64.6K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

نفرین زدہ

(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)

از قلم

میر امبر

قسط نمبر ۱

اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیابلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے
اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا
اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو
۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے
اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے،
کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے. (سورۃ البقرہ)

سلیمان علیہ السلام۔۔؟؟
“یعنی اس منحوس عمل کی کڑیاں صدیوں پرانی ہیں”
پنسل کی نوک سے ٹیبل کی سطح پر دباؤ دینے پر سکه ٹوٹ چکا تھا
تخیل میں ڈوبی دو سیاہ آنکھیں سامنے ٹیبل پر پھیلائے صفحوں میں سے ایک ہی پنے پر مرکوز تھیں
کمرے میں مکمل اندھیرا ہونے کے باوجود ٹیبل لیمپ کی روشنی اندھیرے میں جگنو کا فریضہ سر انجام دے رہی تھی اور اسی جگنو کی روشنی میں پنے پر لکھیے الفاظ واضح ہو رہے تھے

“کالی دنیا ، کالے لوگ ، کالے روگ”

کالی دنیا ، اندیکھی دنیا جادو اور سفلیات کی دنیا کالے لوگ” اس دنیا کے باسی اور ان عملیات سے طاقت حاصل کرنے والے
کالے روگ” اسی طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کی زندگیوں میں دکھ ، مصیبت اور بلیات کا جنم لینا یعنی اُن کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کر کے ایسے روگ پیدا کر دینا جو کبھی اُن کے لیے تھے ہی نہیں

کاغذ پر لکھے ہر لفظ کے ساتھ اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے چلے جا رہے تھے
پیشانی کی رگیں اُبھر چکی تھیں ، جبڑوں کو باہم کھینچے اس نے آنکھیں بند کی تھیں

یکدم کمرے میں طوفان کا ماحول برپا ہو چکا تھا بلکل اس کے اندر برپا طوفان کی مانند
کاغذ کے پنے اپنے آپ ہوا میں اڑنے لگے تھے ، کمرے میں موجود ہر چیز ایک انداز میں گول چکر کاٹ رہی تھی

بلکل اسی طرح ۔۔۔ جیسے کچھ سالوں پہلے
سیاہ سائے دائروں میں چکر کاٹ رہے تھے اور ان کے بیچ۔۔۔۔

ذہن میں یاد کا اُبھرنا تھا اور اس کی آنکھیں لہو سرخ ہو چکیں تھیں
کمرے میں یک دم دھماکہ کی شدت پیدا ہوئی تھی اور ہر شے ٹوٹ کر بکھر چکی تھی

یکدم دروازے کے ہینڈل کھلتا ہے اور اگلے ہی لمحے ہر چیز اپنی جگہ سالم موجود تھی

کون ہے ؟؟
درو دیوار میں ایک بھاری مگر دھیمی آواز گونجی تھی

“میں ہوں بھائی ،۔۔ بابا آپ کو نیچے بلا رہے ہیں
اُنہیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے”

دروازے کی اوٹ میں کھڑی لڑکی نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا

اس نے سر کو ذرا سی جنبش دی تھی
جس کے بعد دروازہ واپس بند ہو چکا تھا شاید وہ جا چکی تھی

سترہ سال ،۔۔ اور اب یقیناً بدلے کا وقت آ پہنچا تھا
قدرت مکافات عمل پورا کرنے کو تیار تھی
وقت تھا کہ گزرے سالوں کی ایک ایک اذیت کا حساب چکتا کیا جائے اور وہ کرے گا
ضرور ، مگر اپنے انداز میں ،۔۔

ایک گہری سانس کے ساتھ صفحات کو سمیٹتے ہوئے اس نے ٹیبل کی نچلی جانب رکھ کر لاک کیا تھا
کمرے پر ایک ساکت نگاہ ڈالنے کے بعد وہ نیچے کی جانب بڑھ گیا تھا


ہسپتال کے کوریڈور میں اس وقت سکوت کا عالم تھا
آئی سی یو میں مشین پر چلتی دھڑکنوں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی
رات کے اس پہر پورے وارڈ میں ہو کا عالم تھا ، بیڈ کی سائیڈ پر موجود کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا وہ پتھر کی مورت بنے اپنی سیدھ میں دیکھے جا رہا تھا
یاداشت کے پردوں پر کچھ دیر پہلے کہے گئے ڈاکٹر کے الفاظ ٹکڑا رہے تھے

“آپ کی وائف کی طبیعت دن با دن بد تر ہوتی جا رہی ہے مسٹر فرقان
ڈاکٹرز اور باقی میڈیکل سٹاف اپنی پوری کوشش کر رہا ہے مگر لگتا نہیں ہے اب کوئی فرق پڑنے والا ہے
مشورہ یہی ہے کہ اب آپ انہیں گھر لے جائیں اور دوا کے ساتھ دعا کا اہتمام کریں”

سینئیر ڈاکٹر انہیں رپورٹس تھما کر جا چکے تھے جن میں بستر مرگ پر لیٹے وجود کی صورتحال سے مطلق کوئی لکیر ایسی نہیں تھی جو کہ واضح نہیں دھندلی ہی رہنمائی کرتی
اور لکیر تو درکنار سیاہ بڑے بڑے الفاظ میں الٹا “آل کلیئر” چھپا ہوا تھا

فائل کو برابر موجود کرسی پر رکھتے ہوئے وہ سر پکڑ کر رہ گئے تھے
ایک ہفتہ یعنی سات دن اور جیسے اُن کی دنیا اجڑ کر رہ گئی تھی
بے یقینی ہی بے بقینی تھی ۔۔۔ مایوسی اپنا گھر چکی تھی پھر بھی نا اُمیدی میں ہی اُمید تھی کہ شاید ڈاکٹرز کوئی اچھی خبر دیں گے مگر اب حالیہ رپورٹس کے بعد وہ بھی ختم ہو چکی تھی

وہ ٹکٹکی باندھے دو قدم کی دوری پر ہے سدھ پڑے وجود کو دیکھ رہا تھا جبکہ یکے بعد کئی آنسو چہرہ تر کیے جا رہے تھے

ایک کے بعد دوجا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا تھا ،۔۔ گزرے دنوں کی یادیں کسی کوڑے کی طرح جسم کو لہولہان کیے دیتی تھیں
سب کچھ تو ٹھیک تھا پھر نا جانے کب آسمان سر په آگرا تھا اور اتنی شدت سے گرا تھا کہ سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا تھا یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس کی دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے جل کر راکھ ہو چُکی تھی
وہ کچھ دیر اور تخیل کی گہرائی میں گمشدہ رہتا گر فون کی گھنٹی اسے ماضی سے حال میں نہ لاتی۔۔
سرد ہوتے ہاتھوں سے اس نے کال اٹینڈ کی تھی
مقابل سے جانب سے نا معلوم کیا ہدایت موصول ہوئیں تھیں کہ وہ اپنے سرد پڑتے جسم سمیت با مشکل ہی اٹھ پایا تھا

اپنے چہرے پر نمی کے احساس نے اسے حیران کیا تھا

کیا وہ رو رہا تھا ؟؟
مگر کیسے ، وہ تو ایک مرد تھا
پھر وہ کیسے رو سکتا تھا
ابھی تو اسے اپنے بچوں کو بھی سنبھالنا تھا ، اپنی ادھ مردہ بیوی کے جسم کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنا تھا
رشتے داروں اور اقارب کے افسردہ کلمات کو بھی وصول کرنا تھا
پھر وہ ابھی کیسے رو سکتا تھا
ذمہداریاں اتنی تھیں کہ اس کے پاس وقت نہیں تھا اور وقت تو شاید کسی اور کے پاس بھی نہیں تھا
قریب کرسی سے فائل اٹھانے کے بعد اس کے قدم ہسپتال کی انٹرنس کے جانب گامزن تھے جہاں اسے بقیہ بل ادا کرنے تھے تاکہ اس کی بیوی کو ڈسچارج کیا جا سکے

٫٫٫٫_٫

آج موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا ، فضا میں عجیب سی یاسیت چھائی ہوئی تھی ، آسمان نے کالے بادلوں کی چادر اوڑھ رکھی تھی ماحول ایسا پراسرار تھا کہ دن کے گیارہ بجے بھی مغرب کا وقت معلوم ہو رہا تھا
عجیب ہی وحشت طاری تھی ماحول میں ، یا پھر شاید وہ اکیلی ہی اس وحشت کو محسوس کر رہی تھی کیونکہ گراؤنڈ اور کیفے میں موجود طلبہ تو بھرپور لطف اندوز ہو رہے تھے اور ایک اس کا دل تھا جو لمحے گزرنے کے ساتھ ساتھ گھٹتا جا رہا تھا
صبح بھی اسی کیفیت کے زیر اثر وہ ناشتہ بھی نہ کر کے آئی تھی حالانکہ امی کے بے حد اصرار پر با مشکل چند لقمے حلق سے اُتارے تھے
کالج آنے کے بعد ایک آدھ کلاسز ہی اٹینڈ کی تھیں موسم کی صورتحال تھی کہ زیادہ تر لیکچرز آف تھے
رجا اور ہانیہ دونوں کیفے میں اس کا انتظار کر رہی تھیں جنہیں وہ بہانے سے ٹال کر کلاسز کی بیک سائیڈ پر آ گئی تھی
ایک یہی جگہ تھی جہاں وہ کسی کی نظر میں آئے بغیر اپنی حالت پر قابو پا سکتی تھی
دل میں عجیب سے ہول آٹھ رہے تھے جیسے سینے پر کسی نے منوں بوجھ لاد دیا ہو
سانس اتنی محال تھی کہ وہ پوری طاقت سے اپنے اندر ہوا کو کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی
سینے کی الٹی جانب ہاتھ سے دبائو ڈالتے ہوئے اس نے با مشکل ہی بیگ سے شیشے کی بوتل باہر نکالی تھی ایک ،دو ،تین اور یہ ساتھ ہی وہ چھ پلز اپنے اندر اُتار چکی تھی
وہ عام نہیں تھی یا پھر اس کی زندگی تو بلکل عام انسانوں جیسی نہیں تھی
اکثر آدھی رات یا دن کے کسی بھی وقت اچانک اس پر یہ کیفیت طاری ہو جاتی تھی ، بہت علاج کروایا مگر اب تو ڈاکٹرز بھی اس کی بیماری سمجھنے سے قاصر تھے ہاں اپنے پیشے کے لحاظ سے دوا تو دے ہی دیتے جن سے مستقل نہیں وقتی آرام تو آ ہی جاتا تھا

ابھی اس کی حالت سمبھلی نہ تھی کہ اپنے عقب سے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تھی

جانم ، جانم ۔۔۔ تم یہاں ہو ؟؟ ہم تمہیں کب سے ڈھونڈ رہے ہیں ، یہاں کیوں بیٹھی ھو

ہانیہ اور رجا نے اسے کلاسوں کی پچھلی جانب درختوں کی اوڑھ میں اکیلا بیٹھا پا کر کہا تھا

وہ جو سر کو گٹھنوں میں دبائے بیٹھی تھی اُن کے بلانے پر بھی کوئی رد عمل نہ دیا تھا

ہم تم سے بات کر رہے ہیں …
ہانیہ نے آگے بڑھ کر اس کا کندھا جھنجھوڑا
جس پر اس نے آہستگی سے شدید بھاری پڑتے سر کو اٹھایا تھا

اور اگلے ہی لمحے ہانیہ چیخ مار کر ایک جھٹکے سے اس کے پاس سے ہٹی تھی
رجا جو کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اس کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی ، دونوں کے چہرے کے رنگ اڑ چکے تھے اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں گرتے پڑتے وہاں سے جا چکی تھی

ماحول میں خطرناک حد تک اندھیرا پھیل چکا تھا ، سرمئی بادل سیاہ کالی گھٹا کا روپ لے چکے تھے
اپنے معطل ہوتے حواس کے ساتھ درخت کے تنے کا سہارا لیے وہ با مشکل ہی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی تھی
یکدم بادل پوری قوت سے گرجے تھے کانوں کو چیر دینے والی آواز کے ساتھ ماحول میں یکدم روشنی پھیلی تھی
کلاسز کی دیوار میں نسب کھڑکی کے شیشے پر اسے اپنا عکس نظر آیا تھا جسے دیکھ کر اس کی اپنی روح فنا ہو گئی تھی
اس نے اپنی آنکھوں کی سیاہ پتلیوں کو خطرناک حد تک پھیلا ہوا پایا تھا جبکہ باقی چہرہ بری طرح بگڑ چکا تھا مانو کسی نے کھال کھینچ کر ڈھیلی کر دی ہو
اس نے شیشے میں اپنے عکس کو مسکراتے ہوئے پایا ، پراسرار نفرت انگیز مکار مسکراہٹ مگر وہ خود تو اندر سے دہل چکی تھی
پھر یہ مسکراہٹ کیسی ؟؟
اس سوچ کا آنا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ ایک جھٹکے سے زمین پر جا گری تھی
بجلی کی چمک غائب ہو چکی تھی
سب ایک لمحے کا کھیل تھا
اور اسی ایک لمحے کے ساتھ اس کا وجود بھی منظر سے مٹا دیا گیا تھا
بادل کسی سیلاب کی طرح برس پڑے تھے ، بارش کے قطرے نشتر کی مانند گھاس پہ پڑ رہے جہاں کچھ دیر پہلے اس کا وجود تھا