No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
چھوڑیں مجھے
بہتے آنسوؤں کے ساتھ اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی
نہی میری بات غور سے سنو
دیکھو اور محسوس کرو
کیا تمہیں لگتا ہے کہ اب تک جو کچھ میں نے کہا
یا پھر جو کچھ تمہیں محسوس ہوا
وہ جھوٹ تھا ، دھوکہ تھا ، کوئی فراڈ تھا
کیا تمہیں کبھی بھی ایسا لگا
کہ تمہیں چھوڑ کر ، تمھاری محبت چھوڑ کر
میں ان کاغذ کے چند ٹکڑوں کے لئے یہ سب کر رہا ہوں
میں جو بچپن سے چاہتا ہوں کہ کاش تمھاری یہ خوبصورت آنکھیں بھی کبھی مُجھے دیکھ کر مسکرا اٹھیں
کاش وہ وقت بھی کبھی آئے جب دل سے ، اپنے لہجے میں محبت سمو کر تم مجھے پکارو
میں تم سے دھوکہ کیسے کر سکتا ہوں
کب تمہیں میری آنکھوں میں دھوکہ نظر آیا
کب تمہیں میری باتوں میں فریب کا گمان ہوا
بتاؤ مجھے
قرت کو اپنے سینے میں بھینچے اُسکے آنسوؤں سے اپنی شرٹ کو بھیگتی محسوس کر وہ بے بسی سے بولا
پھ ۔۔۔پھر وہ کیا تھا جو آپ مما کے سامنے کہہ رہے تھے
مم ۔میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے
آنسو اسود کی باتوں کی سچائی کو محسوس کر اپنے آپ رک گئے تھے
لیکن رونے کی وجہ سے ہچکی بندھ گئی تھی
دیکھو قرت ہمیشہ جو انسان دیکھے اور سنے
وہی سچ نہی ہوتا
کبھی کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہو جاتا ہے
تت۔۔۔۔ تو کیا یہ جھوٹ ہے کہ
آپ نے نکاح نامے کے ساتھ جائیداد کے پیپرز سائن نہی کروائے
قرت نے اسود کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے
اُمید سے پوچھا
نہی یہ سچ ہے
نکاح نامے کے ساتھ میں نے تم سے پراپرٹی کے پیپرز سائن کروائے ہیں
لیکن میرا مقصد نہ تمہیں ہرٹ کرنا تھا
اور نہ ہی تمھاری دولت و جائیداد کا مجھے کوئی لالچ ہے
اسکی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو دیکھ اسود نے ضبط سے آنکھیں میچی
دیکھو قرت پلیز یوں رو رو کر مجھے تکلیف نہ دو
جس دن تمہیں سچائی معلوم ہو گی
تمہیں میرا اٹھایا گیا یہ قدم بلکل درست لگے گا
تو پھر پلیز مُجھے وہ سچائی بتا دیں
مُجھے بہت برا محسوس ہو رہا ہے
میں غلط سوچنا نہی چاہتی مگر
میرے دماغ میں غلط غلط خیال آ رہے ہیں
زارو قطار روتے ہوئے اس نے اسود کی شرٹ کو مٹھی میں لیتے ہوئے اپنا سر اُسکے سینے سے لگایا
نہی میں نہی بتا سکتا تمہیں کُچھ بھی
تمہیں انتظار کرنا ہو گا
کیوں نہی بتا سکتے آپ
کس بات کا انتظار کر رہے ہیں آپ
اسود کے سینے سے سر اٹھا کر اس نے بپھرے ہوئے لہجے میں کہا
تمھاری آنکھیں کھلنے کا اِنتظار کر رہا
انتظار کر رہا ہوں کہ کس دن تمہیں مرینہ ملک کی سچائی پتہ چلے گی
انتظار کر رہا ہوں کب تمہیں پتا چلے کہ تم آج تک کتنی بڑی غلط فہمی میں جی رہی ہو
انتظار کر رہا ہوں کب تمہیں معلوم ہو کہ کون تمھارا اپنا ہے کون پرایا ہے
کون تم سے مخلص ہے
اور کس کی محبت فریب ہے
قرت کی آنکھوں میں ہزاروں سوال پڑھ کر وہ کُچھ پل کے لیئے خاموش ہوا
اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
جانتا ہوں بہت بے چین ہو اس وقت
بہت سوالوں کے جواب چاہئے تمہیں
لیکن میں تمہیں تمہارے کسی سوال کا جواب نہی دے سکتا
اس سچائی تک تمہیں خود پہنچنا ہو گا
جاؤ نماز پڑھو تمہارے دل کو سکون ملے گا
اور خدا سے دعا کرو
وہ تمہیں اس بےچینی سے نجات دلا کر ہر جھوٹ اور سچ کو واضح کر دے
ہاتھوں کے انگوٹھوں سے اسکی گالوں پر پھسلتے آنسو صاف کرتے ہوئے اسود نے اپنے دہکتے لبوں سے اسکی پیشانی کو چھوا
خود میں سکون کی لہریں کو دوڑتے محسوس کر وہ کُچھ دیر بعد پیچھے ہوا
چلتا ہوں
دعا کروں گا آج کی رات سارے جھوٹ ، فریب، دھوکوں کو اپنے ساتھ لے کر ڈوب جائے
اور کل کا سورج سچائی کی سنہری روشنی لے طلوع ہو
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
چنبیلی کہاں کو ہے رے تو
سلیم نے چارپائی سے نیچے پاؤں جھلاتے ہوئے چنبیلی کو آواز دی
کیا ہے رے
کاہے کو پھوکٹ میں دِماغ کا دہی کرتا ہے تو
چنبیلی نے پردے کے پیچھے سے نکلتے ہی سلیم کو غصے سے گھورتے ہوئے سنایا
سفید گورے بدن پر شوخ لال رنگ کی ساڑھی کو سلیقے سے باندھ کر
بالوں کو جوڑے میں قید کیئے
خوبصورت تیکھے نقوش کو ہلکے پھلکے میک اپ سے سجا کر وہ سلیم کے دل پر بجلیاں گرا گئی
اسکی نازک سی کمر میں ہاتھ ڈال کر سلیم نے ایک جھٹکے سے اُسے خود سے قریب کیا
کہاں سے لاتی ہے رے تُو اتنی خوبصورتی
ہر روز اپن کو تیرے سے پہلے سے زیادہ پیار
محسوس ہونے لگتا ہے
کاہے کو سجتی ہے رے تُو
کسی دن تیرے حسن کے ان جلوؤں سے گھائل ہو کے اپن اس دنیا سے کلٹی ہو جائے گا
توبہ ہے رے تُجھ سے تو
ساری رات اپنے کو تو سونے اچ نئی دیا
اور اس بنگلے والی کی بات پے غصّہ ہو کے
تُو اپنے کو کاٹا
اور اب پھر سے تُجھے عاشقی سوجھ رہی ہے
میں بول رہی ہے اگر اب تُو اپن کے پاس آیا تو
اچھا نہی ہو گا
کیوں نہی آؤں تیرے پاس
سالا تو اپن کی بیٹر ہاف بولے تو بیوی
میری جان ، جانو سب ہے
تیرے پاس آنے کا حق اپن کو خدا سے ملا ہے
پر ابھی تو ایک کام کر
اپنا سامان باندھ اور چلنے کی کر
ایک منٹ کہاں چلنا ہے
اپن کے پاس بہت سارا پیسہ آنے والا ہے
جیسے ہی وہ مرینہ پیسے اپن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائے گی
اپن دونوں یہاں سے نو دو گیارہ ہو جائیں گے
پچھلی باری بھی تو یہی اچ بولا تھا
لیکن آیا کیا
ایک پھوٹی کوڑ ی تک نہی دی تھی تیرے کو
نہی یار اس بار وہ مرینہ کیا اُسکا باپ بھی اپن کو پیسہ دے گا
دیکھ سلیم میں بول رہی ہے تیرے سے
وہ مرینہ ڈائن پے تیرے کو بھروسہ کرنا ہے شوق سے کر
لیکن میں تیرے کو بتا رہی ہے سلیم
وہ سالی اپنے شوہر کو کھا گئی
اس گھر کی خوشیاں کھا گئی
ارے ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر وار کرتی ہے
لیکن اس مرینہ نے تو اُس کا ریکارڈ اچ توڑ دیا
وہ تیرے کو ایسے ہی چھوڑے گی کیا
ارے میں کب سے سمجھا رہی ہے تیرے کو
چھوڑ دے ان پیسوں کا لالچ
اپن تیرے ساتھ روکھی سوکھی روٹی بھی کھا لے گی
پر اگر تو نہ ہوا تو وہ بائ اپنے کو پھر اس کوٹھے پر لے جائے گی
اور پھر سے نچوائے گی
جب تو اپنے کو وہاں سے لے کر آیا تو اپن صرف ناچتی تھی
کیوں کہ میں چھوٹی تھی
لیکن اب تو سا لا میں بڑی ہو گئی ہے
تو اب تو وہ مجھ سے وہ کام بھی کروائے گی
جو وہ باقی لڑکیوں سے کرواتی تھی
اپن کو وہ گندا کام نہی کرنے کا ہے رے
اپنی بات کہتے ہوئے اس کا گلا رندھ گیا
اے اے چُپ کر
رونا نہی ہے
اپنی محبت کی قسم کھاتا ہے سلیم
کل صبح ہوتے ہی اپن یہاں سے کہیں دور چلا جائے گا
کیوں کہ میرا آدھا کام اس اسود ملک نے کر دیا ہے
اور باقی کا آدھا اپن خود کرے گا ۔
شوکت تیرے کو میری ماں کے ایک ایک آنسو کا حساب دینا ہو گا
دل میں سوچتے ہوئے اس نے چنبیلی کو اپنے سینے سے لگایا
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
عشا کی نماز کے بعد دعا مانگتے مانگتے کب اسکی آنکھ لگ گئی اُسے پتہ بھی نہی چلا
وہیں سجدے کی حالت میں لیٹے اچانک جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی
آنکھوں کو انگلیوں سے مسلتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیرا اور جائے نماز اٹھا کر الماری میں رکھ کر بیڈ کی طرف بڑھی
سچ کہا تھا اسود نے
نماز پڑھ کر اُسکے دل کو بہت سکون ملا تھا
اور اس نے سب خدا پر چھوڑ دیا تھا
کیونکہ دل اسود کو جھوٹا ماننے کے لیئے تیار نہی تھا
اور دِماغ ہر دوسرے پل کوئی اور ہی دلیل لے کر سامنے آ جاتا
پھر اسے اپنے پاپا یاد آئے
ایک بار انہوں نے کہا تھا
جب دل اور دِماغ مخالف سمت چلنے لگیں
تو آپ ہمیشہ دل کی سنو اور جہاں دل کہے بنا کُچھ پوچھے اس راستے پر چل پڑو
کیوں کہ ہمارے دل میں خدا بستا ہے
اور خدا اپنے بندوں کو کبھی غلط راستے پر نہی چلا تا
❣️❣️❣️❣️❣️❣️
جاری ہے
