Parsa By Harram Shah Readelle50196 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
لوکا نے اپنا ہاتھ ڈیمن کے کندھے پر رکھ کر اسے حوصلہ دینا چاہا۔
“پلیز ڈیمن ہمت کرو۔۔۔”
ڈیمن نے آنسؤں سے تر نیلی آنکھیں اٹھا کر لوکا کو دیکھا۔
“وہ معصوم تھی لوکا اس کے ساتھ ایسا نہیں ہونا تھا یہ میری وجہ سے ہوا سب میری وجہ سے ہوا۔۔۔”
لوکا نے بے بسی سے ڈیمن کو دیکھا۔وہ اپنے سب سے پیارے دوست کا غم مٹانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔وہ بے بس تھا۔
“میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا لوکا میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
“کیا کرو گے تم؟”
لوکا نے بے بسی سے پوچھا تو ڈیمن پہلے تو خاموش رہا پھر کچھ یاد آنے پر اٹھ کھڑا ہوا۔
“وہ کہتی تھی اسکا خدا دعاؤں کو سنتا ہے وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔۔۔ میں مانگ لوں گا اسے۔۔۔”
ڈیمن نے ہاں میں سر ہلایا۔لوکا کو وہ اس وقت اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔
“میں اسی کے خدا سے مانگ لوں گا اسے لوکا۔۔۔”
اتنا کہہ کر ڈیمن ہاسپٹل سے باہر نکلا اور سڑک کے کنارے چلنے لگا۔اسے کہاں جانا تھا یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا۔اچانک ہی آسمان پر بادل چھائے اور تیز بارش شروع ہو گئی لیکن ڈیمن کو کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی وہ اسی بارش میں بھیگتا چلتا جا رہا تھا۔
تبھی اس کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو سر پر ٹوپی پہننے ایک گلی کی طرف جا رہا تھا ڈیمن اس کے پیچھے چل دیا تو وہ آدمی ایک مسجد کے باہر رکا اور جوتے اتار کر اس مسجد میں داخل ہو گیا۔
ڈیمن کتنی ہی دیر اس مسجد کے باہر کھڑا رہا پھر اس نے بھی اپنے جوتے اتارے اور مسجد کے ہال میں داخل ہو گیا۔وہ مسجد کافی چھوٹی سی تھی شائید وہاں رہنے والے مسلمانوں نے خود اپنی عبادت کے لیے بنائی تھی۔ڈیمن کو ایک دیوار پر ویسا ہی نام لکھا نظر آیا جسے پارسا نے اٹلی کی مسجد میں چوما تھا۔
ڈیمن کے قدم خود بخود اس نام کی جانب بڑھ گئے۔اس نام کے سامنے پہنچ کر ڈیمن اپنے گھٹنوں پر بیٹھا اور اپنے ہاتھ ویسے ہی دعا میں اٹھائے جیسے اس نے پارسا کو اٹھاتے ہوئے دیکھا تھا۔
ڈیمن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے دعا مانگے پھر اسے پارسا کی بات یاد آئی کہ خدا انکی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو پھر اس سے مانگنے میں کیسا ہچکچانا۔
“میں جانتا ہوں کہ میں ایک منکر ہوں یا خدا۔۔۔ آپ پر یقین نہیں رکھتا،آپ کے وجود سے ہی انکار کرتا ہوں لیکن وہ یقین رکھتی ہے۔۔۔۔آپ کو سب سے زیادہ محبت کرتی ہے اسی محبت کی خاطر اسے بچا لیں۔۔۔ “
ڈیمن نے روتے ہوئے التجا کی۔نیلی آنکھوں سے گرنے والے آنسو زمین بوس ہو رہے تھے۔
“مجھے دعا مانگنے کا سلیقہ نہیں نہ ہی جانتا ہوں کہ اپنی التجا کیسے کروں لیکن وہ کہتی تھی کہ آپ شاہ رگ سے زیادہ قریب ہیں اور ہر پل انسان کے ہر حال سے واقف ہیں تو میرا حال بھی آپ جانتے ہیں۔میری بے حالی کی خاطر اسے زندگی دے دیں ۔۔۔۔۔”
ڈیمن اب پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔
“میں جانتا ہوں میں بہت زیادہ گناہ گار ہوں،ایسے گناہ کیے ہیں جن کی کوئی معافی نہیں،بہت زیادہ بے رحم ہوں لیکن وہ کہتی تھی آپ سب سے زیادہ مہربان ہیں اسی رحم کی خاطر اسکی زندگی بچا لیں۔۔۔۔۔آپ کو آپکے رحمن ہونے کا واسطہ۔۔۔”
ڈیمن نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھ کر التجا کرتا رہا تھا۔وقت کا اسے اندازہ ہی کہاں تھا۔بس اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے اسے تسلی دی ہو اسے اپنی رحمت میں چھپا کر کہا ہو کہ سب ٹھیک ہے۔جس سے وہ مانگ رہا ہے وہ ہر شے ہر قادر ہے،وہ سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔۔
اچانک ہی کسی نے ڈیمن کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو ڈیمن نے اپنے ہاتھوں میں سے چہرہ نکال کر اس انتہائی نوارنی چہرے والے بزرگ کو دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے۔
“کیا بات ہے بیٹا؟بس دعائیں ہی مانگنی ہیں آج نماز نہیں پڑھنی۔۔۔”
ڈیمن نے حیرت سے اس آدمی کو دیکھا جس نے انتہائی محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔
“جی؟”
ڈیمن کی نا سمجھی پر وہ بزرگ شفقت سے مسکرا دیے۔
“مطلب یہ کہ میں نے تمہیں ظہر کے وقت یہاں دعا مانگتے دیکھا،عصر کے وقت بھی تم اسی جگہ پر بیٹھے بھیک مانگ رہے تھے اور اب مغرب کا وقت ہونے والا ہے اور تم اب بھی بس یہاں بیٹھے دعا ہی کر رہے ہو۔۔۔سب کچھ آج ہی مانگ لو گے کیا نماز نہیں پڑھنی تمہیں؟”
ڈیمن انکی بات پر کچھ دیر کے لیے خاموش رہا پھر سنجیدگی سے بولا۔
“میں نماز نہیں پڑھ سکتا کیونکہ میں مسلمان نہیں۔۔۔”
ڈیمن کی بات پر ان بزرگ کی آنکھوں میں حیرت اتری۔
“ماشاءاللہ تو وہ کون خوش قسمت ہے جو تمہارے مسلمان نہ ہونے کے باوجود تمہیں اس طرح سے خدا کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور کر رہی ہے۔”
انہوں نے ڈیمن کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ڈیمن کو لگا تھا کہ یہ جاننے کے بعد کہ ڈیمن مسلمان نہیں وہ اسے یہاں سے بھگا دیں گے لیکن انکی یہ محبت دیکھ کر وہ بھی حیران ہوا۔
“آپ کو کیسے پتہ وہ ایک لڑکی ہے؟”
وہ بزرگ مسکرا دیے۔
“عاشق ایک کھلی کتاب ہوتا ہے جسکا سچ اسکے چہرے پر ہی واضح ہوتا ہے۔۔۔”
ڈیمن نے اپنا سر جھکا لیا۔
“وہ بہت نیک ہے،بیت زیادہ پاکیزہ ہے اور اس وقت اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی ہے میں خدا سے التجا کر رہا تھا کہ وہ اسے زندگی دے دیں۔۔۔۔آپ کو لگتا ہے کہ میری دعا قبول ہو گی؟”
“جس طرح گڑگڑا کر تم بھیک مانگ رہے تھے تمہاری دعا تو اس وقت تک بہت سے اثرات چھوڑ چکی ہو گی۔۔۔”
بزرگ نے مسکرا کر کہا لیکن ڈیمن حیران ہو کر اس عجیب سے شخص کو دیکھ رہا تھا۔
“میں ایک منکر ہوں خدا کو نہیں مانتا پھر بھی وہ میری دعا قبول کریں گے۔۔؟”
بزرگ کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“اگر تم منکر ہوتے تو یہاں نہیں ہوتے اور ویسے بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اسے نہیں مانتے،اسکی اعلیٰ شان کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے ہیں اور تو اور اسکی عظیم شان میں گستاخی بھی کرتے ہیں تو کیا وہ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازنا چھوڑ دیتا ہے؟نہیں وہ انہیں دیتا رہتا ہے کہ کبھی تو وہ اپنے حقیقی خالق کی نعمتوں کو پہچان کر اسکے پاس واپس لوٹ آئیں گے اور جانتے ہو وہ ایسا کیوں کرتا ہے کیونکہ وہ رحمن ہے۔۔۔۔”
بزرگ نے مسکرا کر کہا اور ڈیمن مکمل طور پر انکی باتوں کے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم اسکے در پر بھیک مانگنے آتے ہو؟نہیں وہ خود تمہیں بلاتا ہے تا کہ تم اپنی خواہش کا اظہار کرو اور وہ اپنی رحمتوں کے سمندر سے تمہاری ہر مشکل آسان کر دے۔۔۔”
ڈیمن نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
“تو کیا وہ میری بھی دعا قبول کر لیں گے اس کے باوجود کہ میں گناہ گار ہوں؟”
“تم مانگ کر تو دیکھو میاں تم جانتے بھی نہیں کہ تم قطرہ مانگ رہے ہو گے اور دریا عطا کر دے گا بس اسکی رضا میں راضی رہنے کے لیے تیار رہو۔۔۔”
ان بزرگ نے مسکرا کر کہا اور ڈیمن ابھی بھی انکی باتوں کے سحر میں جکڑا تھا۔
“آپ کون ہیں؟”
“میرا نام عبد الرحمن غوری ہے اس رحمن کا بندہ ہوں۔۔۔”
انہوں نے شفقت سے کہا اور دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“مجھے نماز پڑھانی ہے وقت ہو چکا ہے۔۔۔تم یہاں بیٹھ کر اپنی التجا کرتے رہو اور میں بھی تمہارے لیے دعا کروں گا کہ اللہ تمہاری دعا کو قبول کرے اور تمہارے قلب کو ایمان کی روشنی سے منور کر دے ۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلے گئے اور ڈیمن مسلسل انہیں دیکھتا رہا تھا۔انکے پیچھے کھڑے نمازی بلکل انکی طرح نماز ادا کر رہے تھے اور ڈیمن اپنا ہر غم بھلا کر،خود کو بھلا کر اس منظر میں کھویا رہا تھا۔
ان سب کو نماز پڑھتے دیکھنا اسکی زندگی کا سب سے پر سکون موقع تھا جب وہ خود کو بھی بھول چکا تھا۔نماز پڑھنے کے بعد وہ بزرگ ڈیمن کے پاس واپس آئے۔
“میں نے دعا کی ہے تمہارے لیے میاں ان شاءاللہ تمہارے حق میں سب بہتر ہو گا۔۔۔۔اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔۔۔”
انہوں نے شفقت سے ڈیمن کے سر پر ہاتھ پھرا اور وہاں سے چلے گئے۔انکے جانے کے کچھ دیر بعد ہی ڈیمن کی جیب میں موجود اسکا موبائل بجنے لگا۔
“ہیلو۔۔۔”
نمبر دیکھے بغیر ہی ڈیمن نے کال پک کر کے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا ۔
“ڈیمن کہاں ہو تم جلدی سے ہاسپٹل واپس آ جاؤ ڈاکٹرز مجھے کچھ بتا تو نہیں رہے لیکن بہت زیادہ بے چین ہیں پلیز واپس آ جاؤ۔۔۔”
لوکا کی بات سن کر ڈیمن کا دل بہت زور سے دھڑکا لیکن وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اب اس میں ہمت کہاں سے آئی تھی۔وہ ڈیمن جو یہاں آنے سے پہلے مرنے کے بات کر رہا تھا اب کسی بھی چیز کا سامنا بہادری سے کرنے کے لیے تیار تھا۔
ڈیمن ٹیکسی لے کر ہاسپٹل واپس آیا تو اسکو دیکھتے ہی لوکا اسکے قریب آیا۔
“ڈیمن پارسا کی حالت بہت نازک ہے ڈاکٹر آخری کوشش کر رہے ہیں نہ جانے کیا ہو جائے تم پلیز ہمت رکھنا۔”
ڈیمن نے لوکا کی بات پر ہاں میں سر ہلایا جبکہ کتنے ہی آنسو اسکی نیلی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے پھر بھی اس میں ہر چیز کا سامنا کرنے کی طاقت تھی۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر ہینری باقی کے ڈاکٹرز کے ساتھ آپریشن تھیٹر سے باہر آئے اور انتہائی زیادہ پریشانی سے ڈیمن کو دیکھا۔
“کیا ہوا ڈاکٹر؟”
ڈیمن کے سوال پر سب ڈاکٹرز نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
“ہم نہیں جانتے مسٹر موریٹی یہ کیسے ہوا لیکن وہ بلکل ٹھیک ہیں یہاں تک کہ وہ کومہ میں بھی نہیں گئیں۔ایک گھنٹے پہلے تک ہم انہیں کھونے والے تھے اور اچانک ہی جیسے سب خود بخود ٹھیک ہو گیا۔یہ کوئی معجزہ ہی ہے جو ہماری سوچ سے تو بالا تر ہے۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات سن کر جہاں لوکا حیران ہوا وہیں ڈیمن سکتے کے عالم میں آ چکا تھا۔
“سچ میں یہ میری زندگی کا سب سے عجیب کیس تھا جہاں ایک پیشنٹ مرنے کی حالت میں تھا لیکن پھر اچانک ہی سب ٹھیک ہو گیا جیسے کہ کوئی معجزہ ہوا ہو۔۔۔۔خیر جو بھی ہے مسٹر موریٹی اب وہ ٹھیک ہیں اور کچھ دونوں کے بعد انہیں ہوش بھی آ جائے گا۔۔۔”
ڈاکٹر ہینری نے مسکرا کر کہا لیکن ڈیمن تو بلکل پتھر کا ہو چکا تھا۔اسکی بیلا نے جو کہا تھا سب سچ تھا اسکا خدا دعاؤں کو سنتا ہے،وہ مہربان ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔۔
جس دن وہ آپ کو اپنی نشانی دیکھائیں گے ناں آپ کی عقل،سوچ دنگ رہ جائے گی اور تب آپ کو احساس ہو گا کہ جو میں نے کہا تھا وہ سب سچ تھا۔
ڈیمن کو پارسا کی کہی بات یاد آئی۔
“اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی امتحان میں ڈالا تا کہ اپنی آزمائش میں سکون کے لیے آپ اسے جانیں،اسے تلاش کر کے اسکی طرف لوٹ آئیں اور وہ اپنی رحمت کے سائے میں آپ کو چھپا کر پہلے سے بھی کئی زیادہ خوشیاں عطا کرے۔۔۔”
پارسا کی کہی ہر بات یاد کر کے ڈیمن کی آنکھیں روانی سے بہنے لگی تھیں۔
اسے ایسا لگ رہا تھا کہ پارسا تو بچ گئی ہے لیکن وہ ختم ہو چکا ہے اور اب اسکی جگہ وہاں جو کھڑا تھا اسے تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥
ڈیمن پارسا کے پاس آیا جو بے ہوش حالت میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ سر کے آدھے بال آپریشن کی وجہ سے کاٹ دیے گئے تھے۔اسکو اس حال میں دیکھ کر ڈیمن کی پلکیں نم ہو گئیں۔
“تم میری زندگی میں تب آئی جب مجھے اس دنیا سے ہی نفرت تھی۔لگتا تھا کہ یہ دنیا صرف برائی سے بھری ہے لیکن تمہیں دیکھ کر یہ لگا کہ اس دنیا میں بھی اچھائی ہے۔۔۔۔”
ڈیمن کی نیلی آنکھوں سے دو موتیوں جیسے آنسو بہہ نکلے۔
“تمہارے اندر موجود اس پاکیزگی کو پانے کا جنون میرے اندر سوار ہو گیا۔وہ پاکیزگی جس کو پانے کے لیے اپنا آپ بہت حقیر لگتا تھا۔۔۔۔”
ڈیمن نے بے بسی سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھا۔
“لیکن جب تمہیں کھونے کے ڈر سے تمہارے خدا کے سامنے گڑگڑایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ تم میرا جون نہیں میری محبت ہو۔۔۔۔۔”
ڈیمن نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کو چھونا چاہا لیکن ابھی بھی اسے ایسا لگتا تھا کہ وہ پارسا کو چھو کر میلا کر دے گا ۔
“ابھی بھی تمہیں کھونے کا خیال میری سانسیں روک دیتا ہے لیکن اب میری محبت خود غرض نہیں رہی۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرا دیا۔
“تم آزاد ہو بیلا جب تمہیں ہوش آئے گا تو تمہارا یہ قیدی تمہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنے الفاظ کی تکلیف کو نظر انداز کیا۔
“لیکن ایک بات یاد رکھنا میرے دل سے تمہاری محبت کا نکلنا ناممکن ہے اور اپنی آخری سانس تک میں تمہارا ہی رہوں گا۔۔۔۔”
ڈیمن نے اسکی بند آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔
“sei un angelo bella che mi ha mostrato la luce.”
(تم ایک فرشتہ ہو بیلا جس نے مجھے روشنی دیکھائی)
ڈیمن نے اسکو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا اور بہتی آنکھوں سے ایک آخری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“Bella Ciao”
(گڈ بائے بیوٹیفل)
ڈیمن نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔اسکے کمرے سے باہر آتے ہی لوکا اسکے قریب آیا۔
“پتہ لگ گیا ڈیمن کہ یہ کس کا کام ہے۔۔۔”
لوکا کی بات پر ڈیمن نے غصے سے اپنے دانت کچکچائے۔
“نام بتاؤ۔۔۔۔”
“ریمو ڈارسن۔۔۔۔آرتھر ڈارسن کی چوتھی اولاد جو ایک خواجہ سرا ہے۔۔۔”
لوکا کی بات پر ڈیمن کا غصہ مزید بڑھ گیا یعنی یہ بھی اسی کا خون تھا جس نے پہلے اس کی دنیا اجاڑی تھی۔
“کہاں ملے گا وہ؟”
ڈیمن نے جبڑے بھینچتے ہوئے پوچھا۔
“شکاگو،اسکا ایک آدمی چارلز ہمارے درمیان جاسوسی کرنے آیا تھا اسے پکڑ کر ہی یہ انفارمیشن نکالی ہے اس سے۔۔۔۔”
ڈیمن نے ہاں میں سر ہلا کر اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔آج وہ ڈارسن خاندان کا گھٹیا خون ہی ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
🔥🔥🔥🔥
“باس وہ لڑکی بچ گئی۔۔۔۔”
ریمو جو کل شکاگو واپس آ چکا تھا اپنے آدمی کی یہ بات سن کر پہلے اسکی آنکھوں میں حیرت اتری پھر اس نے غصے سے اپنے سامنے پڑی شیشے کی میز کو پٹخ کر توڑ دیا۔
“کیسے بچ سکتی ہے وہ؟”
ریمو غصے سے چلایا تو اسکا ہر آدمی اپنا سر جھکا گیا۔
“آہ۔۔۔۔ڈیمن بہت اچھی قسمت ہے تمہاری کمبخت ۔۔۔۔۔”
ریمو نے دانت کچکچا کر کہا۔
“کچھ ایسا کرو کہ وہ لڑکی ہاسپیٹل میں ہی مر جائے ورنہ تم میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
ریمو نے سب کو حکم دیا اور اپنے آفس کی جانب چل دیا اسے اب اس لڑکی کو ختم کرنے کا کوئی نیا طریقہ سوچنا تھا۔
اپنے آفس میں داخل ہوتے ہی ریمو نے میز پر پڑی شراب گلاس میں ڈالی اور ایک ہی گھونٹ میں پی گیا تبھی کسی نے اسکا دروازہ بند کیا تو ریمو فورا پلٹا۔
“تم؟”
ریمو نے دروازہ لاک کرتے لوکا کو دیکھا تو حیرت سے بولا پھر اسکی نظر شکاگو کاپو کی رولنگ چئیر پر پڑی جسے گھما کی ڈیمن اسکی جانب مڑا.
“کیسے ہو ریمو ڈارسن؟”
ڈیمن کو وہاں دیکھ کر ریمو مسکرا دیا۔
“تمہیں کیا لگا کہ تم مجھ سے میری زندگی چھیننا چاہو گے اور مجھے تمہارے وجود کا علم ہی نہیں ہو گا۔”
ڈیمن نے ہاتھ میں پکڑی پسٹل کے ٹریگر کو گھماتے ہوئے کہا جبکہ ریمو اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر اسے بہادی سے دیکھنے لگا۔
“ایسا کرنے میں کامیاب تو ہو ہی گیا تھا میں ڈیمن موریٹی لیکن بس قسمت نے ساتھ نہیں دیا فکر مت کرو اگلی مرتبہ فیصلہ قسمت پر نہیں چھوڑوں گا۔”
ریمو نے شان سے کہا جبکہ اسکے اس کانفیڈنس پر لوکا حیران ہو گیا۔
تمہیں لگتا ہے کہ اگلی دفعہ ایسا کرنے کا موقع ہم تمہیں دیں گے؟”
لوکا کے سوال پر ریمو قہقے لگا کر ہنسنے لگا۔
“جانتا ہوں کہ تم دونوں یہاں میری لاش ہی چھوڑ کر جاؤ گے آخر کار یہاں تم دونوں کے ساتھ قید جو ہوں اور دو کے مقابلے میں اکیلا کیا کروں گا؟”
ڈیمن نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس عجیب سے شخص کو دیکھا۔
“تم اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے کر رہے ہو ناں یہ سب؟”
ڈیمن کے سوال پر ریمو اپنی مخصوص سی مکروہ ہنسی ہنسنے لگا۔
“وہ جس نے مجھے اپنا نام نہیں دیا کوئی حیثیت نہیں دی اس کے لئے میں یہ سب کروں گا؟نہیں ڈیمن موریٹی تم نے میرے باپ کو مار کر ایک دس سالہ بچے کا سہارا چھینا یہ تو میں تمہیں اس کی سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔”
ڈیمن نے حیرت سے اس پاگل شخص کو دیکھا۔
“تمہارے ساتھ جو بھی ہوا وہ سرا سر تمہارے باپ کا قصور تھا جیسے تمہارا ایسا ہونا گوارا نہیں ہوا۔۔۔۔لیکن اب تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو تمہارے باپ کا ہوا۔۔۔”
ڈیمن نے اپنی پسٹل ریمو پر تانی تو وہ وہ ہاتھ پھیلا کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“ٹھیک ہے مارنا چاہتے ہو تو مار لو لیکن اس میں کیا مزا؟”
لوکا نے دانت کچکچا کر اسے دیکھا ۔
“تو پھر کیا چاہتے ہو تم؟”
ریمو مسکرا کر لوکا کی جانب مڑا۔
“اگر قسمت کو اتنا ہی مانتے ہو تم لوگ تو کیوں ناں فیصلہ قسمت پر چھوڑیں؟”
اتنا کہہ کر ریمو نے اپنی جیب سے ایک ریوالور نکالا اور اس میں سے ساری گولیاں نکال کر صرف ایک گولی اس میں ڈال دی اور باقی گولیاں زمین پر پھینک دیں۔
“ایک گولی میرے پاس اور ایک ہی گولی تمہارے پاس دونوں ایک دوسرے کے سینے پر رکھ کر بندوق چلاتے ہیں دیکھتے ہیں کس کی قسمت میں موت ہے اور کس کی قسمت میں زندگی؟”
ریمو کے دلچسپی سے کہنے پر ڈیمن نے اسے دلچسپی سے دیکھا۔
“بولو ڈیمن موریٹی ہے تم میں اتنی ہمت یا اس کرسی پر بیٹھے بیٹھے ایک بزدل کی طرح مجھے مارنا چاہتے ہو؟”
ریمو کے اس چیلنج پر پہلے تو ڈیمن خاموش رہا پھر اس نے بھی اپنی بندوق کی ساری گولیاں نکال کر صرف ایک گولی اس میں ڈال دی۔
“ڈیمن یہ کیا کر رہے ہو تم؟”
لوکا نے حیرت سے اپنے دوست کو دیکھا جو شائید پاگل ہو گیا تھا۔
“فکر مت کرو لوکا میں بھی دیکھنا چاہوں گا کہ کیا لکھا ہے میری قسمت میں۔۔۔۔”
ڈیمن اتنا کہہ کر ریمو کے سامنے کھڑا ہوا گیا جو شوخی سے مسکرا رہا تھا۔ڈیمن نے اپنی بندوق اسکے دل کے مقام پر رکھ دی تو ریمو نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بندوق اسکے سینے پر رکھ دی۔
“ڈیمن نہیں۔۔۔۔”
لوکا نے آگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا۔
“نہیں لوکا وہیں رہو تم۔۔۔”
ڈیمن نے سختی سے کہا اور دلچسپی سے مسکراتے ہوئے ریمو کی طرف دیکھا۔
“ایک ساتھ۔۔۔”
ریمو نے ہاں میں سر ہلایا لیکن پہلی مرتبہ دونوں کے ہی گولی چلانے پر گولی نہیں چلی تو ریمو قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“واہ ابھی تک تو دونوں قسمت والے ہیں آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔۔”
ریمو نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ لوکا بہت زیادہ بے چینی سے اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک پل میں اس پاگل پن کو بند کر دے۔
“چلو پھر سے۔۔۔”
ڈیمن کے کہنے پر دونوں نے پھر سے گولی چلا دی لیکن پھر بھی خالی بندوق کی آواز پر ریمو ہنس دیا۔
“اب دیکھتے ہیں ڈیمن کہ کیا ہوتا ہے۔۔۔”
ریمو کے کہنے پر ڈیمن نے ہاں میں سر ہلایا اور دونوں کے پھر سے گولی چلانے پر ایک گولی کی آواز کمرے میں گونجی۔
“ڈیمن۔۔۔۔”
لوکا نے چلا کر ریمو پر بندوق تانی جس کے چہرے پر مکروہ سی مسکراہٹ تھی اور ڈیمن کے چہرے پر بہت سا خون۔
