Parsa By Harram Shah Readelle50196 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ اس وقت ایک باغ میں موجود تھا جہاں وہ تھا جو اسے کبھی نصیب نہیں ہوا،سکون۔تبھی کسی نے اپنے ہاتھ اسکی آنکھوں پر رکھے۔
“گیس کرو کون ہے ؟”
ایک شرارتی سی آواز پر ڈیمن مسکرا دیا۔
“میری چھوٹی سی پری صوفیا۔۔۔”
اس بات پر وہ پندرہ سالہ لڑکی ہنستے ہوئے اسکے سامنے آئی اور بلکل اسکے جیسی نیلی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی۔
“تمہیں کیسے پتہ چلتا ہے ڈیمن؟”
صوفیا نے منہ بنا کر پوچھا۔
“کیونکہ تم جان سے زیادہ عزیز ہو مجھے۔۔۔ “
ڈیمن نے محبت سے کہا اور اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھنے چاہے لیکن اگلے ہی پل وہ وہاں سے غائب ہو چکی تھی اور ڈیمن وہاں پر بالکل تنہا کھڑا تھا۔
“صوفیا صوفیا ۔۔۔۔۔۔”
ڈیمن اردگرد دیکھتے ہوئے چلایا اور اسکے ساتھ ہی وہ خواب ٹوٹا اور ابھی کچھ دیر پہلے نیند کی دوائی لے کر سویا ڈیمن ہانپتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔صوفیا کا معصوم چہرہ یاد کر کے اس نے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچ لیں۔وہ جب بھی اسے یاد کرتا تھا کرب ڈیمن کا مقدر بن جاتا تھا۔
وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھا اور واش روم میں جا کر ٹھنڈے پانی کے شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا کتنی ہی دیر وہاں کھڑا وہ صوفیا کو یاد کرتا رہا پھر ایک ٹراؤزر اور کالی بنیان پہن کر نچلے فلور پر موجود اپنی جم میں آ گیا۔
وہ پنچنگ بیگ پر مکوں کی برسات کر رہا تھا جب لوکا اور روزلی اسکے پاس آ کر اسے ہر چیز سے آگاہ کرنے لگے۔وہ دونوں ہی ڈیمن کے سب سے قریبی ساتھی تھے۔لوکا تو سترہ سال کی عمر سے ڈیمن کے ساتھ تھا۔
“ڈیمن شکاگو کا کاپو ہم سے دوستی کرنا چاہتا ہے تاکہ ہم آپس میں مل کر نیو یارک کے کاپو پر رعب جما سکیں۔”
“منع کر دو اسے ڈیمن کسی کا دوست نہیں۔”
ڈیمن نے پنچنگ بیگ کو مزید زور سے مارتے ہوئے کہا۔
“لیکن ڈیمن تمہاری دشمنی پہلے ہی بہت زیادہ ہے تمہیں نہیں لگتا کہ کسی سے دوستی ہونا ہمارے لیے اچھا ہو گا۔۔۔”
لوکا نے روزلی کو زیادہ بولنے سے روکنا چاہا لیکن روزلی کبھی کسی کی سنتی ہی کہاں تھی جو منہ میں آتا وہ بول جاتی۔اب روزلی کی بات کے نتیجے میں ڈیمن اسے بھویں اچکا کر دیکھ رہا تھا۔
“مجھے یہ بتانے والی تم کون ہوتی ہو روزلی ڈارسن کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ اپنی اوقات میں رہو ورنہ تمہیں بھی ماضی کا حصہ بنانے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔”
ڈیمن نے یہ بات بہت ہی سنجیدگی سے کہی لیکن اسکی آواز میں بہت زیادہ سفاکی تھی۔
“تم چاہتے کیا ہو ڈیمن کہ تمہارے دشمن تمہاری جان لے لیں؟”
روزلی پھر سے بعض نہیں آئی تو ڈیمن غصے سے آگے بڑھا اور اسکی گردن اپنے ہاتھ میں جکڑ لی۔
“میں تو چاہتا ہوں کہ کوئی مجھے مار کر اس کرب سے آزادی دلائے جسے زندگی کہتے ہیں۔۔۔۔لیکن کوئی کمبخت مارتا ہی نہیں۔۔۔۔”
ڈیمن نے مسکرا کر کہا جبکہ روزلی اپنی گردن پر بڑھتے دباؤ کے باوجود بہادی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے ڈیمن موریٹی موت کے بعد سکون مل جائے گا تمہیں۔۔۔۔۔؟وہاں جا کر بھی تمہارا مقدر جہنم ہی تو ہے۔۔۔۔”
روزلی کی بات پر ڈیمن قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“جہنم۔۔۔۔ہاہاہا کافی یقین ہے تمہیں کہ جہنم میں جاؤں گا میں چلو کیوں نہ تمہیں وہاں پہنچا دوں تا کہ وہاں اکیلا نہ رہوں ۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنے ہاتھ کی گرفت اتنی مظبوط کر دی کہ روزلی کا سانس اسکے سینے میں ہی اٹک گیا۔
“ڈیمن۔۔۔۔۔۔”
لوکا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنا چاہا تو ڈیمن نے جھٹکے سے روزلی کو چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا۔
“جانتی ہو ناں کہ ڈیمن کو ہر چیز سے ہی نفرت ہے تو کیوں اسکے معاملے میں ٹانگ اڑاتی ہو۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم دونوں اسے پسند ہیں؟ ہماری ایک غلطی اور ہماری جان لینے میں بھی ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا وہ۔”
لوکا نے روزلی کو گھور کر کہا جو اپنی گردن سہلا رہی تھی۔
“میں ڈرتی ہوں اسکے لیے لوکا چاہتی ہوں کہ اسے کچھ اچھا لگے اس زندگی میں۔۔۔”
لوکا کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“نہیں روزلی ڈارسن تم چاہتی ہو کہ تم اسے اچھی لگو لیکن ایک پتے کی بات بتاؤں تمہیں۔۔۔۔۔”
لوکا نے اسکے ہو کر روزلی کے گلے میں موجود کرسچن کراس کا نشان ہاتھ میں پکڑا۔
“اسکی نظروں میں آنے کے لیے ڈیمن کی طرح تمہیں بھی اسے ماننا چھوڑنا پڑے گا کیونکہ وہ پکا منکر ہے۔۔۔۔”
لوکا اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور روزلی وہ کراس ہاتھ میں پکڑ کر دیکھنے لگی۔پھر اس نے جھٹکے سے کھینچ کر وہ کراس گلے سے نکال دیا۔
“ڈیمن کے لیے کچھ بھی چھوڑ سکتی ہوں میں، کچھ بھی۔۔۔۔”
روزلی نے اس کراس کے نشان کو آخری بار دیکھ کر کہا اور پھر اسے میز پر رکھ کر وہاں سے چلی گئی۔
🔥🔥🔥🔥
سمیر ایک دن کے لیے بھی پاکستان نہیں جانا چاہتا تھا۔وہ اینا اور عیاشی کے بغیر کیسے رہتا جسکی اسے لت لگ چکی تھی۔اینا نے اسے پریشان بیٹھے دیکھا تو اس کے پاس آ کر اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔
“کیا ہوا سیم سب ٹھیک تو ہے ناں؟”
سمیر نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ہاں میں بس پاکستان نہیں جانا چاہتا۔”
سمیر نے بے زاری سے کہتے ہوئے اینا کے ہاتھ میں موجود بئیر کی بوتل پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لی۔
“تو مت جاؤ کال کرکے اپنے ڈیڈ کو منع کر دو۔۔۔۔”
“اتنا آسان نہیں ہے بے بی وہ مغربی نہیں مشرقی باپ ہیں میری مرضی برداشت ہی نہیں کریں گے اور مجھے ہمیشہ کے لئے پاکستان واپس بلوا لیں گے ۔۔۔۔۔”
سمیر کی بات پر اینا نے اپنی آنکھیں گھمائیں پھر کچھ سوچ کر مسکرا دی۔
“تو اپنے ڈیڈ سے کہو کہ تمہیں یہاں جاب مل گئی ہے اور نئی جاب ہے اس لئے تمہیں چھٹی نہیں ملے گی۔۔۔۔”
اینا کی بات پر سمیر مسکرا دیا اور اسے کھینچ کر گلے لگایا۔
“تھینکس بے بی بیسٹ آئیڈیا ہے بلکہ میں ابھی کال کر کے انہیں یہ بات کہتا ہوں۔۔۔۔”
سمیر نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور مسکراتے ہوئے وہاب صاحب کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔تھوڑی دیر کے بعد ہی فون اٹھا لیا گیا تھا۔
“السلام علیکم بابا۔۔۔۔”
“و علیکم السلام کیسے ہو سمیر بیٹا کس دن کی فلائٹ کنفرم ہوئی ہے تمہاری؟”
وہاب صاحب چار دنوں کے بعد اپنے بیٹے کی آواز سن کر کافی خوش ہوئے تھے۔
“میرے پاس آپ کے لئے گڈ نیوز ہے بابا۔۔۔۔مجھے جاب مل گئی ہے۔۔۔۔”
سمیر نے اینا کی جانب دیکھتے ہوئے شان سے جھوٹ بولا۔اینا نے اسے دونوں انگوٹھے دیکھا کر تھمز اپ کا اشارہ کیا۔
“ارے واہ ماشاء اللہ بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔۔نادیہ سنو نوکری مل گئی ہے تمہارے بیٹے کو۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے کافی خوشی سے کہا۔
“قسم سے سمیر میں بیان نہیں کر سکتا مجھے کتنی زیادہ خوشی ہو رہی ہے۔۔۔۔”
سمیر جواب میں ہلکا سا مسکرایا اور اینا کو ایک نظر دیکھا جو اردو میں کی جانے والی باتیں سمجھ تو نہیں رہی تھی لیکن جانتی تھی کہ سمیر اسکے کہے پر عمل کر رہا ہے۔
“لیکن ایک مسئلہ ہے بابا نئی نوکری ہے اس لیے وہ لوگ مجھے فی الحال چھٹی نہیں دے رہے اس لیے ابھی میں پاکستان نہیں آ سکوں گا۔۔۔۔”
سمیر کی بات پر کچھ دیر کے لیے دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
“اوہ کوئی بات نہیں بیٹا تم اپنا کام دھیان سے کرو اللہ تعالی تمہیں مزید کامیابیاں دیں۔۔۔۔جب تمہیں آسانی سے چھٹی ملے گی تب واپس آ جانا۔۔۔”
سمیر نے شکر کا سانس لیا لیکن وہاب صاحب کی اگلی بات پر وہ سانس پھر سے سینے میں اٹک گیا۔
“اچھا میرا دوست وہاں ایک امبیسی میں کام کرتا ہے میں نے اس سے پتہ کروایا تھا کہ پارس کی ساری ڈاکیومنٹیشن مکمل ہو گئی ہے تو تم کاغذات بھجوا دو تاکہ میں اسے تمہارے پاس بھیج سکوں۔۔۔۔”
وہاب صاحب کی بات پر سمیر نے گھبرا کر اینا کو دیکھا جو اب خاموشی سے اپنا موبائل دیکھ رہی تھی۔
“لل۔۔۔۔لیکن بابا وہ یہاں میرے پاس کیسے؟”
“کیا مطلب کیسے سمیر بیوی ہے وہ تمہاری نکاح ہوا ہے تم دونوں کا اور نکاح سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔میں نے سوچا تھا کہ پاکستان آؤگے تو باقاعدہ تم دونوں کی شادی کریں گے اب تم پاکستان تو آ نہیں سکتے اس سے بہتر یہی ہے کہ میں تمہاری امانت کو تمہارے پاس بھیج دوں۔۔۔۔”
سمیر گہرا سانس لے کر رہ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب ہونا وہی تھا جو اس کے باپ کی مرضی تھی۔
“ٹھیک ہے بابا میں جلد ہی سارے ڈاکومینٹ بھیجوا دوں گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر سمیر نے کال بند کر دی اور پریشانی سے اینا کو دیکھنے لگا جسے اس کے نکاح کی کوئی خبر نہیں تھی۔اگر اسے یہ بتا لگ جاتا کہ سمیر پہلے سے ہی شادی شدہ تھا تو ایک سیکنڈ میں وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی۔
اب اس کی وہ بیوی یہاں آ رہی تھی اور سمیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے ہو اس کا اور اپنا رشتہ اینا سے چھپائے گا۔
“ہو گیا سب سیٹ؟”
اینا نے موبائل سائیڈ پر رکھ کر پوچھا تو سمیر نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
“تو ٹھیک ہے مسٹر پھر آج شام پارٹی کیلئے تیار رہنا سب دوست تمہاری آزادی مل کر انجوائے کریں گے۔۔۔۔”
سمیر مسکرا دیا اس بات سے انجان کہ جسے وہ آزادی سمجھ رہا تھا وہ آزادی کے لبادے میں چھپی تباہی تھی۔
🔥🔥🔥🔥
پارسا آج کپڑے دھو رہی تھی اور اتنے سارے کپڑے دھوتے ہوئے اسے سارا دن لگ گیا تھا۔اس نے پریشانی سے ٹائم دیکھا جہاں مغرب کا وقت نکلا جارہا تھا۔اپنا کام جلدی سے ختم کرکے اس نے مغرب کی نماز ادا کی اور کچن میں آکر کھانا تیار کرنے لگی۔
“یہ کیا ابھی تم کھانا بنانا شروع کرنے لگی ہو ؟اتنی زیادہ بھوک لگی ہے اور تم آدھی رات لگا دو گی کھانا بناتے بناتے۔۔۔”
کبریٰ جسے پارسا سے صدا کا بیر تھا اسے کچن میں دیکھتے ہی شروع ہوگئی۔
“کبریٰ آپی میں کپڑے دھو رہی تھی اس لئے دیر ہو گئی ہے آپ فکر مت کریں میں جلدی سارا کام ختم کر لوں گی۔”
کبریٰ نے دانت پیس کر پارسا کو دیکھا۔اس سمجھ نہیں پاتی تھی کہ ایسے سلوک کے باوجود اس لڑکی کو غصہ کیوں نہیں آتا تھا۔وہ چاہتی تھی پارسا غصہ کر کے کبریٰ کو اسے بد نام کرنے کی کوئی وجہ دے۔پارسا کی معصومیت اور خوبصورتی سے وہ ہمیشہ جلتی آئی تھی۔
“ایک گھنٹے تک کھانا تیار ہو ورنہ جو ہوگا نہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔”
کبریٰ اتنا کہہ کر کچن سے باہر نکل گئی اور پارسا گہرا سانس لے کر اپنی تھکاوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے کھانا بنانے لگی۔
ایسا نہیں تھا کہ ان کا سلوک پارسا کو برا نہیں لگتا تھا۔بعض اوقات ان کا رویہ پارسا کو حد سے زیادہ تکلیف دے جاتا تھا لیکن وہ تو بس ان کی بے جا نفرت اپنی محبت سے مٹانا چاہتی تھی۔
“پارس تمہارے ماموں آ گئے ہیں کھانا بن گیا ہے تو لگاؤ ٹیبل پر۔۔۔”
نادیہ بیگم کی آواز پر پارسا ‘جی مامی’ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ مزید تیزی سے چلانے لگی۔جلدی جلدی اس نے سارا کام ختم کرکے کھانا ٹیبل پر لگایا اور سب کو کھانے کا کہنے چلی گئی۔
“واہ بہت اچھی خوشبو آ رہی ہے آج تو لگتا ہے میری بیٹی نے کچھ بہت مزے کا بنایا ہے۔۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے پارسا کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا لیکن ان کا یوں تعریف کرنا کبریٰ اور نادیہ بیگم کو بہت کھٹکا۔
“جی آپ کی بچی تو بہت ہی زیادہ سگھڑ ہے ایک ہم ہی ہیں جن کے کھانے کی آج تک تعریف نہیں ہوئی۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے نادیہ بیگم کو گھورا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔کھانا کھانے کے بعد پارسا نے برتن اٹھائے تو اپنے باپ کی نظروں میں اچھا بننے کے لیے ہدیٰ بھی اسکا ساتھ دینے لگی۔
“سب ابھی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھیں مجھے ضروری بات کرنی ہے۔”
وہاب صاحب کی بات پر وہ سب خاموشی سے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے جبکہ نادیہ بیگم بات کو جاننے کے لیے کافی بے تاب ہو رہی تھیں۔
“آپ کو پتہ ہے کہ چند دنوں تک سمیر نے واپس آنا تھا لیکن اپنی نوکری کی وجہ سے وہ واپس نہیں آ سکا اس لیے اس نے اور میں نے ایک فیصلہ لیا ہے۔۔۔۔”
اپنے بیٹے کا ذکر سن کر جہاں نادیہ بیگم مزید بے چین ہوئی تھیں وہیں وہاب صاحب کی خاموشی انہیں کھٹکنے لگی۔
“کیسا فیصلہ؟”
نادیہ بیگم نے کافی بے چینی سے پوچھا۔
“میں پارس کو سمیر کے پاس امریکہ بھیج رہا ہوں۔۔۔۔”
وہاں صاحب کی بات پر وہاں بیٹھے ہر شخص کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ہدی یہ سوچ رہی تھی کہ اب وہ اپنے مطلب کا کام کس سے کروائے گی جبکہ کبریٰ کو تو اس کی امریکہ جانے کا سن کر ہی جلن ہو رہی تھی اور نادیہ بیگم کو تو پارسا اور سمیر کا نکاح ہی قبول نہیں تھا پھر پارسا کا مکمل طور پر سمیر کی بیوی بننا کیسے قبول کر لیتیں۔پارسا تو بس حیرت سے آنکھیں بڑی کی ہے آپ نے ماموں کو دیکھتی جا رہی تھی۔
“نن۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔”
نادیہ بیگم سکتے کے عالم سے باہر آئیں تو غصے سے بول اٹھیں۔
“کیوں نہیں ہو سکتا بیوی ہے وہ سمیر کی اور وہیں رہے گی ناں جہاں سمیر رہے گا۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے غصے سے اپنی بیوی کو گھورتے ہوئے کہا۔
“کیسی بیوی نکاح ہوا تھا ان کا بس وہ بھی جب دونوں بچے تھے۔۔۔۔”
“میرا نہیں خیال شادی میں نکاح سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا ہے؟ پارس سمیر کی بیوی ہے اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔”
وہاب صاحب کی آواز میں بہت زیادہ سختی تھی جبکہ پارسا تو ہم اپنے ماموں کو یوں غصے میں دیکھ کر بری طرح سے ڈر چکی تھی۔
“وہ نہیں جائے گی امریکا سمیر کے پاس میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔میرے لائق بیٹے کے لیے یہ فقیر ہی رہ گئی ہے کیا امیر سے امیر خاندان میں رشتہ کرونگی میں اس کا۔۔۔۔”
“نادیہ۔۔۔۔!!!”
بہت صاحب اتنے زیادہ غصے سے چلائے کہ نادیہ بیگم کے ساتھ ساتھ تینوں لڑکیاں بھی خوف سے کانپ اٹھیں۔
“سمیر پر صرف پارس کا حق ہے۔بیوی ہے وہ اس کی اور وہ وہیں رہے گی جہاں سمیر رہے گا۔یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔۔۔۔”
وہاب صاحب اتنا کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے خود کو ہارتا دیکھ نادیہ بیگم بےچینی سے ان کی طرف بڑھیں۔
“لل۔۔۔۔لیکن بہت سی ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کے شوہر باہر کے ملک ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے ساس سسر کے پاس رہتی ہیں پارس بھی ویسے ہی ہمارے پاس رہے گی۔۔۔۔”
اب کی بار وہاب صاحب ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ چکے تھے۔
“پارس کی ڈاکیومنٹیشن کا تھوڑا سا کام رہتا ہے جو میں سعودیہ جانے سے پہلے مکمل کروا لوں گا پھر جس دن میری سعودیہ کی فلائٹ ہوگی اسی دن پارس کی امریکہ کی فلائٹ ہوگی۔”
وہاب صاحب نے حتمی فیصلہ سنایا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیے۔
“نہیں جانے دوں گی میں اسے،اپنے بیٹے کی زندگی نہیں تباہ کرنے دوں گی۔۔۔۔دیکھیے گا سمیر خود طلاق دے گا اسے اور پھر بہت امیر خاندان میں کروں گی اپنے بیٹے کی ۔۔۔۔”
چٹاخ۔۔۔۔
ابھی الفاظ نادیہ بیگم کے منہ میں ہی تھے جب وہاب صاحب انتہائی غصے سے مڑے اور ایک زور دار تھپڑ نادیہ بیگم کے منہ پر مارا۔ کبریٰ اور ہدیٰ کے ساتھ ساتھ پارسا نے بھی حیرت سے وہاب صاحب کو دیکھا۔
“پارس اگلے مہینے ہیں امریکہ سمیر کے پاس جائے گی دیکھتا ہوں ایسا ہونے سے کون روکتا ہے۔”
وہاب صاحب اتنا کہہ کر زار و قطار روتی ہوئی نادیہ بیگم کو وہاں چھوڑ کر چلے گئے۔
“امی۔۔۔۔”
کبریٰ نے آگے بڑھ کر نادیہ بیگم کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا جسے بری طرح سے جھٹک کر نادیہ بیگم پارسا کے قریب آئیں اور انتہائی زور سے اسے اس کے بالوں سے پکڑ لیا۔
“آہ۔۔۔”
“کبھی خوش نہیں رہے گی تو یہ سازشیں کر کے یاد رکھنا۔۔۔۔تباہ و برباد ہو گی اپنی ماں کی طرح تو بھی۔۔۔۔دیکھنا طلاق دے دے گا تجھے میرا سمیر وعدہ ہے یہ میرا۔۔۔۔”
نادیہ بیگم نے ایک جھٹکے سے پارسا کا نازک وجود زمین پر پٹخا اور روتے ہوئے کبریٰ کہ کمرے میں چلی گئیں۔ کبریٰ اور ہدیٰ بھی ان کے پیچھے چلیں گئیں اور پارسا تنہا اس ہال میں بیٹھے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
“کیوں یا اللہ پاک کیوں کرتے ہیں یہ مجھ سے اتنی نفرت؟میں نے تو کبھی انہیں کچھ نہیں کہا ہمیشہ انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔پھر کیا کروں کہ یہ نفرت مٹ جائے؟کیا کروں ؟”
بہت دیر تک پارسا وہاں بیٹھ کر روتی رہی تھی لیکن اسے چپ کرانے والا وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
🔥🔥🔥🔥
“ماموں۔۔۔۔”
پارسا کی آواز پر گہری سوچ میں ڈوبے وہاب صاحب حقیقت کی دنیا میں واپس آئے اور مسکرا کر اپنی معصوم سی بھانجی کو دیکھا۔
“ہاں کہو بیٹا کیا بات ہے؟”
وہاب صاحب نے بہت محبت سے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا تو پارسا خاموشی سے ان کے پاس صوفے پر بیٹھ کر اپنا سر جھکا گئی۔
“ماموں آپ سے کچھ کہنا ہے مجھے۔۔۔”
“ہاں کہو بیٹا۔۔۔”
پارسا کو بے چینی سی اپنے ہاتھ مسلتا دیکھ وہاب صاحب نے نرمی سے کہا۔
“مم۔۔۔میں سمیر کے پاس نہیں جانا چاہتی آآآ۔۔۔۔آپ انہیں منع کر دیں میں مامی کے پاس ہی رہوں گی۔۔۔۔”
وہاب صاحب نے گہرا سانس لیا اور نرمی سے پارسا کے ہاتھ تھامے۔
“دیکھو بیٹا ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ہر ایک کو مکمل طور پر خوش نہیں کر سکتے۔۔۔خاص طور پر ان لوگوں کو جو آپ سے آپ کی اچھائی کی وجہ سے جلتے ہوں۔۔۔۔”
پارسا نے حیرت سے آنکھیں اٹھا کر وہاب صاحب کو دیکھا۔
“ایسے لوگوں کے لئے اپنی زندگی اور خوشیوں کی قربانی کبھی مت دینا بیٹا۔۔۔۔کیونکہ ان کے قریب تمہاری قربانی کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوگی سمجھ رہی ہو ناں میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔”
پارسا نے اپنا سر خاموشی سے جھکا لیا اور ہاں میں سر ہلایا۔
“شاباش تو خوشی خوشی سمیر کے پاس جاؤ اور اپنا سارا دھیان اس پر دو کیونکہ وہی تمہارا ہمسفر ہے بیٹا۔۔۔”
پارسا نے نم آنکھوں سے وہاں صاحب کو دیکھا۔
“لیکن میرا انکے پاس جانا مامی کو بالکل اچھا نہیں لگے گا۔۔۔”
وہاب صاحب نے بہت نرمی سے اس کی خوبصورت آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔
“لیکن کل کو جب اپنے بیٹے کو تمہارے ساتھ بے انتہا خوش دیکھے گی ناں تو اپنے اس رویے کو کوسے گی دیکھنا تم۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں کہ سمیر تمہارے ساتھ بہت زیادہ خوش رہے گا کیونکہ میری بیٹی کسی بھی جگہ کو جنت بنا سکتی ہے۔۔۔۔”
وہاب صاحب کے اعتماد پر پارسا نے اپنا سر جھکا لیا اور خود سے وعدہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اس اعتماد کو کبھی نہیں ٹوٹنے دے گی۔
“ٹھیک ہے ماموں جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی کروں گی۔۔۔”
وہاب صاحب نے مسکرا کر اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔
“تو پھر ہنسی خوشی اپنے شوہر کے پاس جانے کی تیاری کرو تم اور وہاں پہنچ کر اپنی اور اس کی زندگی خوشیوں سے بھر دو۔۔۔۔”
پارسا نے حیا سے سر جھکایا اور مسکرا دی۔اسے اپنا شوہر یاد آیا جسے پانچ سالوں سے اس نے بس تصویروں اور ویڈیو کالز میں ہی دیکھا تھا لیکن اب وہ اسکے پاس جا رہی تھی ایک خوشیوں سے بھرے جہان میں جہاں بہت سے پھول اسکا انتظار کر رہے تھے۔لیکن وہ معصوم یہ نہیں جانتی تھی کہ پھولوں تک پہنچنے کے لیے بہت سے کانٹوں سے گزرنا پڑتا ہے اور کانٹوں کا وہ راستہ ابھی بہت زیادہ طویل تھا۔
