Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
نفرین زدہ
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)
از قلم
میرعنبر
قسط نمبر ۲
شام ہوتے ہی دھندلکوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا
چرند پرند اپنے آشیانے کو لوٹ چکے تھے
دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں مغرب کے بعد ہی ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا اور عشاء کے بعد تو کسی ذی روح کے موجود ہونے کا امکان نہ لگتا تھا
ہر طرف خاموشی ۔۔۔ گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی
اسی خاموشی میں دور کھیتوں سے اکا دکا گیدڑوں کی آواز ماحول میں پھیلی پر اسراریت کو اور بڑھا رہی تھی
انہی کھیتوں سے کچھ فاصلے پر آئیں تو کچے اور پکے دونوں طرز کے گھر دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں سے ایک گھر فرقان فصیح کا بھی تھا
ایک کنال پر بنی یہ عمارت اپنے ارد گرد موجود تمام گھروں میں اعلی اور ممتاز تھی
آئینی چوکھٹ کو پار کریں تو نگاہ لان سے ہوتے ہوئے بلڈنگ پر جا کر ٹہرتی ہے
نا معلوم کیا تھا ۔۔۔ اس وقت گھر میں عجیب سی وحشت محسوس کی جا سکتی تھی
ایک نا معلوم احساس ،۔۔ جسے صرف انسان کی باطنی آنکھ ہی محسوس کر سکتی تھی
اندھیرا ہوتے ہی گھر کی تمام بتیاں بجھا دی گئی تھیں بس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے لان اور راہداری کے بلب روشن تھے
گھڑی دس کا ہندسہ پار کر گئی تھی ،۔۔ صوفہ کی پشت
سے ٹیک لگائے ،۔۔ تھوڈی کو ہاتھ کر رکھے وہ سوچ کے گہرے سمندر میں غوطہ زن تھا جبکہ نظریں مسلسل بیڈ پر دراز وجود پر ٹکی ہوئی تھیں جو پچھلے دو گھنٹوں سے ساکت نظروں سے سیلنگ کو دیکھے جا رہا تھا
کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا ، بیڈ سے کچھ ہی فاصلے پر چارپائیوں پر ان کے تین لخت جگر سکون کی نیند سو رہے تھے
کچھ تو تھا جسے وہ نظر انداز کر رہا تھا مگر کیا؟؟
یہ احساس انہیں مسلسل بے چین کیے جا رہا تھا
پچھلی راتوں کی شب بیداری کا اثر تھا اس کی آنکھیں نیند کی شدت سے سرخ ہو رہیں تھیں
ایک آخری خیال کے بعد وہ صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی جانب آیا تھا
وجیہہ ۔۔۔!!
وجی۔۔۔
اس کی پکار کے باوجود وہ مسلسل چھت کو گھورے جا رہی تھیں
اس نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا
بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے وہ پیار بھری نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا
جو اس کی کل متاع ۔۔۔ ساتھی ،۔۔۔ دوست۔۔۔ سالوں کی ہم راز۔۔۔۔۔ اس کی بیوی تھی
اور اس کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی
وجیہہ نے اس کی جانب دیکھا تھا ،۔۔ وہی ساکت ، خاموش نظریں
سو جاؤ ،۔۔ میں یہیں ہوں۔۔۔۔
یہ کر اس نے وجیہہ کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا
اور ساتھ ہی رکھی چار پائی کی جانب بڑھ گیا تھا
کچھ لمحوں بعد وہ آنکھیں موندے سو چکی تھی ،۔۔۔ اس کے آرام کی تسلی کرنے کے بعد وہ خود بھی پر سکون ہو گیا تھا
……
تم ایسا کیسے کہ سکتے ہو شاہ۔۔۔؟؟؟
کیا تم بھول گئے وہ سب جو اس عورت نے ہمارے ساتھ کیا۔۔۔؟؟؟
دیوان میں کالے سائے جمع ہوتے جا رہے تھے مگر وہ ابھی بھی اپنی ہزیانی کیفیت میں تھی
میں کچھ نہیں بھولا۔۔۔ نہ ہی ماضی اور نہ ہی مقصد
مگر جو تم کرنے جا رہی ہو
میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا
میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
میرا خون جل رہا ہے۔۔۔ مجھے اجازت دو شاہ ، میں بدلہ پورا کرنا چاہتی ہوں) وہی مکار زہر آلود مسکراہٹ
تم اب جا سکتی ہو ۔۔۔
تخت پر بیٹھے وجود کی آنکھیں تیز نیلی ہوچکی تھیں
ہنہ۔۔۔
تم صرف وقت ضائع کر رہے ہو۔۔۔
تم جھوٹے ہو۔۔۔ پلٹ کر وہ پھر سے چیخی تھی
یک دم قد آور دروازے کھلے تھے ۔۔۔ دیوان میں موجود سبھی سائے قطار میں منظم ہوتے ہوئے جھک گئے تھے
نفیس پوشاک میں ملبوس ۔۔۔ سر پر تاج رکھے ۔۔۔ وہ اپنے پورے تاب سے دیوان میں داخل ہوئیں تھیں
ساریہ۔۔۔۔۔
دیوان کی دیواریں ایک بار پھر لرز اٹھی تھیں ،۔۔
ملکہ۔۔۔
زبردستی ہی سہی اسے جھکنا پڑا تھا ، ملکہ کے پیچھے شہزادہ برہان کو کھڑا پاکر اس نے ہنکار بھری تھی
یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو شاہ سے؟؟؟
آواز گرج دار مگر ٹھہری ہوئی تھی
میرے لہجے پر غور مت کیجئے ملکہ۔۔۔ آپ کو شاہ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے
چبا چبا کر لفظ ادا کیے گئے تھے ،۔۔
شاہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔۔
شاید تم بھول چکی ہو وہ کون ہیں ۔۔۔
ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ،۔۔ آواز دیواروں سے ٹکڑا کر پلٹی تھی
امی جان ،۔۔۔ شہزادہ برہان نے آگے بڑھ کر انہیں سمبھالنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں
اگر شاہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں تو مجھے بھی آزادی دے دیجئے
آواز میں غرغراہٹ صاف واضح تھی
تخلیہ۔۔۔۔
ملکہ کے کہنے پر دیوان میں موجود تمام کالے سائے ہوا میں محول ہو گئے تھے
تم جانتی بھی ہو کیا کیا رہی ہو۔۔۔۔
شہزادہ برہان کے چہرے پر تفکر کے تاثرات نمایاں تھے
ٹھیک ہے۔۔۔۔
ایک طویل خاموشی کے بعد تخت پر سے فیصلہ کن آواز آئی تھی
بھائی آپ۔۔۔ برہان نے مداخلت کرنا چاہی
برہان آپ بیچ میں مت بولیے۔۔۔
ملکہ نے اسے چپ کروایا
مگر امی جان۔۔۔ وہ کچھ اور کہتا مگر اگلے ہی لمحے فیصلہ سنا دیا گیا تھا
“آج کے بعد تمہارا اس قبیلے سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں”
کاغذ پر مہر لگ چکی تھی ،۔۔ اگلے ہی سیکنڈ ورق ہوا میں اڑتا ہوا اس کے منہ پر جا لگا تھا
تم نے اچھا نہیں کیا شاہ۔۔۔
تمہیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی
ورق کو مٹھی میں دبوچتے ہوئے نفرت آمیز لہجے میں کہا تھا
قبیلے سے نکالے جانے پر اس کا چہرہ بگڑ چکا تھا ،۔۔ چہرے پر ہیبت ناک تاثرات تھے ،۔۔
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔
برہان کا ضبط بھی جواب دے چکا تھا جو بھی ہو وہ اپنے بھائی کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا تھا
بہت پچھتاؤ گے تم ۔۔۔
ایک ڈھار کے ساتھ وہ ہوا میں بلند ہوئی تھی ،۔۔ دیوان میں کالی بجلی چمکی تھی۔۔۔ اور وہ جا چکی تھی
ملکہ نے اپنے پیچھے موجود کرسی کا سہارا لیا تھا
برہان نے آگے بڑھ کر انہیں تھامنا چاہا جبکہ شاہ پلک جھپکتے آ موجود ہوا تھا
والدہ۔۔۔ اُنہیں کرسی پر بٹھاتے ہوئے وہ ایک جذب سے بولا تھا
شاہ میرے بیٹے مجھے تم پر پورا یقین ہے تم اسے لے آؤ گے ۔۔۔ بہت جلد
آپ فکر مت کریں والدہ۔۔۔
اب منزل زیادہ دور نہیں ہے۔۔۔ اس کے لہجے میں صدیوں کی نفرت پنہاں تھی ،۔۔ آنکھیں پھر سے تیز نیلا رنگ دھار چکی تھیں جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان کو قابو کر رہا ہو
خدا تمہارا حامی ہو”۔۔۔ ملکہ نے اس کا ماتھا چوما تھا
جانے سے پہلے اس نے ایک نظر دو قدم دور کھڑے برہان پر ڈالی تھی ،۔۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں الفاظ کا تبادلہ کیا تھا
اور اگلے ہی لمحے وہ منظر سے غائب ہو چکا تھا۔۔۔۔
دیوان میں پھر سے خاموشی چھا چکی تھی ،۔۔ طوفان سے پہلے محسوس کی جانے والی خاموشی ۔۔۔
…رات کا آخری پہر داخل ہو چکا تھا جب اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی
بستر سے اٹھتے ہوئے اس نے بیڈ کی جانب نظر دوڑائی تھی ،۔۔ وجیہہ کو وہاں نہ پا کر وہ فکر مند ہوا تھا
بچے سو رہے تھے ۔۔۔ شاید واشروم میں ہو ۔۔ یہ سوچ کر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا
ہو سکتا ہے بھوک لگی ہو ،۔۔ یا کسی کام سے باہر گئی ہو۔۔۔ اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آیا تھا
رگوں میں خون کو جما دینے والی یخ بستہ ہوائیں اسے اپنی ہڈیوں میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی تھی
کچن،۔۔ ہال کمرہ،۔۔ سٹور ،۔۔ گیسٹ روم
وہ ہر جگہ دیکھ چکا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی
اتنی شدید سردی میں بھی اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔۔ کیا کرتا محبوب عورت جو تھی
ہر جگہ دیکھ لینے کے بعد وہ دوبارہ اپنے کمرے کی جانب پلٹا تھا ،۔۔ اچانک اس کی نظر اناج والے کمرے کے جانب پلٹی تھی
اکثر گاؤں دیہات میں لوگ گندم کو سٹور کرنے کے لئے لوہے کے بڑے غلہ دان کا استعمال کرتے ہیں
اس کمرے کو بھی غله محفوظ کرنے کے لیے مخصوص کر رکھا تھا تبھی اس کا دھیان اس جگہ نہیں گیا تھا
اس کے قدم کمرے کی جانب بڑھے تھے
ابھی وہ دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ اسے اندر سے کچھ پڑھنے کی آواز آئی تھی
جیسے کوئی ہلکی آواز میں عجیب سے الفاظ پڑھ رہا ہو
اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ وجیہہ کیا تم اندر ہو۔۔؟؟
آواز آنا بند ہو چکی تھی ،۔۔ پھر وہی خاموشی
وہ سانس روکے ساکت کھڑا تھا
کچھ دیر بعد پڑھائی دوبارہ شروع ہو چکی تھی
وجیہہ۔۔۔ اس نے ایک بار پھر آواز دی مگر اب کی بار آواز مسلسل آ رہی تھی
ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اللہ کا نام لیا تھا
ایک جست کے ساتھ وہ دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا
یکدم ایک سرد ہوا کا جھونکا اس سے ٹکڑا کر باہر نکلا تھا،۔۔۔ جسے اس نے اپنے پورے حواس کے ساتھ محسوس کیا تھا
کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اس نے لائٹ آن تھی ،۔۔
غلہ دان کے ساتھ وہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی مگر جو چیز اسے حیران کیے دے رہی تھی وہ یہ کہ اس خون جما دینے والی سردی میں بھی اس کے جسم پر نام کا ایک لباس تھا
پھر وہ بیمار حال عورت خود چل کر یہاں کیسے آ سکتی تھی ،۔۔
وجیہہ یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟
ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔
آگے بڑھ کر اس نے اسے کندھے سے سہارا دیکر کھڑا کیا تھا
اس نے کوئی مزاحمت نہ کی نہ ہی کوئی جواب دیا
کمرے میں لاکر وہ اُسے بیڈ پر لیٹا چکا تھا
کچھ دیر وہ چپ چاپ یوں ہی چھت کو گھورے گئی
قریب فجر کے وقت وہ سو چکی تھی ،۔۔ اس کے گرد لحاف درست کرتے ہوئے وہ وضو کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا
نماز کے بعد دعا کرتے ہوئے مسلسل آنسو جاری تھے
آیت کرسی پڑھ کر اس کے سوئے ہوئے وجود پر دم کیا تھا اور لحاف کی جانب بڑھ گیا
مگر اب نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
………
کالا جنگل ۔۔۔۔ گپ اندھیرا ۔۔۔۔ سوکھے پتے۔۔۔۔ دیو قامد درخت۔۔۔۔ اور ان درختوں کی جھکی ٹہنیاں۔۔۔۔ پتوں کے جھالر سے آتی نیم روشنیاں۔۔۔۔،۔۔
نا جانے یہاں وہ کتنی دیر سے دیر سے بھٹک رہی تھی
سفید وردی پر جا بجا خون کے نشانات تھے۔۔۔ کہاں سے آئے۔۔۔ نا معلوم
کئی دیر مسلسل چلنے کے باوجود اس کی ایڑیوں میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں
ہوش سمبھلتے ہی اس نے خود کو اس گھنے جنگل میں پایا تھا ۔۔۔۔ سر میں اٹھتے درد کی شدت اتنی تھی کہ وہ کراہ اٹھی تھی
وہ کہاں تھی۔۔۔؟؟
اسے یہاں کون لایا تھا۔۔۔؟؟
اس نے دماغ پر زور دیا۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہ آنے پر وہ درخت کا سہارا لیے کھڑی ہوئی تھی
اسے یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔ کسی بھی صورت۔۔۔۔۔
مگر کیسے..؟؟
وہ یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی تھی تو جا کیسے سکتی تھی ۔۔
قد آمد درختوں کی جڑیں زمین پر پھیلی ہوئی تھیں ،۔۔
وہ کئی دیر سے چل رہی تھی اور اب تھک چکی تھی
ٹانگیں جواب دے گئی تو وہ قریب ایک درخت کی پھیلی جڑوں پر بیٹھ کر پاؤں سہلانے لگی
یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔
نیم گرم قطرے چہرے سے لڑکھ کر سوکھے پتوں پر گر رہے تھے
اچانک اسے محسوس ہوا وہ مسلسل کسی نگاہوں کی زد میں ہے
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔ کوئی نہیں تھا
دائیں ۔۔۔ بائیں ۔۔۔ اچانک اس کی نگاہ درخت کی جانب اٹھی۔۔۔۔۔
سانس حلق میں اٹک چکی تھی ،۔۔ اس نے چیخنا چاہا۔۔۔ مگر وہ چیخ نہ پائی تھی
