Parsa By Harram Shah Readelle50196 Last updated: 27 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Parsa By
Harram Shah
آج پورے پندرہ دنوں کے بعد پارسا نے پہلی مرتبہ اپنی آنکھیں کھولیں تھیں اور ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے اسے اپنے سر میں اٹھنے والے شدید درد کا اندازہ ہوا تھا۔ پھر ہلکی سی آنکھیں کھولنے پر اسکی پہلی نظر وہاب صاحب پر پڑی۔پہلے تو وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھتی رہی جیسے کہ انہیں پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو پھر آہستہ سے بولی۔ "ماموں۔۔۔ " پارسا کے پکارنے پر وہاب صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "میں ہی ہوں ماموں کی جان۔۔۔آ گیا ہوں میں آپ کے پاس۔۔۔۔" وہاب صاحب نے روتے ہوئے کہا اپنی بچی کو اس حال میں دیکھنا ان کے لیے بہت زیادہ تکلیف دہ تھا۔تبھی بہت سے ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئے اور پارسا کا معائنہ کرنے لگے۔ "ہیلو مس۔۔۔" ایک ڈاکٹر نے اسکی بند ہوتی آنکھوں کو مسکرا کر دیتے ہوئے کہا۔جبکہ پارسا حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ "اپنا نام یاد ہے آپ کو؟" ڈاکٹر کے سوال پر پارسا کچھ دیر کے لیے سوچ میں ڈوبی رہی پھر آہستہ سے بولی۔ "پارسا مہتاب۔۔۔۔" پارسا کا جواب سن کر ڈاکٹر مسکرا دیا۔ "یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو سب یاد ہے یعنی آپ کی ریکوری ہماری سوچ سے زیادہ اچھی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔" "کک۔۔۔کیا ہوا تھا مجھے۔۔۔۔؟" پارسا نے پریشانی سے پوچھا۔ "آپ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا آہستہ آہستہ آپ کو سب یاد آ جائے گا لیکن ابھی آپ کو بہت سا ریسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔" ڈاکٹر نے پارسا کو مسکرا کر کہا اور دروازے میں کھڑے لوکا کی جانب مڑا۔ "وہ بلکل ٹھیک ہیں اب مسٹر سودیری۔۔ " لوکا کے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر کمرے سے باہر چلا گیا اور لوکا نے وہاب صاحب کو دیکھا جو پھر سے بے ہوش ہوئی پارسا کے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ "آپ فکر مت کریں انکل وہ اب ٹھیک ہے۔۔۔۔" وہاب صاحب نے مسکرا کر اپنے آنسو پونچھ دیے۔ "بہت شکریہ بیٹا اگر تم مجھے ہر بات بتا کر یہاں نہیں لاتے تو نا جانے اپنی بچی کو کہاں کہاں ڈھونڈتا رہتا۔" لوکا نے ہاں میں سر ہلایا۔ " ڈیمن کی وصیت کے مطابق اسکے ٹھیک ہوتے ہی اسے آپ کے ساتھ بھیج دوں گا۔۔۔۔" وہاب صاحب نے ہاں میں سر ہلایا تو لوکا ایک آخری نگاہ پارسا پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔وہاب صاحب کچھ زیادہ تو ان لوگوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے لیکن سمیر کو پاکستان بھیجنے کے بعد وہ ڈیمن موریٹی سے ملنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگے۔ پھر ایک دن لوکا خود ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ ڈیمن کے دشمنوں نے پارسا کی جان لینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اب بلکل ٹھیک تھی اور وہ انہیں پارسا کے پاس لے جانے آیا ہے۔ یہاں آ کر پارسا کی حالت دیکھ کر وہاب صاحب کا دل کیا کہ ڈیمن موریٹی کی جان لے لیں لیکن ڈیمن کے بارے میں جو انہیں سننے کو ملا تھا وہ سن کر وہ بے بس ہوگئے تھے۔ اب انہیں جلد از جلد اپنی بچی کو ان لوگوں کے درمیان سے لے کر جانا تھا۔اتنی دور جہاں ان لوگوں کا سایہ بھی اس پر نہ پڑتا۔ 🔥🔥🔥🔥
