Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104 Episode 05
Rate this Novel
Episode 05
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)
میرعنبر
قسط نمبر ۵
اپنے بے جان ہوتے وجود اور ادھ کھلی آنکھوں سے جو منظر وہ دیکھ رہی تھی دماغ اسے قبول کرنے سے انکاری تھا۔۔۔
اس وقت وہ زمین پر بنے کسی دائرے کے حصار میں موجود تھی جس کے گرد پانچ کونے کھینچے ہوئے تھے
ہر کونے کے نوک پر ایک کیل زمین میں گڑھا ہوا تھا
ہر کیل کی سیدھ میں ایک لمبا سیاہ ہیولہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
حیرت زدہ وہ یہ سب دیکھ رہی تھی جب سوکھے پتوں پر حرکت محسوس کرتے ہوئے اس نے پانچویں کونے کی سیدھ میں دیکھا اور آنکھیں پھر سے جھپکنا بھول چکی تھی۔۔۔
لال جلتی نظروں کا رخ اسی کی جانب تھا۔۔۔ درخت کی ٹہنی کے ساتھ وہ مخلوق الٹی لٹکی ہوئی تھی۔۔۔ زمین کی جانب سر کیے اسے ہی دیکھ رہی تھی
تم کون ہو۔۔۔؟؟
کیوں۔۔۔۔ کک۔۔۔ کر رہے ہو یہ سب؟؟
کپکپاتی آواز میں پوچھنے پر اسے احساس ہوا وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر چکی ہے
کیونکہ اب اس جانور نما انسانی مخلوق کے سیاہ چہرے پر مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔ درخت کی ٹہنی سے اتر کر چار ٹانگوں کے بل ہلکی چال چلتے ہوئے وہ ستارے کے قریب آ چکی تھی
میں چاہتی تو تجھے ایک جھٹکے میں فنا کر دیتی۔۔۔ مگر اب تو مرے گی پل پل اذیت کے ساتھ۔۔۔۔ میں تجھے موت کی سیاہ گھاٹی میں اتاروں گی۔۔۔ تیری ماں کی طرح۔۔۔ اب تو اس کے کیے کی سزا بھگتے گی۔۔۔
اس کی بھاری بھرکم غرغراہٹ نما آواز سن کر ہی اس کے جسم میں کپکپی طاری ہو چکی تھی کہ اب وہ مخلوق دو پاؤں کے بل کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔
پانچوں کونوں کے گرد کھڑے سیاہ حیولے حرکت میں آ چکے تھے۔۔۔ جنگل میں جہاں ساکت خاموشی تھی اب ہوا میں طوفان سا شور برپا ہو چکا تھا۔۔۔۔ درختوں کی ٹھہنیاں ایک دوسرے سے ٹکڑا کر خوفناک آواز پیدا کر رہیں تھیں
سیاہ حیولے ایک بعد ایک سفید کونوں کے گرد چکر کاٹ تھے۔۔۔مگر اس کے ذہن میں صرف دو ہی الفاظ گردش کر رہے تھے
“تیری ماں کی طرح۔۔۔۔ اس کے کیے کی سزا بھگتے گی”
کیا کیا ہے انہوں نے جو تم ہماری زندگی کے پیچھے پڑ گئے ہو۔۔۔ ؟؟
حلق کے بل چیختے ہوئے وہ مزید اپنی موت کو دعوت دے چکی تھی
اگلے ہی لمحے وہی مخلوق ہوا میں بلند ہوکر عین دائرے میں آ موجود تھی ۔۔۔ اتنے قریب سے اسکی خوفناک صورت دیکھنے پر اس پر غشی طاری ہو چکی تھی کہ عین وقت وہ اس کے وجود پر آ جھپٹی تھی۔۔۔ جانم کو اپنی گردن پر نکیلی شے چبتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
تو جاننا چاہتی ہے کیا کیا ہے تیری ماں نے۔۔؟؟
تو سن قاتل ہے وہ وہ ایک نہیں دو جانوں کی۔۔۔ تو ایک سیاہ کار کا خون ہے اور تیرا وجود بھی اسی سیاہ مٹی میں دفن ہونے والا ہے
ایک ایک لفظ کو چبا کر اس کے کان میں ادا کرتے ہوئے بل آخر وہ اس کی گردن پر جھکی تھی
مگر اس سے پہلے وہ اس کے گوشت میں اپنے دانت گاڑھتی یکدم گردش کرتے ہوئے حیولے ٹھہر سے گئے۔۔۔۔
ہوا میں طوفان کی کیفیت لمحوں میں ختم ہو کر رہ گئی اور پھر سے چیخ و پکار شروع ہو گئی
مگر اب یہ سلسلہ خود اس مخلوق کی جانب سے شروع ہوا تھا۔۔۔
ہوا میں بلند ہوئے وہ یوں تڑپ رہی تھی جیسے مینڈھے کے گلے پر چھری چلا دی گئی ہو۔۔۔ ساتھ ہی بلند و قامت سائے ہزیانی کیفیت میں ادھر ادھر بھاگ تھے۔۔۔
وہ حیرانی کی مورت بنی یہ سب تماشا دیکھ رہی تھی جب اُسے محسوس ہوا کہ اب اُن کی بے چینی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔۔۔
یہی وقت تھا اور اسے لگا زندگی اسے پھر سے ایک موقع دینا چاہتی ہے
ہمت کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہی وہ پوری جی جان سے بھاگی تھی۔۔۔ دائرے کو پار کرتے ہی گھنے جنگل کے درختوں نے اسے پناہ میں آ لیا تھا
ہانپتے کانپتے جسم سمیت وہ زیادہ دور نہیں آئی تھی کہ اپنے عقب سے پتوں کے سرسراہٹ قریب آتی سنائی دی تھی۔۔۔
اپنی جان سے بڑھ کر وہ تیز رفتار بھاگ رہی تھی یہاں تک کہ گھنے جنگل کی حد ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔۔۔ سامنے ایک سرے پر اسے کچھ روشنی نظر دکھائی دی ،۔۔ مدھم مگر سیاہ جنگل میں چاند کی طرح روشن۔۔۔
رک جا ۔۔۔۔ آگے مت بڑھ ۔۔۔
اپنے پیچھے سے اسے وہی غرغراہت بھری آواز آتی سنائی دی تھی مگر وہ نہ رکی تھی اور عین سرے پر پہنچتے ہی اس نے آخری قدم بڑھایا تھا ۔۔۔
تو تو زندہ رہنا چاہتی ہے ۔۔۔۔ ؟؟
کیا تو ایک قاتل بن کر زندہ رہنا چاہتی ہے۔۔۔؟
میں قاتل نہیں ہوں۔۔۔
پلٹ کر جواب دینے پر اسے وہ آخری درخت کے سائے میں کھڑی نظر آئی تھی۔۔۔
کیا تو قاتل کی بیٹی نہیں ہے؟
کیا تیری رگوں میں سیاہ مادہ نہیں تیر رہا ۔۔۔ جو اسی قاتل عورت کا ہے جس کے وجود کا تو خود ایک حصہ ہے
“اس کے پاس جواب نہیں تھا۔۔۔۔ دنیا جہاں کے تمام الفاظ اسے اپنی صفائی کے طور ہلکے نظر آتے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔
خود کو میرے حوالے کر دے تاکہ میں دو اور دو کا بدلہ پورا کر دوں۔۔۔
گومگو کیفیت میں اسے سر جھکائے خاموش کھڑا دیکھ اس نے آخری پینترا پھینکا تھا ۔۔۔
واپس آجا جانم تاکہ تیری جان لیکر آج میں حق کا بول بالا کر دوں ۔۔۔
یہ کہنا تھا کہ جانم کو لگا جیسے اس پر منوں بوجھ لاد دیا گیا ہو۔۔۔ اس کی ماں قاتل تھی اور وہ ایک قاتل کی بیٹی پھر اگر یہ سچ تھا اور ماں اس دنیا سے جا چکی تھی تو اس کے پاس بھی اب زندہ رہنے کی کوئی وجہ نہ تھی
ایک۔۔۔ دو۔۔۔ پھر تین
سر جھکائے ایک با ایک قدم وہ درخت کی جانب بڑھی تھی جہاں وہ ڈائن مکرو ہنسی لیے اپنے شکار کو قریب آتا دیکھ رہی تھی
اس سے پہلے وہ تمام فاصلہ طے کر کے اس تک پہنچتی یکدم ماحول میں تیز خوشبو سی پھیل گئی۔۔۔
جھوٹ مت بولو ساریہ اور فریب کو عدل کے ساتھ نہ ہی تولو ۔۔۔
حق تو یہ ہے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی
بھاری مردانہ آواز کے ساتھ ہی اس ڈائن کی مسکراہٹ پھیکی پڑ چکی تھی
شاہ۔۔۔
تم یہاں بھی آ گئے ۔۔۔ بہت خوب
مگر شاید تم بھول گئے یہ جنگل میرا ہے اور یہ لڑکی میرا شکار۔۔۔ تم کسی صورت مجھے نہیں روک سکتے
کہتے ساتھ ہی وہ بازو لمبی کیے اسے پکڑنے کو لپکی تھی جو درخت سے کچھ ہی قدم کے فاصلے پر حق دق کھڑی تھی
اس سے پہلے وہ اسے جکڑ کر اپنی جانب کھینچتی جانم کو اپنی دائیں بازو پر مضبوط گرفت محسوس ہوئی ،۔۔ ایک جھٹکے کے ساتھ کسی طاقت نے اسے پیچھے کی جانب کھینچا تھا ۔۔
جہاں تیز روشنی میں داخل ہوتے ہی آنکھیں چندھیا گئی تھیں وہیں اسے اپنے پیچھے خوفناک چیخ سنائی دی تھی ۔۔۔
جنگل کے سحر سے نکلتے ہی ماحول اتنا افزوں تھا کہ بارہا نظر اٹھانے پر بھی پلکیں خود با خود جھکی جا رہی تھیں ۔۔۔ اس سب کے ہوتے اسے اپنے پاس بہت قریب کسی موجودگی کا شدت سے احساس تھا۔۔ مگر وہ کون اور کیسا تھا وہ یہ دیکھ نہ پائی تھی سوائے چند انگلیوں کے جو اُسے بازو کے گرد مضبوط گرفت کیے ہوئے تھیں جن میں زمرد و یاقوت کی انتہائی چمکدار پتھر کی انگوٹھیاں پنہاں تھیں۔۔۔ اپنی بند ہوتی آنکھوں سے جو آخری منظر اس نے دیکھا وہ اسی ہاتھ کے انگوٹھے پر قمر کا نشان تھا ۔۔۔۔ اپنے وجود پر گڑھی نظروں کی محسوس کرتے ہوئے اس نے چہرہ اُوپر کیے اپنے مسیحا کو دیکھنا چاہا مگر اس سے پہلے نگاہیں کسی نقش کو رقم کرتیں عین وقت روشنی کی ایک تیز دھار لہر کے ساتھ وہ آنکھیں بند کر گئی
ہواؤں کی رفتار اور سینے میں اترتی عجیب سی کیفیت اسے کسی اور ہی جہاں کی مسافت میں لے گئی تھی۔۔۔۔
_____>>>
مغرب کی نماز کے بعد وہ حسب معمول تسبیح میں مشغول تھا جب چوکیدار حلیم بابا نے اُنہیں علی اور ساتھ کسی شخص کے آنے کی اطلاع دی تھی
انہیں بیٹھک میں بٹھانے کا بول کر وہ جائے نماز تہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
بیٹھک میں قدم رکھتے ہی اسے علی کے ساتھ ایک اوسط عمر کا شخص بیٹھا ہوا نظر آیا جو بہت غور اس کی باتیں سن رہا تھا
فرقان فصیح کو پہلی بار دیکھنے میں ہی وہ کافی معقول طبیعت کے محسوس ہوئے تھے ،۔۔
عام ڈونگیوں کی طرح نہ کوئی موٹے دانوں والی تسبیح لیے اور نہ ہی گلے میں کوئی مالا ڈالی ہوئی تھی مگر صاف ستھرے لباس میں وہ بہت سادگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے
اس نے بلند آواز سے سلام کیا تو علی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا
بھائی جان یہ وہی جن کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا تھا۔۔۔ علی کے کہنے پر وہ ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
مزید علی نے اسے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی گھر کی صورتحال اور وجیہہ کے ساتھ ہوئے معاملات سے انہیں آگاہ کر چکا ہے
آپ کا تعارف جناب۔۔۔ فرقان فصیح نے پہلی بار مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا
میرا حقیقی اسم تو سلیمان مبین ہے مگر لوگ مجھے ایلاف صاحب کہ کر پکارتے ہیں
ایلاف صاحب کا لہجہ بھی اُن کی طرح سادگی لیے تھا
اب تک وہ جو کچھ روحانی معالج کے بارے میں سن چکا تھا اُسے لگا وہ انہیں وجیہہ کو دیکھنے کا کہیں گے تاکہ مزید بیماری یا جادو کی جڑ کے بارے میں جان سکیں اور یہ کافی معقول بات تھی نہ ہی وہ کوئی تنگ نظر شخص تھا مگر ایلاف صاحب کی جانب سے جو پہلی بات سامنے رکھی گئی گئی وہ گھر کے جائزے کے بارے میں تھی
اس نے حیرت سے علی کی جانب دیکھا جس کے تاثرات بھی کچھ مختلف نہ تھے بہرحال اُنہیں گھر دکھانے کی غرض سے وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے
گھر کی بیک سائیڈ سے لیکر وہ انہیں ایک ایک کمرہ دکھانے لگے ،۔۔ مگر انہوں نے اب تک کسی خاص رویے کا اظہار نہ کیا
اب صرف گیٹ سے آگے چوکیدار کا کمرہ اور گارڈن کا حصہ بچا تھا
پھولوں کی کیاریوں سے ہوتے ہوئے وہ گیلری کی جانب سے آگے بڑھنے لگے جب یکدم ایلاف صاحب نے اُنہیں رک جانے کا اشارہ کیا
پیچھے پٹلتے ہوئے اُن کے قدم خود با خود گیلری کی اندرون جانب بڑھنے لگے ۔۔۔ منہ ہی منہ میں وہ کچھ پڑتے جا رہے تھے علی اور وہ بھی ان کے پیچھے ہو لیے
وہ جو بھی پڑھ رہے تھے یکدم خاموش ہو گئے اور کچھ ہی فاصلے پر رکھے بیلچے سے گیلری کی مٹی کھودنا شروع کر دی۔۔۔۔
جیسے جیسے زمین گہری ہوتی جا رہی تھی اُن کےچہرے کے تاثرات سخت سے سخت ہوتے چلے جا رہے تھے۔۔۔
یہ منظرکچھ جانا پہچانا سا تھا عین لمحے اس کے ذہن میں پچھلی راتوں میں سے ایک کا واقعہ گردش کیا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ایلاف صاحب اللہ اکبر کہتے ہوئے نیچے گڑھے کی جانب جھکے تھے اور ہاتھ کی مدد سے دفن شدہ کپڑے کی ایک پوٹلی باہر نکالتے ہوئے پرے جھٹک دی
علی اور وہ حیرت سے ان کی کاروائی دیکھ رہے تھے
جہاں وہ ایک بعد ایک پوٹلی پر بندھی گرہیں کھول رہے تھے۔۔۔ جوں ہی تمام گرہیں کھل گئیں اندر سے کپڑے کی ایک گڑیا ظاہر ہوئی جس کے تمام جسم پر سوئیاں کھبی ہوئی تھیں
ایلاف صاحب نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے
لکڑی کے دستے کی مدد سے گڑیا کو دوبارہ کپڑے میں لپیٹ کر وہ اُن دونوں کی جانب متوجہ ہوئے جہاں وہ دم بخود اُن کے اگلے لائحہ عمل کے منتظر تھے
مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ،آپ کی بیوی کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے
مگر۔۔۔ پھر بھی ہم اپنی پوری کوشش کریں گے ۔۔۔
اُن کی جانب سے کہے گئے الفاظ ان دونوں خاص کر فرقان فصیح کی روح جھنجھوڑ دینے کو کافی تھے
ایلاف صاحب کوئی تو راستہ ہوگا ،۔۔ آخر کوئی تو علاج ہوگا جو آپی کو اس سحر سے بچا سکے
علی کے لفظوں سے بے چینی صاف واضح تھی
بچانے والی ذات تو اللہ کی ہے میاں ہم تو بس اپنے حصے کی محنت کر سکتے ہیں اور محنتوں کو رنگ لگانے والی صرف اسی پاک ہستی کی ہے۔۔۔
اور اگر اس کی مرضی میں وجیہہ بیٹی کی زندگی لکھی ہے تو کوئی اُس کے امر ٹال نہیں سکتا
اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہوں نے تسلی دی تھی
مگر ایلاف صاحب، یہ سب ،۔۔۔
کون ہو سکتا ہے اس سب کے پیچھے ، میری تو کسی سے کوئی ذاتی دشمنی بھی نہیں
پھر کوئی کیوں میری بیوی کی جان لینا چاہے گا؟؟
فرقان فصیح نے بھاری ہوتے دل کے ساتھ با مشکل لفظ ادا کیے تھے
یہ تو ہم نہیں جانتے مگر اتنا ضرور کہ وہ جو کوئی بھی تمہارے اپنے قریبی میں سے ہے
کوئی اپنا خونی ۔۔۔، جو تمہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے
“فلحال یہ سب جاننا ابھی اتنا ضروری نہیں ہے وہ جو کوئی بھی ہے ہم جلد اس کا پتا لگا لیں گے ابھی ہمارے لیے آپی کی جان سے بڑھ کر اور کچھ نہیں
علی کے کہنے پر انہوں نے مزید اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ،۔۔۔
یہ پوٹلی یہاں نہیں رہنی چاہیے ، اسے جلد از جلد کسی جگہ ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے
مگر دھیان رکھنا کہ جہاں تم اسے دفناؤ وہ جگہ عام انسان کی پہنچ سے کہیں دور ہونی چاہیے
کوئی ویران مکان یا پرانا قبرستان ،۔۔۔
یہاں گاؤں سے کچھ دور بیابان جنگل ہے آپ کے خیال وہاں دفن کرنا کیسے رہے گا
فرقان فصیح کے کہنے پر انہوں نے رضامندی کا اظہار کیا
مگر دھیان رکھنا یہ کام تمہیں منہ اندھیرے کرنا ہے اور خبردار جب تم اسے دفنا چکو تو چاہے جو مرضی ہو جائے پیچھے مڑ کر ہرگز مت دیکھنا ،۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔
آپ فکر مت کریں ۔۔۔ ہم آج عشاء کے بعد ہی یہ کام سر انجام دیں گے
علی کی بات اُنہیں کافی معقول معلوم ہوئی چونکہ جنوری کے اوائل دن چل رہے تھے اور عشاء کے بعد تو آدھی رات کا گماں گزرتا تھاپھر وہ زیادہ دیر اس پوٹلی کو اپنے گھر بھی نہیں رکھ سکتے تھے
ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔
جیسے تمہیں آسانی ہو ،۔۔ ایلاف صاحب نے کہتے ہوئے اجازت چاہی اور دعا سلام کے بعد رخصت ہو گئے
رات کے ٹھیک دس بجے کے قریب وہ دونوں پوٹلی لیے جنگل کی طرف روانہ ہو گئے
برف مانند جما دینے والی سردی اور یخ بستہ ہوائیں ہڈیوں کو چیرتے ہوئے گزر رہی تھی
منہ ہی منہ میں قرآنی آیات کا ورد کیے وہ بہت مشکل سے بائیک کا ہینڈل سمبھالے ہوئے تھا
جبکہ علی نے پیچھے بیٹھتے ہوئے پوٹلی سمبھالی ہوئی تھی
جنگل کے احاطے میں داخل ہوتے ہی وہ مختلف جنگلی جانوروں کی آوازیں سن سکتے تھے۔۔۔ کچھ اندر جانے پر جانوروں کی آوازیں آنا بند ہو گئیں
ہر طرف تاریک خاموشی پھیلی ہوئی تھی،۔۔ گھنے جنگل میں داخل ہوتے ہی اس نے سڑک کی ایک طرف بائیک روک دی ۔۔۔،
بائیک سے اترتے ہی انہوں نے ٹارچ آن کرتے ہوئے اطراف کا جائزہ لیا جہاںسڑک کے دونوں طرف جنگلی درختوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ موجود تھا کھدائ کا اوزار لیے وہ ایک جانب جنگل کے اندر داخل ہو گئے
میرے خیال سے اس سے آگے جانا صحیح نہیں ہوگا
ہمیں یہیں کھدائی کرنی چاہیے”
فرقان فصیح نے کچھ ہی قدم کی دوری پر رکتے ہوئے مشورہ دیا تو علی نے بھی ایک درخت کی جڑ کے نیچے کھدائی شروع کر دی
جب وہ کافی نیچے کھدائی کر چکا تو اسے پسینے میں شرابور دیکھ کر وہ خود مٹی کھودنے لگا
قریب تین سے چار فٹ گہرے گڑھے میں پوٹلی کو پھینکنے کے بعد وہ برق رفتاری سے مٹی ڈالنے لگے
جب گڑھا مکمل بھر گیا تو بیلچہ پکڑے وہ واپس چل پڑے ۔۔۔،۔۔
سڑک پر قدم رکھتے ہی وہ اپنی بائیک کی جانب رواں تھے جب علی نے اسے کیا
“ویسے فرقان بھائی وہ ایلاف صاحب تو کہ رہے تھے بہت شور شرابہ ہوگا اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا مگر یہاں تو ایسا کوئی سین نہیں ہے
ابھی وہ اپنی بات مکمل کر کے ہٹا ہی تھا اور اس سے پہلے وہ اس کی بات کا کوئی جواب دیتا اُنہیں اپنے پیچھے جنگل سے کسی کے سسکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور تیز قدم اٹھاتے ہوئے بائیک پر جا بیٹھے
پیچھے سے آتی سسکیوں کی آواز تیز رونے دھاڑنے میں تبدیل ہو چکی تھی
ایک، دو ، تین
علی نے پوری طاقت سے کک ماری مگر بائیک تو جیسے سٹارٹ ہونا بھول چکی تھی
کیا کر رہے ہو علی۔۔۔؟
بھائی لگتا ہے انجن میں کچھ اڑ گیا ہے بائیک سٹارٹ نہیں ہو رہی
علی کے کہنے پر وہ بائیک سے نیچے اتر کر انجن کو دیکھنے لگا مگر کوئی شے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ آخر مسئلہ کہاں ہے
بے بسی کی کیفیت میں وہ بلند آواز میں سورۃ بقرہ کی آخری آیات پڑھنے لگا جنہیں پہلے وہ دل ہی دل میں دہرا رہا تھا
زیادہ دیر نہیں گزری تھی اور ایک جھٹکے کے ساتھ بائیک سٹارٹ ہو گئی
انہوں نے لمحہ ضایع نہیں کیا تھا اور فل سپیڈ و سپیڈ جنگل سے نکلنے کی کی تھی ۔۔۔ مگر ایک چیز جو وہ پورے راستے محسوس کرتے آئے اور وہ یہ کہ کوئی قوت بار بار اُنہیں پیچھے دھکیل رہی تھی۔۔۔
ہینڈل سمبھالے ہوئے علی بائیک چلا کم اڑا زیادہ رہا تھا باوجود اس کے رفتار میں خاصی کمی محسوس ہو رہی تھی اور پیچھے کی جانب کھچاؤ زیادہ تھا
یوں لگ رہا تھا مانو آج رات وہ شاید ہی اس جنگل سے نکل پائیں ۔۔۔
قریب آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد جنگل کے احاطے سے نکلتے ہی چیخوں و پکار میں کمی واقع ہوئی تھی اور کچھ دور آتے ہی مکمل خاموشی چھا چکی تھی
رات کے تقریباً ایک بج چکے تھے اور شدید دھند میں یہ کام سر انجام دیکر وہ حواس باختہ گھر پہنچے تھے
ایلاف صاحب کے بتائے گئے طریقے کے مطابق وہ غسل کر کے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
جبکہ علی تہجد کے نوافل ادا کر کے قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا بقول اس کے آج رات وہ سو نہیں پائے گا
اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے اپنا آپ ہلکا ہوتا محسوس ہوا یوں جیسے سینے سے منوں بوجھ اتر گیا ہو۔۔۔
بستر پر لیٹتے ہی وہ آنکھیں بند کیے نیند کی آغوش میں جانے کو تھا جب اچانک ذہن کے پردوں میں ایلاف صاحب کے کہے گئے الفاظ گردش کر گئے
“وہ جو کوئی بھی تمہارے اپنے قریبی میں سے ہے
کوئی اپنا خونی ،۔۔ جو تمہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے”
پھر کیا تھا پوری رات وہ کروٹوں بدلتے اپنے قریبی احباب کا جائزہ لیتا تھا
ایک کے بعد ایک صورت یاد کرتے وہ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیتا مگر بہت کوشش کے باوجود بھی اُسے کوئی ظاہری دشمنی نظر نہ آئی تھی ۔۔۔ پھر یہاں تک کہ کوئی اس کی ہنستی کھیلتی زندگی کو اُجاڑ دینا چاہتا ہو اور اس تک پہنچ گیا ہو کہ اس کی بیوی کی جان پر نظر گاڑھے بیٹھا ہو یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔۔۔
جو بھی ہو حالات و واقعات اس کی سوچ سے کہیں پرے تھے اور سوالات اتنے پیچیدہ کہ فقط وقت ہی جواب دے سکتا تھا
مگر ایک چیز جو اس کے پاس شدید قلت لیے ہوئے تھی ،۔۔۔
وہ وقت تو ہی تھا۔۔۔۔
