No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
واشروم سے باہر نکلتے ہی اس کا سامنہ ذولقرنین سے ہوا تھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ذولقرنین کو نظرانداز کیے وہ دروازے کی جانب بڑھی جب وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
“راستے سے ہٹو!”
“ارے، ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی مسز جبران۔۔۔۔ کچھ وقت ہمیں بھی دے دیجیئے۔۔۔”
“میرے ساتھ فضول بکنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔” سپاٹ نگاہیں ذولقرنین پر ٹکائے اس نے جواب دیا تھا۔
“اوکے۔۔۔” وہ پیچھے کو ہوا۔
حائقہ جوں ہی دروازہ پار کرنے کو تھی وہ حائقہ کی کلائی تھام چکا تھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟” وہ مڑ کر اس پر بھڑکی۔
“گجرے پسند نہیں تھے نا تمہیں اور نہ ہی گولڈ۔۔۔۔ ویل کافی چینج ہوگئی ہو تم۔۔۔” وہ اس کی کلائی پر نگاہ ٹکائے زہریلے لہجے میں بولا تھا۔
“تمہاری بکواس سننے کا وقت نہیں ہے میرے پاس ہاتھ چھوڑو میرا!”
“ویسے سچ میں جبران اور تمہاری شادی ارینج ہے نا؟یا میں کہوں کے زبردستی کی۔۔۔وہ کیا ہے نا تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں کیونکہ مجھ سے تو تمہیں محبت تھی مگر پھر بھی کبھی نہ گجرے پہنے اور نہ ہی گولڈ کی کوئی چیز۔۔۔۔۔” وہ مسکرایا مگر اس کے مسکراتے لفظوں کے پیچھے چھپا زہر حائقہ سے مخفی نہ رہ سکا۔
حائقہ کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ در آئی۔۔۔ وہ جو حائقہ کو رلانے کی نیت سے آیا تھا اس کی مسکراہٹ دیکھ کر تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔
“جلن ہورہی ہے تمہیں؟” حائقہ کی آنکھیں چمکی تھی۔
“ہونہہ!” ذولقرنین نے سر جھٹکا تھا۔
“جاننا چاہتے ہو کہ کیوں یہ سب کچھ تمہارے لیے نہیں مگر جبران کے لیے کرتی ہوں؟” وہ ایک قدم آگے بڑھتی ذولقرنین کے قریب ہوئی تھی۔
“تم مجھ سے محبت کے دعویدار تھے ذولقرنین مگر تمہارے لیے ہمارا رشتہ کسی فارمیلیٹی سے کم نہیں تھا جبکہ جبران!۔۔۔۔ جبران اور میرا رشتہ محبت پر مبنی نہیں مگر ہمارے رشتے کو جوڑ کر رکھنے والی وہ ایک کڑی ہے جو تمہارے اور میرے رشتے میں نہیں تھی۔۔۔ اور اس کڑی کا نام ہے مان۔۔۔۔”
“وہ شخص جو مجھ سے محبت کا دعوایدار نہیں۔۔۔ جو مجھ سے اس رشتے میں کسی قسم کی امید نہیں رکھتا اس نے مجھے وہ مان، وہ عزت بخشی جو کبھی تم نہیں دے پائے۔۔۔ ناؤ ایکسکیوز می۔۔۔!” وہ اپنی کلائی چھڑوائے جانے کو پلٹنے ہی والی تھی کہ ان کی جانب آتے سائے کو دیکھ ذولقرنین نے دوبارہ سے اس کی کلائی تھام لی تھی۔
“اب بس بھی کردو حائقہ اور کتنا اس زبردستی کے رشتے کو چلاؤ گی؟۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ تم آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔ اور میں بھی تمہیں اپنانے کو تیار ہوں بس تم یہ بےمعنی رشتہ ختم کردو۔۔۔ طلاق لے لو جبران سے۔۔۔ ویسے بھی اب تو حلالہ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔”
“تم۔۔۔۔” حائقہ اس سے پہلے کوئی جواب دے پاتی ذولقرنین چہرے پر حیران کن تاثرات سجائے اچانک بولا تھا۔
“جج۔۔۔جبران تم۔۔۔” ذولقرنین یوں بن گیا جیسے کچھ سنا ہی نا ہو۔
حائقہ چونک کر پلٹی تھی اپنے پیچھے کھڑے جبران کو دیکھا جس کی نظریں حائقہ کے ہاتھ پر ٹکی تھی جسے ذولقرنین تھامے ہوئے تھا۔
“تم نے آنے میں دیر کردی تو میں ہی تمہیں ڈھونڈتا چلا آیا۔۔۔” اس کی آنکھیں بےتاثر تھیں۔
وہ سب سن چکا تھا حائقہ جانتی تھی۔۔۔
“وہ میں تو بس گفٹس لینے آیا تو بھابھی سے یونہی گپ شپ۔۔۔”
“گفٹس کی ضرورت نہیں ہمیں اب چلنا چاہیے دیر ہورہی ہے۔۔۔ چلو حائقہ!” اس کا ہاتھ زور سے تھامے جبران اسے کھنچتے ہوئے وہاں سے لے کر گیا تھا۔
حائقہ نے مڑ کر ذولقرنین کو دیکھا جس کے چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ دیکھ کر پل بھر میں حائقہ اس کی گیم کو سمجھ چکی تھی۔
غصے سے اس کی دماغ کی رگیں پھول اٹھی تھی۔
“ارے جبران بھائی آپ کہاں جارہے ہیں؟۔۔۔ کافی تیار ہے سوری تھوڑا لیٹ ہوگیا!” ذولقرنین کی بیوی کافی کی ٹرے تھامے انہیں گھر سے نکلتے دیکھ کر بولی تھی۔
“پھر کبھی بھابھی۔۔۔ اللہ حافظ!” مروتاً مسکراہٹ سے اسے نوازے وہ باہر جاچکا تھا۔
“انہیں کیا ہوا؟” پیچھے آتے ذولقرنین سے اس نے پوچھا۔
“ڈونٹ نو!” وہ کندھے اچکا گیا۔
“بی جینٹل یو ایڈیٹ۔۔۔۔” یوں کھینچے جانے پر حائقہ کی ٹانگ میں تکلیف اٹھی جس پر وہ غصے سے دانت رگڑے بولی تھی۔
جبران کوئی جواب دیے بنا اسے بٹھائے خود بھی بیٹھتا زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔
پورا راستہ اس کے چہرہ سپاٹ رہا۔۔۔ حائقہ سے کوئی بات نہیں کی اس نے۔۔۔ حائقہ ذولقرنین کی مسکراہٹ کو سوچتے اپنی جگہ سلگ اٹھی تھی۔
یہ شخص اپنی زندگی میں تو آگے بڑھ چکا تھا مگر اس کا سکون برباد کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔
جبران پر ایک نگاہ ڈالے وہ گہری سانس خارج کرتی سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی تھی۔
جبران کیا سن چکا تھا، اس کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا اسے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔ اس کا اور جبران کا رشتہ محبت بھرا تو نہ تھا جو وہ اسے لے کر فکرمند ہوتی، یہ بس بےخودی کے عالم میں کیا گیا ایک بچکانہ وعدہ تھا جسے اسے نبھانا تھا اور وہ نبھا چکی تھی۔
گاڑی پورچ میں کھڑی کیے وہ خود باہر نکلتا حائقہ کی جانب کا دروازہ کھولے اسے نہایت آرام سے کمرے میں لایا تھا۔۔۔ بیڈ پر بھی آرام سے بٹھایا تھا مگر جانے سے پہلے اتنی زور سے دروازہ بند کیا کہ حائقہ کے ساتھ ساتھ کمرے کی چاروں دیواریں تک ہل گئی تھیں۔
“کمینہ!” حائقہ غصے سے بڑبڑائی۔
جبران کافی دیر سے گھر کے لان میں ٹہل رہا تھا۔۔۔ آج جو ہوا وہ سوچ سوچ کر اس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔۔ ٹینشن سے وہ آئسکریم کے دو ٹب بھی ختم کرچکا تھا مگر ۔۔۔۔
‘کیا واقعی حائقہ نے یہ شادی حلالہ کے لیے کی تھی؟’ یہی سوال بار بار اس کے دماغ میں گردش کیے جارہا تھا۔
وہی دوسری جانب چینج کیے وہ خود ایک عجیب قسم کی کیفیت کا شکار ہوگئی تھی۔۔۔ ذولقرنین نے یہ سب کیوں کیا تھا اسے سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔ ذولقرنین سے ہوتی اس کی سوچ اس گھر پر چلی گئی تھی جہاں اس نے اپنی زندگی کے چند محبت بھرے ماہ گزارے تھے۔۔۔ اتنے سالوں بعد واپس اسی گھر میں قدم رکھنا اسے عجیب وحشت میں مبتلا کرچکا تھا۔
ایک کے بعد دو وہ کئی سیگرٹیں پھونک چکی تھی مگر وحشت تھی کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“آج جو بھی ہوا اس کے حوالے سے مجھے حائقہ سے بات کرنی ہوگی!” اسی سوچ کے ساتھ جبران کمرے کی جانب بڑھا تھا مگر دروازہ کھولے اندر داخل ہوا تھا تو ایک نیا جھٹکا اسے لگا تھا۔
سامنے ہی اس کی بیوی سیگریٹ کے گہرے کش بھررہی تھی۔
جبران کا دماغ مکمل طور پر گھوم چکا تھا۔
“تم۔۔۔تم سموکنگ کرتی ہو؟” جبران کا اپنے پیروں پر کھڑے رہنا محال ہوگیا تھا۔
“ہاں!” مزے سے کندھے اچکائے حائقہ نے اسے جواب دیا۔
“تم!۔۔۔ کیسے؟۔۔۔ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔” اس نے انگلی اٹھائے حائقہ پر الزام لگایا۔۔۔ حالت یوں تھی جیسے ابھی رو دے گا۔
“ایکسکیوز می کون سا دھوکا؟” حائقہ نے حیرانگی سے اس سے سوال کیا۔
“یہ دھوکا!” اس کا اشارہ سیگریٹ کی جانب تھا۔
حائقہ نے آنکھیں گھمائی۔
“میں نے کوئی دھوکا نہیں دیا تمہیں۔۔۔ تمہاری خالہ امی میری اس عادت سے بہت اچھے سے واقف ہے جاؤ ان سے سوال کرو۔۔۔” اس نے آنکھیں گھمائی۔
“ہاں کرو گا سوال ان سے۔۔۔۔ بلکہ اب سب سوال انہی سے ہوگے۔۔۔ جاتا ہوں ان کے پاس کرتا ہوں ان سے سوال۔۔۔” غصے سے بڑبڑاتا وہ انہی قدموں مڑا۔۔۔
حائقہ کو گاڑی چلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔ حیرت سے اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں وہ رات کے ڈیڑھ بجے گاڑی باہر نکال رہا تھا۔
“یہ تو واقعی میں چلا گیا۔۔۔ مجھے کیا۔۔۔” خود سے بولتی وہ کندھے اچکا گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جبران خیریت تم اس وقت یہاں؟”رات کے اس پہر وہ اسے اپنے گھر پر دیکھ کر پریشان ہوئی تھی۔
سارہ اور میسم بھی پریشانی سے اس کا سپاٹ چہرہ دیکھ رہے تھے۔
“کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ سے خالہ!” سارہ اور میسم نے چونک کر اسے دیکھا۔
“ضرور اس آفت کی پرکالا نے اپنی اصلیت دکھانا شروع کردی ہوگی!” میسم سارہ کے کان میں بڑبڑایا جس پر اس نے سر اتفاق میں ہلایا۔
“رات کے اس پہر؟۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا جبران اور حائقہ کدھر ہے؟” انہیں حائقہ کو لے کر پریشانی ہوئی۔
سارہ اور میسم نے آنکھیں گھمائیں۔
“ٹھیک ہوتا تو اس وقت یہاں نا ہوتا۔۔۔ ضروری بات کرنی ہے آپ سے اکیلے میں!” سارہ اور میسم پر نگاہ ڈالے وہ بولا۔
“آؤ میرے ساتھ!” وہ اسے ساتھ لیے اپنے کمرے میں جاچکی تھی، لاک لگانا نہ بھولی تھی۔
“اب بتاؤ کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے نا؟۔۔۔ حائقہ وہ ٹھیک ہے؟”
“آپ سے ایک سوال پوچھوں گا اس کا سچ سچ جواب دیجیئے گا مجھے!”
“جبران تم مجھے ڈرا رہے ہو!”
“حائقہ کا پہلا شوہر۔۔۔ ذولقرنین تھا؟”
اس کے اتنے ڈائریکٹ سوال پر انہیں کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔
“جبران ہوا کیا ہے۔۔۔”
“صرف میرے سوال کا جواب دے خالہ امی!” انداز دو ٹوک تھا۔
“ذولقرنین حائقہ کا ماضی تھا جبران اور۔۔۔”
“اور آپ نے یہ بات مجھے بتانا مناسب نہیں سمجھی کہ میری بیوی میرے دوست کی بیوی بھی رہ چکی ہے؟”
“ہوا کیا ہے جبران مجھے پہلے یہ بتاؤ۔۔۔ کیا ذولقرنین نے کوئی بکواس کی ہے؟۔۔۔۔ کہی تم حائقہ پر شک تو نہیں کررہے؟۔۔۔ دیکھو جبران ذولقرنین حائقہ کا ماضی تھا اور تم اس کا حال ہو۔۔۔۔” طاہرہ بیگم کو پریشانی نے آن گھیرا تھا۔
“حائقہ اور ذولقرنین کا ماضی تھا مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ لیکن اس کے ماضی کا اس کے حال میں کتنا عمل دخل ہے یہ بات میرے لیے پریشان کن ہے!”
“کھل کر بات کرو جبران۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو؟”
“کہنا نہیں پوچھنا چاہتا ہوں!”
“کیا؟”
“کیا حائقہ نے مجھ سے شادی حلالے کے لیے کی تھی؟”
“کیا ہوگیا ہے جبران؟۔۔۔ یہ کس قسم کی فضول بکواس کررہے ہو تم؟”
“مجھے میرے سوال کا جواب دے خالہ امی۔۔۔۔ ایک تو آپ نے مجھ سے یہ بات چھپائی کہ میری بیوی میرے ہی دوست کی سابقہ بیوی رہ چکی ہے اور دوسرا کہ وہ سموکنگ کرتی ہے؟۔۔۔ آپ نے ایک ایسی عورت یرے پلے باندھ دی جو سیگریٹ پیتی ہے؟۔۔۔ اس شادی کا مقصد میرے بچوں کے لیے ایسی عورت لانا تھا جو انہیں ماں بن کر پالے، ایسی عورت لانا نہیں جو میری آئیندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بنے۔۔۔ یہ کس قسم کی عورت کے ساتھ باندھ دیا ہے آپ نے مجھے؟” وہ غصے سے ان پر برسا تھا۔
“آرام سے جبران!” ان کا لہجہ وارننگ زدہ تھا۔
“مجھے میرے سوال کا جواب دیجیئے کیا اس شادی کا مقصد حلالہ تھا؟کیا حائقہ ابھی بھی ذولقرنین کے ساتھ انوالوڈ ہے۔۔۔ اسے واپس پانے کے لیے اس شادی کی حامی بھری تھی اس نے؟ کیا یہ سب پری پلانڈ تھا؟”
“یہ سب بکواس ہے جھوٹ ہے۔۔۔ حائقہ اور ذولقرنین کے درمیان جو کچھ بھی تھا چھ سات سال پہلے ختم ہوچکا ہے ۔۔۔۔ اب ان میں ایسا کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔ تمہاری اور ذولقرنین کی دوستی بھی محض ایک اتفاق ہے۔۔۔”
“اچھا ہوگا ایسا ہی ہو۔۔۔ ورنہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا!” اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوچکی تھی۔
“خدارا جبران اپنے غصے پر قابو رکھو۔۔۔ تم حائقہ کے ماضی سے انجان ہو۔۔۔ نہیں جانتے اس نے کیا کیا برداشت کیا ہے۔۔۔ کوئی غلط قدم مت اٹھانا!” طاہرہ بیگم نے اس سے التجا کی تھی۔
“پلیز خالہ امی بس کرے۔۔۔ میں تھک گیا ہوں یہ سن سن کر۔۔۔ حائقہ کا ماضی، حائقہ کا ماضی، حائقہ کا ماضی۔۔۔۔ جب سے شادی ہوئی بس یہی کہے جارہی ہے آپ مجھے۔۔۔۔ لیکن کبھی بتانا ضروری سمجھا کہ اس کا ماضی تھا کیا؟۔۔۔ جب آپ کو مجھ پر اس کے ماضی کو لے کر یقین نہیں تو کیوں باندھا مجھے اس رشتے میں؟۔۔۔ مجھے کیا الہام ہونا ہے کہ ذولقرنین اور اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا اس کے باوجود جو میں سن چکا ہوں اور دیکھ چکا ہوں؟۔۔۔۔” وہ غصے سے دھاڑا۔
“میرے لیے۔۔۔ میرے لیے وہ سب دوہرانہ بہت مشکل ہے مگر اتنا جان لو کہ ذولقرنین جھوٹا ہے۔۔۔۔” وہ بےبسی سے بولی۔
“نہیں خالہ امی آج نہیں۔۔۔ اگر آپ واقعی چاہتی ہے کہ میں اس رشتے کو اپناؤ تو آپ مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپائے گی کچھ بھی نہیں۔۔۔ حائقہ کے ماضی کا ایک ایک راز آپ کو مجھ پر عیاں کرنا ہوگا۔۔۔ ورنہ۔۔۔” وہ خاموش ہوا۔
“مجھے مجبور مت کرو جبران!”
“آپ مجھے مجبور مت کرے خالہ امی!”
“میں تمہیں سب کچھ نہیں بتاسکتی مگر ذولقرنین کے حوالے سے آگاہ کردیتی ہوں۔۔۔” انہوں نے سر جھکائے جواب دیا۔
“یہی بہتر ہوگا!” وہ بڑبڑایا۔
“حائقہ اور ذولقرنین یونی فیلوز تھے۔۔۔ لوو میریج تھی دونوں کی شادی کی شروعات میں تو سب ٹھیک رہا مگر آہستہ آہستہ ایک ڈر سا حائقہ کے دل میں ان کے رشتے کو لے کر بیٹھا شروع ہوگیا۔۔۔۔” وہ خاموشی ہوئی۔
“کیسا ڈر؟”
“یہی کہ کہی ذولقرنین اسے چھوڑ نہ دے بالکل ویسے ہی جیسے ارسم نے اس کی ماں کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔یہ ڈر اس کے دل میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی ذولقرنین کو لے کر پازیسیوو ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ ذولقرنین کی کسی دوسری عورت پر نگاہ بھی اسے برداشت نہ ہوتی۔۔۔ پہلے پہل تو ذولقرنین اس کی اس حرکت کو نظرانداز کردیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذولقرنین حائقہ کے لیے اس کا پاگل پن اس کا جنون بن چکا تھا۔۔۔ حائقہ کے اس پاگل پن نے ذولقرنین کو اس سے دور کردیا تھا۔۔۔۔ سونے پر سہاگا حائقہ ذولقرنین کی پسند نہیں تھی، انہوں نے حائقہ کے اس پاگل پن کا فائدہ بخوبی اٹھایا تھا۔۔۔ ذولقرنین بھی حائقہ کی ان سکیورٹی کو سمجھے بنا اس سے بدظن ہوگیا تھا اور نتیجاً وہ کسی اور عورت میں انوالو ہوگیا۔۔۔ جس دن حائقہ کو طلاق ہوئی اسی دن اس نے اپنا بچہ بھی کھویا تھا۔۔۔ شی واز پریگنینٹ۔۔۔۔ ذولقرنین کی دی گئی طلاق اس کے لیے کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں تھی۔۔۔۔ وہ مینٹلی ان سٹیبل ہوچکی تھی، کئی گھنٹے ذولقرنین کی ایک جھلک دیکھنے کو وہ کبھی اس کے گھر کے باہر تو کبھی اس کے آفس کے باہر بیٹھی رہتی۔۔۔ سیگریٹ بھی وہ بس اپنا غم چھپانے کو پیتی ہے۔۔۔ اس کے لیے ٹینشن ریلیف ہے سیگریٹ۔۔۔ مگر اب سب بدل چکا ہے۔۔۔ اس واقع کو کئی سال گزر چکے ہیں، حائقہ کی زندگی میں ذولقرنین اب کہی بھی نہیں۔۔۔ تم اس سے بدظن مت ہو۔۔۔” انہوں نے جبران کو رام کرنا چاہا تھا۔
“ٹھیک ہے مان لیا جو ہوا برا ہوا۔۔۔ مگر یہ سیگریٹ نوشی یہ میرے گھر نہیں چلے گی۔۔۔۔ سمجھادے اسے۔۔۔۔ میرے بچوں کو لے کر میں کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا۔۔۔ بہتر ہوگا اگر وہ یہ بات سمجھ لے۔۔۔۔اور اس ذولقرنین کو تو میں خود دیکھ لوں گا” انہیں وارن کیے وہ وہاں سے جاچکا تھا۔
طاہرہ بیگم نے گہری سانس خارج کی تھی، موبائل اٹھائے حائقہ کا نمبر ملایا جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا گیا تھا۔
“حائقہ۔۔۔۔” لہجے میں بےبسی در آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مگر حائقہ میری بات تو سمجھو۔۔۔۔” وہ جھنجھلا اٹھی تھی۔
“سمجھ تو آپ نہیں رہی مسز ارسم۔۔۔۔ اس شادی کا مقصد بس آپ سے کیا وعدہ نبھانا تھا جو میں نبھا چکی۔۔۔ اب آپ کا بھانجا میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔ یا اس کے بچوں پر اس کا کیا اثر ہوگا اس سے میرا کوئی کنسرن نہیں۔۔۔ سو پلیز سٹاپ ڈسٹربنگ می۔۔۔” وہ کال کاٹ چکی تھی، سیگریٹ کا گہرہ کش لگایا تھا اس نے۔
طاہرہ بیگم نے بےبسی سے موبائل کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جتنا وہ اس کی زندگی سنوارنے کی کوشش میں تھی اتنا ہی وہ اسے خود اپنے ہاتھوں برباد کرنے پر تلی ہوئی تھی۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد جبران کی گھر واپسی ہوئی تھی۔۔۔ گاڑی پورچ میں کھڑی کیے وہ گھر میں داخل ہوا جہاں سامنا حائقہ سے ہوا جو دونوں بازو سینے پر باندھے، آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھور رہی تھی۔
“کیا؟” جبران نے بھنویں اچکائی۔
“ہو آئے اپنی خالہ امی کی طرف سے کرلی میرے کردار کی تسلی؟” اس کے ہونٹوں پر چڑادینے والی مسکراہٹ تھی۔
“یہ تم نے کیا طعنے دینے میں کوئی اسپیشل ڈگری حاصل کی ہے؟” جبران چڑ کر بولا۔
حائقہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی دھیمے قدم اٹھاتی وہ اس کے بالکل قریب آکھڑی ہوئی۔
اس کی مسکراہٹ سے جبران کو خوف محسوس ہوا۔۔۔۔ترچھی نگاہیں کیے اس نے اپنے آس پاس بچاؤ کو کچھ ڈوھنڈنا چاہا مگر ناکام رہا۔
“کک۔۔۔کیا ہے؟۔۔۔ اتنے قریب کیوں آرہی ہو؟” جبران ہکلایا۔
“اگلی بار اگر میرے حوالے سے کوئی بھی سوال من میں آئے تو جواب مانگنے بھی مجھ سے ہی آنا۔۔۔۔ میرے کردار کی گواہیاں میرے گھروالوں سے مانگنے گئے تو دونوں ٹانگے توڑ کر، زبان کاٹ کر، ایک بازو ضائع کرکے ٹریفک سگنل پر بٹھوا دوں گی بھیک مانگنے کے لیے۔۔۔” اس کے کان میں مسکراتی آواز سے اپنے الفاظ اتارے تھے۔
جبران تو خود کو واقعی بھیگ مانگتے دیکھ تصور کرچکا تھا۔۔۔ آنکھیں پھیلائے اس نے حائقہ کو خوف سے دیکھا جو محبت سے اس کے گال کا بوسہ لیے وہاں سے جاچکی تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ!” خوف کا اثر زائل ہوا تو وہ پیچھے سے چلایا۔
“کچھ کہاں؟” کمرے میں گھسی حائقہ یکدم دروازہ کھولے باہر نکلی۔
“نن۔۔۔نہیں۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔” جبران کا سر تیزی سے نفی میں۔
“گڈ!۔۔۔نائٹ۔۔۔” آنکھیں گھمائے وہ اسے آخری مسکراہٹ سے نوازتی کمرے میں بند ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
