Mein Teri Hogayi Aa By SI Writes Readelle50239 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
ہممم۔
اب ٹھیک ہے
گھر کے ایک ایک کونے کو پوری لگن سے چمکا کر اب وہ خود کو ھی داد دے رہی تھی
واہ چنبیلی واہ
تیرے میں اتنا سگھڑاپا کیسے اچ آیا رے
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے گال پر انگلی رکھ کر آنکھیں گھماتے ہوئے سوچا
ارے باپ رے شام ہونے والی ہے
میں نے تو کُچھ بنایا اچ نہی
جب صاب تھکا ہارا آئے گا تو اسکو کھانا
بھی تو چاہئے ہو گا
اب میرے ہوتے ہوئے صاب ایسے ہی بھوکے پیٹ سو جائے
نہ نہ نہ
چنبیلی اپنے ہوتے ہوئے اپنے صاب کو ایسے تو سونے نہی اچ دے گی
❣️❣️❣️❣️
گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے پورے گھر کو حیرانگی سے دیکھا
ویسے تو وہ خود بھی اپنے گھر کو گندا نہی ہونے دیتا تھا
لیکن آج تو اسے اپنے ہی گھر میں ہر چیز نکھری نکھری دیکھ کر اچھا تو لگا
لیکن یہ سب کس نے اور کس حالت میں کیا
یہ سوچتے ھی اُسکے دِماغ پر تیوریاں چڑھ گئی
چنبیلی کہاں ہو
صحن میں کھڑے ہو کر اس نے چنبیلی کو آواز دی
اور اس کی توقع کے عین مطابق سارا گھر صاف کرنے کے چکر میں اسکی خود کی حالت خراب ہو چکی تھی
گھٹنوں تک بھیگا لہنگا
کمر پر دوپٹہ باندھے ،
چوٹی میں سے آدھے بال نکل کر گردن اور منہ
پر بکھیرے
عجیب و غریب حلیے میں کسی بوتل کے جن کی طرح پٹ سے اُسکے سامنے حاضر ہوئی
ایک افسوس بھری نظر سے اس نے چنبیلی کے حلیے کو دیکھا
یہ شاپر پکڑو
اس میں کُچھ کپڑے لایا ہوں تمہارے لئے
مُجھے نہی پتہ تمہیں یہ پورے آئیں گے یا نہی لیکن ابھی کے لئے مجھے جو سمجھ لگا میں لے آیا
اب جا کر فریش ہو جاؤ
کُچھ شاپنگ بیگ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے ہوئے
اس نے چنبیلی کے حلیے پر ایک بار پھر سرسری سی نظر ڈالی
جلدی کرو اتنے میں کھانا نکال کر لگاتا ہوں
صاب آپ باہر سے کھانا کیوں لائے ہو
اپن بنا رہی تھی کھانا
شاپنگ بیگ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے اس نے منہ بنا کر کہا
چُپ چاپ جتنا کہا ہے اتنا کرو
کھانا ٹھنڈا ہونے سے پہلے فریش ہو کر آؤ فٹافٹ
❣️❣️❣️❣️
یہ کھاؤ دوا چنبیلی
کھانا کھانے کے بعد اب وہ اُسے دوا دینے آیا
صاب آپ سمجھ کاہے کو نہیں رہے ہو
یہ زخم ایسے اچ ٹھیک ہو جائیں گے آپ بلا وجہ ھی اتنا پیسہ ضائع کر آئے ہو
اور اپن سے نہی کھائی جاتی یہ کڑوی دوائیاں
دوائی کو دیکھ کر عجیب عجیب منہ بناتے ہوئے اس نے اپنے ہی راگ الاپنا شروع کر دیئے
شٹ اپ چنبیلی
میں نے پوچھا نہی ہے
میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہ کھاؤ
ابھی کے ابھی کھاؤ میری آنکھوں کے سامنے
اسکے ہاتھ پر دو گولیاں اور سائڈ ٹیبل پر پانی کا گلاس رکھتے ہوئے
اس نے ایک ٹیوب اٹھائ اور اُسکے پیروں کے قریب بیٹھ کر ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا
جسکا پورا دھیان دوائی کو بنا کھائے آنکھوں سے نگل جانے میں لگا تھا
ایک پل کے لیئے تو سلیم کا دل کیا قہقہہ لگا کر ہنس دے
لیکن پھر اس نے سوچا کہ اس سے تو چنبیلی کو اور شہہ ملے گی
اور اس نے مزید نخرے کرنے ہیں
چنبیلی اب اگر یہ دوا پانچ سیکنڈ کے اندر اندر تمہارے منہ میں نہ گئی
تو میں نے ڈاکٹر بلا کر تمہیں بھینسوں والے انجیکشن لگوانے ہیں
کرخت لہجے میں کہتے ہوئے اس نے چنبیلی کو غصے سے گھورا
جو حیرت سے آنکھیں پھاڑے صدمے سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
سلیم نے آنکھوں سے ایک بار پھر دوا لینے کا اشارہ کیا
اور اس کے اشارے کو سمجھتے ہی چنبیلی نے بجلی کی تیزی سے دوا منہ میں رکھتے ہی
پانی اپنے لبوں سے لگایا
اور جھٹ سے دوا گلے سے نیچے اتاری
دوائی نگل کر اس نے سلیم کی طرف دیکھا جو اب اس کے پیروں کا معائنہ کرتے ہوئے ٹیوب کھول رہا تھا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ صاب
نظر نہی آ رہا
دوا لگا رہا ہوں
کُچھ دیر کے لئے اپنا منہ بند رکھو
بنا اس کی طرف دیکھ کر کہتے ہوئے سلیم نے ٹیوب کا ڈھکن کھولا
صاب آپ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں
آپ تو ہمارے صاب ہو اور ہونے والے وہ ہو
سلیم کا ٹیوب نکالتا ہاتھ اپنی جگہ فریز ہو گیا
ایک نظر چمبیلی کی طرف دیکھا اور اس کی بات کو نادانی میں لیتے ہوئے سر جھٹکا
اور جلدی سے اس کے دونوں پیروں پر ٹیوب لگائی
سنو دوا لے لی ہے تم نے
اب سو جاؤ
اچھے سے آرام کرو گی تو صبح تک سارے زخم تقریباً آدھے سے زیادہ ٹھیک ہو جائیں گے
صاب آپ میرے سے شادی کب کرو گے
چنبیلی نے سلیم کو مڑتے دیکھ کر سوال کیا
سلیم نے غصے سے مڑ کر اسکی طرف دیکھا
لڑکی تمھارا دِماغ خراب ہو گیا ہے ۔
کونسی شادی
میں نے ایسا کب بولا کہ میں تم سے شادی کروں گا
آرام کرو
تمہارے زخم ٹھیک ہوں تو کُچھ سوچتے ہیں
تمہیں کہاں چھوڑ کر آؤں
سخت لہجے میں کہتے ہوئے وہ ایک بار پھر باہر کی طرف مڑا
کک۔۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب ہے صاب
آپ میرے کو یہاں سے بھیج دو گے
میرے کو اپنے ساتھ نہی رکھو گے ہمیشہ کے لیے
میرے سے شادی نہی رچائیں گے
اگر آپکو میرے کو یہاں رکھنا ہی نہی اچ تھا
تو اپن کو کاہے کو وہاں سے لایا رے تو
دیکھو چمبیلی جو مجھے اس وقت ٹھیک لگا میں نے کیا سلیم نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا
تو اپن کو کہیں اور چھوڑ کر آئے گا
تو وہ بھی اپن جیسی لڑکی سے دھندہ ھی کروائے گا
گھر کی عزت نہی اچ بنائے گا
چنبیلی روتے ہوئے بیڈ سے اتر کر اس کے سامنے آئی
دیکھو چمبیلی تم ابھی بچی ہو
ارے نہی ہے رے اپن بچی
اپن کو اٹھارہ سال کا ہوئے آج دوسرا دن ہے
تبھی تو وہ رانی بائ میرے کو ساری محفل کے سامنے نچوائ
تبھی تو تیرے کو بول رہی اچ تھی
کہ تو جو چاہے اپن کے ساتھ کر سکتا ہے
اگر تیرے کو اپن سے شادی نہی کرنا تھا تو کاہے کو لے کر آیا رے میرے کو وہاں سے
پڑے رہنے دیتا اسی گندگی میں
کاہے کو دی اپنے کندھوں کی چادر اتار کر میرے پے
جیسے سب اپن کو دیکھ رہے تھے
تو بھی دیکھتا اور وہیں اچ بیٹھے سارے بے ضمیر لوگوں جیسے تو اچ چلا جاتا
ارے کاہے کو اپنے گھر میں لایا اپن کو
اور اپن اتنی پاگل
چار گھنٹوں میں ساری زندگی کے سپنے سجا
لیئے
سچ میں اپن پاگل ہے
اپن نے سوچ اچ کیسے لیا
ایک کوٹھے پے پلنے والی کیسے اچ اپنا گھر بسانے کا سپنا دیکھ سکتی ہے
اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو بے دری سے مسلتے ہوئے اس نے شکوہ کنا نظروں سے سلیم کی طرف دیکھا
ایک بات پوچھے صاب
تم بھی یہی سوچ رہا ہے نہ
کہ اپن کا
اپن کے کیریکٹر کا کیا بھروسہ
اپن کے ساتھ پتہ نہی کتنوں نے کیا نہی اچ کیا ہو گا
اگر ایسی بات ہے نا صاب
تو اپن اپنی ماں کی قسم کھا کر بولتی ہے
اپن کو آج تک کسی مرد نے ہاتھ کیا انگلی اچ نہی لگائی
اپن کو ساری لائف میں ایک مرد پہ بھروسہ ہوا ہے
ایک مرد کے سامنے اپنا تن من وارنے کا دل کیا اپن کا
اور وہ تو ہے صاب
لیکن تو نے بھی چمبیلی کو باقیوں کے جیسے لے لیا ہے
اپن نہی جانتی اپن کا باپ کون ہے
بولے تو سچ یہی اچ ہے کہ اپن نا جائز ہے
لیکن اپن کی ماں نے ہمیشہ یہی اچ سپنا دیکھا تھا
کہ اسکی بیٹی دھندہ نہی اچ کرے گی
جب تک اپن کی ماں زندہ تھی کسی نے اپن پر انگلی اچ نہی اٹھائ تھی
اپن سے کسی نے نہی بولا
چمبیلی اٹھ اور دھندہ کر
لیکن دنیا پہ ایک اچ رشتہ دے کر خدا اس کو بھی میرے سے لے گیا
اور اس رانی بائ کو بس ایک موقع ملنا چاہیے تھا جو خدا نے خود پلیٹ میں رکھ کے اسکو دیا
زارو قطار روتے ہوئے وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی چلی گئی
تو اپن کے بیس لاکھ روپے دے کر آیا ہے نہ ۔
تو جو دنیا اپن کے ساتھ کرے گی وہ ابھی تو اچ کر لے اپن کے ساتھ
تاکہ چمبیلی کو ہمیشہ یاد رہے کہ اسکی اوقات کیا ہے
اپنا دوپٹہ گلے سے اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے وہ اپنا منہ ہاتھوں میں چھپا کر زارو قطار رونے لگی
سلیم نے ایک نظر اس کے ہچکولے کھاتے وجود پر ڈالی اور لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کی جانب بڑھ گیا
❣️❣️❣️❣️❣️
یہ رات دونوں پر ھی بہت بھاری تھی
ایک طرف چنبیلی جہاں اپنی بد بختی پر ماتم کناں تھی
وہیں سلیم کے دِماغ پر چمبیلی کا بولا گیا ایک ایک لفظ ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا
اگر وہ اپنی زندگی میں اکیلا تھا
تو چمبیلی کے پاس بھی اُسکا کوئی اپنا نہی تھا
اُسے کیا چاہئے تھا بس وہ ہمیشہ اس کے ساتھ عزت کی زندگی گزارنے کی خواہاں تھی
اور جو لڑکی اس بھیڑیوں کی دنیا میں بھی اپنی عزت کی حفاظت کیئے ہوۓ تھی
جسکے کردار کی گواہی اسکی آنکھوں اور آنسو دے رہے تھے ۔
ایسی لڑکی کو کیا وہ اپنا ہمسفر نہی بنا سکتا تھا
اور بھری محفل میں اُسکے چہرے پر پھیلے کرب کو دیکھ کر ہی تو وہ اسے بنا سوچے سمجھے اپنے ساتھ لے آیا تھا
وہ اندر سے بری طرح ٹوٹی ہوئی تھی
جسکا احساس اُسے ابھی کچھ دیر پہلے ہوا تھا
وہ بھی تو ٹوٹا ہوا تھا ، بکھرا تھا
کیا وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا نہی بن سکتے تھے
دِماغ میں بنتے بےشمار سوچوں کے جال پر اس نے زور سے آنکھیں میچ لیں
اور ایک لمبی سانس کھینچ کر وہ آخری اور حتمی فیصلہ کر وہاں سے اٹھا
اور موبائل پر انگلیاں تیزی سے چلاتے ہوئے اس نے کسی کا نمبر ملا کر فون کان سے لگایا
❣️❣️❣️❣️❣️
تقریباً دو گھنٹوں بعد وہ پھر سے اُسکے کمرے میں آیا
تو سامنے ہی وہ ویران آنکھیں لیئے ویسے ہی بیٹھی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گیا تھا
بس پہلے آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے
اور اب چہرے پر آنسوں کے مٹے مٹے نشان کے ساتھ آنکھیں ایک جگہ ٹھہر گئی تھی
اس کے قریب آ کر سلیم نے ایک نظر اس کے حلیے کو دیکھا دوپٹہ ابھی تک ایک طرف گرا اپنی نا قدری کو رو رہا تھا
ایک لمبی سانس لے کر اس نے دوپٹہ اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا
اسے پہنو چمبیلی اور چلو میرے ساتھ
نہی صاب اپن کہیں نہی جائے گی
اپن اپنی اوقات سمجھ گئی ہے
میرے کو آپ واپس وہیں اچ کوٹھے پہ چھوڑ آؤ
وہاں جو بھی یہ کام اپنی مرضی سے کرتا ہے
رانی بائ اس کے ساتھ بہت اچھے سے رہتی ہے
اسکو مارتی بھی نہی ہے
میں بھی آج سے کوشش کرے گی کہ یہ کام اپن اپنی مرضی سے کرے
اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے گلوگیز لہجے میں کہا
بس ہو گیا چمبیلی
کُچھ بھی بولے جاتی ہو
کب سے سن رہا ہوں میں
اٹھو اب
الماری سے اپنی ماں کی چادر نکال کر اس کے ارد گرد پھیلاتے ہوئے اس نے سخت لہجے میں کہا
مولوی آئیں ہیں
جو پوچھیں بنا نخرے کیئے
صحیح صحیح جواب دینا
پہلے تو چمبیلی کو اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی
لیکن جب سمجھ لگی
تو ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
جو پر شوق نظروں سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
سس۔۔۔ صاب آپ اپن سے شادی کرے گا
کپکپاتے لہجے میں پوچھتے ہوئے اس نے سلیم کی آنکھوں میں دیکھا
ہاں رے چمبیلی اپن تیرے سے بیاہ رچائے گا
سالا اپن سوچا
ایک تو چمبیلی اتنی اچھی
اتنی پیاری ہے
اتنی خوبصورت ہے
اُوپر سے کام بھی کر لیتی ہے
اپن سے شادی بھی کرنا چاہتی ہے
تو ایسی لڑکی اپن اگر موم بتی لے کر بھی ڈھونڈے گا
تو میرے کو نہی اچ لگتا میرے کو چمبیلی جیسا کوئی دوسرا پیس ملے گا
بلکل اسی کے انداز میں کہتے ہوئے وہ اُسے مسکرانے پر مجبور کر گیا
بلکل ایسے اچ مسکراتی رہنا اب تو ساری زندگی
سالا اپن کو تیری آنکھوں میں ایک آنسو اچ نہی چاہئے
انگلیوں کی پوروں پر اُسکے آنسوؤں کو چنتے ہوئے اس نے چمبیلی کی آنکھوں میں دیکھا
❣️❣️❣️❣️❣️
اسود نے شوکت سے گن چین کر اُسے رومال سے پکڑا
پولیس کا ہارن سنتے ہی شوکت نے لڑکھڑا کر اٹھتے ہوئے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی
لیکن اسود کا ایک زور دار گھونسا پڑتے ہی وہ دوبارہ سے وہیں ڈھ گیا
اسود نے شوکت کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر انسپکٹر کو ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے رومال میں پکڑی گن اس کے حوالے کی
دیکھیں مسٹر اسود اینڈ سلیم آپ دونوں کو اپنا بیان دینے پولیس اسٹیشن آنا ہو گا
ٹھیک ہے انسپکٹر ہم آ جائیں گے
سلیم نے خود آگے آتے ہوئے اسود کو قرت کی طرف جانے کا اشارہ کیا
میں سب سنبھال لوں گا
جو گاڑی کی آواز سن کر ایک بار پھر باہر نکل آئی تھی
❣️❣️❣️❣️❣️
قرت گاڑی میں بیٹھو
فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے اسود نے قرت کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
مگر اسود اس کو گولی لگی ہے
مر گئی ہیں کیا وہ
خوف سے کانپتے ہوئے اس نے اسود کے طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
دیکھو قرت برائ کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے
تمہیں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے
تم بیٹھو گاڑی میں
اُسے گاڑی میں بیٹھا کر وہ خود بھی دوسری طرف کا دروازہ کھول کر گاڑی میں آ بیٹھا
اور پھر بنا کسی دیری کے گاڑی اسٹارٹ کر دی
ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس نے مڑ کر قرت کی طرف دیکھا
فوٹو کو سینے سے لگا کر سیٹ کی پشت پر سر گرائے وہ بے آواز رو رہی تھی
قرت میری جان بس کرو
اسکی گال پر پھسلتے آنسو کو انگوٹھے سے صاف کرتے ہوئے اس کی گال کے نیچے ہاتھ رکھا
اس ۔۔۔۔۔اسود
اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے بھیگی نظروں سے اسود کی طرف دیکھا
آپ پلیز گاڑی روکیں
مُجھے گھٹن ہو رہی ہے
ٹھیک ہے میری جان لیکن یہ رونا بند کرو
گاڑی کو ایک طرف لگاتے ہوئے اسود نے جھٹ سے قرت کی طرف کا دروازہ کھول کر اپنا ہاتھ آگے کیا
باہر آؤ
اُسکا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالتے ہوئے اسود نے ایک ہاتھ سے تصویر پکڑ کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھی
باہر نکل کر ہر طرف چلتی ٹھنڈی ہوا میں سانس لیتے ہوئے اُسے سچ میں اچھا لگا
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اسود نے ایک نظر قرت کی طرف دیکھا
آنکھیں زور سے میچے لبوں کو آپس میں پیوست کیئے لمبے سانس لے کر شاید وہ اپنے اندر اٹھتے غبار کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی
لیکن وہ نہی چاہتا تھا کہ قرت کوئی بھی غبار اپنے دل میں رکھے
اِدھر آؤ قرت
اپنا ایک ہاتھ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے اسود نے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا
قرت نے ایک نظر اس کے بڑھے ہاتھ کی طرف اور پھر اس کے چہرے کی طرف دیکھا
جہاں اُسے کوئی طنز کوئی چیلنج جیتنے کی خوشی
ڈھونڈنے سے بھی نہی ملی
کُچھ تھا تو دکھ
وہ اس کے دکھ میں خود بھی خوش نہی تھا ، محبت اور سچائی کا عکس لیئے وہ آنکھیں تھی
جو اس کے مخلص جزبات کو چیخ چیخ کر بیان کرتی تھی
اپنا کپکپاتا ہاتھ اسکی چوڑی ہتھیلی پر رکھ کر قرت نے اُسکے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا
ہلکا سا جھٹکا دے کر اسود نے اسے اپنے قریب کیا
اسکے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اُسکا سر اپنے دل کے مقام پر ٹکایا
رو لو تھوڑا سا
اور بس یہ آخری بار رونا ہے تم نے
کیوں کہ میں نہی چاہتا جب تم میری زندگی میں شامل ہو تو مرینہ ملک کی سوچ بھی ہماری زندگی میں کسی تلخی کی وجہ بنے
ہماری دنیا میں مرینہ ملک کے لفظ کو بھی آنے کی اجازت نہیں ہے
قرت اسے تم میری ضد مانو میرا حکم مانو
لیکن مرینہ ملک کو تم اپنے دل دِماغ سے ابھی نکال کر اسکی بیدرد یادوں اور تکلیف دہ سوچوں کو یہیں پھینک کر جاؤ گی
کیونکہ وہاں مما اور پاپا تم سے ویسے ہی پیار کرتے ہیں
جیسے تمہارے امی ابو کرتے تھے
تو اب تمہیں سب تکلیف دہ سوچوں کو یہیں چھوڑنا ہو گا
اس لیئے کہ اب ہمیں اپنی خوشیاں اکٹھی کرنی ہیں
جن میں کوئی جھوٹ فریب اور بغض کی جگہ نہی ہو گی
تو مسز اسود ملک آپکا اپنے شوہر کے محبت کے جہاں میں ویلکم ہے
لمبی سانس اپنے اندر کھینچتے ہوئے اس نے قرت کے گرد اپنے مضبوط بازؤں کا حصار
اور تنگ کیا
مُجھے معاف کر دو
آپ پر شک کیا کسی بات پر یقین نہیں کیا
آپکو برا بھلا کہا
آپ نے کتنی بار بتانے کی کوشش کی لیکن میں نے ایک بار بھی آپکی بات کو سمجھنے کی کوشش نہی کی
وہ عورت میرے پاپا کو مجھ سے چھین کر
ساری زندگی جھوٹی محبت کا ڈھونگ رچاتی
رہی
اور میں پاگلوں کی طرح اس پر یقین کرتی رہی
مم۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا
مُجھے دل میں نہ برداشت ہونے والی تکلیف ہو رہی ہے
آپ تو سب ٹھیک کر دیتے ہو نا
مم۔۔۔۔۔ میری تک۔۔۔۔۔ تکلیف کو دور کر دیں
مُجھے لگتا ہے
میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر بکھر جاؤں گی
مُجھے بچا لو اسود
میں ٹوٹنا نہی چاہتی
آپ نے کہا تھا جب میں ٹوٹ کر بکھر جاؤں تو آپ مجھے سمیٹ لو گے ۔
آپ نے صحیح کہا تھا میں یہ چیلنج ہار جاؤں گی
اور میں سچ میں ہار گئی
آپ کے ساتھ محبت ہونے کے ساتھ ساتھ میں خود بھی آپکی ہو گئی ہوں
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
نکاح خواں نکاح پڑھوا کر چلا گیا تھا
لیکن اُسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا
کہ وہ سچ میں کسی کی بیوی بن گئی ہے
اب وہ ساری زندگی اس چار دیواری میں محفوظ رہے گی
کوئی اُسے غلط نظر سے نہی دیکھے گا
نا ہی کُچھ غلط بولے گا
تشکر کے دو آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر گال پر بہہ گئے
دروازے میں کھڑے سلیم نے اُسکے جھکے سر اور ہاتھوں پر گرتے آنسوؤں کو دیکھا
اور کمرے میں داخل ہو کر کمرہ لاک کیا
دھیرے سے اُسکے قریب آکر اسنے
چمبیلی کے برابر بیڈ کے پر بیٹھتے ہوئے اُسکے نازک سے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا
ہممم کُچھ دیر پہلے اپن بولا تھا
کہ اپن کو تیری آنکھوں میں یہ آنسو نہی منگتے
لیکن تیرے کو اپن کی کوئی بات سمجھ اچ نہی آتی
تو اپن کی کوئی بات نہیں مان سکتی
آج یہ بات نہی مانی
آگے پتہ نہی تو اپن کی کون کونسی باتیں ماننے سے انکار کرے گی
افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اس نے دکھ بھرے انداز میں کہا
نہی رے اپن تیری ساری باتیں مانے گی
اور اپن دکھی تھوڑی ہے
یہ تو خوشی کے آنسو ہیں
اپن کی شادی ہو گئی ہے
اب اپن کو کوئی کُچھ نہیں بول سکتا
کوئی غلط الفاظ بھی نہی بولے گا
غلط نظروں سے بھی نہی دیکھے گا
اسکے کندھے سے سر ٹکا کر بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہہ نکلے
ہممم تو اپن کی چمبیلی کا آج رونے دھونے کا موڈ ہے
ٹھیک ہے
آج کی رات تو کوئی نہی روتا سب پیار کرتے ہیں
اگر تیرا رونے کا کوئی پلان ہے تُو مجھے تو پہلے ہی بتا دے
اپن پیار لینے کے لئے دوبارہ رانی بائ کے کوٹھے پر چلا جائے گا
خبردار جو تو نے دوبارہ اس جگہ جانے کا سوچا بھی
میں تیرا سر پھاڑ دے گی
تیرے کو پیار چاہئے تو اپن کرے گی تُجھ سے پیار
بول کتنا پیار چاہئے تیرے کو
اسکے کندھے سے سر اٹھا کر سلیم کو دھمکاتے ہوئے وہ جانے کیا کیا بول رہی تھی
یہ شاید وہ بھی نہی جانتی تھی
بولیں نا
سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک بار پوچھا
لیکن اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے بولے گئے لفظوں کا سہی مطلب سمجھ آیا
شرم کے مارے سر جھکانے کے ساتھ خود بھی آدھا جھکتے ہوئے اسنے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپایا
اسکی حالت دیکھ کر سلیم کا چھت پھاڑ قہقہہ بلند ہوا
اوہ چمبیلی تم سچ میں امیزنگ ہو تھوڑی بیوقوف ہو
لیکن مجھے لگتا ہے یہ بیوقوفی میرے لیئے بہت اچھی ثابت ہونے والی ہے
بیڈ پر لیٹتے ہوئے اس نے چنبیلی کی کلائی پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے اسے اپنے سینے پر گرایا
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بیڈ پر لٹا کر وہ خود چنبیلی پر جھک آیا
ہممم کرو پیار
جتنا چاہے اتنا پیار کرو
لیکن آج تو میرا پیار کرنے کا موڈ ہے
اور بہت سارا پیار کرنے کا دل کر رہا ہے
اسکے گلے سے دوپٹہ ہٹاتے ہوئے سلیم نے چنبیلی کی طرف دیکھا
سرخ ہوتے رخساروں پر لرزتی پلکوں کی جھالر گرائے وہ بنا کسی میک اپ کے بھی سلیم کے دل کے سارے تار ہلاتے ہوئے اُسکے سلگتے جذباتوں کو اور بھڑکا گئی
اسکے ماتھے پر اپنے سلگتے لب رکھتے ہوئے اسنے چنبیلی کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکایا
سنو چنبیلی میں بھی بہت اکیلا ہوں
میرا بھی اس دنیا میں کوئی نہی ہے
تم ہمیشہ میرے ساتھ میرے پاس رہنا
ہمیشہ مجھ سے محبت کرنا
کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا
مُجھے تم اچھی لگتی ہو
لیکن وعدہ کرتا ہوں
ہمیشہ تمہی سے محبت کروں گا
تن سے من سے ساری زندگی یہ سلیم صرف اپنی چنبیلی کا رہے گا
اسکے رخساروں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے
اب وہ پوری شدت سے اُسکے لبوں پر جھک آیا تھا
دھیرے دھیرے اس پر اپنی شدتیں لٹاتے ہوئے
وہ اس کے پورے وجود پر حاوی ہو گیا
💗💗💗💗
ہمیشہ سے اُسے یہی ڈر تھا کہ اس کی نسوانیت کوئی مجروح نہ کر دے
کیا وہ بھی وہاں رہنے والی عورتوں کی طرح ہلال اور حرام رشتوں کا فرق بھول جائے گی
یہ سب سوچتے ھی وہ خدا سے رو رو کر دعا گو ہوتی تھی
یا اللہ ایسا دن دیکھانے سے پہلے اُسے موت آ جائے
اسکی ماں ہمیشہ اس سے یہی وعدہ لیتی تھی کہ وہ اس حرام اور ناجائز کام کا حصہ کبھی نہیں بنے گی
لیکن اُسکے کوٹھے کی دنیا کو چھوڑ جانے کا ہر خواب رانی بائ نے مٹی میں ملا دیا تھک ہار کر اسنے صرف خدا سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کر لیں
اور دیر سے ہی سہی خدا نے اُسکے وعدے اور دعاؤں کی لاج رکھ لی تھی
💖💖💖💖
تین سال ہو گئے تھے اسے چنبیلی کے ساتھ اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرتے ہوئے جب ہی ایک دن شوکت نے سلیم کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا
اپنے باپ کو اتنے سالوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر اُسکا خون کھول اٹھا ۔
دل کے ہر زخم سے ایک بار خون رسنے لگا
اپنی ماں کا زخموں سے چور مردہ وجود ایک بار پھر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا
اور پھر جو کام کرنے کو شوکت نے اس سے کہا
سلیم کو افسوس ہونے لگا کہ وہ اتنے لالچی شخص کا بیٹا ہے
لیکن اس کی آفر کے ساتھ سلیم کا دماغ دوسری طرف گھوما
شوکت کے کیئے کی سزا اُسے دینے اور اپنی ماں کے آنسوؤں کا حساب لینے کے لیئے
سلیم نے اسکی آفر کو قبول کر لیا
اور اس دن اُسکے ارادے اور پکّے ہو گئے
جس دن کُچھ پیسے لینے کے لئے اسنے مرینہ کا لاکر توڑ دیا
اور وہاں سے اُسے وہ سی ڈی ملی جس پر ایک خاص تاریخ لکھی تھی اس نے اس سی ڈی کو
ایک باکس میں رکھا تھا
سلیم نے کُچھ سوچتے ہوئے اس سی ڈی کو اپنی جیکٹ میں چھپا کر ضرورت کے پیسے اٹھائے اور وہاں سے چل دیا
جیسے جیسے وہ سی ڈی دیکھتا گیا
اُسکے ہوش اُڑتے گئے
اپنے باپ سے تو وہ بچپن سے واقف تھا مگر وہ پیسے کے لئے کسی کو جان سے بھی مار سکتا ہے
اس بات کا اندازہ نہی تھا اُسے
لیکن مرینہ کو اپنے منہ سے اتنا زہر اگلتے دیکھ
کر اسے بہت حیرت ہوئی
کیونکہ اسکے حساب سے عورت اسکی ماں جیسی ہوتی ہے
جو ساری زندگی صرف اپنے بیٹے کے لئے شوہر کا ہر ظلم سہتی رہی
عورت چنبیلی جیسی ہوتی ہے
جو ایک کوٹھے پر پیدا ہو کر بھی اپنی عزت کی حفاظت کے لئے خود بھی لڑی اور خدا سے بھی امیدیں وابستہ رکھیں
بہت بار آگے پیچھے اس نے قرت کو اسکی ماں اور شوکت کی سچائی بتانے کی کوشش کی
لیکن ہر بار کُچھ نہ کُچھ ایسا ہو جاتا کہ اُسکا سارا پلان دھرا کا دھرا رھ جاتا
اور پھر مرینہ ملک اور شوکت کی زندگی میں کسی طوفان کی طرح اسود ملک آیا
جسے پہلے ہی دن کھڑکی سے اندر جاتے سلیم نے دیکھ لیا تھا
اور جب تک اسود قرت کے کمرے میں رہا
سلیم بھی دروازے سے کان لگا کر کھڑا ہو گیا
مرینہ کے لیئے اسود کی نفرت اسی وقت سلیم پر آشکار ہو گئی تھی
تبھی ایک ٹھنڈی سانس لے کر منہ میں ببل چباتے ہوئے اس نے اپنے بال سنوارے
ہممم واہ
لگتا ہے بندہ آر یا پار کے چکر میں آیا ہے
اور عاشق بھی لگتا ہے
صحیح ہے بھائی
تو اپنا کام کر میں تیرے راستے میں نہی آؤں گا
اگر ہو سکا تو تیری مدد ضرور کروں گا
پھر دوسرے دن اسنے اسود کو کالج کے باہر قرت سے بات کرتے دیکھ کر
وہ خود ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا
اسود نے اسکی اس حرکت پر حیرت سے ابرو اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
بدلے میں سلیم نے آنکھ مارتے ہوئے اس کی طرف مسکراہٹ اچھالی
اسود کو وہ انسان برا نہیں لگا تبھی اگلے دن اسے ایک ہوٹل میں بلایا
اور سلیم بھی یہ سب اکیلے نہی کر سکتا تھا
یہ بات وہ اچھے سے جانتا تھا
اسی لیئے اسود کو سب سچ بتا کر وہ قرت کو مرینہ اور شوکت سے بچانے کے اس پلان میں اُسکا ساتھی بن گیا
لیکن شوکت کے سامنے عجیب عجیب پلان بتا بتا کر وہ اپنی طرف سے انکے ساتھ ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کرتا
کبھی کبھی شوکت اُسے گھور گھور کر دیکھتا
جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو
لیکن اسی وقت سلیم کوئی ایسی حرکت کرتا جس سے شوکت کا دماغ گھوم جاتا
اور وہ سلیم پر سو لعنتیں مارتا وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتا
❣️❣️❣️❣️
جاری ہے
