55.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

پارسا اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے آئی تو وہ لاک تھا۔یہ دیکھ کر وہ مزید پریشان ہو گئی۔کہیں سمیر اسے وہاں ڈھونڈ تو نہیں رہا تھا اگر وہ اسے وہاں نہ ملی تو وہ کیا کرے گا۔
یہ سوچ کر پارسا پریشانی سے وہاں ٹہلنے لگی لیکن تھوڑی دیر کے بعد ہی سمیر وہاں پر آ گیا۔
“ارے تم خود ہی واپس آ گئی۔۔۔۔سوری یار کام میں اتنا مصروف تھا کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اب فریش ہو کر تمہیں ہی لینے جانے والا تھا۔۔۔۔”
سمیر نے خوشگوار انداز میں کہا جبکہ پارسا اس سے یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اس کی اتنی اہمیت تھی کہ کام ختم ہونے کے دو گھنٹے بعد تک وہ اسے بے یارومددگار چھوڑ دے۔
“کیسا رہا تمہارا کام کا پہلا دن؟”
پارسا کے گھر میں داخل ہوتے ہی سمیر نے دروازہ بند کر کے پوچھا۔پارسا کچھ دیر سوچتی رہی پھر سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔
“انہوں نے مجھے نکال دیا۔۔۔۔”
پارسا نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا تو سمیر حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔
“کیوں؟”
سمیر نے غصے سے اسکے قریب آ کر پوچھا۔
“کیونکہ میں انکا یونیفارم نہیں پہن سکتی تھی سمیر وہ آدھا۔۔۔۔”
“شٹ اپ یو سٹوپڈ گرل پتہ بھی ہے کہ یہ جاب کتنی ضروری ہے مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ تم کوئی بے وقوفی ہی کرو گی۔”
سمیر کے دانت کچکچا کے کہنے پر پارسا سر جھکا کر اپنی تزلیل پر آنسو بہاتی رہی پھر ضبط سے اپنے آنسو پونچھ کر سر اٹھایا۔
“آپ فکر مت کریں ایک آدمی سے لفٹ لے کر آئی تھی جنہوں نے کہا میں وہاں کل جاؤں گی تو مجھے نوکری مل جائے گی اور مجھے اپنی حیا کا سودا کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
پارسا اتنا کہہ کر اپنے بیگ کے پاس چلی گئی۔پہلے تو سمیر خاموش رہا پھر اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“کس سے لفٹ لے کر آئی تھی تم؟
سمیر نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔
“تھے ایک بھلے انسان۔۔۔۔”
پارسا نے سنجیدگی سے کہا اور اپنے کپڑے پکڑ کر کمرے کی جانب چل دی۔
“ٹھیک ہے اس کا مطلب تم گھر کا راستہ جانتی ہو تو کل چھٹی ہونے پر خود ہی ٹریم سے گھر آ جانا کیونکہ مجھے فارغ ہوتے ہوئے اکثر رات کے نو بج جاتے ہیں۔”
پارسا نے ہاں میں سر ہلایا اب وہ مزید سمیر کو کچھ کہہ کر تزلیل برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“اور آج پھر بابا نے تم سے بات کرنی ہے پلیز انہیں اپنی جاب کے بارے میں کچھ مت بتانا۔میری تو مجبوری ہے تم سے جاب کروانا وہ فالتو میں بات کا بتنگڑ بنا دیں گے.”
پارسا نے بس خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“چلو چینج کر کے کھانا بنا لو یار بھوک لگی ہے کافی۔۔۔”
پارسا نے ہاں میں سر ہلایا اور وہ کپڑے بدل کر کچن میں کھانا بنانے چلی گئی۔وہ شخص جسے وہ اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھی اپنی بے رخی سے اس کے دل سے اترتا جارہا تھا پھر بھی وہ اسکو اچھا لگنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی کیونکہ وہ اپنے ماموں کا مان نہیں توڑنا چاہتی تھی۔
🔥🔥🔥🔥
ڈیمن اپنے کمرے کے بڑے سے بیڈ پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا نیند روز کی طرح اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔لیکن آج اسے کرب میں مبتلا کرنے کے لیے صوفیا کی لاش اسکی آنکھوں کے سامنے نہیں تھی بلکہ اسکی بیلا تھی جو اس کے دل کو وہ سکون دے رہی تھی جو اسے کبھی نہیں ملا تھا۔
ڈیمن خود نہیں جانتا تھا کہ وہ اس لڑکی کے بارے میں کیوں سوچ رہا تھا،وہ کوئی بے تحاشا خوبصورت لڑکی تو نہیں تھی،اگر بات صرف خوبصورتی کی ہوتی تو روزلی ہر وقت اس پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتی تھی۔نہیں اس لڑکی میں کچھ ایسا تھا جو کسی میں نہیں تھا،کسی میں بھی نہیں۔ڈیمن نے گہرا سانس لیا پھر اپنا موبائل پکڑ کر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“ہیلو۔۔۔۔”
تھوڑی دیر فون بجنے کے بعد اٹھایا جا چکا تھا۔
“مجھے ایک کام ہے تم سے زوئی۔۔۔۔”
ڈیمن کی آواز سن کر زوئی ایک پل کے لیے خاموش ہو گئی۔
“ہاں کہوں ڈیمن کیا کر سکتی ہو میں تمہارے لئے؟”
“آج ایک لڑکی تمہارے پاس نوکری کے لیے آئی تھی جسے تم نے یونیفارم پہننے سے انکار کرنے کی وجہ سے نکال دیا۔”
ڈیمن نے اس بیلا کو یاد کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“ہاں کیوں خیریت؟”
زوئی نے گھبرا کر پوچھا۔وہ عورت جو سب پر رعب جماتی تھی ڈیمن کے سامنے اپنی اوقات جانتی تھی۔
“وہ کل پھر سے آئے گی اور تم اسے نہ صرف نوکری دو گی بلکہ وہ جو بھی پہننا چاہیے وہ پہن سکتی ہے تم اسے کچھ بھی پہننے پر مجبور نہیں کرو گی ۔”
ڈیمن نے حکم دیتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے ڈیمن ایسا ہی ہوگا۔”
ڈیمن خاموش ہو گیا تو زوئی اسکی خاموشی دیکھ کر بول اٹھی۔
“کیا میں تمہارے لئے کچھ اور کر سکتی ہوں؟”
“ہاں۔۔۔ “
ڈیمن نے سنجیدگی سے کہا پھر اچانک اس کے چہرے پر بہت زیادہ وحشت آئی تھی۔
“اس کے سامنے میری سچائی تمہاری زبان پر نہ آئے ورنہ پھر کبھی کچھ اور بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔”
ڈیمن نے وارننگ دے کر فون بند کر دیا اور آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔وہ لڑکی جو کوئی بھی تھی ڈیمن پر اسکا اتنا اثر انداز ہونا اچھا نہیں تھا اس لیے ڈیمن نے فیصلہ کیا تھا کہ مزید ایک پل وہ اس کے بارے میں سوچ کر نہیں گزارے گا لیکن یہ اسکا خواب ہی تھا کیونکہ باقی کی پوری رات اس نے وہ معصوم چہرہ یاد کر کے گزاری تھی۔
🔥🔥🔥🔥
پارسا نے صبح اٹھ کر فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے اور سمیر کے لیے ناشتہ بنایا اور پھر کچن وغیرہ سنبھال کر تیار ہونے لگی۔سمیر نے جب اسے ایک کالے فراک پاجامے پر حجاب کیے دیکھا تو اسے گھورنے لگا۔
“آج تم نے یہ پھر سے لپیٹ لیا سر پر؟”
اب کی بار پارسا سمیر کے غصے سے ڈری نہیں بلکہ اس نے اپنے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے شوہر کو بھی اسے سب کے سامنے بے حجاب کرنے کا حق نہیں تھا۔
“انہوں نے مجھے کہا تھا کہ میں جو چاہے پہن سکتی ہوں مجھے نوکری مل جائے گی لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں جاب کروں تو مجھے حجاب کرنے دیں کیونکہ اسکے بغیر میں باہر نہیں جاؤں گی۔۔۔۔”
سمیر پارسا کی بہادری پر حیران ہوا لیکن پھر کندھے اچکا کر آگے بڑھ گیا۔ان کے اپارٹمنٹ سے دس منٹ پیدل چل کر میٹرو اسٹیشن آتا تھا جس سے سمیر نے پارسا کو کلب بھیجا۔
وہاں پھر سے واپس آ کر پارسا ایک پل کے لیے ڈر گئی لیکن پھر اس مہربان شخص کی بات یاد کر کے ہمت کرتے ہوئے واپس وہاں پر چلی گئی۔اسے سامنے ہی ماما زوئی کسی سے باتیں کرتے ہوئے نظر آئی۔
“ارے آ گئی تم؟ ہممم وہ بھی وقت سے پہلے اچھی بات ہے۔۔۔۔”
ماما زوئی کی پارسا پر نظر پڑی تو مسکراتے ہوئے کہنے لگیں اور اسے اپنے ساتھ آفس میں آنے کا اشارہ کیا۔
“ویسے چہرہ کافی معصوم ہے تمہارا لیکن اندر سے کافی چالاک ہو تم۔۔۔”
“جی؟”
ماما زوئی کی بات پر پارسا حیران ہوئی۔
“میں نے تمہیں جاب نہیں دی تو شکایت لے کر میرے باس کے پاس پہنچ گئی اور نہ جانے اس پر کیا جادو کیا کہ تمہیں یونیفارم نہ پہننے کی اجازت بھی مل گئی۔۔۔۔”
ماما زوئی کی بات پر پارسا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“اپکا باس؟”
“ہاں ناں ڈیمن موریٹی جانتی ہو ناں تم اسے۔۔۔۔”
پارسا کو وہ شخص یاد آیا جس نے اسکی مدد کی تھی۔اسے دیکھ کر پارسا کو یہ اندازہ تو ہوا تھا کہ وہ بہت امیر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ہی یہاں کا مالک تھا ۔
“تو کیا میں انہیں کپڑوں میں کام کر سکتی ہوں؟”
پارس نے بہت امید سے پوچھا۔
“ہاں بلکل کر سکتی ہو لیکن ویٹرس کا کام نہیں کیونکہ لوگ تمہیں اس حلیے میں کوئی آرڈر ہی نہیں دیں گے تو کیا تم صفائی کر لو گی؟”
پارسا نے ہاں میں سر ہلایا جب تک وہ اپنا حجاب قائم رکھ سکتی تھی وہ کچھ بھی کر لے گی۔
“جیسے تمہیں بہتر لگے لیکن یہ سر پر سکارف لینا ضروری ہے کیا؟”
پارسا کے ہاں میں سر ہلانے پر ماما زوئی نے گہرا سانس لیا۔
“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی لیکن اتنا بتا دوں کہ اس سکارف کی وجہ سے لوگ تمہیں عجیب نظروں سے دیکھیں گے،تمہیں باتیں بھی کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ تم سے بدتمیزی کریں۔۔۔۔”
پارسا نے انکی باتوں پر غور کیا۔اسے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
“کوئی بات نہیں میں مینیج کر لوں گی۔۔۔”
ماما زوئی نے اپنے کندھے اچکا دیے اور اسے باہر کام پر جانے کا اشارہ کیا۔جولی نے اسے ہر کام سمجھا دیا۔اسکی زیادہ ڈیوٹی تو نہیں تھی بس اسے لوگوں کے جانے کے بعد ٹیبلز صاف کرنے تھے جبکہ فرش کو صاف کرنے کی زمہ داری اور کسی عورت کی تھی۔
وہ چھ بجے باہر نکلی تو آسمان پر تقریبآ اندھیرا چھا چکا تھا لیکن آج اسے راستہ آتا تھا کیونکہ صبح آتے ہوئے اس نے ہر راستہ بہت غور سے دیکھا تھا۔ابھی اس نے چند قدم ہی اٹھائے تھے جب ایک گاڑی اسکے قریب آ کر رکی۔گاڑی کا شیشہ نیچے ہونے پر پارسا نے حیرت سے ڈیمن کو دیکھا۔
“سر آپ؟”
پارسا نے گھبرا کر اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ یہ شخص اسکا باس تھا۔
“گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔”
ڈیمن کی بات پر پارسا نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں تھینک یو سر میں آپ کی شکر گزار ہوں لیکن میں میٹرو سے چلی جاؤں گی۔۔۔”
پارسا اتنا کہہ کر چلنے لگی لیکن ڈیمن غصے کے عالم میں گاڑی سے نکل کر اسکے سامنے آیا۔
“پاگل ہو کیا اتنی رات ہو گئی ہے میں تمہیں چھوڑ کر آتا ہوں۔۔۔”
پارسا نے نظریں جھکا کر پھر سے انکار میں سر ہلایا۔
“کوئی بات نہیں سر اب تو مجھے روز یہیں سے اسی وقت جانا ہے۔۔۔۔میں چلی جاؤں گی کوئی بات نہیں۔۔۔۔”
پارسا نے مسکرا کر کہا اور آگے بڑھ گئی۔
“یہ ایل وی(لاس ویگاس)ہے بیلا لوگ اسے گناہوں کا شہر کہتے ہیں جانتی بھی نہیں تم کہ ایک برے آدمی کی تم پر نظر پڑی تو کیا ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ؟”
ڈیمن کے ضمیر نے اسے پکارا کہ لاس ویگاس کے سب سے برے آدمی کی نظروں میں تو وہ پہلے ہی تھی اس سے زیادہ خطرناک کیا ہو گا اس کے لیے؟
“آپ فکر مت کریں سر جب جب جو جو ہونا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے۔میرے اللہ تعالیٰ میرے محافظ ہیں۔۔۔۔بائے۔۔۔۔”
پارسا اتنا کہہ کر میٹرو سٹیشن کی جانب چل دی۔میٹرو میں بیٹھ کر اس نے شکر کیا کہ وہ صحیح سلامت یہاں تک پہنچ گئی تھی۔تبھی کوئی آدمی اسکے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تو پارسا نے حیرت سے ڈیمن کو دیکھا۔
“کیا؟میں بھی میٹرو میں جا سکتا ہوں میری مرضی ہو تو۔۔۔۔”
ڈیمن نے اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔پارسا نے سر جھکا کر ہاں میں سر ہلا دیا۔
“نام کیا ہے تمہارا؟”
ڈیمن کے اچانک سے پوچھنے پر پارسا نے چونک کر اسے دیکھا پھر اپنی نظریں جھکا گئی۔
“ویسے میرا نام پارسا سمیر وہاب ہے لیکن سب مجھے پارس ہی بلاتے ہیں۔۔۔۔”
ڈیمن نے ہاں میں سر ہلایا۔
“پارسا،کیا مطلب ہوتا ہے اس کا؟”
“پارسا پاکیزہ کو کہتے ہیں سر۔۔۔۔”
ڈیمن نے ہاں میں سر ہلایا۔ہاں وہ اپنے نام جیسی ہی پاکیزہ تھی۔
“کس ملک سے ہو تم بیلا؟”
“میں پاکستان سے ہوں سر لیکن آپ مجھے بیلا کیوں بلاتے ہیں میرا نام پارس ہے۔”
پارسا کے سوال پر ڈیمن ہلکا سا مسکرایا۔
“پھر کبھی بتاؤں گا اور تم مجھے ڈیمن بلا سکتی ہو میرا نام سر نہیں۔۔۔”
پارسا نے فوراً سر انکار میں ہلایا۔
“نہیں آپ میرے باس ہیں میں آپ کو سر ہی بلاؤں گی۔۔۔۔”
ڈیمن نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس لڑکی کو دیکھا جس نے اسکی بات نہیں مانی تھی اور اپنی بات نہ ماننے والے کا وہ بہت برا حال کرتا تھا پھر اسکا بات نہ ماننا کیوں برا نہیں لگ رہا تھا۔
“کتنے سال کی ہو تم؟”
ڈیمن کے اگلے سوال پر پارسا نے بھی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“کیا آپ جاب دینے کے بعد میرا انٹرویو لے رہے ہیں؟”
“یہی سمجھ لو۔۔۔۔”
ڈیمن نے مسکرا کر کہا۔
“میں انیس سال کی ہوں،پاکستان اپنے ماموں کے گھر رہتی تھی اور یہاں اپنے۔۔۔۔۔۔”
پارسا ایک پل کو رکی اور بہت سا دکھ اسکی آنکھوں میں سما گیا۔
“اپنے کزن کے ساتھ رہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”
پارسا کو وہ پل یاد آیا جب سمیر نے اسے یہ کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی بتانے پر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔اچانک ہی میٹرو پارسا کے سٹیشن پر رکی تو پارسا خاموشی سے نیچے اتر کر گھر کی جانب چل دی جبکہ ڈیمن بھی اسکے ساتھ خاموشی سے چلتا اسکے گھر تک آیا۔
“آپ کا میرے ساتھ آنے کا شکریہ سر،سچ تو یہ تھا کہ پہلی مرتبہ اکیلے سفر کرنے سے ڈر لگ رہا تھا لیکن آپ نے میری مدد کی،میں آپ کی شکر گزار ہوں۔۔۔۔”
پارسا نے نظریں جھکا کر کہا اور اس کا ہمیشہ یوں نظریں جھکا کر حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے بس کام کی بات کرنا ڈیمن کے اس مردہ دل کو دھڑکنے پر مجبور کر رہا تھا۔
“بائے سر۔۔۔۔”
پارسا نے نظریں جھکا کر کہا اور اپنے اپارٹمنٹ کی جانب چلی گئی۔
“Bella Ciao.”
ڈیمن نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس لڑکی کی جانب وہ کیوں کھینچا چلا جا رہا تھا لیکن یہ ان دونوں کے لیے ہی ٹھیک نہیں تھا کیونکہ وہ لڑکی تو ایک فرشتے کی مانند تھی،معصوم اور پاکیزہ جبکہ ڈیمن تو ایک درندہ تھا۔
🔥🔥🔥🔥
جارج نے حیرت سے سمیر کی طرف دیکھا۔
“کیا کہا تم نے کتنے پیسے چاہیں تمہیں؟”
“دس ہزار ڈالر۔۔۔۔”
سمیر کی بات پر جارج کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔
” اتنے پیسوں کا کیا کرو گے تم؟”
سمیر نے گہرا سانس لیا۔
“اینا کو برتھ ڈے گفٹ ایک گاڑی چاہیے وہ خریدوں گا۔۔۔۔”
جارج ہلکا سا ہنس دیا۔
“پھر تو تم پاگل ہو جو تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری وہ بیوقوف بیوی ویٹرس کا کام کر کے وہ پیسہ کما لے گی۔۔۔”
سمیر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔اس نے صرف جارج کو بتایا تھا پارسا اور اپنے بارے میں۔
“اسے میں نے اس وجہ سے نوکری پر نہیں لگایا۔ پاکستان نہ جانے کے لیے میں نے بابا سے جھوٹ بولا تھا کہ مجھے نوکری مل گئی ہے اب مجھے چند پیسوں سے یہ بات تو سچ ثابت کرنی ہے ناں۔”
جارج سمیر کی چالاکی پر مسکرا دیا۔
“بہت کمینی چیز ہو تم لیکن اگر تمہاری بیوی نے تمہارے بابا کو یہ بات بتا دی تو۔۔۔۔؟”
“ارے نہیں بتائے گی بہت بڑی بیوقوف ہے،میں نے منع کیا ہے ناں اسے تو میری ہر بات مانے گی میری نظر میں اچھا بننے کو بہت بے چین ہے بے چاری۔۔۔۔”
سمیر نے ہنستے ہوئے کہا تو جارج کے چہرے پر خباثت آئی۔
“ویسے یار پیاری بہت ہے کیوٹ اور انوسینٹ سی۔۔۔۔”
سمیر نے اپنی نظریں گھمائیں۔
“مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی اس کی یہ ٹیپیکل حرکتیں مجھے اینا جیسی بولڈ لڑکی چاہیے اپنے لیے۔۔۔”
سمیر نے سامنے پڑا شراب کا گلاس اپنے ہونٹوں سے لگایا۔
“بس کچھ عرصے کی بات ہے اسے میں واپس پاکستان بھیج دوں گا اور وہ وہاں میرے ماں باپ کی خدمت کرتی رہے گی۔۔۔یہاں اینا کے ساتھ بھی اینجوائے اور وہاں پاکستان اسے بھی پاس رکھوں گا۔۔۔۔کبھی ایک مہینے کے لیے پاکستان چکر لگے تو وہاں بھی تو اینٹرٹینمنٹ ہو لیکن یہاں وہ مجھے گورا نہیں کیونکہ یہاں میرے لیے اینا ہے۔۔۔۔”
سمیر نے ایک آنکھ دبا کر کہا تو جارج اسکی قسمت پر جل بھن گیا۔
“خوش قسمت آدمی ہو۔۔۔”
سمیر نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ویسے اب دس ہزار ڈالرز کا بندوست کہاں سے کریں؟”
سمیر کے یہ بات پوچھنے پر جارج بھی کچھ دیر سوچ میں ڈوب گیا۔
“ویسے ایک آدمی کو جانتا ہوں میں وہ تمہیں جتنے چاہو اتنے پیسے ادھار دے دے گا۔۔۔۔لیکن”
“لیکن کیا؟”
سمیر نے بے چینی سے پوچھا۔
“لیکن زرا خطرناک آدمی ہے اگر وقت پر پیسے واپس نہیں کئے تو مسئلہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔۔۔۔”
سمیر یہ بات سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔اسے اینا کو گفٹ دینے کے لیے پیسوں کی بھی ضرورت تھی لیکن ایک خطرناک آدمی سے پیسے لینا کہیں سچ میں ہی کوئی مسلہ نہ کھڑا کر دیتا۔۔۔ل
“لیکن یار میں اتنے پیسے واپس کیسے کروں گا؟”
سمیر نے پریشانی سے جارج کا گلابی چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“یار ٹینشن کیوں لیتے ہو میں ہوں ناں تم جتنے پیسے جوڑ سکو گے جوڑ لینا باقی پیسے میں تمہیں دے دوں گا کیونکہ فلحال میرے پاس پیسے نہیں لیکن اگلے مہینے تک ہوں گے۔”
سمیر نے کچھ دیر سوچا پھر طائرانہ نظروں سے جارج کو دیکھا۔
“لیکن تم یہ سب کیوں کر رہے ہو جارج بدلے میں میں کیا کروں تمہارے لیے؟”
سمیر کے سوال پر جارج مسکرا دیا۔پارسا کا معصوم چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آیا۔
“یہ میں تمہیں وقت آنے پر بتاؤں گا۔”
سمیر نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے مین پھر میں اسے کال کر کے پوچھتا ہوں۔۔۔۔”
جارج نے اتنا کہہ کر اپنا موبائل فون نکالا اور اس آدمی کو کال کرنے لگا۔کچھ دیر بعد بات کرکے جارج نے مسکراتے ہوئے سمیر کو دیکھا۔
“اچھی خبر ہے وہ ہم سے ابھی اپنے کلب میں ملنے کو تیار ہے۔۔۔”
سمیر نے ابھی کا سن کر گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے۔ایک پل کو اسے خیال آیا کہ پارس گھر میں اکیلی تھی لیکن پھر اس خیال کو جھٹکتا وہ جارج کے ساتھ اس آدمی کے پاس چلا گیا۔جو ایک کافی بڑے کلب کا آنر تھا۔ایڈی ایک کافی بھاری بھرکم آدمی تھا جسکا تقریباً پورا وجود ٹیٹو سے بھرا ہوا تھا۔
“ہاں بولو بچے کتنے پیسوں کی ضرورت ہے تمہیں؟”
ایڈی نے سمیر کو سر سے لے کر پیروں تک دیکھتے ہوئے کہا۔
“دس ہزار ڈالرز کی۔۔۔۔”
ایڈی نے مسکراتے ہوئے وہ پیسہ نکال کر سمیر کی جانب بڑھایا۔
“تم یہ پیسے رکھ سکتے ہو لیکن ایک بات یاد رکھنا یہ پیسہ ڈیمن کی ملکیت ہے تمہیں مقررہ وقت پر کسی بھی حال میں واپس کرنے ہوں گے۔۔۔۔”
ڈیمن کا نام سن کر سمیر نے گھبرا کر جارج کو دیکھا تھا۔ویگاس میں رہتے ہوئے اتنا تو سمیر بھی جانتا تھا کہ ڈیمن موریٹی مافیا باس تھا جو پورے لاس ویگاس میں ہر برا کام کروا رہا تھا لیکن پھر بھی پولیس اسے پکڑنے میں ناکام تھی۔کیونکہ نہ تو ڈیمن کے خلاف کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی گواہ اور اتنے امیر آدمی پر ہاتھ ڈالنا بھی کہاں آسان تھا۔
سمیر مافیا کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا تھا لیکن اسے اینا کے سامنے اپنی انا کو بچانا تھا اس لیے اس نے وہ پیسے پکڑ کر ایڈی کو دیکھا۔
“میں اگلے مہینے تک یہ پیسے واپس کر دوں گا۔۔۔۔”
سمیر کی بات پر ایڈی نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے جانے کا کہا۔سمیر نے حیرت سے ایڈی کو دیکھا۔
“آپ نے ثبوت کے لیے کوئی کاغذی کاروائی نہیں کرنی کیا؟”
سمیر کے سوال پر ایڈی ہنس دیا۔
“فکر مت کرو بچے تم ڈیمن کا پیسہ کھا کر جہنم میں بھی نہیں چھپ سکتے ہم یہ پیسہ وصول کر ہی لیں گے۔۔۔جاؤ اور مزے کرو۔۔۔۔”
ایڈی کی بات پر سمیر نے اپنا تھوک نگلا۔اسے ڈر لگ رہا تھا لیکن پھر بھی ان پیسوں کو لے کر چلا گیا کیونکہ اسے اپنی جھوٹی انا کو جو قائم رکھنا تھا۔