No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
تم سب جانتے ہو نہ تمہیں کیا کرنا ہے
مُجھے کوئی گڑ بڑ نہی چاہئے
اگر تم لوگ ناکام ہوۓ تو پولیس تو جو تمھارا حال کرے گی سو کرے گی
میں تم لوگوں کو وہ عبرت ناک سزا دوں گی
کہ تم لوگوں کی روح تک کانپ اٹھے گی
دیکھیں میڈم ہم پچھلے دس سال سے اس
دھندے میں ہیں
اور ایسا کبھی نہی ہوا جو کام ہم نے اپنے
ہاتھوں میں لیا ہو
اور وہ مکمل نہ ہوا ہو
قیمت لینے سے پہلے ہم اپنا کام کرتے ہیں
اگر آپ کو ہم پر بھروسہ نہیں ہے تو آپ اپنا
یہ کام کسی اور سے کروا لو
مگر بار بار ہم کو یہ دھمکیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے
ہم کسی سے ڈرتے نہی ہیں
ٹھیک ہے ٹھیک ہے
یہ لو اپنا ایڈوانس اور باقی کا کام مکمل ہونے پر ملے گا
اس لڑکی کو صرف اٹھانا نہی ہے
اپنے ان ترسے ہوئے کتوں کو کہنا جتنی چاہے
اپنی پیاس بجھا لیں
وہ اپنی عزت کے ساتھ گھر واپس نہی جانی چاہیے
سمجھ آ گئی ہے تم لوگوں کو
یہ لو اپنا ایڈوانس اور باقی کا کام مکمل ہونے کے بعد تم تک پہنچ جائے گا
آنکھوں پر سن گلاسز لگاتے ہوئے اس نے اپنے قدم گاڑی کی طرف بڑھا دیئے
گاڑی گھر لے چلو
حکم ملتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی
بس کُچھ دن اور
اور پھر تمہیں میرا ہونے سے کوئی نہی روک سکتا
میں تمہیں اپنا بنا لوں گی اور پھر
اسود ملک بس میرا ہے
صرف نیلم فاروقی کا
ہاہاہاہا نہی جانتی وہ لڑکی اُسکا پالا نیلم فاروقی سے پڑا ہے
میں تو اپنی ٹوٹی پھوٹی چیزیں کسی کو نہ دوں
اسود تو پھر میری محبت
میرا جنون ،،، میری ضد ہے
اسود ملک بہت جلد تمہارے دل اور دماغ پر میرا قبضہ ہو گا
تم صبح و شام صرف نیلم فاروقی کے نام کے گن گان کرو گے
آخر میں ہوں ھی اس قابل
شہادت کی انگلی سے اپنے بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے اس نے سوچا
ہاہاہاہا اب اس لڑکی کے ساتھ کیا ہو گا یہ اس نے اپنی زندگی کے سب سے بھیانک خواب میں بھی نہی سوچا ہو گا
بے بی اس میں سارا قصور تمھارا ہے
نہ تم اس لڑکی کو اپنی بیوی بناتے اور نہ اس
کے ساتھ یہ سب ہوتا
وہ موبائل پر اسود کی تصویر کو شدت سے زوم کر کر کے دیکھتے ہوئے
خود میں ہی بڑ بڑائے جا رہی تھی
شیشے میں سے ڈرائیور نے اپنی میڈم کو اس حال میں دیکھ کر جھرجھری لی
یا خدا صاحب کو اپنی اس پاگل بیٹی پر توجّہ دینی چاہئے
دل میں سوچتے ہوئے ڈرائیور نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
تیار ہو گئی میری پیاری گڑیا
صبح اسود کی باتوں پر صبر کا گھونٹ پیتے ہوئے اس نے ایک بار پھر قرت کے کمرے کا رخ کیا
جی مما بس تیار ہو رہی ہوں
بیڈ پر دوپٹے اٹھانے کے لئے جیسے ہی وہ مڑی
مرینہ بیگم کی نظر اسکے گردن پر بنے
نشان پرگئی
لمحے کے ہزارویں حصے میں اسود کی ساری باتیں اُسکے دماغ میں گھوم گئی
ایک منٹ قرت بیٹا یہ تمھاری گردن پر نشان کیسے آیا
اسکی گردن پر بنے نشان پر انگلی پھیرتے ہوئے مرینہ بیگم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
مرینہ بیگم کے اسطرح اچانک ایسے سوال پر اُسکا دل کیا وہ شرم سے ڈوب مرے
مما یہ کُچھ نہی ہے
یہ تو مچھر نے کاٹ لیا تھا اور یہاں پر زیادہ کھجانے سے نشان بن گیا
آنکھیں جھکا کر اپنی ماں سے جھوٹ بولتے ہوۓ اُسے زرا اچھا نہی لگا
مما چھوڑیں اسے
آپ بس دعا کریں آج میرا ٹیسٹ ہے
میں ٹیسٹ میں پاس ہو جاؤں
ورنہ ہمارے سر بہت سخت ہیں
اور مجھے انکی ڈانٹ سے بہت ڈر لگتا ہے
مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے مرینہ بیگم کے گال کو چوما اور باہر کی سمت بڑھ گئی
جنید بابا گاڑی نکالیں آج ہمیں لیٹ ہو گیا ہے
اور ہمارا ٹیسٹ بھی ہے آج
لاؤنچ سے ھی وہ جنید کو آواز دیتے ہوئے عجلت میں گاڑی کی طرف بڑھی
جنید نے ایک نظر اپنی چھوٹی بی بی کی طرف دیکھا
وہ انکی مالکن کا دوسرا روپ ھی تو لگتی تھی
بلکل اسکی فوٹو کاپی
اور گال میں ابھرتا ڈمپل ہمیشہ آفتاب ملک کی یاد دلاتا تھا
کس نے کہا ہے مالک آپ زندہ نہی ہیں
آپ اور مالکن ہماری چھوٹی بی بی میں زندہ ہیں
میں مر جاؤں گا لیکن اس مرینہ بیگم کو ہماری چھوٹی بی بی کے ساتھ کُچھ کرنے نہی دوں گا
دل میں سوچتے ہوئے جنید ڈرائیونگ
سیٹ پر آ بیٹھا
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
نہ جانے کب یہ منہوس لڑکی پورے اٹھارہ سال کی ہو گی
اور پتہ نہی کب ساری جائیداد اپنے نام لکھوا کر ہمیں اس سے چھٹکارا ملے گا
اپنی منزل کے اتنے قریب آکر اب ہم پیچھے نہی ھٹ سکتے
یہ اسود ملک عین ٹائم پر آکر ہم سے ہمارے منہ کا نوالہ نہی چھین سکتا
ہو نہ ہو اب مُجھے ھی کُچھ کرنا ہو گا
ورنہ وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جائے گا
آج اس نے مجھ سے جھوٹ بولا
وہ بھی اس اسود ملک کی وجہ سے
آج جھوٹ بولا
کُچھ بعید نہی کل کو وہ اسود ملک اس کم عقل لڑکی کو اپنی طرف کر لے
اگر ایسا ہو گیا تو اتنے سالوں کی میری محنت
یوں ہی رائیگاں جائے گی
جو کہ میں ہونے نہی دوں گی
مُجھے ٹھنڈے دماغ اور بہت صفائی سے اس اسود ملک کا قِصّہ تمام کرنا ہو گا
اگر قرت خود اس سے دور ہونا چاہے تو
آفتاب ملک کا وہ وکیل کبھی بھی اُسے اس رشتے میں بندھا نہی رہنے دے گا
کمرے میں اِدھر اُدھر چکّر کاٹتے ہوئے مسلسل اُسکا دِماغ جال بُننے میں مصروف تھا
کُچھ سوچتے ہوئے اسکی آنکھیں چمکی
ہاں میرا یہ پلان ضرور کام کرے گا
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
کک کون ہے چھوڑو مجھے
مما بچاؤ
کوئی ہے پلیز ہیلپ می
جنید بابا کہاں ہیں آپ
ابے اُو دیکھ کیا رہا ہے رومال سونگھا اسے
ورنہ اگر یہ ایسے ہی شور مچاتی رہی
تو پکّا ہم سب کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی
تبھی ان میں سے ایک نے قرت کے منہ پر رومال رکھا
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی
اسکے کم سن حسین سراپے پر اپنی ہوس بھری نظریں گاڑتے ہوئے
ان سب نے ایک دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھا
کیا چیز ہے یار
میں تو اسکو کہیں نہی جانے دوں گا
یہ اب صرف میری ہے
ان میں سے ایک نے للچائی نظروں سے قرت کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
ابے اُو منہ سنبھال کر بات کر اس پر ہم سب کا
برابر حق ہے
تو سب مل بانٹ کر کھائیں گے
دوسرے نے پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے کہا
کُچھ پل وین میں خاموشی کے بعد ان سب کے قہقہے ایک ساتھ بلند ہوئے
قرت جو چھٹی ہونے پر ہمیشہ کی طرح جنید کے اِنتظار میں کھڑی تھی
اچانک ہی ایک سفید وین اُسکے سامنے آ کر رکی
اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سے تین آدمی باہر نکلے
اور اُسے کُچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر کھینچ کر اُسے گاڑی میں دھکیلا
اور بنا کسی دیری کے وہاں سے گاڑی بھگا لے گئے
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اسود بیٹا میں قرت کو لینے آیا تھا
مگر وہ یہاں نہی ہے
یہاں پر ایک فقیر نے بتایا ہے کہ کُچھ لوگ اسے زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے ہیں
بیٹا وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں
کیونکہ مرینہ قرت کو اٹھارہ سال کا ہونے سے پہلے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی
اور یہ مرینہ نے کیا بھی نہی ہے
اگر اس نے ایسا کُچھ کرنے کا سوچا ہوتا
تو کم سے کم مجھے اس بات کا پتہ ہوتا
آپ فکر نہ کریں بابا
میں کبھی قرت کو اکیلا نہی چھوڑ سکتا
وہ بھی ان حالت میں
جب مجھے پتہ ہے کہ ایک ایک پل اسکی جان کو خطرہ ہے
اسکی حفاظت کی زمہ داری میری ہے
اور جس گاڑی میں قرت کو لے کر جا رہے ہیں
میری گاڑی عین اس گاڑی کے پیچھے ہے
میں نے پولیس کو بھی فون کر دیا ہے
اور بابا یہ بعد میں پتہ چل ھی جائے گا
کہ ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے
مگر پہلے قرت کو محفوظ کرنا ضروری ہے
اگر اُسے کُچھ ہوا
تو قسم ہے مجھے میں ان میں سے کسی کو زندہ نہی چھوڑوں گا
❣️❣️❣️❣️❣️
باس یہ رہی وہ لڑکی
لے آئے ہیں ہم اسے اب کیا کرنا ہے اسکا
اسکو پہلے کمرے میں ڈال کر آؤ
میں اس میڈم کو بتاتا ہوں کہ انکا کام ہو گیا ہے
اب باقی کی پے منٹ بھی لینے کا وقت آ گیا ہے
تم لوگ ابھی اس لڑکی کے ساتھ کُچھ نہی کرنا
میں آتا ہوں
اس سے بات کر کے
اب کیا بات کرنی ہے باس
اس نے یہی کہا تھا کہ
اس لڑکی کو کسی قابل نہی چھوڑنا
میں نے جو بولا ہے وہ کرو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے
کرخت لہجے میں کہتے ہوئے وہ انکو وہیں چھوڑتا ہوا آگے کی طرف بڑھ گیا
چلو یار جب تک باس آرڈر نہی دیتا ہم جا کر ذرا تھوڑا کھا پی لیں
چل راجا تو بھی چل ہمارے ساتھ
ہاں میں آتا ہوں تم لوگ چلو میں بس آیا
مُجھے کُچھ کام ہے ضروری
✨✨✨✨✨✨
ان چاروں کے جانے کے بعد وہ سب سے نظر بچاتا ہوا
قرت کے کمرے میں داخل ہوا
ایک نظر اس حسین مورت پر ڈال کر
اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا وہ اس چارپائی کی طرف بڑھا
جہاں قرت ہوش و حواس سے بیگانہ بیہوش پڑی تھی
چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجا کر اسنے اپنا ہاتھ قرت کے دوپٹے کی طرف بڑھایا
لیکن تبھی کسی نے اُسکے ہاتھ کو اپنی مضبوط پکڑ میں لے کر مروڑا
ہڈیاں چٹخنے کی آواز راجا کو اپنے کانوں میں سنائی دی
اور تکلیف سے ایک زور دار چیخ اُسکے منہ سے برآمد ہوئی
اور اسی کے ساتھ پولیس کی گاڑیوں کا سائیرن وہاں موجود لوگوں کے کانوں میں پڑتے ہی ہر طرف ہڑبڑی مچ گئی
ہر کوئی اپنی جان بچا کر بھاگنے میں لگ گیا
اور راجا کے ہاتھ کو ایک زور دار جھٹکا دیتے ہی
اسود نے ایک زور دار لات اُسکے پیٹ میں رسید کی
اور ساتھ ہی پڑنے والا ایک مضبوط مکا اس کے جبڑے کو ہلا گیا
غصے سے لال انگارا آنکھیں لیئے پاس پڑی خستہ حال کرسی اٹھا کر اس کے سر میں دے ماری
جس سے راجا کا سر پھٹنے کے ساتھ ساتھ وہ بےہوش بھی ہو گیا
لیکن اسود کے غصے میں ذرا سی بھی کمی نہیں آئی تھی
وہ اب بھی لاتوں سے اُسے مارے جا رہا تھا
تبھی ایک پولیس اہلکار نے آ کر اسکی توجّہ قرت کی طرف کروائ
سر آپ اسے چھوڑ دیں
اس کو ہم دیکھ لیں گے آپ میڈم کو لے کر جائیں
یہاں میڈیا آ گئی تو کام بگڑ جائے گا
اسے زندہ نہی چھوڑنا آفیسر
اور ان کو تھرڈ ڈگری ،، فور ڈگری جو دینا ہے دو
لیکن شام تک ان سے مجھے یہ اگلوا کر دو
اس گھٹیا کام کرنے کے لیے
انکو کس نے کہا تھا
مُجھے اس شخص کا نام چاہئے
خطرناک لہجے میں دھاڑتے ہوئے اس نے قہر برساتی نظروں سے ایک بار پھر راجا کو دیکھا
اور ایک اور زور دار لات اُسکے پیٹ میں رسید کی
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
جاری ہے
