55.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ڈیمن رگی ہوئی تنوں سے روتی ہوئی پارسا کے چہرے پر تھپڑ کے نشان کو دیکھ رہا تھا جس کی وجہ سے اسکا نازک گال سرخ ہو رہا تھا۔اسکا دل کر رہا تھا کہ یہ دنیا جلا دے۔وہ جو اسکے گھر سے باہر سائے کی طرح اسکے ساتھ رہ کر اسکی حفاظت کرتا تھا اس نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ کوئی درندہ اسکے گھر میں بھی تو ہو سکتا ہے۔
“ہئیے مسٹر چھوڑو میری وائف کو یہ ہم دونوں کا پرسنل میٹر ہے۔۔۔۔”
سمیر کی آواز پر ڈیمن کا دھیان پارسا پر سے ہٹ کر اس پر گیا جو اسکا دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا۔
“ڈیمن سر یہی ہے وہ لڑکا جس نے قرض ادا کرنا ہے۔۔۔۔”
ایڈی جو تب سے پیچھے کھڑا تھا سامنے آ کر کہنے لگا تو سمیر نے ڈیمن کو پر خوف نگاہوں سے دیکھا۔ڈیمن بس خاموشی سے آگے بڑھا اور اس سے وہ دوپٹہ لے کر پارسا کے سر پر دے کر اچھی طرح سے اسکے گرد لپیٹ دیا۔
وہ اپنے آدمی ایڈی کے بتانے پر یہاں ایک شخص سے قرض وصولی کرنے آیا تھا۔اتنے معمولی کام وہ خود نہیں کرتا تھا لیکن جب اس نے بلڈنگ کا پتہ سنا تو خود ساتھ آ گیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکی بیلا کے اردگرد کوئی ایسا شخص رہے۔
پارسا ڈیمن کے اسے یوں چھپانے پر سر جھکا کر رونے لگی۔ ڈیمن اس آدمی کی طرف بڑھا جسے وہ یہاں زندہ درگو کرنے والا تھا پھر اسکی بات ذہن میں آئی۔۔۔۔۔۔بیوی؟؟؟ڈیمن نے انگارہ ہوتی آنکھوں سے پارسا کو دیکھا۔
“کیا یہ شخص تمہارا شوہر ہے؟”
ڈیمن کے سختی سے پوچھنے پر پہلے سے ڈری ہوئی پارسا خوف سے اچھل پڑی۔
“بولو بیلا کیا تم اسکی ہو۔۔۔۔؟”
ڈیمن کی آواز میں کیا کچھ نہیں تھا کرب،حیرت،غصہ جنون۔۔۔پارسا کے ہاں میں سر ہلانے پر ڈیمن نے زور دار چیخ کے ساتھ ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار میں مارا اور آگے بڑھ کر سمیر کو گردن سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
“تو نے چھوا اسے؟میری بیلا کے پاکیزہ وجود کو چھوا تو نے۔۔۔۔؟”
سمیر کی جان حلق میں اٹک چکی تھی وہ جلدی جلدی انکار میں سر ہلانے لگا۔
“ننن۔۔۔نہیں ڈیمن جیسا دکھ رہا ہے ویسا کچھ نہیں پہلی بار قریب ہو رہا تھا اس کے اس لیے ڈر گئی تھی مجھ سے آآآ۔۔۔۔۔آج سے پہلے ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔”
سمیر گھبرا کر صفائیاں دینے لگا اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ سامنے موجود شخص اس کو مار کر اس طرح سے غائب کر سکتا تھا کہ اس کا نام و نشان بھی نہ ملے۔
ڈیمن نے دانت کچکچا کر اسکی گردن پر اپنا دباؤ بڑھا دیا۔اپنا دم گھٹنے پر سمیر پھڑپھڑانے لگا۔چہرہ لال ہو چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مر ہی جائے گا۔یہ دیکھ کر پارسا آگے بڑھی اور اپنا ہاتھ ڈیمن کے بازو پر رکھ کر انکار میں سر ہلانے لگی۔
“نہیں سر پلیز نہیں۔۔۔۔”
پارسا کی نم آنکھیں دیکھ کر ڈیمن کی گرفت اسکی گردن سے ڈھیلی پڑھ گئی اور اس نے جھٹکے سے سمیر کو زمین پر پھینکا اور اپنے جوتوں سے اسے بری طرح سے مارنے لگا۔جب سمیر کی حالت خراب ہونے لگی تو کچھ سوچنے کے بعد ڈیمن اس چھوٹے سے ہال میں موجود صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنی ایک ٹانگ دوسری پر رکھتے ہوئے سمیر کو قریب آنے کا اشارہ کرنے لگا۔سمیر کے اٹھ کر قریب آنے پر ڈیمن نے اسے اپنے قدموں میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ چپ چاپ وہاں بیٹھ گیا۔
“تو مسٹر تم نے میرے آدمی سے دس ہزار ڈالر قرض لیا تھا جو تم نے کہا تھا ایک مہینے بعد واپس کر دو گے لیکن آج تک وہ پیسے واپس نہیں ملے۔۔۔”
ڈیمن نے اپنے غصے پر ضبط باندھتے ہوئے اطمینان سے کہا۔
“جج۔۔۔۔جی سر مم ۔۔۔میں جلد از جلد وہ پیسے واپس کر دوں گا مجھے کچھ وقت۔۔۔”
“وقت۔۔۔۔ڈیمن اپنا قرض دو ہی صورتوں میں وصول کرتا ہے پیسے سے یا جان سے۔۔۔تم کیا دو گے مجھے۔۔۔۔”
ڈیمن کے سوال پر سمیر خوف سے کانپ اٹھا اور سر جھکاتے ہوئے رونے لگا۔ڈیمن نے ایک نگاہ کونے میں کھڑی پارسا کو دیکھا اور فیصلہ کر لیا کہ وہ اسے ایک پل کے لئے بھی اس درندے کے پاس نہیں رہنے دے گا کچھ بھی ہو جائے۔
ویسے بھی اپنے جس جنون کو اس نے باندھ رکھا تھا وہ اسکا کسی اور کے ہونے کے خیال پر اب قید سے آزاد ہو چکا تھا۔
“ایک اور راستہ ہے تمہارے پاس۔۔۔”
ڈیمن کی آواز پر سمیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“اپنی بیوی مجھے دے دو اور قرض ادا کرنا بھول جاؤ۔۔۔۔”
اس بات پر پارسا نے سہم کر ڈیمن کو دیکھا جسکے قدموں میں اسکا شوہر زخموں سے چور پڑا رو رہا تھا۔
“تمہارے پاس اس وقت تین راستے ہیں
پہلا میرا پیسہ واپس کرو
دوسرا اپنی بیوی کو طلاق دے کر مجھے دے دو
تیسرا۔۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنی بندوق سمیر کے ماتھے پر رکھ دی تو وہ خوف سے کانپنے لگا اور اپنے ہاتھ ڈیمن کے سامنے جوڑ دیے۔
“نن۔۔۔۔نہیں ڈیمن مم۔۔۔۔مجھے مت مارو وعدہ کرتا ہوں سارے پیسے لوٹا دوں گا۔۔۔۔۔بس کچھ وقت۔۔۔۔”
“وقت ؟چلو دو منٹ کا وقت دیا چکاؤ میرا پیسہ۔۔۔۔”
ڈیمن نے اسکی بات کاٹ کر کہا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں گھماتے ہوئے پارسا کو دیکھا جو دور کھڑے نم آنکھوں کے ساتھ خوف سے کانپ رہی تھی۔
“ویسے دوسری آپشن بری نہیں صرف اسے مجھے دے دو اور قرض سے آزادی۔۔۔۔”
ڈیمن کے مسکرا کر کہنے پر دو آنسو پارسا کی آنکھوں سے بہے اس نے سہم کر اپنے شوہر کو دیکھا جو خاموشی سے بیٹھا تھا۔وہ چاہتی تو ان پیسوں کا سمیر کو بتا دیتی لیکن وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ سمیر کا کیا فیصلہ ہو گا وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ سمیر اسے کس قدر گرا ہوا سمجھتا تھا۔
“سارا دن نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔”
ڈیمن کے چلانے پر سمیر کانپ کر جلدی سے اٹھا اور پارسا کے سامنے آ کر پنا سر جھکا گیا۔
“مم۔۔۔۔میں سمیر وہاب اپنے پپ۔۔۔پورے ہوش و ہواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔”
پارسا کے اندر ایک ہی پل میں بہت کچھ ٹوٹ گیا۔ایک ہی پل میں اس معصوم کی پوری دنیا اجڑ چکی تھی۔ اسکا شوہر اپنا قرض چکانے کے لیے اسکا سودا کر چکا تھا اور وہ تو بس بت بن کر کھڑی تھی۔
“تت۔۔۔۔تم اسے لے جا سکتے ہو ڈیمن۔۔”
سمیر کی بات پر جہاں پارسا کا دل غم سے بند ہوا تھا وہیں ڈیمن مسکرا کر اٹھا اور پارسا کا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا لیکن پارسا کو ہوش ہی کہاں تھا وہ تو مر چکی تھی اور جو اس کے ساتھ جا رہی تھی وہ تو بس ایک زندہ لاش تھی۔
ڈیمن دروازے کے پاس پہنچ کر رکا اور مڑ کر سمیر کو دیکھا۔
“se fossi in te sarei morto ma non la darò mai via sarai punito per questo.”
(اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتا تو مر جاتا لیکن اسے نہیں چھوڑتا۔تمہیں اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔۔۔)
ڈیمن نے اسے اٹیلین میں کہا جو سمیر کو سمجھ نہیں آیا تھا۔نفرت بھری آخری نگاہ سمیر پر ڈال کر وہ پارسا کو وہاں سے دور اپنی دنیا میں لے گیا۔
🔥🔥🔥🔥🔥
ڈیمن خاموشی سے اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھی پارسا کو دیکھ رہا تھا جو تب سے بت بنی بیٹھی تھی۔نہ تو اس نے ابھی تک ایک لفظ بولا تھا اور نہ ہی اس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی آیا تھا۔وہ بس ایک بت بنی بیٹھی غیر مرئی نکتے کو دیکھتی جا رہی تھی۔
ڈیمن جانتا تھا کہ وہ کس دور سے گزر رہی تھی اس لیے اس نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔گاڑی ڈیمن کے محل نما گھر کے باہر رکی تو ڈیمن نے پارسا کو دیکھا جو اس دوپٹے میں لپٹی ابھی تک بت بنے بیٹھی تھی۔
“بیلا چلو۔۔۔۔”
ڈیمن نے نرمی سے کہا لیکن پارسا بس خاموشی سے بیٹھی رہی۔ڈیمن نے خود اسکا بازو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ اپنے مینشن میں لے آیا۔ہر ملازم حیرت سے حجاب میں لپٹی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
“سنو انہیں کمرے میں لے جاؤ تا کہ یہ ریسٹ کر لیں۔”
ڈیمن نے ایک میڈ سے کہا تو وہ پارسا کو نرمی سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سیکنڈ فلور کی طرف چلی گئی۔ڈیمن لوکا کی جانب مڑا۔
“لوکا ڈائیورس پیپرز تیار کرواؤ اور اس شخص سے دستخط لے کر اس سب کو قانونی طور پر بھی ختم کرو اس کے بعد اس کا کیا کرنا ہے یہ تم جانتے ہو۔۔۔۔”
لوکا نے گہرا سانس لیا۔
“ڈیمن مجھے اس لڑکی کی حالت کچھ اچھی نہیں لگ رہی ۔۔۔۔وہ یہاں رہنے کے لیے نہیں بنی ڈیمن یہ اسکی دنیا نہیں ہے۔۔۔۔”
لوکا نے اسے سمجھانا چاہا لیکن جواب میں ڈیمن نے اسے ایک گھوری سے نوازا تھا۔
“میرے کام میں دخل مت دو لوکا میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔اسے خود سے دور رکھ کر دیکھ لیا ہے وہ بس میرے پاس محفوظ ہے بس میرے قریب۔۔۔۔”
ڈیمن نے جنون سے کہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہا۔
“وہ بہت معصوم ہے ڈیمن تمہارا یہ جنون اچھا نہیں اس کے لیے۔۔۔۔۔”
“وہ میرا سکون ہے لوکا وہ سکون جو مجھے صرف اسی کو دیکھ کر ملتا ہے وہ میرے پاس ہی رہے گی اب کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔تم جاؤ اور جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔”
لوکا نے گہرا سانس لے کر ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔اس کے جاتے ہی روزلی انتہائی زیادہ غصے کے عالم میں وہاں آئی اور ڈیمن کو گریبان سے پکڑ لیا۔
“کون ہے وہ لڑکی ڈیمن جسے تم اپنے ساتھ لائے ہو کون ہے مجھے بتاؤ۔۔۔۔”
ڈیمن نے اسکے ہاتھ سے اپنا گریبان چھڑایا اور انتہائی سختی سے اسکی نازک کلائیوں کو چھوڑا۔
“اوقات میں رہو روزلی ڈارسن ایسا نہ ہو مجھے اوقات یاد کروانی پڑے۔۔۔۔”
ڈیمن نے غراتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگا لیکن روزلی نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسکے سامنے آئی تھی۔
“ڈیمن مجھے بتا دو وہ لڑکی کون ہے اور کیوں لائے تم اسے یہاں ورنہ میں اسے۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ روزلی اپنی بات مکمل کرتی ڈیمن آگے بڑھا اور اسکو گردن سے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا۔
“تم نے اسکا ایک بال بھی چھوا نا روزلی ڈارسن تو یاد رکھا جو انجام تمہارے باپ اور بھائیوں کا کیا تھا اس سے ہزار گنا زیادہ بدتر تمہارا ہو گا۔موت کی بھیک مانگو گی تم مجھ سے اور وہ بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔”
ڈیمن نے اسکی آنسؤں سے تر سرمئی آنکھوں کو انتہائی زیادہ وحشت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اور جاننا چاہتی ہو ناں کہ کس ناتے سے لایا ہوں اسے یہاں تو سن لو وہ میرا جنون ہے،چین ہے وہ میرا،وہ سب ہے جو تم نہ تو کبھی تھی اور نہ کبھی ہو سکو گی۔۔۔۔”
ڈیمن کی بات پر بہت کچھ روزلی کے اندر ٹوٹ کر بکھرا تھا وہ جو چودہ سال کی عمر سے اسے چاہتی تھی آج اسے کسی اور کا ہوتا دیکھ مکمل طور پر بکھری تھی۔
“یہی نہیں روزلی ڈارسن تم اب سے اسکی پرسنل گارڈ ہو کیونکہ تم میں قابلیت بہت سے مردوں سے بھی زیادہ ہے اور میں اسکے قریب کسی مرد کو برداشت نہیں کر سکتا۔اس لیے یاد رکھنا اس پر ایک بھی خراش تمہارے وجود پر ہزار زخموں کا باعث بنے گی۔۔۔۔”
ڈیمن کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“وہ کیا ہے ناں کہ اپنی سب سے قیمتی شے کی حفاظت پر چور کو ہی لگا دو گے تو چوری کرنے والا کون ہو گا؟کیونکہ وہ چور جانتا ہے کہ اسے اس شے کا جواب دینا ہے۔۔۔۔”
روزلی نے حیرت سے روتے ہوئے ڈیمن کو دیکھا جو اپنی بات کہہ کر اسکی گردن چھوڑ کر دور ہو گیا تھا۔
“تم بہت ظالم ہو ڈیمن موریٹی بہت بہت زیادہ ظالم۔۔۔۔”
روزلی کی بات پر ڈیمن کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“بہت دیر لگا دی تم نے یہ بات جاننے میں۔۔۔۔”
وہ اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور روزلی وہیں کھڑی اپنی یک طرفہ محبت پر آنسو بہاتی رہ گئی تھی۔
🔥🔥🔥🔥
سمیر پریشانی کی حالت میں کمرے میں آیا۔اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ کیا کر گزرا تھا لیکن وہ کرتا بھی کیا اس کے پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں بچا تھا۔
“بابا جب اس کے بارے میں پوچھیں گے تو میں انہیں کیا جواب دوں گا۔۔۔۔”
سمیر نے بے چینی سے اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے سوچا لیکن اب پچھتانے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا وہ اتنے لوگوں کی گواہی میں اسے طلاق دے چکا تھا۔
“اف کیا کروں گا اب میں۔۔۔۔”
سمیر پریشانی سے ٹہلنے لگا تبھی اسکی نظر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایک لفافے پر گئی۔اس نے حیرت سے وہ لفافہ اٹھایا اور اسکے گرد لپٹے کاغذ کو دیکھا جس پر اردو میں کچھ لکھا ہوا تھا۔
سمیر نے وہ لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں سو سو ڈالرز کے کافی سارے نوٹ دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔اس نے وہ رقم گنی جو پورے دس ہزار ڈالرز تھے۔سمیر نے بے چینی سے اس کاغذ کو پکڑا اور اس پر لکھے الفاظ پڑھنے لگا۔
میں جانتی ہوں کہ آپ مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتے لیکن پھر بھی میرے لیے آپ سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی اور انسان نہیں ہے سمیر کیونکہ آپ میرا سب کچھ ہیں میرے مجازی خدا ہیں آپ کی پریشانی دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر سکتی ہوں میں۔اس لیے میں نے اپنے باس سے یہ پیسے ادھار لیے ہیں اور جاب کر کے اپنی سیلری سے یہ قرض اتار بھی دوں گی لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا سمیر آپ کی پریشانی میری پریشانی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے محافظ ہیں ایک دوسرے کا لباس۔اللہ آپکے دل میں میری محبت ڈال دے آمین۔
صرف آپکی پارسا۔۔۔”
وہ خط پڑھ کر سمیر کے ہاتھ بری طرح سے کانپنے لگے تھے اور بہت سے آنسو اسکی آنکھوں سے نکلے۔شائید اب اسے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ اس معصوم ہے ساتھ کیا کر گزرا تھا۔
لیکن اگر پارسا کے پاس یہ پیسے موجود تھے تو وہ تب خاموش کیوں رہی کیوں سمیر کو اسکا سودا کرنے دیا شائید وہ اسکا فیصلہ دیکھنا چاہتی تھی۔
“اللہ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔”
سمیر نے روتے ہوئے کہا تبھی دروازہ کھٹکنے کی آواز پر سمیر نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے اور دروازے کی جانب چل دیا۔
دروازہ کھولتے ہی ایڈی کے ساتھ ایک اور آدمی کو دیکھ کر وہ بے چین ہوا۔
“اا۔۔۔۔۔اچھا ہوا تم لوگ آ گئے مم۔۔۔میرے پاس قرض کی رقم ہے اب میری بیوی کو واپس کر دو تم لوگ۔۔۔۔”
سمیر بھاگ کر کمرے میں گیا اور وہ پیسے کا کر لوکا کے سامنے کرتے ہوئے کہا جو اسے آنکھیں چھوٹی کیے گھور رہا تھا۔
“کونسی بیوی شاید تم بھول چکے ہو کہ ہم سب کے سامنے تم نے اسے طلاق دی تھی اور جہاں تک میں تمہارے مذہب کو جانتا ہوں اب تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ باقی نہیں رہا۔میں یہاں اب اس نام نہاد رشتے کو قانونی طور پر بھی ختم کرنے آیا ہوں۔۔۔۔”
لوکا نے ڈائیورس پیپرز اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا جنہیں دیکھ کر وہ لڑکا انکار میں سر ہلانے لگا۔
“ننن ۔۔نہیں میں ان پر دستخط نہیں کروں گا آپ اسے چھوڑیں وہ میری۔۔۔”
“بکواس بند کرو اپنی اب ان باتوں کا کوئی جواز نہیں رہا چپ چاپ ان کاغذات پر دستخط کرو ورنہ۔۔۔۔”
لوکا نے اپنی بندوق اسکے ماتھے پر رکھی تو سمیر خوف سے کانپ اٹھا۔لوکا نے بہت امید سے اس لڑکے کو دیکھا کہ شائید اب وہ تھوڑی ہمت کرے اور انکار کر دے کیونکہ ڈیمن کا حکم تھا کہ اگر ڈرامے کے باوجود وہ سائن نہ کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے لیکن اگر اس نے سائن کر دیے تو ڈیمن اسے اپنے قید خانے میں چاہتا تھا۔
“پپ۔۔۔۔پلیز ایسا مت کریں یہ پیسے لے لیں اور پارسا کو واپس کر دیں۔۔۔”
سمیر نے روتے ہوئے کہا تو لوکا نے بندوق مزید سختی سے اس کے ماتھے پر رکھی۔
“سائن کرو۔۔۔”
لوکا کے چلانے پر سمیر خوف سے کانپ اٹھا ہاں روتے ہوئے پین پکڑ کر ان کاغذات پر اپنے دستخط کردیئے۔لوکا نے افسوس سے اس بزدل انسان کو دیکھا تھا۔
“پکڑ لو اسے ایڈی۔۔۔”
لوکا کے حکم دینے پر ایڈی نے سمیر کو جکڑ لیا تو وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
“آآآ۔۔۔۔آپ نے جو کہا میں نے کیا اب کیوں پکڑ رہے ہو مجھے۔۔۔۔”
سمیر خوف سے چلایا لیکن جواب میں لوکا مسکرا دیا۔
“اس کا جواب تمہیں ڈیمن دے گا۔۔۔”
لوکا کے اشارے پر ایڈی نے زور سے اپنی کونی سمیر کے سر پر ماری جس کی شدت سے وہ بے ہوش ہوگیا۔اب جب اسے ہوش آنا تھا تو اس نے ایک جہنم میں ہونا تھا ڈیمن موریٹی کی جہنم میں