64.6K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

نفرین زدہ

(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)

از قلم

میرعنبر

قسط نمبر ۶

رات کا آخری پہر تھا جب وہ دل خراش چیخ کے ساتھ اٹھ بیٹھی تھی
ایک بار پھر وہ ڈراؤنے خوابوں کے زیر اثر جھٹکا کھاتے ہوئے جاگی تھی
پسینے میں شرابور جسم پر ابھی بھی کپکپی طاری تھی۔۔۔
جیسے ہی حواس کچھ بحال ہوئے تو اس نے اردگرد ماحول کا جائزہ لیا۔۔ وہ اپنے کمرے میں موجود تھی
ماحول میں پھیلے گپ اندھیرے کے باعث اسے اپنے اندھے ہونے کا گماں ہو رہا تھا
حلق کو تر کرتے ہوئے وہ چارپائی سے نیچے اتری تھی۔۔۔
اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے گرتے سنبھلتے دروازہ تلاش کیا
لکڑی کی چوکھٹ کو دھکیلتے ہی اس نے صحن میں قدم رکھے تھے ۔۔۔۔
آج چودویں کی رات تھی چاند پورے اُفق پر جلوے بکھیر رہا تھا
صحن میں پھیلی روشنی میں ایک ایک شے واضح ہو رہی تھی مگر نجانے کیوں دل اب بھی عجیب سی کیفیت میں جکڑا ہوا تھا
آئینی دروازے سے کچھ فاصلے پر اس کی ماں کا کمرہ تھا جہاں وہ رات کو جاگ کر عبادت کیا کرتی تھی
نجانے کیوں اسے اپنی ماں کی عبادت کچھ خاص پسند نہ تھی
ایک تو اس کمرے کے اطراف پھیلی یاسیت دوجا اندر جانے پر اس پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی جیسے کسی نے دل مُٹھی میں دبوچ لیا ہو اور دماغ جکڑا گیا ہو
یہی وجہ تھی وہ ضرورت پڑنے پر بھی وہاں جانے سے گریز کرتی تھی
مگر اب صورتحال کسی اور نوعیت کی تھی۔۔
وہ پھر آئے تھے ۔۔ اور اب کی بار دوہری تکلیف لیے ہوئے تھے
اس کے خوابوں کی دنیا اتنا بھیانک تھی کہ اب سونے سے پہلے وہ سو بار سوچا کرتی تھی
ان آنے والوں میں سے کچھ کی شکل تو اسے زبانی یاد ہو چکی تھی کہ اگر وہ مصور ہوتی تو آنکھ بند کر کے ان کے نقوش تراش لیتی ۔۔۔ اور بات اگر چہرے کے نقوش تک نا بھی جاتی تو اُن کی جانب سے دی گئی اذیتیں ضرور اس کے بدن پر نقش ہوکر رہ گئی تھی
کون یقین کر سکتا تھا کہ خوابوں میں جھیلے گئے ظلم کی داستان اس کے کے جسم پر رقم ہو جاتی تھی جس کی ٹھیسیں وہ آئندہ کئی دنوں تک محسوس کیا کرتی
عمر کے سترویں برس میں وہ جن اذیتوں سے گزر رہی تھی کوئی عام شخص اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
یہ ہفتے میں تیسری بار تھا اپنی ماں کی ہدایت کے مطابق اسے ابھی عین وقت جاکر اپنے خواب کے بارے میں بتانا تھا ،۔۔

امی۔۔۔ ۔۔،، آپ اندر ہیں؟؟
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے با مشکل اونچی آواز میں کہا تھا ، وہی دل دبوچے جانے کی کیفیت اس پر طاری ہونا شروع ہو گئی تھی

جواب نہ ملنے پر اس نے پورے زور س دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔ اندر سے تو کوئی جواب نہ ملا مگر لکڑی کا پٹ چرر کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا

کچھ پل وہ یوں ہی کھڑے کمرے میں پھیلی سیاہی دیکھتی رہی مگر پھر ہمت کرتے ہوئے اندر قدم رکھے ۔۔۔ ہتھیلی سے منہ ڈھانپے ہونے کے باوجود خون جلنے کی بدبو مسلسل اس کی نسوں سے ٹکڑا تھی
دیوار کے سرے پر لگے بورڈ کا بٹن آن کرتے ہی یکدم پورے کمرے میں آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی پھیل گئی ،۔۔ کچھ لمحوں بعد جو ہی اس نے آنکھیں کھولیں تو فرش پر پھیلے سرخ مائع کو دیکھ کر بے اختیار وہ الٹے قدموں ہوئی تھی ،۔۔ مگر نہیں شاید کچھ اور بھی تھا جو ابھی اس کا منتظر تھا
پیچھے پلٹنے پر اس نے محسوس کیا کہ خون کی لکیریں کمرے کے ایک خاص حصے سے برآمد ہو رہی ہیں۔۔ لرزتے قدموں سمیت وہ ایک کونے میں الماری کی جانب بڑھی تھی ، اپنے کپکپاتے ہاتھ سے ہینڈل پکڑ کر جوں ہی جھٹکا دیا اندر کا منظر اُسکی روح جھٹکا دینے کو کافی تھا ۔۔۔
الماری میں لٹکی اپنی ماں کی کٹی ہوئی لاش دیکھ کر اس پر غشی سی طاری ہو گئی ،۔۔
لاش ہینگر میں لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
سامنے کا گلا کٹا ہوا تھا جیسے کسی جانور کو ذبح کیا گیا ہو ، خون کی لکیریں پورے جسم سے ہوتی ہوئی نیچے به رہی تھیں۔۔ آنکھیں پھٹی ہوئیں جیسے کسی موت کا دیدار کیا ہو
گردن کے کٹے ہوئے حصے میں کچھ اس طرح ہینگر ڈالا گیا تھا کہ لاش الماری کے بیچ و بیچ لٹک رہی تھی
یہ منظر اتنا خوفناک تھا کہ کسی زی عقل زی روح کے لیے برداشت کرنا آسان نہ ہوتا پھر وہ تو ٹھہری نفرین زدہ جو اپنی میراث میں یہ سب لیکر آئی تھی
اس نے چیخنا چاہا مگر آواز حلق میں دفن ہو چکی تھی ،۔۔۔ سر کو دائیں بائیں ہلائے وہ بے اختیار پیچھے ہوئی ،۔۔۔ دل تھا کہ غم سے پھٹا جا رہا تھا جبکہ آنکھیں مارے خوف کے باہر ابل آئی تھیں
سماعت میں عجیب سی آوازیں سائیں سائیں کرنے لگیں ساتھ ہی اسے اپنی نبض ہلکی ہوئی محسوس ہوئی ،۔۔ مفلوج ہوتے ذہن کے ساتھ وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی
پورے جسم میں اسے عجیب سے جھٹکے محسوس ہونے لگے جو ایک بعد ایک شدت اختیار کرتے جا رہے تھے
ایک آخری جھٹکے کے بعد وہ درد سے چلا اٹھی تھی جس کے ساتھ ہی خواب کی کیفیت ختم ہو چکی تھی کیونکہ اب وہ مکمل طور پر حواس میں آئی تھی۔۔۔
آنکھیں کھولتے ہی اس نے خود کو انجان کمرے میں لیٹا ہوا پایا۔۔۔ خود کو بیڈ پر لیٹا پاکر وہ اردگرد دیکھنے لگی
کمرے میں نیم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ بیڈ کے ساتھ ٹیبل پر جا بجا دوائیاں اور کچھ نسخے رکھے ہوئے تھے۔۔۔
بائیں جانب دیوار نسب الماری اور اس میں شیشہ نسب تھا۔۔۔
دائیں جانب کچھ ہی فاصلے پر کھڑکی پر سفید پردے لٹک رہے تھے تھے ،۔۔
کھڑکی کے ساتھ ہی پیچھے کی جانب بالکنی کا دروازہ ادھ کھلا ہوا تھا جہاں سے دھیمی روشنی اور پرندوں کے چہچہانے کی آواز آ رہی تھی جس کے عین سامنے سیدھ میں ایک اور دروازہ موجود تھا جو کہ بند تھا ۔۔۔

حیران نظروں انجان جگہ کا جائزہ لیتے ہوئے ہتھیلی کی پشت سے اپنے رخسار پر لڑکھتے آنسوؤں کو صاف کیا جو شائد خواب کی کیفیت میں نکل آئے تھے۔۔۔

میں کہاں ہوں؟؟
اپنے ہاتھ پر لگی ڈرپ کو دیکھتے ہوۓ وہ خود سے سوال کرنے لگی
گزرے واقعات اور تمام منظر ایک بعد ایک ذہن میں امنڈنے لگے
سیاہ جنگل۔۔۔ بھیڑیا نما مخلوق ۔۔۔ سیاہ حیولے۔۔۔ سفید طلسم ۔۔۔ اور پھر وہ ۔۔۔ جسے دیکھ تو نہ سکی مگر اب بھی اس کی تیز خوشبو کا کچھ حصہ اپنے وجود سے آتا ہوا محسوس کر سکتی تھی

کیا وہ سب خواب تھا ؟؟
کیا میں زندہ ہوں ۔۔؟؟
ایک پل کو اسے لگا جیسے وہ کسی لمبے خواب سے جاگی ہے مگر پھر اپنے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں کو دیکھ کر اسے یقین ہو چلا کہ جن جگہوں سے وہ گزر کر آئی ہے وہ سب حقیقت میں اس کے ساتھ رونما ہوا ہے

یہ احساس ہی اسے خوف میں مبتلا کر دینے کو کافی تھا۔۔۔ چادر ہٹا کر اس نے بیڈ سے اترنا چاہا مگر ٹانگوں نے ساتھ نہ دیا اور یہ ڈھرم سے فرش پر جا گری تھی۔۔۔ جسم کا پور پور نوچے جانے کی تکلیف محسوس کر رہا تھا۔۔۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر سوائے تکلیف میں اضافے کے کچھ ہاتھ نہ آیا الٹا سائیڈ ٹیبل سے سہارا لینے کے چکر میں پانی کا بھرا ہوا جگ زمین پر گرتے ہی زوردار آواز کے ساتھ کئی ٹکڑے ہو گیا۔۔۔

یکدم کمرے کا بند دروازہ کھلا اور کوئی تیز قدموں اس تک آیا تھا۔۔۔

آپ ٹھیک ہیں؟؟
اسے سہارا دیکر کر ہیڈ پر بٹھاتی ہوئی لڑکی قریب اسی کی ہم عمر لگ رہی تھی۔۔۔

شکر ہے آپ ہوش میں آ گئیں ..

جانم کی پریشان نظروں کو خود پر جما پاکر اس نے سانس بھرتے ہوئے کہا۔۔۔

میں کہاں ہوں ؟؟
تم کون ہو ؟ مجھے یہاں کون لایا ہے ؟

ایک پل کو تو وہ اس لڑکی کے پر کشش چہرے کو دیکھتی ہی رہ گئی ۔۔۔ تیکھے نین نقوش سیاہ گہری آنکھیں ۔۔۔ گھنی پلکیں ۔۔۔ وہ ضرور کسی جانی پہچانی شکل سے مشابہت رکھتی تھی

آپ ۔۔؟
آپ مرجان ہیں ناں ؟
فہیم چچا کی بیٹی ۔۔۔

ہاں اور تم۔۔۔۔ ؟؟؟
اس کے پوچھنے پر وہ سر ہلا گئی

میں آیت ،۔۔ جبران بھائی کی بہن
اس کے سوال زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے آیت نے اپنا تعارف کروایا ساتھ ہی زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں کو ہاتھ سے اٹھانے لگی۔۔۔

مت کرو لگ جائے گا۔۔ اسے فرش پر جھکا دیکھ کر جانم نے فکر مندانہ لہجے میں کہا۔۔۔

آپ نیچے مت آئیے گا۔۔۔ میں بی جان کو کہ کر صاف کروا دیتی ہوں

جوتی سے کانچ کو پرے دھکیل کر کہتی ہوئی وہ کمرے سے باہر جانے لگی

سنو۔۔۔ !!

جی۔۔۔ ؟
اس کی آواز پر وہ پیچھے پلٹی تھی جو اب تکیے پر ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

مجھے یہاں کون لایا ہے ؟؟
کچھ تذبذب کے بعد اس نے ذہن کی بھڑاس سامنے رکھی تھی

جبران بھائی۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی اس نے جانم کے تاثرات کا جائزہ لیا جو اب بجھ سے گئے تھے

کل شام ہی وہ آپ کو بے ہوشی کی حالت میں یہاں لیکر آئے تھے ،۔۔ شاید آپ کو یاد نہ ہو مگر کالج میں طبیعت خراب ہونے کے باعث آپ بے ہوش ہو گئی تھیں۔۔
جبھی اُنہیں کوئی اور راستہ نظر نہ آیا تو آپ کو گھر لے آئے ۔۔۔

اس کے تفصیل سے بتانے پر وہ سر کو اثبات میں ہلاتی خاموش ہی رہی ۔۔۔

میں بی جان کو بھیجتی ہوں آپ آرام کریں ۔۔۔

جب کچھ توقف کے بعد بھی اس کی جانب سے کوئی رد عمل نہ آیا تو وہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔

ایک کلک کے ساتھ دروازہ بند ہوچکا تھا۔۔۔ کمرے میں پھر سے خاموشی پھیل گئی مگر اس کے ذہن میں سوالات کا شور برپا تھا
سر کو پیچھے ڈھائے وہ آنکھیں موند گئی۔۔

“جبران حدید”۔۔۔
اگر دنیا میں اس کی مدد کو کوئی نفس باقی نہ رہتا تو یہ آخری نام تھا جسے وہ سننا پسند کرتی

وہ انا پرست ۔۔۔ وہ کیوں میری مدد کرے گا ؟؟
نہیں۔۔۔ ضرور کوئی بات ہے جو میرے علم میں نہیں ورنہ وہ تو مجھ سے نفرت واجب اور دشمنی فرض سمجھ کر ادا کرتا ہے

نظریں اُوپر کی جانب کیے بظاھر وہ سیلنگ کو دیکھ رہی تھی مگر سوچوں کے بھنور اسے حال سے بےگانہ کیے ہوئے تھے

آج بھی اُسے وہ دن یاد تھا جب شدید بارش میں کھڑی وہ بس کا انتظار کر رہی تھی اس کے ساتھ علاقے کی کچھ اور لڑکیاں بھی موجود تھیں

جب وہ کالج کی پارکنگ سے اپنی گاڑی نکال کر اُن کی جانب آیا تھا ۔۔۔
بیک ڈور ان لاک کرتے ہوئے اُنہیں گاڑی میں بیٹھنے میں اشارہ کیا۔۔
اس کے بابا فرقان فصیح علاقے کے بڑے تھے جس کے سبب تمام اہل علاقہ اُن پر اعتماد کرتے تھے
ایک بعد ایک سبھی لڑکیاں گاڑی کی جانب چل پڑیں مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔۔۔
کچھ دیر وہ بغیر کچھ بولے گاڑی روکے رہا ۔۔۔ اور تھوڑی ہی دیر بعد زن سے چھینٹے اراتا منظر سے غائب سے ہو گیا

اس دن کچے رستے پر پیدل چلتے ہوئے اس نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا ۔۔۔ کہ آئندہ وہ اُس کی شکل نہیں دیکھے گی اور اگر قسمت سے سامنا ہو بھی گیا تو یوں نظر انداز کر دے گی جیسے اب تک وہ اُسے کرتا آیا ہے

مگر شاید قسمت اس پر زیادہ مہربان نہیں تھی جبھی وہ اپنا وعدہ برقرار نہ رکھ سکی۔۔۔ وجہ یہ کہ بچپن سے لیکر لڑکپن اور اب عمر کے سترویں سال تک خوفناک خوابوں کے باعث اس کا جسم کئی نفسیاتی اور بے مطلب بیماریوں کا گھر بن چکا تھا
جن کے چلتے ہوئے ایک دن اچانک اس کی طبیعت کافی بگڑ گئی۔۔
اسٹاف کے پوچھنے پر اس کے پاس گھر کا نمبر تو نہیں تھا مگر اُمید کے طور پر اس کے ذہن میں ایک نام ضرور جھلکا تھا
اساتذہ نے کلاس کی کچھ لڑکیوں کو بزنس بلڈنگ کی طرف بیجھا تاکہ وہ اُسے بلا لائیں مگر جواب یہ کہ وہ کسی مرجان نامی لڑکی کو نہیں جانتا ۔۔۔
اس وقت یہ لفظ نہیں خنجر بن کر اس پر برسے تھے ۔۔۔ اور پھر کوئی موقع نہ گزرا تھا جب وہ ہر تقریب یا مقابلے میں اس کے حریف کی جانب سے نہ ہوتا یا اس کے حریف کی طرف نہ کھڑا پایا جاتا۔۔۔
اب اگر وہ اُسے مصیبت کی گھڑی سے کھینچ لایا تھا تو ضرور اس کے پیچھے وجوہات لازم تھیں
مگر کیا ۔۔ ؟؟
بھلا ایسا کیا ہوا تھا جو جبران حدید خود اسے اپنے گھر تک لے آیا تھا

مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا ۔۔۔
سر کو جکڑے وہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔۔
ذہن پر زور دینے کے باوجود اسے یاد تھا تو اتنا کہ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ تھی اس کے علاوہ کے جو منظر اس کی یاداشت میں رقم تھے انہیں وہ دہرانے سے بھی ڈرتی تھی

اسی ذہنی خلش کے چلتے کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا مگر اس بار ایک عمر رسیدہ خاتون میں داخل ہوئیں تھیں
چہرے پر نرم تاثرات لیے ہاتھ میں ٹرے پکڑے وہ بیڈ کی جانب آئیں۔۔ سائیڈ ٹیبل پر کھانا رکھتے ہوئے انہوں نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔۔۔

تمہیں بھوک لگی ہوگی بیٹی۔۔ لو کھانا کھا لو
نجانے اُن کے رویے کی نرمی تھی یا کچھ اور نا چاہتے ہوئے بھی وہ سر اثبات میں ہلا گئی

شکر ہے تم ٹھیک ہو ورنہ کل سے تمہیں ہوش میں نہ آتا دیکھ کر سب کتنے ہی پریشان تھے۔۔
بکھرے کانچ اکھٹا کرنے کے بعد وہ گیلا فرش صاف کرتے ہوئے کہ رہی تھی

پریشان کون ؟
کیوں ؟
حیرانی سے کہتے ہوئے وہ انہیں دیکھنے لگی

تم اس کا گھر کا خون ہو بیٹی پھر چاہے جو بھی حالات رہے ہوں خون کشش تو کرتا ہی ہے

خون۔۔۔ بھلا یہ خون آخری وقت پر ہی کیوں کشش کرتا ہے ۔۔۔ دھیمی آواز میں کہتے ہوئے وہ آنکھیں موند گئی تھی

اسے آرام کرتا دیکھ کر انہوں نے مزید جواب دینے سے اجتناب کیا ورنہ کہنے کو کتنا ہی کچھ تھا

__<3

عصر کا وقت تھا جب وہ دوائیوں کے زیر اثر سو کر اٹھی تھی۔۔۔
بالکنی سے جھلکتی نارنجی روشنی کمرے میں چھن کر داخل ہو رہی تھی۔۔
آنکھوں کو مسلتے ہوئے اس کی نظر ہاتھ میں لگے برمولے پر پڑی۔۔ ڈرپ ختم ہو چکی تھی۔۔۔ ہاتھ سے برمولا نکالنے کے بعد بکھرے بالوں کا جوڑا بنائے وہ بیڈ سے اترنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
اب جسم میں درد کی کیفیت باقی نہ تھی،۔۔ ساتھ ٹیبل پر کھانے سے بھری ڈش جوں کی توں پڑی تھی
کچھ دیر یوں ہی بیٹھا رہنے کے بعد اپنے پاؤں په کھڑا ہوئے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے وہ گیلری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی روح میں جیسے سکوں سا بھر گیا ہو ۔۔
افک پر پھیلے بادلوں کے ٹکڑے سورج کے ساتھ نارنجی رنگ میں ڈھلے ہوئے تھے ۔۔۔
ٹھنڈی ہوا درختوں سے ہوتے ہوئے بالکنی کی دیواروں سے ٹکڑا رہی تھی ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کسی سنگیت کی طرح سماعت میں رنگ بکھیر رہی تھی
نیچے پھیلا سبزہ زار اور طرح طرح کے پھول پودے آنکھوں کو الگ ہی خیرہ کر رہے تھے ۔۔۔ اسے اپنی تکلیف بھول گئی۔۔ سب کہیں پیچھے رہ گیا۔۔۔
بہت دنوں بعد وہ سکون محسوس کر رہی تھی مگر اس قدر اطمینان تو اسے کبھی اپنے گھر میں نصیب نہیں ہوا تھا جو وہ یہاں محسوس کر رہی تھی
ابھی وہ نیچے باغیچے میں موجود پھلوں کی کیاروں میں کھلے رنگ برنگی کلیاں دیکھ رہی تھی جب اچانک اس کی نظر اس سے جا ٹکرائی ۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے جو منظر آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہا تھا اب وہی نگاہوں سے انگارے برسا رہا تھا
چہرے پر تناؤ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔ اسے دیکھتے ہوئےاس نے پلک جھپکنے کی زحمت نہ کی تھی جہاں وہ زمین کی جانب جھکا پودوں کی کانٹ چھانٹ کر رہا تھا اپنے اوپر کسی کی نگاہ محسوس کرتے ہوئے اس نے پیچھے پلٹ دیکھا اور عین نگاہ اُوپر بالکنی میں کھڑی جانم سے جا ٹکرائی۔۔۔
چہرے پر سخت تاثرات لیے وہ کڑی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی جو اپنی سیاہ جھالر میں مقیم سیاہ سمندر آنکھیں لیے کچھ سنجیدہ مگر سوالیہ انداز سے اُسے دیکھ رہا تھا

مجھے یہاں ذہنی مریض بنا کر خود پودوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔۔۔
اسے دیکھتے ہوئے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی ۔۔
اتنا کہنا تھا نیچے باغیچے میں کھڑے جبران حدید کے لبوں پر مسکراہٹ نے جگہ لی تھی ۔۔۔
دھیمی مگر پر وقار ۔۔۔جسے وہ اگلے ہی لمحے سنجیدگی میں چھپا گیا تھا
یہ سب اُوپر کھڑی جانم کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہا تھا ۔۔۔

اپنے لبوں پر ہاتھ رکھے وہ یکدم پیچھے ہوئی۔۔۔
تو کیا اس نے سن لیا۔۔۔؟
نہیں نہیں۔۔۔ ایسے کیسے
یہ بھلا کوئی جن تھوڑی ہے ۔۔۔

ذہن میں سوچتے ہوئے وہ اُس کی اوجھل ہوتی پشت کو دیکھنے لگی جو اب وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔

اس کے جاتے ہی وہ واپس کمرے میں پلٹی تھی ۔۔۔ جلد بازی میں دروازے تک پہنچتے ہی اس نے ہینڈل پکڑے دروازہ کھولنا چاہا ۔۔۔
مگر یہ کیا۔۔۔
دروازہ باہر سے لاک تھا۔۔۔ ہینڈل کو دائیں بائیں کھینچنے پر بھی جب کوئی کام نہ بنا تو اس کا غصہ سوا نیزے پر جا پہنچا تھا ۔۔۔

آخر سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔۔؟؟
آیت۔۔۔ بی جان۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔ مجھے یہاں سے جانا ہے ۔۔۔
اپنی طاقت جمع کیے وہ دروازہ پیٹنے لگی بہت دیر بعد بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو وہ دروازے سے پشت لگائے وہیں فرش پر بیٹھتی چلی گئی

مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ میری امی پریشان ہوں گی۔۔۔
آخر تم چاہتے کیا ہو ۔۔۔۔
کمزوری کے باعث اب آواز بھی حلق سے نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
سرگوشی میں لفظ ادا کیے وہ من ہی من اس شخص سے مخاطب تھی جو اُسے یہاں لیکر آیا تھا