Man Maane Naw By Qaneeta Khadija Redelle50237

Man Maane Naw By Qaneeta Khadija Redelle50237 Last updated: 15 September 2025

61.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Man Maane Naw

By Qaneeta Khadija

پارک میں داخل ہوتے ہی معیز حائقہ کی جانب مڑا جس کی باہوں میں آدم تھا جب کہ جبران پیچھے پیچھے ہی تھا اس کے۔ "میں جھولے لینے جارہا ہوں ماما اگر یہ آپ کو تنگ کرے تو مجھے بتائیے گا اوکے؟" دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے وہ چھوٹی آنکھوں سے جبران کو گھورتا سلائیڈز کی جانب بھاگا تھا۔ "شیور ماما کی جان!" وہ مسکرائی، اس کے پیچھے اونچی آواز میں بولی۔ "ماما کی جان؟۔۔۔ یہ کل کی تازہ تازہ اولاد ماما کی جان بن گیا اور میں کئی ماہ پرانا شوہر ابھی تک جانِ جہان نہ بن سکا؟۔۔۔ خودغرض عورت۔۔۔" وہ بڑبڑایا مگر حائقہ صاف سن سکی۔ مسکراہٹ دبائے وہ آگے بڑھی، جبران بھی سائے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے رہا۔ آدم کو یونہی گود میں لیے وہ ایک بینچ پر آبیٹھی تھی جہاں سامنے سے معیز کو باآسانی کھیلتے وہ دیکھ سکتی تھی۔ جبران بھی ساتھ آن بیٹھا۔ گلا کھنکھارے اس نے حائقہ کو متوجہ کرنا چاہا جس نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ "بیگم؟" میٹھا، شیریں لہجہ اپنایا گیا مگر کوئی جواب نہیں۔ "بیگم وہ میں۔۔۔" اس سے پہلے جبران کچھ بول پاتا آدم اپنی زبان میں بلی کی جانب اشارہ کیا اور حائقہ سے باتیں کرنا شروع ہوگیا تھا۔ جبران نے صبر کیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ خاموش ہوا، جبران کو اپنی بات کہنے کا موقع ملا، گلا کھنکھارے دوبارہ حائقہ کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ "بیگم میں کہہ رہا تھا۔۔۔" ایک بار پھر آدم بول اٹھا، اس بار اس نے خوشی سے چہکتے گلہری کی جانب اپنی چھوٹی انگلی کی جس پر حائقہ اسے گلہری کے بارے میں بات کرنے لگ گئی تھی۔ جبران نے آنکھیں چھوٹی کیے اپنے اس فتنے سپوت کو گھورا جو شائد جان بوجھ کر اس کے اور اس کی بیوی کے مابین تعلقات بہتر نہیں ہونے دے رہا تھا۔ کچھ لمحوں بعد وہ پھر سے خاموش ہوئے۔ جبران نے چند لمحے انتظار کیا آدم کچھ نہ بولا بس مگن سا آسمان کو دیکھے گیا۔ جبران کو پھر سے موقع ملا۔ "بیگم میں کہہ رہا تھا کہ۔۔۔۔" اور ایک بار پھر خوشی سے چیخ مارے آدم نے آسمان پر اڑتے کوے کی جانب انگلی اٹھائی۔ جبران غصہ پی کر رہ گیا، آدم اسے حائقہ سے بات کرنے کا کوئی موقع نہیں دے رہا تھا، مگر حد تو تب ہوئی جب جبران نے حائقہ کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر آدم پہلے ہی اس ہاتھ پر اپنا چھوٹا ہاتھ مزے سے رکھ چکا تھا۔ "یار اسے تو دفع کرو یہاں سے۔۔۔" وہ غصے اور بےبسی سے چلایا۔ حائقہ سخت نگاہوں سے جبران کو گھورا، غصے کی آگ تو آدم کی آنکھوں میں بھی بھڑک اٹھی تھی۔ "گھورنا بند کرو اور اسے نکالو یہاں سے۔۔۔" وہ زبردستی حائقہ کی گود سے مچلتے آدم کو اٹھاتا زمین پر بٹھائے خود تیزی سے حائقہ کے ساتھ چپک کر بیٹھ چکا تھا۔ "کیا ہوا ماما؟ کیا یہ آپ کو تنگ کررہے ہیں؟" معیز تیزی سے وہاں دوڑا آیا۔ "ہاں کررہا ہوں تنگ، بیوی ہے میری کرسکتا ہوں تنگ تمہیں کوئی مسئلہ؟" جبران اس پر غصے سے برسا۔ حائقہ نے بار بار تیزی سے آنکھیں میچے اس شخص کو دیکھا جو اس کی خاطر اپنی سگی اولاد پر بھڑک رہا تھا؟۔۔۔ بےشک وہ غصہ نہ تھا مگر 'اس کی خاطر؟' وہ بھی سگی اولاد پر۔۔۔ کیا وہ اتنی اہم تھی اس کے لیے؟ "آپ میری ماما کو ایسے تنگ نہیں کرسکتے، چلے ماما یہاں سے!" معیز نے آگے بڑھ کر اس کا دوسرا ہاتھ تھاما۔ جبران سے نگاہیں ہٹائے اس نے معیز کو دیکھا جو اس کی خاطر اپنے باپ سے لڑ رہا تھا، سوتیلی ماں کی خاطر سگے باپ سے لڑ رہا تھا؟۔۔۔۔ 'اس کی خاطر؟' کیا وہ واقعی اتنی اہم تھی؟۔۔۔ کیا واقعی یہ سب اس کے لیے تھا؟۔۔۔ دنیا میں کوئی ایسا وجود تھا جو اس سے محبت کا دعویدار تھا؟ ہاں ان دونوں سے پہلے بھی بہت سے لوگ اس سے محبت کے دعویدار تھے، اس کی نینی، جیری، طاہرہ بیگم مگر کبھی بھی اس کے دل نے ان کی محبت کو اپنے لیے یوں محسوس نہ کیا جیسے اب کررہی تھی، یوں جیسے اس کے وجود کا گم حصہ اسے مل چکا ہو! جیسے برسوں سے انگاروں پر جلتے دل کو ٹھنڈک پہنچی ہو۔ "چلے ماما" "میری بیوی کہی نہیں جارہی۔۔۔ اپنے بھائی کو پکڑو اور بیٹا تم نکلو یہاں سے۔۔۔" جبران معیز کے ہاتھ سے اس کا ہاتھ نکالے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا۔ حائقہ نے لبوں پر مچلتی مسکراہٹ اور آنکھوں میں در آئی نمی کو چھپایا۔ "ماما؟" "بیگم؟" دونوں باپ بیٹا اس کے سر ہولیے۔ "معیز آدم کے ساتھ جاؤ میں ٹھیک ہوں!" حائقہ کی زبان سے ادا ہونے والے لفظوں پر جبران کا جی چاہا خوشی سے جھوم اٹھے۔ گردن اکڑائے اس نے دونوں بیٹوں کو دیکھا جو ماں کا کہنا مانتے باپ کو گھورتے وہاں سے نکل چکے تھے۔ "بیگم۔۔۔" جبران مسکراتا اس کے قریب ہوا۔ "اپنی زبان بند ہی رکھو تو بہتر ہوگا!" حائقہ مصنوئی غصے سے بھڑکی۔ "اب بس بھی کرو بیگم مان جاؤ نا!" اس کے کندھے پر سر رکھے وہ آنکھیں موندے بولا تھا۔ جبران کی اس قدر نزدیکی پر آج پہلی بار حائقہ جبران پزل ہوئی تھی، آج پہلی بار دل کی دھڑکنوں کو منتشر پایا تھا، تھوک نگلے گہری سانس لیے اس نے تیز ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرنا چاہا تھا۔ "تمہارا دل!۔۔۔ اس کی دھڑکن بہت تیز ہے، طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟" جبران نے فکرمندی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ "ہوں!" حائقہ نے تیزی سے سر اثبات میں ہلایا۔ "آر یو شیور؟" جبران کے چہرے پر موجود فکرمندی کے آثار مزید گہرے ہوئے۔ "میں ٹھیک ہوں جبران!" اس کا ہاتھ ماتھے سے ہٹائے گہری سانس خارج کیے وہ مسکرائی اور اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ "پکا؟" "ہمم!" اس نے سر ہلایا۔ "حائقہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔" چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا۔ "اگر کل کے حوالے سے کرنی ہے تو مت کرنا۔۔۔" حائقہ نے نرمی سے انکار کیا۔ "کرنی ہے مگر اس حوالے سے نہیں جو تم سوچ رہی ہو۔۔۔ تمہاری مدر کے حوالے سے، تم نے مجھے کال کیوں نہیں کی حائقہ۔۔۔ مجھے بلالیا ہوتا۔۔۔"نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ چلائے وہ بولا۔ "کیا تم آتے؟" حائقہ نے بےیقینی سے سوال کیا۔ "بالکل۔۔۔" حائقہ نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا۔ "تم نہیں آتے۔۔۔" "میں کیوں نہیں آتا حائقہ؟" جبران نے نرمی سے سوال کیا۔ "کیونکہ وہ تمہاری خالہ امی کی سوتن تھی۔۔۔ تم کیوں آتے؟" اپنے ہاتھ میں موجود اس کے ہاتھ کی انگلیوں سے وہ کھیلنے لگی۔ "وہ میری حائقہ کی ماں تھی۔۔۔ میں ضرور آتا!" 'میری حائقہ'۔۔۔ حائقہ جبران کا دل ایک بار پھر زوروں سے دھڑکا۔ "مگر مجھے اس وقت تمہاری ضرروت نہیں تھی، جن کی تھی وہ نہیں آئے۔۔۔" جبران کو اس آواز میں نمی محسوس ہوئی۔ "کاش کہ تمہاری ضرورت میں ہوتا۔۔۔ سرپٹ دوڑا چلا آتا!" وہ مسکرا کر بولا تو حائقہ ہنس دی۔ "جوروں کا غلام!" وہ ہنس کر بولی۔ "صرف اپنی جوروں کا۔۔۔" مسکرا کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ حائقہ مسکرائی، مسکراتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں بینچ پر بیٹھی دو لڑکیاں انہیں دیکھ کر ہنستی ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کررہی تھی۔ حائقہ ہوش کی دنیا میں لوٹی، تیزی سے جبران سے پیچھے ہوئی، جبران نے چونک کر اس کے اس عمل کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھی دونوں لڑکیوں کو۔۔۔ انہیں سمائل پاس کیے وہ حائقہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے اپنے قریب کرچکا تھا دوبارہ۔ "جبران!۔۔۔ وہ دیکھ رہی ہیں!" حائقہ منمنائی۔ جبران نے حیرت سے اپنی بیوی کو دیکھا۔ "کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟۔۔۔ میری لیڈی دبنگ چھوئی موئی لڑکی کب سے بنی؟" جبران کی بات پر حائقہ نے اسے غصے سے دیکھا جس پر وہ دل کھول کر ہنس دیا تھا۔ "دیکھنے دو انہیں۔۔۔ اور سوچنے دو کہ ایسا کون سا عمل کردیا اس عام سی لڑکی نے جو یہ شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا لڑکا یوں اس کے عشق میں گرفتار ہوچکا ہے۔۔۔" اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہ ایک ادا سے بولا۔ "کیا تم نے ابھی ابھی مجھ سے اظہارِ محبت کیا ہے؟" حائقہ نے اس کا مزاق اڑانا چاہا۔ "ہاں کیا ہے۔۔ کہوں تو پوری دنیا کے سامنے اعلان کردوں؟" جبران کی آنکھوں میں جلتی محبت کی روشنی پر حائقہ شاک ہوئی۔ "میں مزاق کررہی تھی۔۔۔"