Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Man Mehram by Umme Abbas

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب اسکی آنکھ پیاس لگنے کی وجہ سے کھلی تھی ۔مندی مندی آنکھیں کھول کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پانی کی بوتل تلاشنی چاہی ۔مگر آج کا دن اتنا برا تھا کہ وہ رات سونے سے پہلے پانی رکھنا بھی بھول گئی تھی ۔صبح صبح جس شخص کا چہرہ دیکھا تھا اس کے بعد دن اچھا گزرنے کی کوئی امید اسے یوں بھی نہیں تھی جس پر مہر ثبت پورا دن ماما نے اسکی دوڑیں لگوا کر کی تھی ۔ناشتے کے بعد موصوف کا کمرہ صاف کرنے کی ذمہ داری اسی کے سر ڈالی گئی تھی ۔ماما کی نگرانی میں اس نے کونہ کونہ چمکا ڈالا تھا ۔حالانکہ کچھ دن پہلے ہی وہ یوم صفائی منا کر گئی تھی مگر صائمہ کو اس پر یقین نہیں تھا ۔
اس کے بعد کا بچا کچا پورا دن کچن میں كهپتے گزر گیا تھا ۔اتنی تیاری دیکھ کر اسے ہول اٹھنے لگے تھے ۔ماما ساری کسریں ایک ہی دن میں نکالنے کے درپے تھیں ۔پتہ نہیں کتنی ڈشیں تو وہ بنا چکی تھیں ۔وہ اکیلا کیا کیا ٹھونسے گا یہ سوچ سوچ کر شانزے اپنا خون جلاتی رہی تھی اور وہ سارا دن خواب خرگوش کے مزے لیتا رات کھانے کی ٹیبل پر دوبارہ نظر آیا تھا ۔اسکے ماں باپ اسے وہ وی آئی پی پروٹوکول دے رہے تھے جیسے وہ سکندر اعظم ہو اور دنیا فتح کر کے واپس لوٹا ہو ۔اور یہ سب دیکھ دیکھ کر اسکی اپنی بھوک مر گئی تھی ۔
اب پیاس کے ساتھ ساتھ بھوک کا احساس بھی جاگ اٹھا تھا ۔بستر سے اٹھ کر دوپٹہ گلے میں ڈالتے وہ کمرے سے نکل کچن میں آئی تھی ۔پہلے تو ایک گلاس پانی کا وہیں رکھی کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے پیا تھا پھر فریج کھول کر جائزہ لیا تھا ۔کچھ سوچ بچار کے بعد رشین سیلٹ کا انتخاب کیا تھا وجہ تھی اسے وہ ٹھنڈا بھی کھا سکتی تھی ورنہ دوسری کوئی بھی چیز منتخب کرتے اسے پہلے اسے گرم کرنا پڑتا جو اس وقت اسے بالکل منظور نہیں تھا ۔باؤل میں نکال کر وہ سکون سے وہیں بیٹھتی کھانے میں مگن ہو گئی تھی ۔ابھی دو تین چمچ ہی لئے تھے ۔جب قدموں کی آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا تھا ۔وہ جو اپنے ہی دھیان میں کچن میں داخل ہو رہا تھا اسے سامنے پا کر وہ بھی لمحے کے لئے رک سا گیا تھا ۔شانزے کا چمچ منہ میں ہی ره گیا تھا ۔تعجب سے اسے گھور کر دیکھا تھا جو ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس پاؤں میں سلیپر اڑسے ہلکے سے منتشر بالوں کے ساتھ سامنے کھڑا تھا ۔
اسکا جائزہ لینے کے بعد اس نے گردن گھما کر ایک نظر کچن میں آویزاں وال کلاک پر ڈالی تھی جو رات کے دو بجا رہی تھی ۔ بنا کسی اچھے میز بان کے اسکی آمد کا مدعا جانے وہ جھک کر منہ سے چمچ نکالتی دوبارہ کھانے کی جانب متوجہ ہو چکی تھی ۔جیسے اس نے اسے وہاں دیکھا ہی نہ ہو ۔میسم کو نہ چاہتے ہوئے بھی آکورڈ سی فیلنگ آنے لگی تھی ۔
دن میں زیادہ سونے سے اسکی رات میں نیند ٹوٹ گئی تھی اور اتنے سال باہر اکیلے رہنے سے ایک عادت بڑی پختہ ہو گئی تھی ۔رات نیند سے آنکھ کھل جانے پر اسے شدت سے كافی کی طلب ہونے لگتی تھی ۔اب بھی کتنی دیر سے کروٹ بدلتے وہ سونے کی کوشش کرتا رہا تھا بلا آخر ہار مان کچن کی راہ لی تھی کہ کافی کا سامان ڈھونڈنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا ۔پر اب یہاں شانزے کو دیکھ کر اسے یک دم سے اجنبیت بھرا احساس ہونے لگا تھا ۔لیکن اب یہاں تک آ گیا تھا تو بنا کافی کے جانے کو دل آمادہ بھی نہیں تھا ۔
"وہ میں کافی بنانے آیا تھا ۔"یہ بتاتے ہوئے اسے خود بھی عجیب سا احساس ہوا تھا ۔اس نے کون سا اس سے جھوٹے منہ ہی سہی پوچھا تھا جو وہ بتا رہا تھا ۔شانزے سے سر اٹھا کر اسے خاموش نظروں سے دیکھا تھا پھر اطمینان سے اپنا آخری چمچ لیتے باؤل اٹھا کر سنک کی جانب بڑھی تھی ۔
"اوپر والی کیبنٹ میں سارا سامان رکھا ہے ۔دودھ فریج میں سے مل جائے گا۔"اپنا باؤل اور چمچ دھوتے اسٹینڈ پر رکھ کر وہ مڑی تھی ۔وہ ابھی تک یوں ہی دروازے کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ۔
"راستہ تو چھوڑ دیں ۔"اس سے ذرا فاصلے پر آ کر رکتے اس نے جتایا تھا ۔میسم اس عجیب و غریب مخلوق کو دیکھتا خاموشی سے ایک سائیڈ پر ہو گیا تھا جو اب سر جھٹک کر اس کے پاس سے گزرتی باہر نکل گئی تھی ۔اس کے جانے کے بعد اس نے بے ساختہ جھرجهری سی لی تھی ۔پورا دن اسکی خاموش مگر چھبتی نظروں کو محسوس کرنے کے بعد اب کے ہوئے اس ٹکراؤ نے اسے یقین دلا دیا تھا اسکا دماغی کوئی نہ کوئی پرزه بڑے ہو جانے کے باوجود ڈھیلا تھا ۔وہ آگے بڑھ کر برنر کی جانب گیا تھا ۔
اپنے کمرے میں آ کر بستر پر دراز ہوتے اس نے منہ کے زاویے بگاڑے تھے ۔
"بتا تو ایسے رہے تھے جیسے میں جی جان سے انکو کافی بنا کر نوش کرنے کے لئے پیش کروں گی ۔ماما نے کہا تھا بس زبان کے جوہر مت دکھانا ۔اب کیا آدھی رات کو مہمان نوازیاں کرتی پھروں؟ ۔ویسے بھی ماما نے کہا تھا وہ اپنے ہی گھر واپس آئے ہیں تو پھر مہمان کب ہوئے ۔کریں اپنے کام خود ۔"بستر پر دراز ہوتے كمبل سینے تک تان کر وہ کروٹ لیتی سونے کے لئے آنکھیں بند کر گئی تھی ۔پیٹ پوجا ہو چکی تھی اب نیند اچھی آنے والی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *