55.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“ڈیمن تم سن بھی رہے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں؟”
روزلی جو تب سے ڈیمن سے باتیں کر رہی تھی اسے کسی اور ہی جانب دیکھتا پا کر اکتا کر بول اٹھی لیکن جب اس نے ڈیمن کی نظروں کا مرکز دیکھا تو غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔
وہ لوگ اس وقت ڈیمن کے سب سے مشہور کلب میں موجود تھے اور ڈیمن کی نظریں مسلسل ایک لڑکی پر گڑی ہوئی تھیں جو وہاں بنے سٹیج پر چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنے اپنی ادائیں دیکھا رہی تھی۔
ڈیمن اس لڑکی کو دیکھ کر ایک ادا سے مسکرایا اور انگلی کے اشارے سے اسے پاس بلانے لگا۔روزلی کا دل کیا کہ اس لڑکی کا حسین چہرہ ناخنوں سے نوچ دے۔
“کون ہو تم؟”
ڈیمن نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا تو لڑکی گھبراہٹ کے باوجود مسکرا دی۔
“مم۔۔۔۔میرا نام مارتھا ہے سر۔۔۔۔”
لڑکی نے گھبرا کر کہا جبکہ ڈیمن کا ہاتھ اسکے بازو سے سفر کرتا اسکی گردن تک جا چکا تھا۔ڈیمن نے اسکی ملائم گردن کو نرمی سے سہلایا۔
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں میں نے پوچھا کون ہو تم؟”
ڈیمن کی سختی پر وہ لڑکی مزید ڈر گئی۔
“مم۔۔۔میں یہاں ڈانسر ہوں سر اور اسی شہر کی ہوں۔۔۔۔”
ڈیمن نے اسے سر سے لے کر پیر تک دیکھا وہ لڑکی تقریباً بائیس سال کی تھی اور بہت زیادہ خوبصورت تھی۔
“ہممم انٹرسٹنگ۔”
اسکی جانچتی نظروں کی تپش سے مارتھا مزید گھبرا رہی تھی۔
“ڈیمن۔۔۔۔۔”
روزلی نے اسے مخاطب کرنا چاہا لیکن اسکی نظریں ابھی بھی مارتھا پر ہی تھیں اور روزلی کا دل کر رہا تھا کہ مارتھا کا حسین چہرہ تیزاب سے جلا دے جو ڈیمن کو اپنی جانب مائل کر رہا تھا۔
“تم بہت زیادہ خوبصورت ہو مارتھا اور ڈانس بہت اچھے سے کرتی ہو۔۔۔۔”
ڈیمن کے تعریف پر مارتھا ادا سے مسکرا دی اور روزلی اپنی مٹھیاں ضبط سے بھینچ چکی تھی۔
“لیکن تمہیں اپنی گردن پر شکاگو مافیا کا یہ ٹیٹو چھپانے کے لیے زیادہ میک اپ لگانا چاہیے تھا۔۔۔۔”
ڈیمن نے مسکرا کر اتنا کہا تو مارتھا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں لیکن اگلے ہی لمحے اسکی نازک گردن ڈیمن کی مٹھی میں تھی۔
“تمہیں کیا لگا میرے دشمن کے ہاں سے آ کر ڈیمن کی جاسوسی کرو گی اور مجھے پتہ بھی نہیں چلے گا؟”
مارتھا سانس لینے کی غرض سے اب ڈیمن کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی لیکن ڈیمن اپنا دباؤ مزید بڑھا چکا تھا۔
“اسے مجھے دو ڈیمن اس دن کو کوسے گی جس دن یہ پیدا ہوئی۔۔۔۔”
روزلی نے دانت پیس کر کہا لیکن ڈیمن جواب میں مسکرا دیا۔
“یہ کام میں تم سے بہتر کر سکتا ہوں روزلی۔۔۔۔ تو کیا کہتی ہو مارتھا کیسے مرنا چاہو گی تم ؟”
ڈیمن کے پوچھنے پر مارتھا خوف سے کانپنے لگی۔وہ جانتی تھی کہ اس کی موت کا وقت آ چکا ہے لیکن پھر بھی ہمت کرتے ہوئے ڈیمن سے دور ہوئی اور اپنی بندوق نکال کر اس پر تان دی۔
روزلی کے ساتھ ساتھ باقی گارڈز نے آگے ہونا چاہا لیکن ڈیمن انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک گیا۔
“مارنا چاہتی ہو تم مجھے؟مارو ۔۔۔۔”
ڈیمن کا اطمینان قابل دید تھا اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ موت اسکے سامنے ہے۔ڈیمن کی خطرناک نیلی آنکھوں میں جھانک کر مارتھا کا دل خوف سے بند ہو رہا تھا۔
“مارو۔۔۔۔۔!!!”
ڈیمن کے چلانے پر مارتھا کے ہاتھ خوف سے کانپ اٹھے اور پھر اس نے وہ بندوق اپنی ہی کن پٹی پر رکھ کر گولی چلا دی۔روزلی نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر مارتھا کی لاش کو دیکھا۔پھر وہاں موجود گہری خاموشی کو ڈیمن کے قہقے نے توڑا۔
“ہاہا کوئی کم بخت مارتا ہی نہیں۔۔۔۔۔”
ڈیمن نے تلخی سے کہا اور اٹھ کر لوکا کی جانب مڑا۔
“شکاگو پہنچا دو اسکی لاش میرے دشمن کو اپنے جاسوسوں کا انجام پتہ لگ جائے۔۔۔۔”
ڈیمن اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور اسکا ہر آدمی اپنے کاپو کی دہشت سے خوفزدہ تھا۔
🔥🔥🔥🔥
صبح کے نو بج رہے تھے اور پارسا اپنے ماموں کے ساتھ کراچی ائیر پورٹ کے اس وصیح ہال میں موجود کرسی پر بیٹھی آیت الکرسی کا ورد کرتی جا رہی تھی۔پہلی مرتبہ جہاز پر بیٹھنے کا خیال اسے کافی زیادہ ڈرا رہا تھا۔اس سب پر گھر سے آتے ہوئے پارسا سے بات کرنا تو دور نادیہ بیگم یا ان کی بیٹیوں نے اس سے ملنا تک پسند نہیں کیا تھا۔
“ماموں۔۔۔۔”
“ہاں میرا بچہ؟”
وہاب صاحب جو اناؤنسمیںنٹ بورڈ کی جانب دیکھ رہے تھے پارسا کے بلانے پر نرمی سے بولے۔
“مامی بہت زیادہ ناراض ہوں گی مجھ سے۔۔۔۔”
پارسا کی آواز میں نمی محسوس کر کے وہاب صاحب نے گہرا سانس لیا۔
“بیٹا چھوڑ دو اسکے بارے میں سوچنا اور نئی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو۔۔۔”
وہاب صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تو پارسا نے آنسو پونچھ کر ہاں میں سر ہلایا۔تھوڑی دیر کے بعد ہی کچھ اور سوچ کر وہ پھر سے پریشان ہو گئی۔
“ماموں میں کبھی جہاز پر نہیں بیٹھی مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت زیادہ۔۔۔۔کیا آپ اور میں ایک ہی جہاز پر جائیں گے؟”
اپنی بھانجی کی معصومیت پر وہاب صاحب مسکرا دئیے۔
“نہیں بیٹا تمہاری فلائٹ علیحدہ ہے لیکن تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ان شاءاللہ بہت اچھا گزرے گا تمہارا سفر۔۔۔۔”
پارسا نے ہاں میں سر ہلایا پھر کچھ سوچ کر بے چینی سے وہاب صاحب کو دیکھا۔
“ماموں جہاز میں الٹیاں تو نہیں ہوں گی مجھے؟”
“الٹیاں؟”
وہاب صاحب نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ماموں آپ نے کبریٰ آپی کو نہیں دیکھا شائید جب بس میں بیٹھتی ہیں ناں تو بہت زیادہ الٹیاں ہوتی ہیں انہیں ویسے مجھے تو بس میں بیٹھ کر نہیں ہوتیں لیکن اگر جہاز میں بیٹھ کر ہوئیں تو کیا کروں گی؟”
وہاب صاحب اسکی معصومیت پر قہقہ لگا کر ہنس دیے اور اپنا ہاتھ محبت سے اسکے سر پر رکھا۔
“نہیں ہوں گی الٹیاں تمہیں فکر مت کرو ۔۔۔۔”
پارسا نے ہاں میں سر ہلایا پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر سے بول اٹھی۔
“ماموں مجھے وہاں پہچنے میں کتنا وقت لگے گا؟”
“تقریباً سولہ گھنٹے لگ جائیں گے ۔۔۔”
یہ سن کر پارسا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“اف اتنا زیادہ وقت،مجھے تو لگا تھا جلدی پہنچ جاؤں گی۔۔۔۔”
“کوئی بات نہیں بیٹا رات کا سفر ہے سو کر گزارو گی تو جلد ہی گزر جائے گا۔”
پارسا نے آہستہ سے ہاں میں سر ہلایا تبھی ائیر پورٹ پر ہونے والی اناؤنسمیںنٹ سن کر وہاب صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔
“چلو بیٹا اب تمہاری فلائٹ کا ٹائم ہو گیا ہے میں تمہیں گیٹ تک چھوڑ کر آتا ہوں۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے اسکا پاسپورٹ اور ٹکٹ اسے پکڑاتے ہوئے کہا لیکن ان سے دور اور اپنے ملک سے دور جانے کے خیال سے پارسا کی پلکیں نم ہو گئیں۔
“کیا ہوا میری جان رو کیوں رہی ہو؟”
وہاب صاحب نے نرمی سے پوچھا تو پارسا انکے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“آپ کی بہت یاد آئے گی ماموں، سب کی بہت یاد آئے گی۔۔۔۔”
وہاب صاحب نم آنکھوں سے مسکرائے اور اپنے ہونٹ پارسا کے ماتھے پر رکھے۔پارسا انکی بہو تھی جسے وہ اپنے بیٹے کے پاس بھیج رہے تھے لیکن انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنی بیٹی کو وداع کر رہے ہوں۔
“اپنا اور سمیر کا بہت خیال رکھا پارس تم میرا غرور ہو بیٹا اس غرور کو کبھی ٹوٹنے مت دینا۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے محبت سے کہا اور اسے لے کر ڈپارچر گیٹ کی جانب چل دیے۔جہاں اسکا ٹکٹ اور پاسپورٹ چیک کروانے کے بعد پارس مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی اور وہاب صاحب دل میں اسکے لیے ڈھیروں دعائیں کر چکے تھے۔
🔥🔥🔥🔥
تقریبا سولہ گھنٹے کی فلائٹ کے بعد پارسا لاس ویگاس کے ائیر پورٹ پر پہنچی تھی۔وہ تو کبھی گھر سے ایک قدم دور اکیلے نہیں گئی تھی اور اکیلے اتنا لمبا سفر اسے بہت ڈراؤنا لگا تھا۔اس پر جہاز پر ہونے کا خیال اسے مزید ڈراتا رہا تھا۔اس لیے ائیر پورٹ پہنچتے ہی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور گھر پہنچتے ہی شکرانے کے نفل ادا کرنے کا سوچا۔
ایئرپورٹ میں سارے پراسیس کے لیے اسے تین گھنٹے مزید لگ گئے تھے۔بورڈنگ سے باہر آ کر اس نے ٹائم دیکھا تو صبح کے چھے بج رہے تھے۔
“پتہ نہیں سمیر کو یاد بھی ہوگا کہ نہیں کہ میں آ رہی ہوں۔۔۔۔”
پارس نے بے بسی سے سوچا۔پھر ایئرپورٹ کے باہر جب کافی سارے لوگوں کا ہجوم دیکھا تو مزید پریشان ہوگئی۔
” اتنے لوگوں میں میں سمیر کو کیسے ڈھونڈوں گی۔۔۔۔”
تقریبا ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد اس کی نظر سمیر پر پڑی جو سینے پر ہاتھ باندھے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔اسے دیکھ کر ہی پارس کا دل بہت زور سے دھڑکا اور اپنے بیگ کو ساتھ گھسیٹتے ہوئے وہ سمیر کی جانب چل دی۔
“اسلام و علیکم۔۔۔۔”
ایک خوشگوار آواز پر سمیر کا دھیان پارسا پر پڑا جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔کالا برقع پہنے اور کالے سکارف کا اچھی طرح سے حجاب بنائے پارسا کوئی چھوٹی سی معصوم بچی لگ رہی تھی لیکن سمیر کو اس کا یہ حلیہ ایک آنکھ نہیں بھایا۔
“و علیکم السلام اتنی دیر کہاں لگا دی آدھے گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں میں۔۔۔۔”
سمیر کی آواز میں غصہ محسوس کر کے پارسا تھوڑا سا سہم گئی۔
“وہ میں تو کافی دیر سے یہاں کھڑی تھی آپ مجھے نہیں مل رہے تھے۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔”
سمیر نے بے زاری سے کہا اور آگے بڑھ گیا اور پارسا اپنا سامان سنبھالتے ہوئے اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ٹیکسی کے پاس پہنچ کر سمیر نے اسکا سامان گاڑی میں رکھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
پارسا مسکراتے ہوئے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تو سمیر نے بھی اسکے ساتھ بیٹھ کر ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔گاڑی کے چلتے ہی پارسا بچوں کی طرح منہ کھولے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی نئی دنیا میں آ گئی ہو جہاں پہاڑوں سے بھی اونچی اونچی شاندار عمارتیں تھیں،ہر چیز حد سے زیادہ صاف ستھری تھی اور انتہائی شاندار مہنگی گاڑیاں تھیں۔
اچانک ہی پارسا کی نظر ایک لڑکے اور لڑکی پر پڑی جو فٹ پاتھ پر ہی ایک دوسرے کو چومنے میں مصروف تھی۔پارسا نے فوراً اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور سامنے دیکھنے لگی لیکن ڈرائیور کو دیکھ کر پہلے اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں پھر وہ ہلکا سا ہنس دی۔
“ہنس کیوں رہی ہو؟”
سمیر نے حیرت سے پوچھا۔
“وہ آپ کے ڈرائیور نے گاڑی کا سٹیرنگ الٹی سائیڈ پر لگوایا ہے ۔۔۔”
پارسا نے ڈرائیور کی جانب ہلکا سا اشارہ کرتے ہوئے کہا کیونکہ اسکی ڈرائیونگ سیٹ بائیں سائیڈ پر تھی جبکہ پاکستان میں ڈرائیونگ سیٹ دائیں طرف ہوتی ہے۔
“الٹا نہیں ہے جاہل یہاں رائٹ ہینڈ سائیڈ ڈرائیونگ ہوتی ہے۔۔۔۔”
سمیر کے سختی سے کہنے پر پارسا کی ہنسی گل ہوئی اور اس نے اچھی بیویوں کی طرح سر جھکا کر ہاں میں ہلا دیا۔
“یہ تم نے کیا پہنا ہے اچھے کپڑے نہیں تھے تمہارے پاس کیا؟”
سمیر نے اسکے آبائے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو پارسا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“یہ کپڑے نہیں ہیں،کپڑے تو میں نے نیچے پہنے ہیں یہ تو برقع ہے۔۔۔۔”
“جانتا ہوں یہ کیا ہے لیکن آئیندہ باہر یہ مت پہننا سمجھی۔۔۔۔”
سمیر کے دانت کچکچا کر کہنے پر پارسا نے اپنا سر جھکا لیا۔اسکے بعد سمیر اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا اور پارسا بس اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے یہ سوچنے لگی کہ اس نے ایسا کیا کیا تھا جس کی وجہ سے سمیر اتنے غصے میں تھا۔
اچانک ہی گاڑی رکی تو سمیر گاڑی سے نکلا اور پارسا بھی اسکے پیچھے گاڑی سے نکل آئی۔ڈرائیور کو پیسے دینے کے بعد سمیر نے پارسا کا سامان پکڑا اور اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
سمیر دس فلور والی بلڈنگ کے ساتویں فلور پر رہتا تھا چونکہ اس اپارٹمنٹ کا کرایا کم تھا تو بلڈنگ میں لفٹ کی سہولت نہیں تھی اور اتنی سیڑھیاں چڑھ کر پارسا کا سانس بری طرح سے پھول چکا تھا۔
“یہ اپارٹمنٹ نمبر 34 میرا گھر ہے کبھی باہر جاؤ تو کسی اور کے گھر میں مت گھس جانا۔۔۔”
سمیر نے پارسا کو بتایا لیکن سمیر کا ہمارے گھر کی بجائے میرا گھر کہنا پارسا کے دل پر لگا تھا۔پھر بھی اس نے اچھی بیویوں کی طرح ہاں میں سر ہلا دیا۔
اپارٹمنٹ کے اندر داخل ہو کر پارسا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔وہ اپارٹمنٹ کافی چھوٹا تھا جس میں ایک ہی کمرہ،ایک کچن جو کہ ہال میں تھا اور کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم تھا لیکن پورا گھر اس وقت کافی زیادہ گندا ہوا تھا۔
“فریج میں تمہیں کچھ نہ کچھ کھانے کو مل جائے گا جو تمہارا دل کرے بنا کر کھا لینا مجھے کام ہے اس لیے آتے ہوئے دیر ہو جائے گی اور ہاں سب سے اہم بات باہر مت نکلنا گم ہوگئی تو میں کیا جواب دوں گا بابا کو۔۔۔۔”
پارسا نے فورا ہاں میں سر ہلایا۔
“آپ فکر مت کریں میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔”
سمیر اثبات میں سر ہلا کر گھر سے باہر نکل گیا تو دروازے کو اچھی طرح لاک کرکے پارسا نے گہرا سانس لیتے ہوئے چھوٹے سے اپارٹمنٹ کو دیکھا جو اب اس کا گھر تھا۔
“لگتا ہے کام سے کافی تھک کر آتے ہوں گے اس لیے صفائی نہیں کر پاتے لیکن کوئی بات نہیں میں آ گئی ہوں ناں اب انہیں گھر کا کوئی کام نہیں کرنے دوں گی۔”
پارسا نے مسکرا کر خود سے کہا اور فریج میں سے پیزا نکال کر اوون میں گرم کر کے کھایا اور پھر عام سے کپڑے پہن کر پورا گھر صاف کرنے لگ گئی۔
وہ کافی زیادہ تھکی ہوئی تھی لیکن سمیر کے آنے سے پہلے ہر چیز پرفیکٹ کرنا چاہتی تھی۔اس لیے بنا کسی وقفے کے کام کر کے اس نے گھر کا کونا کونا چمکایا اور پھر فریزر سے چکن نکال کر اچھی سی بریانی بنا دی۔
ویسے تو سب کہتے تھے کہ پارسا کھانا بہت اچھا بناتی ہے لیکن اسکی بریانی تو سب سے زیادہ مشہور تھی۔بس وہ چاہتی تھی کہ سمیر کو بھی وہ بہت اچھی لگے۔
سارا کام ختم کرنے کے بعد اس نے نہا کر ایک گلابی سوٹ پہنا اور اپنے لمبے بالوں کی چوٹی بنا کر دوپٹہ سلیقے سے سر پر لیا اور آنکھوں میں ہلکا سا کاجل ڈال لیا۔اسکی نظر ایک لپسٹک پر پڑی جو اسے ہدی نے دی تھی تو انگلی سے وہ لپسٹک اپنے گلابی ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سجا لی۔
اتنی سی تیاری سے ہی وہ معصوم سی گڑیا لگنے لگی تھی۔تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ جلدی سے دروازے کی جانب گئی۔
“اسلام و علیکم۔۔۔۔”
سمیر کو دیکھتے ہی پارسا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“و علیکم السلام۔۔۔۔”
سمیر نے ایک نگاہ صاف ستھرے گھر کو دیکھا اور دوسری نگاہ پارسا پر ڈالی جو ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑی تھی۔
“آپ کے لیے کھانا لگاؤں میں نے بریا۔۔۔۔”
“نہیں کھانا کھا کر آیا ہوں میں مجھے بھوک نہیں تم کھا لو میں سونے جا رہا ہوں۔۔۔۔”
سمیر نے کافی بے رخی سے کہا اور اٹھ کر کمرے کی جانب چل دیا۔اسکی یہ بے رخی پارسا کے معصوم دل کو بہت بری طرح سے توڑ چکی تھی۔
“سنو۔۔۔۔”
“جی۔۔۔؟”
سمیر نے کمرے کے دروازے میں پہنچ کر اسے پکارا تو وہ جلدی سے مڑی۔
“یہاں ایک ہی کمرہ ہے اور مجھے اپنا کمرہ کسی سے بھی شیئر کرنے کی عادت نہیں ہے،اسی لیے تم ہال میں سو جایا کرنا اور اپنا سامان بھی یہیں رکھ لو۔”
سمیر کی بات پر پارسا حد سے زیادہ حیران ہوئی۔
“میں یہاں۔۔۔۔۔”
“کیوں کوئی مسلہ ہے؟”
پارسا نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور زبردستی اپنے آنسو پینے لگی۔سمیر نے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا اور پارسا صوفے پر بیٹھ کر خاموشی سے آنسو بہانے لگی۔وہ سمیر کی بے رخی کی وجہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
کیا وہ اسے اچھی نہیں لگی تھی؟ اس سے ایسی کونسی خطا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سمیر اس کی جانب دیکھا بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
یہ سوچیں ذہن میں آتے ہی پارسا کو اپنا وجود برا لگنے لگا۔اچانک ہی دروازہ کھلنے کی آواز پر پارسا نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ لیے۔
“لو بابا سے بات کر لو صبح سے کئی مرتبہ تمہارے بارے میں پوچھ چکے ہیں۔”
سمیر پارس کو موبائل پکڑا کر واپس کمرے میں چلا گیا۔
“اسلام و علیکم ماموں۔۔۔۔”
پارسا اپنی آنسوؤں سے تر آواز کو جس قدر چھپا سکتی تھی اس نے چھپایا۔
“کیسی ہو ماموں کی جان؟”
وہاب صاحب کے بہت محبت سے پوچھنے پر دو آنسو پارسا کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
“بالکل ٹھیک ماموں آپ کیسے ہیں؟”
پارسا نے نم آنکھوں کے باوجود مسکرا کر پوچھا۔
“میں تو بالکل ٹھیک ہوں بیٹا لیکن آپ بتاؤ سب کیسا ہے؟سمیر خیال تو رکھ رہا ہے ناں تمہارا ؟ تم خوش تو ہو ناں ؟”
پارسا اپنے ماموں کی آواز میں چھپی بےچینی محسوس کر سکتی تھی۔
“جی ماموں سب ٹھیک ہے سمیر بہت اچھے ہیں اور میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔”
پارسا نے ہنستے ہوئے جھوٹ کہا جبکہ سچائی آنکھوں سے بہتی جا رہی تھی۔
“شکر ہے اللہ کا،ویسے بھی مجھے پورا یقین ہے کہ اگر کچھ اچھا نہ بھی ہو تو میری بیٹی اسے اچھا بنا لے گی،وہ بہت سمجھدار اور اچھی بچی ہے۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے محبت سے کہا۔
“چلو بیٹا آپ آرام کرو وہاں کافی رات ہو گی پھر بات کروں گا میں ان شاءاللہ۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے پر اطمینان ہو کر کہا اور فون بند کر گئے۔پارسا پہلے تو روتی رہی پھر اپنے آنسو پونچھ کر کمرے کے دروازے کی جانب چل دی۔اس کے دروازہ کھٹکھٹانے کے تھوڑی دیر بعد ہی سمیر نے دروازہ کھول دیا۔
“آپ کا موبائل۔۔۔۔”
پارسا نے موبائل آگے بڑھا کر کہا جسے سمیر نے تھاما اور ہلکا سا تھینک یو کہہ کر دروازہ پھر سے بند کر دیا۔وہ صاف کیے آنسو پھر سے بہنے لگے۔لیکن اب کی بار انہیں صاف کر کے پارسا نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سمیر کے دل میں جگہ بنا کر رہے گی۔جیسا سمیر چاہتا تھا ویسی بن جائے گی لیکن اسکی محبت اور توجہ کا مرکز بن کر رہے گی۔