Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104

Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104 Last updated: 19 July 2025

64.6K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafreen Zada By Meer Ambar

تم ایسا کیسے کہ سکتے ہو شاہ۔۔۔؟؟؟ کیا تم بھول گئے وہ سب جو اس عورت نے ہمارے ساتھ کیا۔۔۔؟؟؟

دیوان میں کالے سائے جمع ہوتے جا رہے تھے مگر وہ ابھی بھی اپنی ہزیانی کیفیت میں تھی

میں کچھ نہیں بھولا۔۔۔ نہ ہی ماضی اور نہ ہی مقصد مگر جو تم کرنے جا رہی ہو میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا

میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ میرا خون جل رہا ہے۔۔۔ مجھے اجازت دو شاہ ، میں بدلہ پورا کرنا چاہتی ہوں) وہی مکار زہر آلود مسکراہٹ

تم اب جا سکتی ہو ۔۔۔ تخت پر بیٹھے وجود کی آنکھیں تیز نیلی ہوچکی تھیں

ہنہ۔۔۔ تم صرف وقت ضائع کر رہے ہو۔۔۔ تم جھوٹے ہو۔۔۔ پلٹ کر وہ پھر سے چیخی تھی

یک دم قد آور دروازے کھلے تھے ۔۔۔ دیوان میں موجود سبھی سائے قطار میں منظم ہوتے ہوئے جھک گئے تھے نفیس پوشاک میں ملبوس ۔۔۔ سر پر تاج رکھے ۔۔۔ وہ اپنے پورے تاب سے دیوان میں داخل ہوئیں تھیں

ساریہ۔۔۔۔۔ دیوان کی دیواریں ایک بار پھر لرز اٹھی تھیں ،۔۔

ملکہ۔۔۔ زبردستی ہی سہی اسے جھکنا پڑا تھا ، ملکہ کے پیچھے شہزادہ برہان کو کھڑا پاکر اس نے ہنکار بھری تھی

یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو شاہ سے؟؟؟ آواز گرج دار مگر ٹھہری ہوئی تھی

میرے لہجے پر غور مت کیجئے ملکہ۔۔۔ آپ کو شاہ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے چبا چبا کر لفظ ادا کیے گئے تھے ،۔۔

شاہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔۔ شاید تم بھول چکی ہو وہ کون ہیں ۔۔۔ ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ،۔۔ آواز دیواروں سے ٹکڑا کر پلٹی تھی

امی جان ،۔۔۔ شہزادہ برہان نے آگے بڑھ کر انہیں سمبھالنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں

اگر شاہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں تو مجھے بھی آزادی دے دیجئے آواز میں غرغراہٹ صاف واضح تھی

تخلیہ۔۔۔۔ ملکہ کے کہنے پر دیوان میں موجود تمام کالے سائے ہوا میں محول ہو گئے تھے