No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
بیٹھے بیٹھے چیئر کی پشت پر پر سر گرا کر آج ایک بار پھر وہ اپنے بچپن میں چلا گیا تھا
دس سالہ سلیم نہی جانتا تھا کہ امیری کیاہوتی ہے
اور غریبی کیا
لیکِن شوکت کے ہر روز کے طعنے
مار پیٹ،، گالی گلوچ سے وہ سمجھ گیا
پیسہ ہونا ھی سب کچھ ہے
اور پیسہ نہ ہونا شاید ایک بہت بڑا جرم
ہے
جسکی سزا اسکی ماں صبح شام کاٹتی ہے
شوکت بظاھر تو اس کا باپ تھا
لیکن نہ اس نے کبھی سلیم کو باپ کا پیار دیا
اور نہ ہی کبھی اُسے اپنا بیٹا سمجھا
یہاں تک کہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی اُسکا سلوک پاؤں کی جوتی کے برابر تھا
شوکت سے اُسے کوئی خاص لگائو بھی نہی تھا
وہ تو بس جب بھی اپنی ماں کے پاس ہوتا تو اسے لگتا اس دنیا میں اس سے زیادہ خوش نصیب کوئی ہے ہی نہی
اور پھر ایک دن شوکت کو آفتاب ملک کی کمپنی میں پیسوں کی ہیرا پھیری پر پولیس لے گئی
اسکی ماں نے اسکو ساتھ لے کر پولیس اسٹیشن کے بہت چکر لگائے
لیکن پانچ کروڑ کے گھپلے کی سزا تو اسے ملنی ہی تھی
اور پھر یہ کسی عام انسان نے یہ کیس نہی کیا
مشہور بزنس مین آفتاب ملک نے یہ کیس کیا تھا
ویسے تو شوکت کو چار سال کی سزا ہوئی تھی
لیکن نہ جانے کیسے وہ دو سال میں ہی رہا ہو گیا
گھر آتے ہی اس نے جب سلیم کو نئی فٹ بال سے کھیلتے دیکھا
تو جھٹ سے اُسے چھین کر اپنے ہاتھوں میں گھماتے ہوئے دیکھنے لگا
ارے واہ نئی فٹ بال
میں وہاں جیل کی روکھی سوکھی کھا رہا تھا اور تم لوگ یہاں عیاشوں کی زندگی جی رہے ہو
اور تو اور یہ چونچلے بھی شروع کر رکھے ہیں
کیوں بے ہرامی
پیسے کہاں سے آئے تیری ماں کے پاس
کہیں دھندہ تو شروع نہی کر دیا تیری ماں نے
تیرہ سالہ سلیم کو اپنی ماں پر لگائے گئے اس الزام پر غصّہ تو بہت آیا
لیکن وہ چاہ کر بھی کُچھ نہی کر سکتا تھا
ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر اس نے قہر برساتی آنکھوں سے شوکت کو دیکھا
کیوں رے ایسے کیا دیکھ رہا ہے
اپنے باپ کو آنکھیں دکھائے گا
غصے سے چیختے ہوئے اس نے ایک زور دار تھپڑ سلیم کو دے مارا
اور پھر پے در پے کئی تھپڑ مار مار کر اسکو زمین پر دھکا دے دیا
شور شرابے کی آواز سن کر جیسے ہی اس کی ماں باہر آئی
جہاں شوکت کو دو سال بعد جیل سے باہر دیکھ کر اُسے خوشی ہوئی
وہیں سلیم کی حالت دیکھ کر انکا دل دہل اٹھا
چھوڑ دیں میرے بیٹے کو
کیوں مار رہے ہیں آپ اسے
کیا بگاڑا ہے اس نے آپکا جو آپ گھر آتے ہی اس پر غصّہ ہونا شروع ہو گئے
سلیم کو اس کی گرفت سے چھڑوا کر اپنے سینے میں بھینچے ہوئے
آج وہ پہلی بار شوکت کے سامنے غصے بول اٹھی
شوکت نے ابرو اٹھا کر اسکی اس جرات کو دیکھا
اور ایک جھٹکے سے سلیم کو کھینچ کر اُسکا سر دیوار میں مارتے ہوئے
اور بپھرے انداز میں اسکی جانب بڑھا
مگر اسکی نظریں صرف سلیم کے سر سے نکلتے خون پر تھی
سلیم میرا بیٹا
روتے ہوئے جیسے ہی وہ اُسے اٹھانے کے لئے بڑھئ
اتنے میں شوکت نے ایک طرف پڑے موٹر کے پائپ کے ٹکڑے کو اٹھا کر پوری طاقت سے اسکی کمر میں دے مارا
ایک دل خراش چیخ کے ساتھ وہ فرش پر اوندھے منہ گریں
اور شوکت نے منہ سے گالیاں اور ہمیشہ کی طرح بلا وجہ کے الزام لگاتے ہوئے
اُسے پائپ سے مارنا شروع کیا
لیکن جب شوکت نے اسکی ماں کے پیٹ میں زور دار لات ماری
سلیم کے دل نے چیخ کر کہا شاید آج وہ اپنی ماں کو کھو دے گا
نقاہت سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر گر گیا
اپنی ماں کی حالت کو دیکھتے ہوۓ ایک بار پھر ہمت کر کے وہ اٹھا اور شوکت کے ٹانگ سے لپٹ گیا
نہی چھوڑ دو میری ماں کو
پلیز چھوڑ دو
روتے ہوئے اس نے ہاتھ جوڑ کر شوکت کے آگے التجا کی
تو سمجھا اپنی اس بھکارن ماں کو
نہ کوئی ڈھنگ کا جہیز لے کر آئی نہ ہی مجھے آج تک خوش رکھ پائی
الٹا مجھ سے زبان دراز کر رہی ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھا لے اسے اگر دوبارہ میرے سامنے زبان کھولی تو جان سے مار دوں گا
تن فن کرتا وہ کمرے میں گیا پانچ منٹ بعد اپنا بیگ لے کر باہر آیا
ایک اچٹتی نظر دونوں ماں بیٹے پر ڈال کر وہ باہر نکلتا چلا گیا
ماں اٹھ جا
ماں اٹھو نا
روتے ہوئے سلیم نے اپنی ماں کو دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑ ا
ہلکا سا ہوش آتے ہی انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا
سلیم میرا بچا کتنا خون نکل گیا ہے نہ
روتے ہوئے انہوں نے سلیم کے سر پر ہاتھ پھیرا
ماں مجھے کُچھ نہی ہوا
تو بس ایسے ہی جاگتی رہ میں ابھی جا کر کسی کو بلا کر لاتا ہوں
پھر ہم ہسپتال چلیں گے
اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنی ماں کے چہرے کا خون صاف کرتے ہوئے وہ۔ مسلسل رو رہا تھا
نہی سلیم یہیں بیٹھ میرے پاس
آج مجھے میرے چاند بیٹے سے کُچھ چاہیے
اپنا سر سلیم کی گود میں رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں سلیم کا چھوٹا سا ہاتھ دبایا
تیرے باپ نے آج تک جو کچھ میرے ساتھ کیا
میں نے کبھی بھی اف نہی کی
جانتے ہو کیوں
اٹک اٹک کر بولتے ہوئے انہوں نے سلیم کے روتے چہرے کی طرف دیکھا
کیوں کہ میرے پاس میری دنیا
میری کل کائنات میرا چھوٹا سا چاند بیٹا
تھا
تبھی وہ جب بھی مجھے کچھ بھی بولتے تھے
میں سب کچھ بھول جاتی تھی جیسے ہی تمھارا ہنستا مسکراتا چہرہ میرے سامنے آتا
میرے ہر زخم پر مرہم اپنے آپ لگ جاتا تھا
پر آج مجھ سے ایک وعدہ کرو
تم میرے چاند سے بیٹے ہو
جانتی ہوں تم اپنے باپ جیسے نہی ہو لیکِن پھر بھی وعدہ کرو
کبھی اپنے باپ جیسے نہی بنو گے
کبھی عورت ذات پر بلا وجہ ہاتھ نہی اٹھاو گے
ہو سکے تو ہمیشہ اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھنا
وعدہ کرو نہ سلیم
درد سے کراہتے ہوئے اس نے سلیم کے ہاتھ کو ہلایا
ہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ماں وعدہ کرتا ہوں کبھی میں ابو جیسا نہی بنوں گا
میں صرف اپنی ماں کا بیٹا ہوں۔
روتے ہوئے سلیم نے اپنی ماں کے ماتھے پہ اپنا ماتھا ٹکایا
کُچھ دیر رونے کے بعد جب اُسے کوئی حرکت محسوس نہی ہوئی تو اس نے زور زور سے
انہیں ہلایا
ماں اٹھو ،، اٹھو ماں
چیخ چیخ وہ اپنی ماں کو اٹھانے لگا
لیکن اب وہاں اس کی سننے والا کوئی نہیں تھا
ایک ماں تھی ، اُسے بھی خدا نے آج اپنے پاس بلا لیا تھا
💝💝💝💝
کُچھ دن تک یونہی وہ آوارہ گردی کرتا رہا
رشتے داروں سے تو شوکت نے پہلے ہی قطع تعلق کر لیا
اب تو سلیم کے پاس کچھ نہی بچا تھا
بھوک سے نڈھال ہو کر اس نے ایک ہوٹل میں برتن صاف کرنا شروع کیئے
لیکن وہاں کا مالک اس کے سارا دن کے کام کے بدلے دو وقت کی روٹی ذلیل کر کر کے دیتا
ایک دن سلیم نے موقع دیکھ کر سب کے سونے کے بعد گلے کا لاک توڑا
اور پیسے لے کر اپنے ایک دوست کے ساتھ فرار ہو گیا
پھر اس کا اور اس کے دوستوں کا یہ معمول بن گیا تھا
ایک بار کہیں بڑا ہاتھ مارتے اور پھر سکون سے بیٹھ کر اپنا اپنا حصہ کھاتے
جب تک معاملہ ٹھنڈا ہوتا
وہ پھر سے کوئی نہ کوئی کارنامہ سر انجام دے دیتے
یوں ہی ایک دن اُسے اسکے کُچھ دوست اُسے رانی بائ کے کوٹھے پر لے گئے
ہر طرف رنگ برنگے پردے لگے ہوۓ
کہیں کُچھ منچلے کسی لڑکی سے گفتگو میں مگن تھے
کہیں لڑکیوں کی الگ سے ٹولیاں کھڑی تھی
گلاب اور موتیے کے پھولوں کی خوشبو نے ہر طرف اچھا سماں باندھا تھا
لائٹوں سے چکاچوند اس کوٹھے کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا
لیکن سلیم کو اس ماحول سے عجیب سی وحشت ہونے لگی
ان سب کو دیکھ کر بار بار اسے اپنی ماں یاد آتی
جس نے اس سے وعدہ لیا تھا
ہمیشہ عورت ذات کی عزت کرنا
راہداری سے گزرتے ہوئے اسے اُسکے دوست ایک بڑے ہال نما کمرے میں لے گئے
جہاں کُچھ لوگ بڑے بڑے تکیے لگا کر بیٹھے کسی لڑکی کے ناچ پر غلط غلط فقرے کستے ہوئے پیسے لٹا رہےتھے
سلیم نے ایک سرسر ی نظر اس لڑکی کو دیکھا
گوری رنگت میں لہنگا اور سلیو لیس چولی پہنے ، لمبے بالوں کی چوٹی کیئے
تیکھے اور خوبصورت نقوش کو میک اپ سے آراستہ کیئے وہ کوئی سولہ سترہ سال کی لڑکی تھی
لیکن کچھ یاد آنے پر پھر مڑ کر دوبارہ اس لڑکی کی طرف دیکھا
جسکے دونوں بازوؤں پر مار کے نشان واضع نظر آ رہے تھے
بازوؤں سے اُسکا جائزہ لیتی نظر پیروں پر جا ٹکی
مسلسل چلتے پیروں سے خون رس رس کر فرش پر دھبے بنا رہا تھا
ایک جھٹکے سے اس نے اس لڑکی کے چہرے کی طرف دیکھا
کیا نہی تھا اس کے چہرے پر
تکلیف ، دکھ، بےبسی ، کرب
آنکھیں چھلکنے کو بیتاب تھی
لیکن اپنے خوبصورت ہونٹوں کو آپس میں پیوست کیئے وہ ناچ رہی تھی
ماتھے پر پڑے نیل کو میک اپ بھی چھپانے میں ناکام ہو رہا تھا
اس لڑکی کی تکلیف دیکھ کر سلیم کے دل کو کسی نے مُٹھی میں لے لیا
ایک دم اسکی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کا چہرہ گھوم گیا
بسس
سلیم کی دھاڑتی آواز پورے کمرے میں گونجی
جہاں چنبیلی کے تھرکتے قدم رکے وہیں رانی بائ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
💖💖💖💖💖💖
سینے سے عائشہ ، آفتاب ملک اور اپنی تصویر لگائے وہ ہلکی ہلکی غنودگی میں تھی جب ہی کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز پر ہلکے جھٹکے سے اسکی نیند کھل گئی
یہ کیسی آواز تھی
ایسا لگا مما کے کمرے میں کُچھ ٹوٹا ہے
ایک بار جا کر دیکھ لیتی ہوں
ویسے بھی صبح سے مما سے ملی بھی نہی میں
پاؤں میں سلیپر پہنتے وہ دل میں سوچتے ہوئے مرینہ ملک کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
💖💖💖💖💖
شور نہی کرو مرینہ
کیا چاہتی ہو سارا محلّہ جاگ جائے
تماشا بن جائے ہمارا
ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ گی نہی میں کیسے کوئی حل نکالوں گا
صبح سے خوار ہو کر ،، لوگوں کی عجیب عجیب باتیں سن سن کر تمھارا کہا پورا کر کے آ رہا ہوں
اس سلیم کے اکاؤنٹ میں پندرہ کروڑ ٹرانسفر کروا کر آ رہا ہوں
اب گھر آیا ہوں تو ایک نیا تماشا لگا رکھا ہے تم نے
بیزاری سے کہتے ہوئے شوکت صوفے پر جا بیٹھا
ایک منٹ شوکت مجھے بتاؤ
تم نے پیسے کیسے ٹرانسفر کیئے
مرینہ ملک نے حیرت سے شوکت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
یار یہی تو بتا رہا ہوں
تم کُچھ سنو تو کوئی بات بنے
آفتاب ملک کے کسی بھی اکاؤنٹ سے پیسے ٹرانسفر نہی ہو رہے تھے
اسی لیئے میں نے اپنے پرسنل اکاؤنٹ سے پیسے سلیم کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائے ہیں
ہاہاہاہاہاہا
اور اب کیا بچا ہے تمہارے پاس شوکت
طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے اس نے شوکت کی طرف دیکھا
تقریباً پچاس ساٹھ لاکھ
اسکی ہنسی کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے اس نے مرینہ کو جواب دیا
مگر اس کے جواب کے ساتھ چٹاخ کی آواز کمرے میں گونجی
اور شوکت کا منہ دوسری طرف پھر گیا
اپنی حد میں رہو مرینہ بیگم
شوکت نے دھاڑتے ہوئے مرینہ کو خونخوار نظروں سے گھورا
چُپ ایک دم چُپ
کیا یہی دن دیکھنے کے لیئے تمہیں میں اس جیل سے نکلوا کر یہاں لائی تھی
کیا یہی دن دیکھنے کے لیے ہم نے آفتاب ملک کو مار ا تھا
غصّے سے چیختے ہوئے مرینہ نے شوکت کو دھکّا دیا
اور یہ انکشاف سن باہر کھڑی قرت کے پاؤں کے نیچے سے مانو کسی نے زمین کھینچ لی ہو
اتنے سال اسکی اس منہوس بیٹی کو ہم نے اس لیئے پالا کہ ہمارے ہاتھ میں ایک پھوٹی کوڑی نہ لگے
اور عین ٹائم پر آکر وہ کل کا لڑکا میرے سالوں کی محنت پر پانی پھیر جائے
کیا کہنا چاہتی ہو مرینہ تم
شوکت کو کُچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
تو اس نے مرینہ سے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
صبح وہ اسود ملک یہ پیپرز دے کر گیا ہے
ہمارے پاس کُچھ نہی بچا
اور جو بچا تھا وہ تم ماشاللہ سے اس سڑک چھاپ سلیم کو دے آئے ہو
💖💖💖💖💖💖
ان میں اور نہ جانے کیا کیا بحث ہو رہی تھی
لیکن قرت کی دنیا تو اسی وقت تہہ و بالا ہو گئی تھی
جب اس نے سنا
اسکے باپ کو اسکی ماں نے مارا ہے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے وہ اپنے کمرے تک آئی
آفتاب ملک اور عائشہ کی تصویر کو اٹھا کر اپنے چہرے کے سامنے کیا
پاپا آنکھوں سے آنسو نکل کر تصویر پر گرنے لگے
تصویر کو اپنے سینے میں بھینچ کر وہ بھاگتی ہوئ بیرونی گیٹ کی جانب بڑھی
💖💖💖💖💖
جاری ہے
See translation
