No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
مسٹر آفتاب ملک آپ یہ پیپرز سائن کر دیں
ایک نرس اسکے پاس آکر جلدی سے رکی
یہ کس چیز کے پیپرز ہیں نرس
آفتاب ملک نے دھڑکتے دل سے پوچھا
دیکھیں آپکی بیوی کی پریگننسی میں پہلے ہی بہت کمپلیکشنز تھی اور اب وہ سیڑھیوں سے نیچے گر گئی ہیں
خون بہت بہہ گیا ہے انکا
ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ وہ آپکی بیوی اور بچے دونوں میں سے کسی ایک کی جان بچا سکتے ہیں
آپ جلدی سے فیصلہ کر لیں کہ آپ کس کی جان بچانا چاہتے ہیں
نرس جلدی سے اُسے پیپرز دے کر جا چکی تھی
وہ کیسے کسی ایک کو مارنے کا کہہ کر ایک کی جان بچانے کا بول دے
ایک طرف اسکی جان سے پیاری بیوی جسے وہ خود سے دور بھیج دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے
اور دوسری طرف انکے وجود کا حصہ تھا جسکا کوئی قصور نہیں تھا
جو ابھی اس دنیا میں نہی آیا تھا
کتنا ارمان تھا ان دونوں کو اس بچے کا
روز رات کو بیٹھ کر وہ اُسکے ساتھ گھنٹوں پلاننگ کرتی تھی
آفتاب ہم اپنے بچے کو یہ لے کر دیں گے
اسے ایسے اسکول میں پڑھائیں گے
اسکو ایسا بنائیں گے
ہاتھ میں قلم پکڑے وہ بیتے دنوں کی یادوں میں کھویا نرس کی آواز پر بری طرح چونکا
کیا ہوا سائن کر دیئے
نہی نہی اب ابھی کرتا ہوں
مارے ضبط کے انکی آواز کانپ اٹھی
ایک بار آنکھیں بند کرکے وہ عائشہ کو بچانے کا فیصلہ کر چکے تھے
پیپر سائن کر نرس کے حوالے کرتے ھی وہ کرسی پر ڈھ گی
آنکھوں سے آنسو ضبط کا ہر باندھ توڑ کر بہنے لگے
کُچھ دیر بعد ڈاکٹر روم سے باہر آیا
آفتاب ملک جلدی سے اس تک پہنچا
ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہے
آئی ایم سوری مسٹر آفتاب ملک ہم آپکی بیوی کو نہی بچا سکے
ہم نے بہت کوشش کی مگر ۔۔۔۔
آفتاب ملک کو وہ الفاظ نہی پگھلا ہوا سیسہ لگے جو اس ڈاکٹر نے انکے کانوں میں انڈیل دیا ہو
نہی ڈاکٹر کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے
ایسا کچھ نہی ہوا ہے
میری بیوی ٹھیک ہے
ڈاکٹر بول دیں پلیز اس نے جنونی انداز میں ڈاکڑ کا گریبان پکڑ کر ہلایا
دیکھیں مسٹر آفتاب ملک ہم آپکی بیوی کو نہی بچا پائے
پر ہم نے آپکے بچے کو بچا لیا ہے مگر۔
میرا بچہ زندہ ہے حیرت سے اس نے ایک بار پھر پوچھا
مگر
یہ مگر کیا تھا ڈاکٹر
مگر آپکی بیٹی بہت کمزور ہیں انہیں سانس بہت مُشکِل سے آ رہی ہے
ہم نے انڈر اوبسرویشن رکھا ہے باقی اللہ بہتر کرے گا
آپ دعا کریں
اور آفتاب ملک یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ وہ اپنی بیوی کے چھوڑ جانے کا دکھ منائیں
اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کی خوشی منائیں
یا اس بات کا سوگ کریں کہ انکی بیٹی زندہ تو ہے مگر ڈاکٹر نے اُسکے زندہ بچ جانے کی کوئی خاص اُمید نہی دلائی
❤️❤️❤️❤️❤️
کالج کے یونیفارم میں اپنے ارد گرد بڑی سی چادر لپیٹے وہ شاید ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی
تبھی اسود ملک کی گاڑی اُسکے بلکل پاس آکر رکی
دو قدم دور ہو کر اس نے حیرت سے اس گاڑی کو دیکھا جو اُسے جانی پہچانی لگی
اُسکا شک یقین میں بدل گیا
جب اسود ملک پوری شان سے دروازہ کھول کر نکلا
بلیک پینٹ اور بلیک شرٹ پہنے کہنیوں تک کف فولڈ کیئے آنکھوں پر چشمہ لگائے
بالوں کو نفاست سے بٹھا کر وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اسکے عین مقابل آ کھڑا ہوا
اسکو دیکھتے ہی قرۃ العین کے دِماغ میں
کل رات کا سارا واقعہ گھوم گیا جہاں اسکی چھوٹی سی ناک غصے سے پھول گئ
وہیں شرم سے گال لال ہو گئے
جب تھوڑی دیر اسے سمجھ نہی آیا وہ کیا بولے کیسے اپنے غصّے کا اظہار کرے
تبھی ایک اچٹتی نظر اس پر ڈال کر ناک چڑھایا
اور دوسری طرف دیکھنے لگی جیسے یہاں اس کے سوا کوئی اور ہو ھی نہ
وہ جو کب سے اُسکے ایک ایک منہ کے زاویے کو نوٹ کر رہا تھا
اسکی اس ادا پر دل کیا ایک زور دار قہقہہ لگا کر ہنسے
اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور سرعت سے اُسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے
قرات میری جان
وہ جو اُسے فل اگنور کر کے کھڑی تھی
اُسکے اسطرح خود کے ہاتھ پکڑنے پر
پہلے حیرت سے اسکی طرف اور پھر اپنی ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں چھڑوانے کی کوشش کی
مگر سب کوشش ناکام ہوتے دیکھ ایک غصیلی نظر اسود ملک پر ڈالی اور دبی آواز میں دھمکی آمیز میں گویا ہوئی
دیکھو شرافت سے ہمارا ہاتھ چھوڑ دو
ورنہ اتنا شور مچاؤں گی یہ سارے لوگ تمھاری چٹنی بنا دیں گے
اوہ سچ میری جان
کتنا سمجھتی ہو مجھے تم
میں تو چاہتا ہوں
تم ان سب لوگوں کو جمع کرو
اور میں ان سب سے کہوں کہ میں تمہارا شوہر ہوں
ہم نے چھپ کر شادی کی ہے
آج تم مجھ سے خفا ہو اس لیئے ایسا بول رہی ہو
اور پھر جب لوگ یہ دیکھیں گے سنیں گے کہ مرینہ ملک کی بیٹی شادی شدہ ہے
اور اس نے چھپ کر شادی کی ہوئی ہے
تو سوچو ذرا کیا عزت رہ جائے گی تمھاری اس ماں کی اس سوسائٹی میں
افّفف مجھے تو لگتا ہے وہ کسی کو منہ دیکھانے لائق نہیں رہیں گی
کتنی بدنامی ہو گی تمھاری اس ماں کی
ہو سکتا ہے لوگ اس سے قطع تعلق کر لیں
افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اسنے اپنا سارا پلان اسکے گوش گزار کیا
مرینہ ملک تم نے قرت العین کو اپنا اتنا اسیر بنا کر اچھا تو نہی کیا
پر شکریہ آج تمھاری اسی کھیلی ہوئی بازی سے میں تمہیں شہہ اور مات دوں گا
دل ھی دل میں اسنے مرینہ ملک کو چیلنج کیا
اسکا اتنا خطرناک پلان سن کر سچ میں اسکی سٹی گم ہو گئی خوف سے پورا وجود تھر تھر کانپنے لگا
کّک کیا چاہتے ہو اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے اسنے مضبوط لہجے میں پوچھا
ارے واہ میری جان کتنی سمجھدار ہو گئی ہو تم
یقیناً تم ایک بہت اچھی بیوی ثابت ہونے والی ہو میرے لیئے
شرارت سے کہتے ہوئے اسنے اسکے خوف سے کانپتے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑا
آؤ گاڑی میں بیٹھو
اُسے سہارا دیتے ہوئے وہ گاڑی تک لایا
جس طرح وہ خوف سے کانپ رہی تھی کُچھ بعید نہی تھا کہ وہ بے ہوش ہو جاتی۔
ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد گاڑی شہر سے دور ایک عالیشان بنگلے کے سامنے جا کر رکی
اسود گاڑی سے اتر کر اس کی طرف آیا
اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے باہر آنے کا اشارہ کیا
ہچکچاتے ہوئے اسکا تھامے وہ باہر آئی ۔اور چُپ چاپ اُسکے پیچھے چل دی
کئی راہ داریاں عبور کرنے کے بعد وہ ایک کمرے کے سامنے آکر رکا
ہاتھ بڑھا کر دروازے کھول کر وہ اندر کی جانب گیا ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی ایک جھٹکے میں کمرہ روشنی سے نہا گیا
ایک پل کیلئے اس کمرے کو دیکھ کر اُسے اپنا سپنا یاد آ گیا
ایک کمرہ ہو جو پورا سفید ہو
جسکی ہر چیز وائٹ ہو
اور جو کمرہ اسکی آنکھوں کے سامنے تھا
اُسے لگا اُسکا سپنا حقیقت کا روپ اختیار کر اسکے سامنے آ گیا ہو
پر وہ کیوں یہ سب دیکھ کر خوش ہو
وہ اسے زبردستی دھمکی دے کر لایا تھا یہاں
اسنے دل میں سوچتے ہوئے سر جھٹکا
آؤ اندر اُسے سوچوں میں گم دیکھ کر اسنے کہا
آ رہی ہوں بولو کیا بات ہے
تھوڑا اندر کی طرف ہو کر اسنے اپنا رخ اسود کی جانب کیا
میں کہہ رہا تھا کہ وہاں الماری ہے اس میں ایک سفید ڈریس ہے
وہ پہنوں اور اچھے سے تیار ہو جاؤ
تب تک مولوی صاحب آئیں گے پھر ہم نکاح کریں گے
اپنی بات آرام سے بول کر اس نے
قرت العین کے چہرے کی طرف دیکھا حیرت کی زیادتی سے آنکھیں اُبل کے باہر آ گئی
مارے شاک کے اپنا منہ کھولے وہ اسے ھی دیکھ رہی تھی
تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ ہم تم سے شادی کریں گے
اففف میری جان میں سوچ تھوڑی رہا ہوں میں تو کر رہا ہوں
اور تمہیں ایسا کیوں لگا کہ ہم اس میں تمھارا ساتھ دیں گے
وہ اس لئے مُجھے ایسا لگا کہ تم میرا ساتھ ضرور دو گی
میری محبت کے لیئے نہ سہی اپنی ماں کی عزت کیلئے تو ضرور دو گی
ہم تمھاری اس بات کا کیا مطلب سمجھیں
غصے سے اسنے آنکھیں چھوٹی کر کے اس کی طرف دیکھا
اب دیکھو تم کالج سے گھر نہی گئی
اور اب تم گھر تب تک نہی جا سکتی جب تک تم مجھے اپنے شوہر کے روپ میں تسلیم نہ کر لو
اب اگر تم ابھی مُجھ سے نکاح کرتی ہو تو اگلے دو گھنٹوں میں تم اپنے گھر میں ہو گی
اگر نہی کرتی ہو تو بھی کوئی بات نہی تم سوچ لو
مگر اس گھر سے باھر تم تب ھی نکل سکتی ہو جب میں چاہوں گا
اور میں تمہیں اپنی منکوحہ بنائے بغیر اس گھر سے جانے نہیں دوں گا
اب تمہیں فیصلہ کرنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے تو یہ بہت بہترین بات ہے
اگر ایک دن لگتا ھی تو کوئی بات نہیں
ایک مہینہ لگاؤ ایک سال لگاؤ مجھے کوئی مسئلہ نہی ہے
سارا مسئلہ تمھاری ماں کو ہو گا
کیا بولے گی وہ ایک لڑکی کو نہی سنبھال سکی پتہ نہیں لڑکی کالج سے کہاں چلی گئی
آنے والے وقت کا سوچ کر ایک بار پھر اسکی روح کانپ گئی
کیا چاہتے ہو تم
میری جان ابھی تو بتایا ہے نکاح کرنا ہے تم سے
اُسے سوچوں کے بھنور میں گھرا چھوڑ کر خود بیڈ پر نیم دراز ہوکر آنکھیں موند لی
کُچھ وقت ڈبڈبائی آنکھوں سے وہ
یہاں سے بچ جانے کی ترکیب سوچتی رہی مگر کچھ ہاتھ نہی آیا
کُچھ دیر اور سوچنے کے بعد اسکے دماغ میں ایک نئی سوچ ابھری اگر وہ ابھی اس سے نکاح کر کے یہاں سے اپنی ماں کے پاس چلی جائے تو وہ اپنی ماں کو سب سچ بتا دے گی کہ کیسے اس نے زبردستی نکاح کیا ہے پھر ماں کیسے بھی کر کے اسکی اس انسان سے طلاق کروا دے گی
اس سوچ کے دِماغ میں آتے ہی وہ بیڈ کی جانب بڑھی
اٹھو اٹھو
کیا ہو گیا جان ابھی تو مُشکِل سے پانچ منٹ ہوئے ہیں
اتنی جلدی فیصلہ کر لیا
مُجھے تو لگا کم از کم ہفتہ دو ہفتہ تو لگے گا ھی
جاؤ اور جا کر جلدی سے یہ نکاح کا تام جھام ختم کرواؤ
نحوست سے کہتے ہوئے وہ الماری کی جانب بڑھ گئی جلدی سے ڈریس نکالا اور اُسکے پاس سے گزرتے ہوئے نظر اُسکے حیران پریشان چہرے پر پڑی
اب جلدی کرو سارا دن نہی ہے میرے پاس تیزی سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی
یہ اتنی جلدی مان کیسے گئی
اپنی ہلکی ہلکی شیو میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسنے سوچا
خیر جیسے بھی مان گئی ۔
ابھی کچھ دیر میں پتہ لگ جائے گا
کچھ دیر میں نکاح خواں آگیا ۔ اور ساتھ اسود کے دو دوست بھی آ گئے
اسود نے موبائل پر کال لگا کر جیب میں رکھا تاکہ اسکی فیملی بھی اس نکاح میں شامل ہو سکے
قرۃ العین نے پیپرز پر ایسے سائن کیا جیسے اس نکاح کیلئے سب سے زیادہ جلدی اُسے ھی تھی
اسود نے رحمان کو ایک طرف لیجا کر وہ پیپرز دیئے
رحمان ان کو سنبھال کر میرے پرسنل لاکر
میں رکھواو
تم جانتے ہو یہ صرف نکاح کے پیپرز نہی ہیں
اسود نے اسے آنکھوں سے سمجھایا اور پیپرز اُسکے حوالے کیئے
نکاح کروا کر سب لوگ جا چکے تھے
اب چلو مجھے گھر چھوڑ کر آؤ اسنے سب کے جاتے ہی جلدی سے کہا
اسود نے ایک بار بغور اس کہ جائزہ لیا
سفید پاؤں تک آتی جالی دار بہت سارے گھیروں والی فراک میں ہلکا پھلکا میک اپ کیئے وہ اس کے دل میں اتری جا رہی تھی
اتنی بھی کیا جلدی ہے میری جان
کھینچ کر اُسے اپنے اُوپر گراتے ہوئے اسنے
اسکی نازک سی کمر کے گرد مضبوط حصار بنایا
❤️❤️❤️❤️❤️
جاری ہے
