64.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

قرت العین اِدھر آئیں بیٹا کیا ہوا ہے آپکو
رو کیوں رہی ہیں آپ
آفتاب ملک نے اپنی چھ سالہ بیٹی کو پکارا
بہت مشکلوں سے تقریباً ایک مہینہ زندگی اور موت سے جوجھ کر وہ آج آفتاب ملک کے جینے کی وجہ تھی
اس ایک مہینے میں نہ جانے انہوں نے کتنی منتیں دعائیں ،،خیراتیں،، غرض کہ ان سے جو کچھ بن پڑا یا پھر انہیں جو کچھ سمجھ آیا انہوں نے سب کیا
مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر انہوں نے اپنی بیٹی کیلئے لا کھڑا کیا
عائشہ کے بعد اپنی بیٹی کو کھونے کا تصور بھی ان کے لیئے جان لیوا تھا
پاپا مجھے بھی مما چاہئے
سب بولتے ہیں کہ میں منہوس ہوں
میرے پیدا ہوتے ہی میری مما کو اللہ لے گیا آپ مُجھے مما لا کر دیں پاپا پھر میں سب کو بتاؤں گی کہ میری مما ہیں
اور پھر کوئی بھی مجھے منہوس نہی کہے گا
بولیں نہ پاپا آپ مُجھے مما لا کر دیں گے
نہی بیٹا ہم تمھاری ساری خواہشیں پوری کر سکتے ہیں مگر یہ خواہش نہی پوری کر سکتے
آپ کی مما اللہ کے پاس ہیں
آسمان میں ستارہ بن گئی ہیں
اور ہم روز تب ہی چھت پر جاتے ہیں
تاکہ مما ہمیں دیکھیں اور خوش ہو جائیں
جب آپکی مما کو پتہ چلے گا کہ آپ نے اپنی کوئی اور مما بنا لی ہے
تو مما کو کتنا دکھ ہو گا
آپ سمجھ رہے ہو نہ بیٹا پاپا کیا کہہ رہے ہیں
ہاں پاپا مگر بی جان کل کہہ رہی تھی کہ
پاپا سے بولو جو آپکی گاؤں میں مما ہیں انکو لے آؤ
وہ مجھ سے بہت پیار کریں گی
قرت العین نے معصومیت سے انکے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا
اور آفتاب ملک کے سر پر جیسے کسی نے بم پھوڑ دیا ہو
ساتھ ہی انہیں بی جان پر شدید قسم کا غصّہ آیا
آخر کیا سوچ کر انہوں نے اس معصوم کے دل میں یہ خنّاس بھرا تھا
چار سال پہلے جب مرینہ نے آفتاب ملک کے لیئے خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی
تو پورے خاندان نے مرینہ ملک سے انکا نکاح زبردستی کروایا تھا
✨✨✨✨
عائشہ اور آفتاب ملک ایک دوسرے کو پسند کرنے کے ساتھ ساتھ شادی کے بھی خواہشمند تھے
جس کیلئے عائشہ کے ماں باپ تو راضی ہو گئے تھے
مگر ملک خاندان کے کُچھ اپنے ہے اصول تھے
جن کے تحت مرینہ انکے بچپن کی منگ تھی
بہت کوشش کے بعد بھی جب کوئی عائشہ کے لئے حامی بھرنے کو تیار نہیں ہوا
تو انہوں نے حویلی چھوڑنے کو کہا
لیکن ملک حویلی کے مکینوں کو اپنے بیٹے کا گھر چھوڑنا تو منظور تھا
مگر اپنے رسم و رواج سے کوئی ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا نہی چاہتا تھا
اور یہی بات انہیں تیش دلا گئی
اس حویلی کے لوگوں کو اپنے بچوں کی خوشیوں کی نہی اپنے دقیانوسی رسم و رواج کے پرواہ تھی
اور پھر ایک دن وہ اپنا سامان باندھ کر اپنے شہر کے فلیٹ میں آگئے
اور عائشہ کے ماں باپ سے بات کر انکی بیٹی کا ہاتھ مانگا اور ساری زندگی اُسے خوش رکھنے کا وعدہ کر وہ عائشہ کو اپنی
شریک حیات بنا کر اپنی دنیا میں لے آئے
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں ہمیں آپ نے کہا تھا آپ نکاح کے بعد ہمیں گھر چھوڑ دیں گے
اپنی کمر پر اسکی مضبوط گرفت محسوس کر وہ بری طرح مچلی
ہممم کہا تو تھا
مگر یہ سب تو تمہیں نکاح سے پہلے سوچنا چاہیے تھا
کک کیا مطلب ہے تمھارا
میری جان کتنی بھولی ہو تمہیں پتا نہیں ہے کیا
نکاح کے بعد میاں بیوی کیا کرتے ہیں
کک کیا کرتے ہیں آنکھیں بڑی کر اسنے حیرت سے پوچھا
اففّفف اب میں بول کر کیسے بتاؤں مجھے شرم آتی ہے
میں ایک کام کرتا ہوں
میں تمہیں پریکٹیکل کر کے بتاتا ہوں
تم ہمارے ساتھ ایسا کُچھ نہیں کے سکتے
اس نے غصے سے کہا
لیکن آہستہ آہستہ اپنی کمر کی زپ کھلتی محسوس کر اُس کی روح فنا ہونے لگی
نہی نہی دیکھو تم ایسا کچھ نہی کرو گے
تم نے جیسا کہا ہم نے ویسا ھی کیا مگر ۔۔
مگر یہ سب تو میرا حق ہے
ابھی ابھی تم نے خود یہ حق مجھے دیا ہے
سخت مزاحمت کرتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر اسے زپ کھولنے سے روکا
لیکن تب تک آدھی سے زیادہ زپ کھل چکی تھی
پلک جھپکتے ہی اس نے قرت کو اپنے نیچے کیا اور خود اس پر پوری طرح سے جھک گیا
یہاں تک کہ انکے بیچ ایک انچ سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا
ہلکا سا جھک کر اس نے اپنے دہکتے لبوں کی مہر اُسکے ماتھے پر ثبت کی
کُچھ دیر بعد پیچھے ہٹ کر اُسکے چہرے کی طرف دیکھا جو سانسیں روک کر آنکھیں زور سے بند کیئے شاید اس کے پیچھے ھٹ جانے کا انتظار کر رہی تھی
اسکی اس حرکت پر اسود کے لب مسکرائے
مسز اسود ملک آنکھیں کھولیں اپنی
جب ہی اس نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر دیکھا
اور غصے سے اپنا رخ دوسری جانب کیا آپ بہت برے ہیں
وعدہ کیا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر آئیں گے
اب وعدہ توڑ رہے ہیں
اوکے چھوڑ آؤں گا مگر پہلے میری دو باتیں مان لو
پہلی بات یہ کہ سمائل کرو اور میرے ساتھ کُچھ خوبصورت پکس بنواؤ
بھئی نکاح ہوا ہے ہمارا کُچھ یادیں ہونی چاہیئے
جلدی سے سمائل دو
ہر سیلفی میں سمائل ہونی چاہئے ورنہ۔۔۔۔
ہاں ہاں میں سمائل کروں گی
اسود نے موبائل نکال کر کیمرا آن کیا ۔
اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچا
پانچ چھ سیلفیوں کے بعد اُسے چھوڑ کر ایک نظر اسکے شرم سے سرخ چہرے کی طرف دیکھا
ایک کام کرو لیٹ جاؤ
پر کیوں مُجھے گھر جانا ہے
ابھی میری دوسری بات ماننی ہے تم نے
لیٹو جلدی سے
اوکے برا سا منہ بنا کر اس نے تکیے پر اپنا سر رکھا
اسود نے جلدی سے نکاح نامے اور ان دونوں کی پکس مرینہ بیگم کو سینڈ کی دو میسج کرنے کے بعد موبائل ایک طرف رکھا
پھر اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف ڈالی
قرت جو اسکی ساری کارروائی دیکھ رہی تھی
اسکو شرٹ اتارتے دیکھ گھبرا کر اٹھنے لگی
لیکن اس سے پہلے ھی اسود نے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اُسکا سر دوبارہ تکیے پر رکھا ۔
قرت نے گھبرا کر اسکی طرف دیکھا
جسکی آنکھوں میں اب شرارت اور نرمی کہیں نہی تھی
اسنے جھک کر اسکی گال پر اپنے لب رکھے
میری دوسری شرط یہ ہے کہ مجھے بتاؤ تم اتنی آسانی سے نکاح کیلئے مان کیسے گئی
ہم ڈر گئے تھے اور ہمیں گھر بھی جانا تھا
اس نے ڈرتے ہوئے جھوٹ بولا
جھوٹ
اسنے جھک کر اسکی گال پر دانتوں سے کاٹا جہاں اسنے ابھی ابھی اپنے لب رکھے تھے
آہ جنگلی انسان یہ کیا طریقہ ہے
جنگلی پن ابھی میں نے تمہیں دیکھایا کہاں
ہے میری جان
ایک ہاتھ اسکی کمر کے نیچے سے لیجا کر باقی کی زپ کھولتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں گویا ہوا
اور پھر ہاتھ بڑھا کر کندھوں سے اسکی فراک کو سرکایا
اور اسکے کُچھ بھی کہنے سے پہلے جھک کر وہاں اپنے لب رکھے
چھوڑو مجھے جانے دو پلیز
اپنے ناخنوں سے اُسکے کندھوں اور گردن کو کھرونچتے ہوئے اس نے بھر پور مزاحمت کا مظاہرہ کیا
اسود نے سر اٹھا کر ایک بار اُسکے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو دیکھا
پھر سختی سے ان کلائیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے کر تکیے سے لگایا
میری جان ان نازک ہاتھوں کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں
جب تک تم مجھے سچ نہی بتا دیتی تم
یہاں سے کہیں نہی جا سکتی
اور تم جب تک چُپ رہو گی میری یہ گستاخیاں اتنی ہی بڑھیں گی
اب یہ تمہارے اُوپر ہے تم مجھے کتنا آگے جانے سے روکتی ہو۔
سنسناتے لہجے میں کہتے ہی پوری شدت سے اسنے اُسکے لبوں پر جھک کر اپنے لب اس کے لبوں سے الجھا دیئے
پوری شدت سے اسکی سانسوں کو پیتے ہوئے وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ رو رہی ہے اور اسکی سانسیں بھی مدھم ہو رہی ہیں ۔
لیکن اگر آج وہ اس کے ساتھ کوئی رعایت کرے گا تو شاید کل اسے کسی بڑی مشکل کا سامنا پڑ سکتا ہے
مگر جب اُسے لگا کہ اسکی سانس بلکل ھی مدھم ہو گئی ہے تو وہ سرعت سے ہونٹوں کو چھوڑ کر گردن کی طرف بڑھا
اسکی دونوں کلائیوں کو چھوڑ کر ایک ہاتھ سے اسنے فراک کا کُچھ اور حصہ نیچے کی طرف کیا اور دوسرا ہاتھ اسکی برہنہ کمر پر گردش کرنے لگا
نہی نہی پلیز میں بتاتی اپنی کمر پر اُسکے مضبوط ہاتھ کا لمس اور فراک کو کندھوں سے نیچے جاتا محسوس کر اُسکے ضبط کا باندھ ٹوٹ گیا
جب ہی وہ روتے ہوئے ہلکی آواز میں بولی
اسکے سینے پر گردش کرتے اُسکے ہونٹ اپنے آپ مسکرائے
ہلکا سا اُوپر ہو کر اس نے ابرو اٹھائی
میں ابھی اٹھارہ سال کی نہی ہوئی
تت تو میں نے سوچا کہ گھر جا کر ماں کو بتاؤں گی
کہ تم نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے
پھر وہ اس چیز کو مدّعا بنا کر تمھاری مجھ سے طلاق کروا دیں گی ۔
روتے ہوئے اسنے اپنا سارا پلان بتایا
جسکو سن کر اُسے غصّہ تو بہت آیا
لیکن کُچھ سوچ کر اسنے اپنے غصے کو ضبط کیا
اور ایک بار پھر اسکے لبوں کو پوری شدت سے اپنی قید میں لیا
اور جارحانہ طریقے سے اپنا غصّہ ان نازک لبوں پر اتارنے لگا
کُچھ دیر اس پر جھکے رہنے کے بعد
وہ اٹھا
سوچنا بھی مت
ایسا کرنے کی اگر تم نے یا تمھاری ماں نے ذرا سی بھی کوشش کی
تو تمہارے اٹھارہ سال کا ہونے سے پہلے ہی میں اپنے سارے حق تم سے وصول کر لوں گا
اور یہ حق لینے سے مجھے کوئی عدالت بھی نہی روک سکتی
اسکے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے اسنے تنبیہ کرتے لہجے میں کہا
وہ جو اس کی شدتوں سے پہلے ہی گھبرا گئی تھی اسکی اس بات پر خوف سے لرزنے لگی
اب اٹھو اس سے پہلے کہ میں اور بہکوں اپنا حلیہ درست کرو
اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر وہ اس پر سے اٹھا
اور ایک طرف رکھی شرٹ کو دوبارہ سے پہنتے ھی کھڑا ہو کر اسکی طرف دیکھا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
جاری ہے