Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104 Episode 03
Rate this Novel
Episode 03
نفرین زدہ
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)
از قلم
میرعنبر
قسط نمبر ۳
ہم محبت کے ہارے ہوئے لوگ
دل لگی کی خاطر گزارے لائق لوگ
دنیا سے بیزار دلوں سے اُتارے ہوئے لوگ
جو ٹوٹے تو تارا بن گئے
ورنہ چاند کہا کرتے تھے ہمیں بھی اکثر لوگ
کالج کے سیکنڈ فلور پر اس وقت مکمل خاموشی تھی کیونکہ موسم کی خرابی کے باعث زیادہ تر سٹوڈنٹس گھر جا چکے تھے
اور اب تو بلڈنگ میں ہو کا عالم تھا
اس وقت سیکنڈ فلور سے فرسٹ فلور تک جاتی سیڑھیوں پر بیٹھا وہ باہر پھیلتے اندھیرے کا جائزہ لے رہا تھا
بظاہر نگاہیں سیاہ ہوتے آسمان پر مرکوز تھیں مگر ذہن الگ ہی سوچوں میں اُلجھا ہوا تھا
جس طرح بعض یادیں بعض چیزوں سے منسلک ہوتی ہیں اسی طرح کچھ جذبات منظر سمیت دل میں رقم ہو جاتے ہیں
پھر جب کبھی ان مناظر سے دوبارہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے تو وہی جذبات اپنے آپ سینے میں ابھر آتے ہیں
سترہ سال ۔۔۔ ٹھیک سترہ سال پہلے اسی ابر آلودگی میں وہ اپنی سب سے پیاری چیز کھو چکا تھا
وہ دن تھا اور آج کا دن جبران حدید کو بارش سے شدید نفرت تھی
“بہت برا غم ہے محبت سبھی غموں میں”
انگلی کے پورے سے اس نے آنکھ کے گرد آئی نمی کو صاف کیا تھا ۔۔۔ اپنے اندر کے درد کو وہ اپنی ذات پر بھی عیاں نہیں ہونے دینا چاہتا تھا
ڈائری کو بیگ میں ڈالتے ہوئے وہ سیڑھیوں پر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبھی دو لڑکیوں کو گرتے پڑتے اپنی جانب آتا دیکھ کر اسکی پیشانی پر لکیریں اُبھری تھیں
جبران بھائی ۔۔۔جبران بھائی ۔۔۔
کلاسز سے منسلک سیکنڈ فلور کی سیڑھیوں پر اسے بیٹھا دیکھ کر وہ دونوں ہانپتے کانپتے اس تک پہنچی تھی
اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتا ہانیہ نے منہ کھولا تھا
جبران بھائی وہ جانم ۔۔۔ ہم اسے بلانے گئے تھے ۔۔۔مگر پھر اس کے ساتھ۔۔۔
اتنا کہنے پر اسے بری طرح کھانسی نے آ پکڑا تھا
اُن دونوں لڑکیوں کو وہ اکثر جانم کے ساتھ دیکھا کرتا تھا ۔۔ اتنا تو وہ جان ہی گیا تھا کہ یہ اُس کی سہیلیاں ہیں
وہ جو ماتھے پر تیوری چڑھائے مکمل قوت سماعت بنا ہوا تھا ایک گہری سانس لیکر خود کو کمپوز کیا پھر گویا ہوا
مگر کیا۔۔۔؟؟
کیا ہوا جانم کو۔۔۔۔ ؟؟
جبڑوں کو بھینچے وہ ضبط کے مراحل پر تھا
آپ خود چل کر دیکھ لیں۔۔۔ رجا جو سفید لٹھے کی مانند ٹھنڈی ہوئی جا رہی تھی ، با مشکل لفظ ادا کر پائی تھی
چلو۔۔۔
بیگ کو ایک جست میں کاندھے پر ڈالتے ہوئے وہ سیکنڈ میں سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے اترا تھا
جبکہ وہ دونوں ابھی وہیں کھڑی تھی
میں نہیں جا رہی ۔۔۔تم نے جانا ہے تو جاؤ۔۔۔
ایک کڑک دار گرج کے ساتھ بجلی چمکی تھی ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی
ہانیہ نے سہمی ہوئی آواز میں کہا ،۔۔ اس کا رواں رواں اُس گزرے منظر کو سوچ کر کانپ اٹھا تھا
اس سے پہلے رجا اس کی بات کا کوئی جواب دیتی ،۔۔ وہ ایک جست میں واپس پلٹا تھا ،۔۔ اس کی بازو کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ کر کھینچتے ہوئے وہ اُسے اپنے ساتھ لے گیا تھا
جبکہ ہانیہ اکیلی سیڑھیوں په کھڑی یہ تماشا دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔
بلڈنگ میں پھیلی یاسیت اور نیم اندھیرا ،۔۔ وہ کسی صورت یہاں ٹہرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی
رکیں میں بھی آرہی ہوں۔۔
سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ بھی اُن کے پیچھے بھاگی تھی
کلاسز کے بیک سائیڈ آتے تک وہ بری طرح بھیگ چکے تھے
بارش کسی تیز دھار نشتر کی مانند تابر توڑ برس رہی تھی
گپ اندھیرے میں موبائل ٹارچ آن کیے وہ درخت کی جانب بڑھا تھا جہاں رجا کے مطابق انہوں نے آخری بار جانم کو موجود پایا تھا
دور سے جائزہ لینے پر ہی اسے درخت کی ٹہنیاں ایک خاص انداز میں نیچے کو جھکی ہوئی محسوس ہوئی تھیں
مانو کوئی قوت انہیں نیچے کی جانب کھینچ رہی ہو
کچھ تو غیر معمولی تھا اس جگہ پر۔۔ یہ احساس وہ یہاں قدم رکھنے سے پہلے محسوس کر چکا تھا
اور اب درخت کی جانب بڑھتے ہوئے وہ غیر مرئی طاقتوں کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر رہا تھا
جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہا تھا پیچھے موجود ہانیہ اور رجا کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہیں تھیں
جبران بھائی۔۔۔۔ ہانیہ نے آواز دیکر اسے روکنا چاہا مگر وہ نہ رکا تھا یہاں تک کہ عین درخت کے نیچے جا کھڑا ہوا تھا
وہ دونوں دم سادھے اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔
یکدم آسمانی بجلی چمکی تھی ،۔۔ آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی ، مگر اس نے پلک تک نہ جھپکائی تھی ،۔۔ کیونکہ جو کچھ وہ دیکھ رہا تھا وہ باقی آنکھوں سے اوجھل تھا
اس کی باطنی آنکھ مسلسل درخت کے اطراف اشارہ کر رہی تھی
یعنی جو کچھ بھی تھا یہیں موجود تھا
ایک آخری آیت کے بعد اس نے آنکھیں کھولی تھیں ،۔۔ درخت کے بیچ و بیچ تنے پر اسے سفید رنگ کے نشانات واضح ہوتے نظر آئے تھے
آڑی ترچھی لکیریں جیسے کسی چونے سے ستارے کا نقش کھینچا گیا ہو
کبالہ”۔۔۔ اس کے لبوں سے بے اختیار لفظ نکلا تھا
دم سادھے وہ تنے کی جانب بڑھا تھا
یکدم اسے محسوس ہوا مانو اس کا پاؤں کسی شے سے ٹکرایا ہے ،۔۔ ٹارچ نیچے کرنے پر جو منظر اس نے دیکھا جو دور فاصلے پر کھڑی اُن دونوں کی چیخ نکال دینے کو کافی تھا
زمین میں ادھ دھنسا سر ،۔۔۔
وجیہہ کو ہسپتال سے گھر آئے تین سے چار دن گزر گئے تھے ،۔۔ ہر شام فیملی ڈاکٹر باقاعدہ اس کا معائنہ کرنے آتا تھا
دوا یا دعا دونوں صورتوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی تھی مگر حالت تھی کہ دن با رات ابتر ہوتی چلی جا رہی تھی
ہسپتال میں تو ڈاکٹرز کب کا جواب دے چکے تھے اور صاف لفظوں میں کہ گئے تھے کہ یہ ان کے بس کا روگ نہیں ہے باوجود اس کے فرقان فصیح نے ایک دن بھی غفلت سے کام نہ لیا تھا
ٹیسٹ اور باقی طبی علاج اسی طرح جاری تھا ساتھ ہی وہ کئی مساجد میں دعا اور صدقۃ کا اہتمام کر رہا تھا
خود وہ اکثر دعا میں رو پڑتا تھا کچھ بھی ہو وہ اُسے کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ تصور تو اس کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی اسے چھوڑ کر جائے۔۔۔
وہ تو فقط اس کی تکلیف کے زیر اثر دن رات فراموش کیے ہوا تھا ،۔۔ ایسے میں اس کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا تھا
خود تو وہ جاکر دیکھنے سے رہا تھا یہی وجہ تھی کہ کہاں پانچ دکانیں گھٹ کر دو میں سمٹ گئی تھیں
فلحال اسے اس چیز کی پرواہ نہیں تھی
کاروبار تو پھر دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا تھا جس طرح ماضی میں اس نے اپنی بیوی کی سپورٹ اور اپنی محنت کے بل بوتے پر کیا تھا
اس وقت اس کی زندگی کا محور صرف اور صرف وجیہہ کا سکون اس کی صحت تھی جس کے لیے اس نے کوئی راستہ نہ چھوڑا تھا
دسمبر کے اخیر تاریخیں چل رہیں تھیں جن میں دن اکثر چھوٹے اور راتیں لمبی ہوا کرتی ہیں
آج کا دن بھی روزمرہ روٹین کی زد ہوا تھا
اس وقت ٹی وی لاؤنج میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھا اُن کی دن بھر کی روادار سن رہا تھا
صبح تو نانی اور ماموں آکر سمبھال جایا کرتے تھے پھر رات میں وہ خود سے اُنہیں وقت دینے کی کوشش کرتا تھا
بابا ، ماما کب ٹھیک ہوں گی۔۔؟؟
سب سے پہلے تین سالہ جبران کی جانب سے سوال آیا تھا
اس کی سیاہ آنکھوں سے جھلکتی اُداسی اسے اپنے سینے پر خنجر کی طرح محسوس ہوئی تھی
بہت جلد بیٹے۔۔۔
(اس سے زیادہ خود کو تسلی دی گئی تھی)
بابا نانو بلکل اچھا لنچ نہیں بناتی ،۔۔ ہمیں ماما کے ہاتھ کے ہاتھ کا کھانا یاد آتا ہے
ایک اور شکوہ حاضر تھا
آپ دعا کریں زہرا ماما ٹھیک ہو جائیں پھر وہ آپ کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنا کر دیں گیں
اپنے سینے سے لپٹی سات سالہ زہرہ کی بات پر وہ ذرا کو مسکرایا تھا
جب سے وجیہہ نے بستر سمبھالا تھا اچھا تو اسے بھی کچھ نہیں لگتا تھا مگر یہ تو بچے تھے جنہیں بہلایا جا سکتا تھا
بابا آیت بھی بہت تنگ کرتی ہے آج ماموں کہ رہے تھے یہ بلکل اپنی ماما پر گئی ہے
ویسے بابا کیا ماما بھی پہلے آپ کو اسی طرح تنگ کرتی تھیں جس طرح آیت نانو کو کرتی ہے
جبران نے آنکھیں مٹکائے معصومیت سے سوال کیا تھا،۔۔ اپنی گود میں ایک سالہ وجود کو دیکھتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں نمی تیر گئی تھی
جو بلکل وجیہہ کی کاپی تھی ،۔۔
بابا آپ رو رہے ہیں۔۔؟؟
زہرہ نے آگے بڑھ کر اس کے گال پر لڑکھتا آنسو صاف کیا تھا
نہیں میری جان بس تھوڑا تھک گیا ہوں۔۔
آپ بھی تھک گئے ہوں گے صبح سکول بھی تو جانا ہے ناں آپ دونوں نے ۔۔
سکول کے نام پر جبران نے منہ بگاڑا تھا۔۔
جی بابا۔۔اب ہمیں سو جانا چاہیے
زہرا کے کہنے پر وہ اُن تینوں کو لیے بیڈ روم کی جانب بڑھ گیا تھا جہاں پہلے سے وجیہہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی
بچوں کو بستر پر لٹانے کے بعد وہ خود بھی بیڈ کے قریب رکھی چارپائی پر آ لیٹا تھا
دن بھر کی تھکن کے باعث بھی آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ،۔۔ نجانے کیا احساس تھا جو بار بار ہلکورے لے رہا تھا
وجیہہ کی صحتیابی کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا پھر بھی ،۔۔ پھر بھی ایک کیفیت تھی کہ اس کی تمام کوششیں پانی میں پتھر مارنے کے مترادف ہیں۔۔ انہی سوچوں کے زیر اثر وہ نیند میں جا بسا تھا۔۔۔۔۔
رات کے کسی پہر سردی کے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھل گئی تھی ،۔
کمرے میں نیم اندھیرا تھا ،۔۔ آنکھیں مسلتے ہوئے اس کی نظریں سب سے پہلے بیڈ کی جانب گئی تھیں ۔۔۔۔۔ یکدم وہ جھٹکا کھاتے ہوئے مکمل ہوش میں آیا تھا کیونکہ وجیہہ پھر سے بستر پر موجود نہیں تھی
بیڈ پر موجود کمبل ایک جانب کو ڈھلک کر گرا ہوا تھا اور کمرے کا دروازہ مکمل کھلا ہوا تھا جس کے باعث یخ بستہ ہوائیں اندر آ رہی تھیں
اس نے سوچنے میں اگلا لمحہ ضایع نہیں کیا تھا ،۔۔ ایک جست میں اٹھتے ہوئے وہ باہر کی جانب بھاگا تھا ،۔۔ اس بار اس کے قدم سب سے پہلے گودام والے کمرے کی جانب اٹھے تھے
جہاں عین اندازے کے مطابق بلکل اندھیرا تھا ،۔۔
وجیہہ ۔۔۔ ایک پکار کے ساتھ اس نے دروازہ دھکیلا تھا۔۔۔
اندھیرا گپ اندھیرا۔۔۔ ہاتھ میں پکڑی ٹارچ کو اس نے اردگرد گھمایا۔۔۔
جوں ہی اس نے ٹارچ کا رخ گندم ذخیرہ کرنے والے ڈربے کی جانب کیا اسے وہاں بیٹھا پاکر ایک پل کو وہ جوان مرد بھی ہل گیا تھا
گھر کے لان کے سائیڈ انہوں نے مرغیاں پال رکھی تھیں ،۔۔ایک تو یہ کچے علاقوں میں کلچر ہے دوجه گھر میں بچوں کا دل بھی لگا رہتا تھا
مگر جو وہ دیکھ رہا تھا اُس کا اندر باہر جھنجھوڑ دینے کو کافی تھا
وجیہہ ڈربے کے ساتھ بیٹھی ہاتھ میں مرغی لیے اس کی گردن میں دانت گاڑھے خون پی رہی تھی
جگہ جگہ فرش پر مرغی کے پر بکھرے پڑے تھے
وجیہہ۔۔۔۔۔؟
اب کی بار پکار کم سوال زیادہ تھا
یہ کون تھی۔۔؟؟۔ یہ تو وہ نازک مزاج عورت نہ تھی جسے وہ جانتا تھا
جو یوں مرغی کی گردن سے خون چوس رہی تھی جیسے صحرا میں پیاسے کو چند بوند پانی میسر ہو جائے
ہمت کرتے ہوئےوہ آگے بڑھا تھا ، اس کے ہاتھ سے مرغی کھینچ کر پرے پھینکی تھی
اسے بازو سے پکڑے وہ کمرے میں واپس لایا تھا،۔۔ سب سے پہلے واش بیسن پر اس کا منہ اور ہاتھ دھلوائے ۔۔ جو خون کے لوتھڑوں سے بھرے ہوئے تھے
اسے بیڈ پر لاکر کمبل اوڑھا دیا ۔۔۔ خود وہ کنارے بیٹھ کر مسلسل آیت کرسی اور چاروں قل کا ورد کرتا رہا۔۔۔ معاملہ اب کچھ اس کی سمجھ میں آ گیا تھا
یہ بجا تھا تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ وہ نماز قرآن پر زیادہ توکل کرتا تھا
مگر اب صورتحال کچھ اور تھی ،۔۔ پھر شاید یہ اس کی دعا کا ہی نتیجہ تھا حالات کھل کر سامنے آرہے تھے اب اگر وہ مزید اندھا بنتا تو یہ اس کا فیصلہ تھا
________“”
زمین میں ادھ دھنسا سر۔۔۔
جانم۔۔۔ ایک سرگوشی اس کے لبوں سے نکلی تھی
اسے پہچاننے میں دیر نہیں لگی تھی ۔۔۔
وہ اپنی چچا زاد کو زمین میں گڑھے دیکھ رہا تھا ،۔۔جس کا مکمل وجود مٹی میں دفن تھا صرف چہرے کا کچھ حصہ مٹی کے اُوپر نمایاں تھا
اس کے ہاتھ خود با خود مٹی کی جانب بڑھے تھے ،۔۔ وہ کھودنے کی بیوقوفی کر بیٹھتا اگر اس کی نگاہ ارد گرد دھنسے کیلوں پر نہ پڑتی۔۔۔
جبران بھائی۔۔۔ پیچھے دیکھیں
رجا کی گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی ،۔۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
چاروں اطراف سے سیاہ سانپ نکل کر اُن کی جانب گھیرا تنگ کر رہے تھے
ایک لمحے کو اس کا دل دہلا تھا پھر اگلے ہی لمحے ڈر کی جگہ نفرت نے لے لی تھی
شر کے خلاف نفرت۔۔۔ حدود توڑنے والوں کے خلاف نفرت ۔۔۔ برائی اور شیطان کے خلاف نفرت ۔۔۔
وہ حق کے ساتھ کھڑا تھا اور حق کبھی ہار نہیں سکتا باطل کبھی جیت نہیں سکتا
اور حق و باطل کی اس جنگ میں جبران حدید کسی صورت باطل کے سامنے گٹھنے نہیں ٹیک سکتا تھا
جب انسان کے اندر اس قدر آگ برپا ہو جائے اور اسے یقین ہو جائے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑا ہے پھر چاہے دنیا کی کتنی ہی بڑی سے بڑی قوت ہو اس کی راہ میں زیادہ دیر حائل نہیں رہ سکتی
اپنی جگہ سے ہلنا مت۔۔۔ اُن دونوں کے گرد وہ پہلے ہی حصار باندھ چکا تھا
دوسروں لفظوں میں اُنہیں حصار میں ٹکے رہنے کا بول کر وہ زمین کی جانب جھکا تھا
وہ یہاں خود نہیں آئے تھے بلائے گئے تھے
اور اب اسے جانم سمیت اُن دونوں کو بھی اس طلسماتی جال سے نکالنا تھا
مرشد۔۔۔” آنکھیں بند کیے اس نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ بار بار کوئی شے اس کے تصور میں رکاوٹ بن رہی تھی
آنکھیں کھول کر اس نے سانس روکے آیت لکرسی پڑھی اور دوبارہ آنکھیں بند کر لیں
اس بار وہ کامیاب ٹہرا تھا اگلے ہی لمحے تصور میں کسی بزرگ ہستی کی صورت نمایاں ہوئی تھی جن سے من ہی من وہ ہدایات وصول کر رہا تھا
سانپوں کی پھنکار اسے قریب آتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔ وقت بہت کم تھا۔۔۔
اپنی ہتھیلی کو تنے کے عین وسط میں بنے ستارے کی جانب کیے وہ مسلسل ورد کیے جا رہا تھا
