کی، تم ماشاءاللہ سے مالی لحاظ سے مضبوط ہو، تم اُسے علاج کے لیے باہر بھی بھیجوا سکتے ہو، اس لیے اللہ کی ناشکری نہ کرو بلکہ شکر کرو کہ اُسے ہوش آگیا ہے. آسیہ، صائمہ بھابی کے پاس ہی ہیں ، وہ ان کا خیال رکھیں گی. تم پریشان نہ ہو بس اللہ سے بہتر کے لیے دعا کرو”
” ہاں صحیح کہہ رہے ہو تم، آؤ صائمہ سے مل کر آتے ہیں، پتا نہیں اب کیسی ہے وہ، پھر اکٹھے ہی شہریار کے پاس چلیں گے”
” ہاں چلو “
**************************
” اوکے آنٹی میں اور رانیہ اب چلتے ہیں، تھوڑی دیر پہلے مام کی کال آئی ہوئی تھی، وہ ہمیں گھر بلا رہی ہیں” تابش نے سعدیہ بیگم سے کہا
“ابھی کیوں جارہے ہو بیٹا، کھانا کھا کر جانا” عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
” نہیں آنٹی، ابھی ہمیں جانا ہوگا، کھانا پھر کبھی، چلو رانیہ”
” رانیہ یار کیا ہو گیا ہے، تم مجھے ان لوگوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر جارہی ہو، یار پلیز آج رات تم ادھر ہی رک جاؤ، میں اکیلے کیسے ان سب لوگوں کو سنبھالوں گی” حیا نے رانیہ کے کان میں کہا
” تابش تم جاؤ، میں حیا کے ساتھ ادھر ہی رہ رہی ہوں، تم مام ڈیڈ کو بتا دینا ” رانیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا
” اچھا ٹھیک ہے،. پھر میں چلتا ہوں، اللہ حافظ”
” اللہ حافظ ” سب نے ایک ساتھ کہا
ابھی تابش کو گے ہوۓ بامشکل بیس منٹ ہی ہوۓ تھے کہ زوہیب شروع ہوگیا
” کیسی لڑکی ہو تم حیا، تمھارا کزن پہلی دفعہ تمھارے گھر آیا، اور تم نے اُسے صرف چاۓ پلائی ہے” زوہیب نے منہ بناتے ہوئے کہا
” میں نے سلیمہ آنٹی کو کھانا کھانے کا بولا ہے، کچھ ہی دیر بعد کھانا بھی کھلا دوں گی” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” سلیمہ آنٹی کو کیوں، ہمیں تو آپ کے ہاتھوں کا بنایا ہوا کھانا، کھانا ہے”
زوہیب کی معصوم فرمائش پر حیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی. اُسے تو مشکلوں سے چاۓ بنانے آتی تھی، اب وہ دس بارہ لوگوں کے لیے کھانا کیسے بناۓ. اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب بات کو کیسے سنبھالے. ابھی وہ زوہیب کو سچ بتانے ہی والی تھی کہ اُسے کھانا بنانے نہیں آتا کہ رانیہ نے اُس کی مشکل آسان کر دی.
” ہمیشہ ہم لڑکیاں، آپ لڑکوں کے لیے کھانا بناتی ہیں، آج آپ لوگ ہمارے لیے کھانا بناؤ گے، جو جو میرے ساتھ ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں” رانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
رانیہ کی بات پر سب سے پہلا ہاتھ سالار، فرقان صاحب اور آفتاب صاحب نے کھڑا کیا، جس کو دیکھ کر زوہیب اُن پر افسوس ہی کرتا رہ گیا. پھر سالار کے بعد فاطمہ اور حیا نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا. جبکہ گھر کی خواتین نے چپ رہ کر رانیہ کی شرارتوں سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا.
” مانا کہ ان کام چوروں نے تو کام سے بچنے کیلئے اپنا ہاتھ کھڑا کیا، آپ لوگوں نے کیوں اپنا ہاتھ کھڑا کیا، بہت شوق ہے اگر کام کرنے کا تو آپ لوگوں کو ایک ہوٹل کھول کر دے دیتا ہوں” زوہیب نے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ وہ آفتاب صاحب اور فرقان صاحب دیکھنے کی جسارت نہیں کرسکتا تھا.
” یار یہ کام چوریں ہی تو ہماری لیے پورا سال کھانا بناتی ہے، اگر آج ہم نے ان کے لیے کھانا بنا لیا تو کوئی بڑی بات نہیں ” سالار نے مسکراتے ہوئے کہا
” ہاں تم تو ان ہی کی سائیڈ لوں گے کیونکہ تم نے صرف پیاز ہی تو کاٹنا ہوگا، باقی سارا کام تو اکیلے میں نے ہی کرنا ہوگا” زوہیب نے منہ بناتے ہوئے کہا
” واؤ کتنے اچھے چہرہ شناس ہو تم، اب چلو، پہلے ہی دیر ہوگئی ہے، ویسے بھی اچھے شیف اپنے مہمانوں کو انتظار نہیں کرواتے ہوتے ” سالار نے ہنستے ہوئے کہا
” تم دیکھنا بیٹا، سارے برتن تم سے ہی دھلواؤں گا”
” ہاہاہاہا اور کوئی حکم” سالار نے ہنستے ہوئے کہا
” نہیں فی الحال یہی کافی ہے، باقی کام تم سے کچن میں کرواؤں گا” زوہیب نے منہ بناتے ہوئے کہا
ان دونوں کی باتیں سن کر سب ہنسنے لگے. رانیہ اور فاطمہ لڈو لے کر بیٹھ گئی کیونکہ عالیہ بیگم کے سامنے ٹی وی لگا کر ان کی باتیں سننے کا دونوں کو دل نہیں کر رہا تھا.
” آنٹی شام سے رات ہوگئی ہے، میرے خیال سے مجھے ماما سے بات کرنی چاہیے ” حیا نے عالیہ بیگم سے کہا
” ہاں بیٹا ضرور بات کرو”
” ٹھیک ہے پھر میں ماما سے بات کرکے آتی ہوں “
**************************
حیا نے اپنے کمرے میں آکر گہرا سانس لیا. آج کا دن اتنا تھکا دینے والا ہوگا، ایسا اُس نے سوچا بھی نہیں تھا. آج تو اللہ نے اُس کی سب کے سامنے عزت رکھ لی ورنہ سدرہ نے اُسے شرمندہ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی. سدرہ اتنی گر سکتی ہے ایسا اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا. یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ مجھے بےعزت کرنے کے لیے آئی تھی، خود بےعزت ہوکر گئی ہے یہ سوچتے ہوئے حیا صوفے پر بیٹھ گئی اور آسیہ بیگم کو کال کرنے لگی
” السلام علیکم ماما “
” وعلیکم السلام بیٹا”
” ماما، شہریار کی طبیعت اب کیسی ہے؟ اور رضا انکل اور صائمہ آنٹی کیسے ہیں “
” صائمہ، شہریار کے ایکسیڈنٹ کا سن کر بے ہوش ہوگئی تھی مگر اب ٹھیک ہے، اور رضا بھائی کا بھی بہت برا حال تھا پہلے، مگر وہ بھی اب ٹھیک ہیں. شہریار کو ہوش آگیا ہے، ابھی ہم اُسی کے ساتھ بیٹھیے ہوئے ہیں “
” یہ تو بہت اچھی بات ہے،. اچھا آپ یہ بتائیں کہ آپ واپس کب آئیگی؟ “
” میں تو آج رات یہی رہوں گی، البتہ تمھارے بابا گھر آجائیں گے”
” اوکے ٹھیک ہے”
” کھانا کھایا ہے آپ لوگوں نے” آسیہ بیگم نے حیا سے پوچھا
” نہیں ابھی تک نہیں، زوہیب اور سالار کھانا بنا رہیں ہیں” حیا نے مسکراتے ہوئے کہا
” وہ دونوں کیوں، غلط بات بیٹا وہ ہمارے مہمان ہیں، آپ سلیمہ آنٹی کو کھانا بنانے کا کہتی نہ”
” نہیں ماما، زوہیب اور سالار اپنی مرضی سے بنا رہیں ہیں ” حیا جھوٹ بولتے ہوئے بھی بالکل بھی نہیں گھبرائی کیونکہ یہ پہلا جھوٹ تھوڑی ہی تھا جو اُس نے آسیہ بیگم سے بولا تھا.
” اچھا چلو یہ تو اچھی بات ہے، میں کل گھر آجاؤں گی، اپنا خیال رکھنا حیا، اللہ حافظ “
” اللہ حافظ “
**************************
” واؤ یار کیا کچن ہے، ادھر تو کام کرتے ہوئے بھی مزا آئیگا” زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا
” اتنا ہی اگر پسند آگیا تمھیں رضیہ آنٹی کا کچن تو ان سے کہہ کر سلیمہ آنٹی کو فارغ کرکے تمھیں نہ رکھ لیں اس کچن کا شیف” سالار نے ہنستے ہوئے کہا
” تمھیں تو میں بعد بتاؤں گا، ابھی چپ کرکے کام کرو اور مجھے بھی کرنے دو “
” ہاہاہاہا شیف صاحب کے ایکشن تو کوئی دیکھیں ” سالار نے ہنستے ہوئے کہا
” تم ایک کام کرو، ان کام چوروں کے ساتھ جاکر لڈو کھیلو، کیونکہ تم نہ ہی خود کام کر رہے ہو اور نا ہی مجھے کرنے دے رہے ہو ” زوہیب نے منہ بناتے ہوئے کہا
” اچھا اب کچھ نہیں بولتا” سالار نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہوئے کہا
**************************
” ماما مجھے معاف کر دیں، میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا یہ سب میری ہی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے آپ مجھے کہتی بھی تھی کہ گاڑی تیز نہ چلایا کرو مگر میں نے کبھی بھی آپ کی بات نہیں سنی، اور ہمیشہ گاڑی تیز ہی چلائی جس کا نتیجہ میں آج بھگت رہا ہوں ” شہریار نے روتے ہوئے صائمہ بیگم کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
” نہیں میری جان، میرے آگے ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے، شاید تمھارے نصیب میں ہی ایسا لکھا تھا. تم اللہ سے دعا کرو، اللہ سب بہتر کرے گا “
” پر ماما، میں کالج کیسے جاؤں گا، اب میرا فیوچر کیا ہوگا” شہریار نے روتے ہوئے کہا
” شہریار تم پرشان نہ ہو میری ڈاکٹر سے بات ہوگئی ہے، تمھیں میں اگلے ہی مہینے امریکہ علاج کروانے کے لیے لے کر جارہا ہوں ” رضا صاحب نے مسکراتے ہوئے شہریار کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
” سدرہ نہیں آئی ماما، کیا آپ نے اُسے میرے ایکسیڈنٹ کے بارے میں نہیں بتایا؟ “
” بتایا تو تھا میری جان، پر تمھیں تو پتا ہے کہ سدرہ کا کوئی بھائی نہیں ہے،. ایک باپ ہی ہے وہ بھی آجکل بیمار ہیں، پھر وہ کس کے ساتھ آتی، تم فکر نہ کرو میری اُس سے کال پر بات ہوئی ہے وہ صبح تم سے ملنے آۓ گی”
” اچھا” شہریار نے اداس ہوتے ہوئے کہا
” بس بیٹا، اب آپ نے ہمت نہیں ہارنی اور حالات کا سامنا کرنا ہے. انشاءاللہ بہت جلد آپ پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکوں گے” سلیم صاحب نے شہریار کو تسلی دیتے ہوئے کہا
” تھینک یو انکل، حیا نہیں آئی کیا آپ کے ساتھ “
” بیٹا وہ گھر میں ہے، اُس کے کزنز آۓ ہیں تو وہ ان کے ساتھ ہے” آسیہ بیگم نے جواب دیا
” اچھا شہریار تم ریسٹ کرو، ہم باہر جاتے ہیں، ڈاکٹر نے تمھیں سٹریس لینے سے منع کیا ہوا ہے، تو پلیز کچھ سوچنا نہیں بلکہ کچھ دیر کے لیے سو جاؤ ” رضا صاحب نے کہا
” ٹھیک ہے بابا”
کچھ ہی دیر میں وہ سب کمرے سے باہر نکل گے. اب کمرے میں صرف شہریار تھا. مگر چونکہ اُس نے نیند کی دوائی لی ہوئی تھی اس لیے وہ بھی ان کے جاتے ساتھ ہی سوگیا.
**************************
” تو اب آپ کے سامنے پیش ہے چکن کڑاہی ، جن کو دنیا کے مشہور ترین شیف زوہیب احمد نے اپنے ہاتھوں سے کام چوروں کے لیے بنائی ہے” زوہیب نے مسکراتے ہوئے کہا
” وہ تو کھا کر ہی پتا چلے گا کہ کیسی بنی ہے، ورنہ ہمیں کیا پتا کہ آپ کتنے اچھے شیف ہیں یہ تو آپ کے ہاتھوں کی بنی ہوئی چکن کڑاہی ہی بتائے گی” رانیہ نے زوہیب کو چڑاتے ہوئے کہا
” ہاہاہاہا، تو کس نے منع کیا ہے، ضرور کھائیں گا چکن کڑاہی، آپ ہی کام چوروں کے لیے تو بنائی ہے. مگر پھر نمبر بھی دینے ہونگے آپ سب نے”
” منظور ہے” اس بار حیا نے ہنستے ہوئے کہا
چونکہ شام سے ان لوگوں نے کچھ نہیں کھایا تھا تو سب کو ہی بہت بھوک لگی ہوئی تھی. اس لیے سب ہی چکن کڑاہی پر ٹوٹ پڑے.
بیس منٹ بعد سب ہی کھانا کھا کر فارغ ہو گے تھے. زوہیب نے موقع دیکھتے ہوئے کہا
” تو پھر کیسی لگی آپ کو شیف زوہیب احمد کے ہاتھوں کی بنی ہوئی چکن کڑاہی”
” زبردست” سب نے ایک ساتھ کہا
سب نے ہی زوہیب کو پورے نمبر دیے سواۓ سالار کے کیونکہ سالار کے مطابق پیاز اُس نے بھی کاٹا تھا تو وہ آدھے نمبر اپنے پاس رکھ کر باقی نمبر زوہیب کو دے رہا ہے. سالار کی بےتکی دلیل سن کرسب ہنسنے لگے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *