Nafreen Zada By Meer Ambar Readelle50104 Episode 04
Rate this Novel
Episode 04
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)
قسط نمبر ۴
از قلم میرعنبر
تیز تیز بہت تیز وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ مسلسل ۔۔ اتھل پتھل ہوتی سانسوں سمیت۔۔۔
اندھا دھن بھاگنےکے باعث اس کی ایڑھیاں خون سے بھر چکی تھیں ۔۔۔ جنگل میں پھیلی گلے سڑے گوشت کی بدبو اس کی نسوں سے ٹکڑا کرحواس باختہ کر رہی تھی
اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ اسے قریب آتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ مگر پھر بھی اس نے ہار نہ مانی تھی یہاں تک کہ اپنی بے سدھ ہوتی ٹانگوں سمیت منہ کے بل زمین پر جا گری تھی
کہنیوں کے بل اپنے زخمی وجود کو گھیلتے ہوئے وہ درخت کی اوٹ میں آ چھپی تھی
جھکی ٹہنیوں کی زد میں اس کا وجود قدرے چھپ سا گیا تھا
پسینے میں شرابور وہ تھر تھر کانپ رہی تھی جسم کا رواں رواں کھڑا ہو گیا تھا
قدموں کی آہٹ اب اسے عین درخت کے گرد چکر کاٹتی محسوس رہی تھی مانو شکاری اپنے شکار کو ڈھونڈ رہا ہو یا پھر سونگھ رہا ہو
ہاں وہ جو بھی بلا تھی زمین پر بکھرے پتوں کو سونگھ رہی تھی
یا اللہ بچا لے آج ۔۔۔
اپنے کانپتے ہاتھوں کو جوڑے چہرہ اُوپر کیے وہ گھٹی گھٹی آواز میں دعا گو ہوئی
اچانک نگاہوں کا زاویہ بدلا تھا ۔۔۔
اس نے سامنے دیکھا۔۔۔۔ اور وہ اپنی دعا بھول گئی تھی
یکدم اس کے حلق سے ایک سسکی برآمد ہوئی ۔۔۔
لال جھلملاتی آنکھیں عین اس کے وجوہ پر ٹکی ہوئی تھیں
جانم کو لگا اس کی سانس جیسے تھم سی گئی ہو ۔۔۔ وقت جیسے ساکت ہو گیا ہو ۔۔۔ دل دھڑکنا چھوڑ گیا ہو اور دماغ سن ہو گیا ہو ۔۔ آنکھیں جھپکنا بھول جائیں اور روح جسم سے نکل جائے
موت جب عین سامنے کھڑی نظر آجائے تو انسان کا اپنا آپ بھی اُسے دغا دے جاتا ہے
یاسیت کے اس عالم میں فقط دو سانسیں چل رہیں تھیں ۔۔۔ ایک موت کے خوف سے اٹکی ہوئی اور دوسری بدلے کی آگ میں جلتی ہوئی
پلک جھپکنے کی دیر تھی اور اگلے ہی لمحے وہ لمبے بالوں والی بلا اس پر جھپٹ پڑی تھی
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور دماغ ماؤف ہوتا چلا گیا
یہ سب اتنا اچانک تھا کہ اس کی چیخ تک حلق میں دب کر رہ گئی تھی
ایک کراہ کے ساتھ وہ زمین بوس ہوئی تھی ۔۔
جنگل میں طوفان کا عالم برپا ہو چکا تھا ، ہر طرف آندھیاں چل رہی تھیں ۔۔ تیز دھار نشتر کی مانند جسم سے کھال اُتار دینے والی ہوا ۔۔۔
اور اسی ہوا میں بلند ہوتی چیخیں ۔۔ سماعت کو مفلوج کر کے رکھ دینے والی آوازیں
اردگرد پھیلی گرد و غبار میں اس کا وجود زمین پر گھسیٹتا ہوا کہیں غائب ہو چکا تھا
یعنی ایک بار پھر۔۔۔
موت کا کھیل شروع ہو چکا تھا اور اس بار نا جانے کون کون اس کھیل میں اپنی جان کی بازی ہارنے والا تھا
_________“
آج جمعے کا دن تھا نماز کے بعد وہ گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ سامنے امی جان اور وجیہہ کے باقی گھر والوں کو دیکھ کر وہ حیران کم خوش زیادہ ہوا تھا
اس کے اپنے والدین تو حیات نہیں تھے مگر وہ انہیں بھی اپنے والدین ہی کی طرح احترام و عزت دیتا تھا
سلام دعا کے بعد سب کمرے میں ہی آ گئے تھے ۔۔ وجیہہ کی ماں اُس کے قریب بیٹھے اس سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہیں تھیں جن کا وہ ہوں، ہاں سے زیادہ جواب نہ دے رہی تھی
فرقان فصیح بہت غور سے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
وجیہہ کی ڈرپ ختم ہو چکی تھی جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ حسب معمول غنودگی میں جا چکی تھی
امی ۔۔ ابو ۔۔ علی مجھے آپ سب سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
اُس کے مخاطب کرنے پر وہ سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے
کیا بات ہے فرقان بیٹا ،۔۔ سب ٹھیک تو ہے؟؟
اُس کے چہرے پر رقم سنجیدہ تاثرات دیکھ کر وجیہہ کے والد نے پوچھا تھا
آپ سب باہر چلیں میں سب بتاتا ہوں ۔۔۔ اس نے ایک نظر بیڈ پر سوئی وجیہہ کو دیکھ کر کہا ۔۔ اس کے کہنے پر سب ڈرائنگ روم میں آ گئے
کہو بیٹا کیا بات ہے ۔۔ میرا تو دل گھبرا رہا ہے ۔۔
امی جان کی بے چینی پر علی نے ان کو دلاسا دیا تھا
ہمت کریں امی ۔۔۔۔ آپی کی طبیعت پہلے ہی اتنی خراب ہے اور کیا ہی برا ہوگا۔۔ فرقان بھائی آپ شروع کریں
علی کے کہنے پر اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا
وجیہہ اکثر رات کمرے میں نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
کمرے میں نہیں ہوتی؟؟ تو پھر کہاں ہوتی ہے؟؟
والد صاحب کی آواز میں موجود لغزش کو وہ با خوبی محسوس کر سکتا تھا
اُن کے سوال پر ا اس کے ذہن پر پچھلی رات کا واقعہ گھوم گیا تھا
(حسب معمول تھکن کے باوجود آج وہ تہجد کے لیے اٹھا تھا ۔۔۔ گھڑی تین کا ہندسہ پار کر چکی تھی۔۔۔
گرم بستر سے نکلتے ہی اس کا جسم کپکپا اٹھا تھا
آج رات کچھ زیادہ ہی سرد تھی۔۔
بیڈ پر لیٹا وجود بھی مکمل طور پر کمبل میں چھپا ہوا تھا ۔۔ یہ منظر دیکھ کر ایک ننھی سی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔۔
ساتھ ہی وضو کرنے کی غرض سے وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا ،۔
نماز کے بعد وہ باری باری اپنے سوئے ہوئے بچوں کو پیار کرنے لگا پھر اچانک کسی خیال کے تحت وہ بیڈ کی جانب متوجہ ہوا تھا
وہ اُسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آرزو یہ کہ اسے دیکھے بغیر وہ باقی رات بے چین ہی رہتا۔۔
اپنے ہاتھ سے اس نے تکیے کی جانب سے ذرا کو کمبل اُوپر کیا تھا
اور یہ کیا ۔۔۔؟
فرقان فصیح کو اپنے گرد دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
ایک جست میں وہ کمبل پرے پھینک چکا تھا ۔۔ بستر پر قطار میں لگے تکیوں کو دیکھ کر تو وہ واقعی میں چکرا گیا تھا جنہیں وہ وجیہہ کا وجود سمجھ بیٹھا تھا ، مگر وہ تو یہاں تھی ہی نہیں
تو پھر کہاں تھی وہ۔۔ ؟؟
اس نے کمرے سے باہر کا رخ کیا ۔۔ گودام والا کمرہ۔۔۔ کچن۔۔۔ لاؤنج۔۔۔ گیسٹ روم حتیٰ کہ چھت کو دیکھ آنے کے بعد بھی وہ اسے کہیں نہیں ملی تھی۔۔
بلڈنگ سے باہر آتے ہی وہ لان میں کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ گاڑی کو سٹارٹ کرنے کے بعد وہ وہیل موڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل جاتا مگر اچانک اس کی نظر لان سے ملحق گیلری کی دیوار پر پڑی۔۔۔ جہاں گاڑی کی ہیڈ لائٹ پڑنے پر کوئی سایہ ہلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔
سیٹ بلٹ ہٹاتے ہوئے وہ باہر نکلا تھا ۔۔۔۔ تیز مگر محتاط قدموں سے وہ لان سے ملحق کمروں کے پیچھے بنی گیلری کے کونے پر جا کھڑا ہوا تھا
جہاں اسے کچھ عجیب سی آہٹ کے ساتھ کسی کے ہانپنے کی آواز بھی آ رہی تھی
موبائل فون کی ٹارچ آن کیے اس نے گیلری میں قدم رکھے تھے۔۔۔ کچھ ہی فاصلے پر وہ اسے کھڑی نظر آئی تھی۔۔
بکھرے بال۔۔ ابتر حالت جیسے کسی ڈھانچے کو کپڑے اوڑھا رکھے ہوں ۔۔ بال بکھر کر پورے چہرے کو ڈھانپ رہے تھے۔۔۔۔ ہاتھوں میں کائی پکڑے وہ تیز تیز ہانپ رہی تھی مانو جیسے بہت ہی مشقت کا کام کیا ہو ابھی ۔۔۔
تمہیں یہاں کون لایا ہے وجیہہ؟؟
اب کی بار اس کا سوال مختلف تھا
وجیہہ کی تیز ہانپتی سانسیں ایک لمحے کو اٹک سی گئی اس نے گردن موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا جو دو قدم کی دوری پر کھڑا تھا
جواب دینے کی بجائے وہ پھر سے تیز تیز ہانپنا شروع ہو گئی تھی۔۔۔ فرقان فصیح نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے کائی لیکر پرے جھٹک دی اور اسے لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا
حسب معمول اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ اس کے گرد کمبل درست کرنے لگا۔۔۔
اپنے بستر پر جانے سے پہلے اس نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا تھا ، جو چھت کی جانب مسلسل دیکھے جا رہی تھی اور حسب معمول اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا تھا
تم ایسی تو نہیں تھی وجیہہ۔۔۔ ؟؟
جملہ ادا کرتے ہوئے اس کی آواز بھرآ سی گئی ۔۔ آنکھوں میں آئی نمی کو جھٹکتے ہوئے وہ بستر کی جانب بڑھ گیا تھا
ہاں وہ ایسی تو نہیں تھی۔۔ دغا دینے والی۔۔ اپنی جگہ تکیوں کو کمبل میں چھپا کر کمرے سے فرار ہو جانے والی،۔
مگر آج۔۔ آج وہ اس کی نظروں میں پہلی جیسی عورت نہ رہی تھی۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ بیمار ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں ہے مگر پھر بھی آج اندر کچھ ٹوٹ سا گیا تھا ۔۔۔
کمبل میں لیٹتے ساتھ ہی وہ ماتھے پر بازو رکھے آنکھیں موند گیا۔۔ مگر نیند تو بہت پہلے ہی اس سے روٹھ چکی تھی اور آج تو آنکھیں بھی بار بار نم ہوئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔، وہ رات اس نے کس طرح کاٹی تھی یہ وہ یا اس کا خدا ہی جانتا تھا
تبھی آج کال کر کے وہ سب کو بلا کر تمام روادار گوش گزار کرنے ہی والا تھا کہ اُنھیں خود سے آیا دیکھ کر وہ اور انتظار نہیں کر سکتا تھا
گزری رات کا واقعہ ساتھ ہی پچھلی کئی راتوں کی روادار وہ اُن کے سامنے بیان کر چکا تھا
جبکہ وہ سب پتھر بنے دل ہی دل میں اس کی ہمت کو داد دے رہے تھے امی جان نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا
خدا نے اُنہیں داماد کے روپ بیٹوں سے بڑھ کر محبت کرنے والا نوازا تھا
تم نے ہمیں پہلے علم کیوں نہیں ہونے دیا بیٹا ۔۔؟؟
اکیلے ہی سب جھیلتے رہے ۔۔؟
اکیلے جھیلنے والی کیا بات ہے انکل۔۔ وجیہہ میری بیوی میرا لباس ہے
جہاں تک مجھ سے ہوا میں نے کیا مگر اب چیزیں بے اختیار ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔
آپ فکر مت کریں بھائی،۔۔
میرے ایک دوست کا جاننے والا ہے ،۔۔ وہ اکثر ان جادو جنات اور شیطانی علوم کا علاج کرتا ہے ۔۔۔ آپ کہیں تو کل ہی اسے بلا کر آپی کو دکھا دیتے ہیں
ورنہ ڈھونگی لوگ تو ہر جگہ موجود ہیں
علی کے کہنے پر سب نے اس کی تائید کی ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا تم کل ہی اسے بلا لو،۔۔ جہاں اتنا سب کر کے دیکھ لیا وہاں یہ بھی صحیح۔۔
وجیہہ کے والد کے کہنے پر وہ اپنے دوست کو کال ملاتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا
کچھ دیر بعد اندر آنے پر اس نے اطلاع دی کہ کل پیر بابا مغرب سے پہلے یہاں آئیں گے
٫٫٫٫
شام کے دھندلکے چّھانے لگے تھے مگر وہ ابھی تک گھر نہیں آئی تھی
لکڑی کی بوسیدہ چوکھٹ کی اوٹ میں کھڑے چادر میں آدھا منہ لپیٹے وہ مسلسل گلی کی نکڑ کو دیکھے جا رہیں تھیں جہاں پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے وہ اس کی جھلک کی منتظر تھیں
اب تو مغرب کی اذانیں شروع ہو گئیں تھیں ، اردگرد کھیتوں میں گیدڑوں نے بھی ہانکنا شروع کر دیا تھا دل میں عجیب سے ہول اٹھ رہے تھے ،۔۔ وہ جو دوپہر چڑنے سے پہلے گھر آ جاتی تھی آج رات اندھیرے تک اس کی کوئی خبر نہ تھی
ماں کی ممتا کو جب قرار نہ آیا تو چوکھٹ کو پار کرتے ہوئے وہ اُسے ڈھونڈھنے باہر آ نکلی تھی ۔۔
چادر کے پلو کو مضبوطی سے پکڑے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی گلیاں پار کرتی ہوئی کچھ عجیب سا پڑھتی جا رہی تھیں
عربی اور فارسی کے ملے جلے الفاظ جو عام بندے کی سمجھ سے بالا تر تھے
سنسان گلیوں سے گزرتے ہوئے اس کے تیز تیز اٹھتے قدم اچانک رک سے گئے۔۔ بیچ رستے میں کھڑے ہوکر اس نے فقط گردن موڑ کر دائیں جانب دیکھا تھا
سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں حویلی نما عمارت آج بھی پورے آب و تاب سے کھڑی تھی۔۔
کوٹھی کے احاطے میں لگی روشنیوں نے پوری گلی کو روشن کر رکھا تھا ۔۔۔
مگر نہیں ۔۔۔ کچھ تو تھا ۔۔۔ جو وہ محسوس تو کر سکتی تھی مگر اسے نام دینے سے قاصر تھی ۔۔۔ کوئی طاقت یا روحانی جال ۔۔۔ جو فرقان ہاؤس کا حصار کیے ہوئے تھا
اس کی آنکھوں کی سرمائی پتلیاں سکڑ سی گئیں ۔۔۔ جس طرح اہل مبین کالی طاقتوں کو بھانپ لیتے ہیں آج اُسی طرح وہ اس گھر میں پھیلی روحانیت کو محسوس کر سکتی تھی
اسے اپنی زبان خشک ہوتی محسوس ہوئی اور ذہن سے منتر مٹتے چلے گئے ۔۔۔ بنا کچھ سوچے سمجھے وہ پیچھے کو پلٹی اور تیز تیز بھاگنا شروع کر دیا ۔۔
مگر نہیں شاید آج قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، اپنے بوسیدہ گھر کی چوکھٹ کو پار کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئی تھی کہ آج اگر وہ زندہ تھی تو اس گھر کے گرد لگائے گئے کڑے کی بدولت اپنی سانسیں پوری کر رہی تھی
وگرنہ ماضی میں کیے کرتوت کب کے اسے ٹھنڈا کر چکے ہوتے اور بھول تو وہ کچھ اور بھی گئی تھی
ایک لفظ “مکافات” جو شائد اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو مگر قدرت ، قدرت کی سب سے بڑی سچائی ہے یہ لفظ ۔۔
اور قدرت جب مکافات پر آئے تو پچھلوں کے کیے کرتوت اگلوں کو بھی بھگتنے پڑتے ہیں
جبھی آج بھولے سے وہ چوکھٹ پار کرنے کی غلطی کر چکی تھی یہ جانے بغیر کہ اس ایک لمحے کی غلطی کی قیمت اسے اپنی آئندہ زندگی دیکر چکانی پڑے گی
اندھا دھن گلیوں میں بھاگتے ہوئے وہ اپنی بوسیدہ کوٹھری کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ایک مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے چوکھٹ کی جانب قدم بڑھائے مگر اس سے پہلے وہ کوئی حرکت کرتی اچانک تیز ہوا کے بگولوں نے اسے اپنی زد میں آ لیا ۔۔ ہوا کا شور اتنا تھا کہ عام بندے کا دل پھٹ جائے مگر اس سے بھی خوفناک وہ کالے سائے تھے جو اس کے گرد چکر کاٹ رہے تھے
نہیں۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں وہ سب چھوڑ چکی ہوں۔۔۔ معاف کر دو مجھے۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بالوں کو جکڑے وہ ہذیان میں چیخ رہی تھی ۔۔۔ سات چکر مکمل ہوئے تھے اور ساتھ ہی شاید کسی کی سانسیں بھی۔۔۔ ایک زور دار آواز کے ساتھ دھماکہ ہوا تھا
اور ہر چیز منظر سے غائب ہو چکی تھی ۔۔۔ سنسان گلی میں اب پھر سے خاموشی گھوم رہی تھی
کہیں نہ بندہ تھا نہ بندے کا سراغ ،۔
