61.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“سر۔۔رکیے سر آپ یوں اندر نہیں جاسکتے۔۔۔”
پی۔اے کی ایک بھی سنے بنا ذولقرنین غصے سے جبران کے کیبین میں داخل ہوا تھا۔
زور سے دروازہ کھلنے کی آواز پر جبران نے حیرت سے فائل سے سر اٹھائے آنے والے شخص کو دیکھا۔۔۔ اس نے گہری سانس خارج کی۔۔۔
“سر ۔۔۔ وہ سوری میں نے انہیں روکا تھا مگر انہوں نے سنی نہیں۔۔۔” پی۔اے فوراً جبران کو دیکھ کر بولا۔
“اٹس اوکے۔۔۔”ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا بولا۔
“کہوں کیسے آنا ہوا ذولقرنین؟” دوبارہ فائل پر نگاہیں جمائے جبران نے مصروف انداز میں سوال کیا۔
“تم ایسا کیسے کرسکتے ہو جبران؟” دونوں ہاتھ ٹیبل پر جمائے ذولقرنین نے غصے سے سوال کیا تھا۔
“کیا کردیا میں نے جو یوں اینگری ہلک بنے ہوئے ہو؟۔۔۔ بائے دا وے کافی پیو گے؟”رسیور کان سے لگائے اس نے سوال کیا۔
“ہمارے کمپنی کے ساتھ کیے گئے تمام کانٹریکٹ واپس لے لیے تم نے اور مجھ سے وجہ پوچھ رہے ہو؟” غصے سے ذولقرنین نے ٹیبل پر مکا مارا تھا۔
“اچھاااا وہ؟” اچھا کو کافی لمبا کھینچا تھا جبران نے۔
“ہاں دو کپ کافی بھیجنا۔۔۔” آرڈر دیے اس نے رسیور رکھا اور واپس اپنی فائل کی جانب متوجہ ہوگیا۔
“بیٹھ جاؤ ذولقرنین تمہارے یوں کھڑے رہنے سے کافی جلدی نہیں آجائے گی۔۔۔” فائل پر نگاہیں جمائے جبران بولا۔
“مجھے وجہ چاہیے جبران۔۔۔ تم نے ایسا کیوں کیا؟” ذولقرنین نے غصے سےسوال کیا۔
(یہ بندہ یوں آرام سے بیٹھا تھا جبکہ وہاں ذولقرنین کے بزنس کو اچھا خاصہ نقصان پہنچ سکتا تھا جبران کے اس عمل سے۔۔۔ بزنس میں جبران کی اچھی شہرت تھی اور اگر وہ کانٹریکٹ واپس لے چکا تھا یہ سب کو علم ہوجاتا تو بہت سے آنے والے کانٹریکٹس بھی اس کے پاس سے چلے جاتے۔)
اس کے سوال پر جبران نے فقط کندھے اچکائے تھے۔
“سر کافی۔۔۔” دروازہ ناک کیے پیون اندر داخل ہوا اور دو کپ کافی ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے جاچکا تھا۔
“پرفیکٹ!” کافی کا گھونٹ بھرے جبران نے آنکھیں موندے اس کا مزہ لیا تھا۔
ذولقرنین صاف جواب نہ ملنے پر غصے سے پاگل ہوئے جارہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ خود سے وجہ بھی اخذ کرنے کی کوشش کررہا تھا، یکدم اس کا ماتھا ٹھنکا!
“اوہ تو یہ سب تم اس عورت کی وجہ سے کررہے ہو؟” اس کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ در آئی۔
“تمہیں کیا کہانی سنائی ہے اس نے؟۔۔۔ بتاؤ کیا جھوٹ بولا ہے میرے حوالے سے؟”
“ایکسکیوز می؟کون سی عورت؟” جبران نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
“پریٹینڈ مت کرو جبران۔۔۔ میں اس پاگل عورت کی بات کررہا ہوں، اس سائیکو حائقہ کی۔۔۔”
“تمیز سے بیوی ہے میری”اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جبران درشتگی سے بولا تھا۔
“تمہاری وہ بیوی ایک نمبر کی پاگل عورت ہے۔۔۔ نجانے کیا کیا بکواس کرتی رہتی ہےمیرے حوالے سے۔۔۔ سب کو میرے خلاف بھڑکاتی رہتی ہے۔۔۔ تمہیں بھی بھڑکایا ہوگا جبران۔۔۔ گاڈ!۔۔۔ دیکھو یار میں نہیں جانتا کہ اس نے تم سے کیا کہاں ہے مگر تم اتنے سالوں کی دوستی پر چند دنوں کے رشتے کو کیسے فوقیت دے سکتے ہو؟” ذولقرنین نے اپنا ماتھا مسلا۔
“پہلی بات تو یہ کہ میری بیوی نے تمہارے حوالے سے مجھے کچھ نہیں کہاں۔۔۔ اور وہ کیوں کچھ کہے گی ۔۔۔ تمہارا اور اس کا رشتہ ہی کیا ہے؟۔۔۔ اور دوسری بات اگلی بار میری بیوی کے لیے ایسی زبان استعمال کی تو اچھا نہیں ہوگا!” جبران نے اس کی طبیعت صاف کی تھی۔
“تو کیا تم واقعی میں میرے اور اس کے رشتے سے انجان ہو؟۔۔۔ نہیں جانتے کہ تمہاری موجود بیوی میری سابقہ بیوی رہ چکی ہے؟” ذولقرنین کے لبوں پر دل جلادینے والی مسکراہٹ در آئی تھی۔
“جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے تو یہ رشتہ تو چھ سات سال پہلے ہی ختم ہوچکا ہے تو اب گزرے ماضی کو موجود حال میں لانے کی کوئی وجہ نہیں بنتی میری بیوی کے پاس!”
“وجہ ہے بہت بڑی وجہ!” ذولقرنین مسکرایا۔
“اچھا؟۔۔۔ ایسا کیا؟ مجھے بھی بتاؤ؟” جبران نے یوں ذولقرنین کو یوں دیکھا جیسے وہ واقعی میں دلچسپی لے رہا ہو سننے میں۔
“تمہاری بیوی ابھی تک پاگلوں کی طرح چاہتی ہے مجھے۔۔۔ محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔ یہ رشتہ جو تم دونوں کہ درمیان ہے بس ایک ذریعہ ہے مجھ تک واپس آنے کا!” ذولقرنین اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا۔
“اوہ!۔۔۔اچھا!۔۔۔ کہانی اچھی بنالیتے ہو ذولقرنین مگر کیا ہے نا میں کوئی عقل کا اندھا نہیں جو تمہاری بنائی کسی بھی کہانی پر یقین کرلوں۔۔۔” جبران مسکرایا، ذولقرنین کی آنکھوں میں مرچیں ابھرنے لگی تھی۔
ذولقرنین نے سر زور سے نفی میں ہلایا تھا۔
“آئی کانٹ بلیوو اٹ جبران۔۔۔ سیریسلی۔۔۔ تمہیں مجھ پر یقین نہیں، مت کرو۔۔۔ مگر وہ دن دور نہیں جب تمہیں خود اس کے پاگل پن کا اندازہ ہوگا۔۔۔ تمہارے حوالے سے جھوٹی کہانیاں گڑھ کر لوگوں کو سنا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کرے گی۔۔۔ وہ ایک نمبر کی پاگل عورت ہے تم سے زیادہ عرصے سے اور زیادہ اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ وہ شروع سے ایسی تھی۔۔۔تمہاری تو وہ صرف بیوی ہے، میری محبت بھی تھی۔۔۔ ” ذولقرنین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حائقہ کو کچھ کرڈالے۔
جب جب اس کی زندگی میں آئی، اس کی زندگی برباد کرڈالی تھی اس نے۔
اوپر سے یہ جبران اتنا کچھ سننے کے بعد بھی کتنے سکون سے بیٹھا تھا۔
“ایک بات تو بتاؤ ذولقرنین۔۔۔۔ سچ سچ بتانا۔۔۔ حائقہ کو شادی سے پہلے سے جانتے تھے، وہ پاگل ہے یہ کہتے پھررہے ہو سب کو۔۔۔۔ اور اس کے پاگل پن سے واقف بھی تھے تو۔۔۔۔ کیا وجہ تھی؟۔۔۔ ایسی کیا مجبوری تھی جو تمہیں اس سے شادی کرنی پڑی؟۔۔۔ کوئی خاص وجہ؟” جبران پوری بات میں سے ایسا پوائنٹ اٹھائے گا اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔
“نہیں ہے کوئی جواب؟۔۔۔ میں بتاؤں وجہ؟۔۔۔” جبران اپنی جگہ سے اٹھتا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
“تمہیں اس کا پاگل پن اچھا لگتا تھا۔۔۔ تمہیں پسند تھا اس کا پاگلوں کی طرح تمہارے آگے پیچھے گھومنا، تم اس کی اس کیفیت کو انجوائے کرتے تھے۔۔۔وہ تمہیں لے کر بہت ان-سکیور تھی، پوزیسیو تھی۔۔۔اس کی یہ جیلیسی، ان سکیورٹی، پوزیسیوو نیچر تمہیں پسند آگئی، تم نے اس سے شادی کرلی۔۔۔ مگر شادی سے پہلے اس کی کو جو پوزیسیو نیچر تمہیں اچھی لگتی تھی اب اس سے تمہارا دم گھٹنے لگا۔۔۔ تم نے اس کی انسکیورٹی کو سمجھنے کی بجائے اس سے رشتہ ختم کردیا، اپنے بچے کے قاتل بن گئے۔۔۔ تمہیں اس سے محبت نہیں تھی۔۔۔ تمہیں بس اس کا تمہارے لیے پاگل پن پسند تھا جو غالباً تم دونوں کی طلاق کے بعد بھی قائم رہا۔۔۔ مگر اب اتنے سالوں بعد اس عورت کو اپنی زندگی میں آگے بڑھتے دیکھنا تمہیں ہضم نہیں ہورہا۔۔۔ تمہیں تو اس حائقہ کی عادت تھی جو بس تمہارے گرد کسی تتلی کی طرح گھومتی رہے۔۔۔ یہ ہے اصل وجہ۔۔۔ تم برداشت ہی نہیں کرپارہے کہ وہ تمہیں بھول چکی ہے، تمہارے سحر سے باہر نکل آئی ہے۔۔۔ برداشت نہیں کرپارہے کہ جس ذولقرنین کی خاطر وہ کبھی جان دینے کو تیار ہوتی اب اسی کی زندگی میں ذولقرنین کا کوئی وجود نہیں۔۔۔۔ کیوں یہی سچ ہے نا؟” جبران کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
“نن۔۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ عورت، وہ پاگل ہے، اسے پاگل خانے میں ہونا چاہیے۔۔۔”
“بس!۔۔۔ آخری بار سمجھارہا ہوں میری بیوی کے حوالے سے ایک غلط لفظ نہیں” جبران کا لہجہ یکدم برف کی مانند سرد ہوا تھا۔
“اب تم یہاں سے جاسکتے ہو!” وہ واپس اپنی جگہ کی جانب مڑا۔
“میں نہیں جانتا اس نے تمہیں کیا کہانی سنائی ہے مگر وہ ایک نمبر کی جھوٹی ہے۔۔۔” ذولقرنین چلایا۔
“ہوسکتا ہے!۔۔۔ مگر میری خالہ امی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔۔۔”
جبران کے جواب پر ذولقرنین نے غصے سے آنکھیں میچ لی، ان کے بارے میں وہ کیسے بھول گیا تھا۔
“آؤٹ۔۔۔” جبران نے دروازے کی جانب اشارہ کیا، ذولقرنین غصے سے دروازے کی جانب بڑھا۔
“جانے سے پہلے ایک آخری بات۔۔۔” ذولقرنین رکا، مڑا، سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“میری بیوی کے اوپر انگلی اٹھانے سے اچھا ہے اپنی ٹیم کا کارگردگی پر اٹھالو۔۔۔ جس حصاب سے ملاوٹ ملا سامان تم لوگ استعمال کررہے ہو جلد ڈوب جاؤ گے!”
طنزیہ انداز میں کانٹریکٹ واپس لینے کی اصل وجہ بتائے وہ دوبارہ فائل میں غرق ہوگیا تھا۔
منہ میں کئی گالیاں بکے ذولقرنین وہاں سے جاچکا تھا۔
اس کے جاتے ہی جبران نے فائل بند کیے سر ہاتھوں میں تھامے گہری سانس خارج کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں وانیہ میں نہیں آسکتی۔۔۔ ہاں چوٹ ابھی بھی گہری ہے۔۔۔” اپنی ٹانگ پر موجود زخم کو دیکھ کر وہ دل و دماغ میں اس ڈیڑھ سال کے ڈیڑھ فٹیا فتنے کو نجانے کتنے القابات سے نواز چکی تھی۔
“کیا میں اندر آسکتا ہوں؟” دروازہ ناک کیے معیز نے اجازت مانگی تھی۔
“وانیہ آئی ول کال یوں بیک!” کال رکھے اس نے معیز کو اندر آنے کی اجازت دی جو ہاتھ میں فرسٹ-ایڈ کا ڈبہ تھامے اس کے پاس چلا آیا۔
“تم آج یہاں؟۔۔۔خیریت؟” معیز اس سے شادی کے دن کے علاوہ کبھی مخاطب نہیں ہوا تھا اور اب اس کا یوں آنا حائقہ کو حیران کرگیا تھا۔
“آپ کی چوٹ کے حوالے سے پوچھنے آیا ہوں۔۔۔ اب کیسی ہے آپ؟” اس نے فکرمندی سے اس کی ٹانگ کو دیکھا۔
حائقہ کی آنکھیں پھیلی، یہ بچے اس کی سمجھ سے باہر تھے۔
“کیسی ہوسکتی ہے تمہارے سامنے ہے!” اسے نے غصے سے نوکیلے دانتوں کے نشان کو گھورا جیسے آدم کو گھور رہی ہو۔
“آپ کو ڈریسنگ کی ضرورت ہے میں کردوں؟” اس نے اجازت مانگی۔
“تمہیں کرنا آتی ہے؟” حائقہ نے حیرانگی سے سوال کیا۔
معیز کا سر اثبات میں ہلا۔
“اوکے!” حائقہ نے اجازت دی تو وہ اس کے سامنے نشست سنبھال چکا تھا۔
حائقہ کی نگاہیں اس پر گڑھی تھی جو بہت آرام اور تحمل سے کام کررہا تھا۔
“آپ کے اور پاپا کے درمیان سب ٹھیک ہے؟” اس نے اچانک سوال کیا، اس نے حائقہ کی جانب نہیں دیکھا تھا۔
“ہاں کیوں؟” حائقہ اس کے یوں اچانک سوال پر چونکی۔
“پاپا آئسکریم کے تقریباً چھ ٹب کھاچکے ہیں، اور وہ ایسا تب ہی کرتے ہیں جب انہیں کوئی ٹینشن ہو۔۔۔ میں نے یا آدم نے ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا، بزنس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔مگر آپ سے وہ کچھ روڈ روڈ سے لگے مجھے اسی لیے پوچھ لیا۔۔۔”
“ویسے جب پاپا ٹینشن میں ہو تو آئسکریم کھاتے ہیں آپ کیا کرتی ہے؟” اس نے اچانک نیا سوال پوچھا۔
“وہ میں۔۔۔” اب کیا بتاتی اسے کہ وہ سیگریٹ پیتی ہے؟
“میں تمہیں کیوں بتاؤ کوئی مسئلہ ہے یا نہیں؟” حائقہ نے بات بدلی۔
“کیونکہ ہم ایک فیملی ہیں۔۔۔ اور ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔۔۔ کیا معلوم میں آپ کی کچھ مدد کرسکوں؟” اس نے حائقہ کو مسکراہٹ سے نوازہ۔
“فیملی؟” حائقہ کو یہ لفظ انجان لگا۔
“ہم فیملی کہاں ہوسکتے ہیں؟۔۔۔ میرا تم سے کوئی رشتہ تھوڑی نہ ہے!” حائقہ نے ہنس کر اپنے اندر پنپتے غم کو ہلکا کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔
“مجھ سے نہیں مگر میرے پاپا سے تو ہے نا!۔۔۔ آپ مجھ پر بھروسہ کرسکتی ہے” اس نے کندھے اچکائے۔
“اور مجھے تم پر کیوں بھروسہ کرنا چاہیے؟”
“کیونکہ سب کرتے ہیں۔۔۔ سب کہتے ہیں کہ مجھ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔” اس کے معصومیت سے کہنے پر حائقہ مسکرادی۔
دل میں ایک خواہش جاگی اسے گلے لگانے کی مگر دل کو اس نے ڈپٹ دیا۔
اچانک دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھلا۔
آنے والی ہستی کو دیکھ کر دونوں نے آنکھیں گھمائی کیونکہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ آدم جبران تھا۔
ہاتھ میں فیڈر پکڑے، آنکھیں چھوٹی کیے وہ ان دونوں کو گھورتا، رینگتا ہوا حائقہ کی جانب چلا آیا۔
معیز کے پیر پر کاٹے اسے اوپر اٹھانے کا حکم دیا۔
معیز نے اسے بیڈ پر بٹھایا تو اپنا فیڈر لیے وہ حائقہ کی جانب بڑھا، اس کی گود میں آرام سے ایڈجسٹ ہوئے وہ منہ میں فیڈر ڈالے اس کے سینے پر سر رکھے پینے لگ گیا تھا۔
حائقہ کی آنکھیں فٹ سے پھیلی۔۔۔۔ جبران حیات کے دونوں سپوت اس کے ساتھ گیمز کھیل رہے تھے۔۔۔ ایک اس کی ٹانگ کی پٹی کررہا تھا تو دوسرا اس پر اپنا حق جمائے مزے سے فیڈر پینے میں مگن تھا۔
“ہوگیا!” معیز مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
آدم نے ایک آنکھ کھولے اسے دیکھا اور دوبارہ آنکھیں موندے فیڈر پینے میں مگن ہوگیا۔
“سنئیے!” حائقہ کا شانہ ہلائے معیز نے اسے اپنے قریب بلایا۔
“ہوں؟” حائقہ چونک کر اس کے قریب ہوئی۔
“گیٹ ویل سون!” اس کے لبوں پر بوسہ دیے وہ اسے مسکراہٹ سے نوازتا وہاں سے جاچکا تھا۔
حائقہ نے پھٹی آنکھوں سے اپنے گال کو چھوا، یکدم لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ در آئی۔ سینے پر سر رکھ لیٹے آدم کے بالوں میں وہ دھیرے دھیرے سے انگلیاں چلانا شروع ہوگئی۔
دل سے بس ایک صدا نکلی۔
“یہ وقت کبھی نہ گزرے۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یا تو وہ بات کرلو جو تمہیں کرنی ہے یا پھر مجھے گھورنا بند کردو!” رات کے کھانے پر وہ دونوں ہی موجود تھے۔
معیز اور آدم تو کب کے کھانا کھائے سو چکے تھے۔
حائقہ کی بات سنے جبران نے منہ بنایا اور بچوں کی طرح منہ کو کھانے سے بھرنے لگا۔
“ذولقرنین کے ساتھ تمام کانٹریکٹس ختم کردیے ہیں میں نے!” وہ نوالہ نگلے بولا، البتہ آنکھیں چھوٹی کیے حائقہ کے چہرے پر ٹکائی اس کے تاثرات جاننے کو۔
“تو؟” حائقہ نے اچھنے سے اسے دیکھا۔
“تمہیں برا نہیں لگا!” جبران اس سے نجانے کیا اگلوانے کی چاہ میں تھا۔
“میری پھوپھی کا بیٹا لگتا ہے جو مجھے برا لگے، جو جی میں آئے کرو، مگر مجھے ان سیریل کلر والی نگاہوں سے گھورنا بند کرو۔۔” حائقہ غصے سے بولی۔
“ایک سوال پوچھوں؟ سچ سچ جواب دینا!”
“جواب لیے بنا کون سا میرا پیچھا چھوڑ دو گے، تو پوچھو؟” حائقہ نے لب بھینچے اجازت دی۔
“تم نے واقعی مجھ سے شادی طلاق لینے کو کی ہے؟۔۔۔ مینز کے حلالہ؟” جبران خاصا ڈرتے ڈرتے یہ سوال کیا تھا۔
“مانا کہ تمہاری شکل اتنی بری ہے کہ کوئی بھی عورت اپنی پوری زندگی تمہارے ساتھ نہیں گزار سکتی مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ کوشش نہیں کی جاسکتی!” اسے جواب دیے وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
جبران کو جب تک اس کی بات سمجھ آئی وہ وہاں سے غائب ہوچکی تھی۔
“تم سیدھا سیدھا جواب میں ‘نہیں’ بھی کہہ سکتی تھی۔۔۔” وہ غصے سے آگ بگولا ہوتا پیچھے سے چلایا۔
“یہ خود کو سمجھتی کیا ہے؟” جبران خود سے بڑبڑایا۔
“کیا میری شکل اتنی بری ہے؟۔۔۔ کیا میری شکل اتنی بری ہے؟” خود سے سوال کیے اس نے نسرین سے پوچھا تھا۔
“بس گزارے لائق ہے۔۔۔” نسرین کے جواب پر اس کا غصے سے منہ کھل گیا تھا۔
“نسرین آپ۔۔۔ جائیے، جائیے یہاں سے۔۔۔” عمر کا لحاظ نہ ہوتا تو وہ کچھ سنا ہی دینا نسرین کو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“السلام علکیم بی بی میں نسرین بات کررہی ہوں، جی بی بی ٹینشن نہ لے سب ٹھیک ہے یہاں پر، وہ دونوں بس بچوں کی طرح لڑتے رہتے ہیں اور تو کوئی مسئلہ نہیں ہے جی!”
“دیکھ لو نسرین کوئی ایشو ہو بھی تو مجھے فوراً بتانا، بھولو مت تمہیں حائقہ کے ساتھ میں نے کیوں بھیجا تھا!” طاہرہ بیگم پریشانی سے بولی۔
“جی بڑی بی بی آپ فکر مت کیجیئے۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے جی۔۔۔” نسرین نے جواب دیے کال کاٹی تھی۔
“یااللہ ان دونوں کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا، ان کے رشتے میں محبت پیدا کردے میرے مالک!” طاہرہ بیگم نے دل سے ان کے لیے دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
“بات کرنی ہے تم سے۔۔۔” سینہ چوڑا کیے وہ حائقہ کے سامنے آکھڑا ہوا۔
“تو کھڑے شکل کیا دیکھ رہے ہو بولو۔۔۔” حائقہ کے لفظوں پر جبران اسے گھور کر دیکھا۔
“یہ لو اس پر سائن کرو!” اس نے حائقہ کے سامنے ایک کاغذ لہرایا۔
“یہ کیا ہے؟” حائقہ نے حیرانگی سے اس صفحے کو دیکھا۔
“اس گھر میں رہنا چاہتی ہو تو کچھ رولز فولو کرنا ہوگے تمہیں!”
“مثلاً کیسے رولز؟” اس نے سینے پر بازو باندھے پوچھا۔
گلا کھنکھارے جبران رولز پڑھنا شروع ہوا۔
“رول نمر 1: تم مجھے ‘تم’ کی بجائے ‘آپ’ کہہ کر بلاؤ گی”
“اوہ!” حائقہ نے ہونٹوں کو گول شکل دی۔
“رول نمبر 2: میری اجازت کے بنا کہی آنا جانا نہیں ہوگا تمہارا!”
“اچھا سہی آگے۔۔۔” حائقہ نے اسے مزید پڑھنے کو کہاں۔
“رول نمبر 3: میرے صبح کے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے، کپڑے، آفس کی فائلز۔۔۔ ہر ایک چیز کا خیال تمہارے زمے ہوگا، جیسے باقی سب بیویاں کرتی ہیں۔۔”
“آہاں؟”
“رول نمبر5:میرے بچوں کی دیکھ بھال بھی تمہارا کام ہے تو تم ہی کرو گی۔”
“اوکے۔۔۔” اس نے سر ہلایا۔
“رول نمبر6: سیگریٹ نہیں پیوں گی تم!”
“مگر کیوں ؟” حائقہ نے یوں آنکھیں پٹپٹائی جیسے اسے باقی رولز سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
“میرے بچوں پر اس کا برا اثر ہوگا!” جبران کچھ اکڑ کر بولا۔
“تم بھی تو پیتے ہو ۔۔۔ کبھی کبھار!” حائقہ نے منہ بنایا جیسے برا مان گئی ہو۔
“ان کے سامنے نہیں پیتا۔۔۔گھر سے باہر پیتا ہوں۔۔”
“میں بھی گھر سے باہر پی لوں گی۔۔۔” حائقہ نے منانے کی کوشش کی۔
“تمہیں رول سمجھ میں نہیں آیا؟۔۔۔ نہیں کا مطلب نہیں۔۔۔”
“اچھا چلو بتاؤ کہاں سائن کرنے ہیں؟” حائقہ نے ہاتھ آگے کیے وہ کاغذ مانگا۔
جبران کا سینا خوشی و مسرت سے پھول اٹھا،اس کی بیوی آخرکار اس کے قابو میں آگئی تھی۔
“یہاں!” اس نے خوشی خوشی سب سے آخر پر موجود خالی حصے پر انگلی رکھی۔
“میں سائن تو کردوں مگر کچھ رولز میرے بنائے گئے بھی تو ہونے چاہیے نا!” حائقہ نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائی۔
“ہونے تو چاہیے!۔۔۔ بتاؤ کیا ایڈ کروانا ہے تمہیں؟” سوچ کر جبران نے سر متفق انداز میں ہلایا۔
“نہیں نہیں رولز تو نہیں ہیں، بس کچھ باتیں کلئیر کرنی ہیں!” وہ مسکرا کر اس کے قریب ہوئی۔
“کرو۔۔” جبران نے اجازت دی
یکدم ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی، اس کی جگہ چڑیلوں والی بھیانک مسکراہٹ لے چکی تھی۔
“پہلی بات: تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں ‘آپ’ بلاؤں گی، آپ کہلوانے سے پہلے، ‘آپ’ والی شکل و صورت تو لے آؤ۔۔۔
دوسری بات: کیا کہا تھا کہ تمہاری اجازت مانگو کہی آنے جانے سے پہلے؟۔۔۔ تو تم سے اجازت مانگتی ہے میری جوتی، ہو کون تم مجھے اجازت دینے والے؟۔۔۔
تیسری بات:اور کیا کہہ رہے تھے تمہارے کھانےپینے، سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے کا دھیان رکھوں؟۔۔۔ بیوی ہوں کہ چوبیس گھنٹے سروس پر موجود پرسنل میڈ؟
چوتھی بات: ارے چوتھا رول تو تم نے بتایا نہیں چلو جانے دو۔
پانچویں بات: کیا کہاں تمہارے بچیں سنبھالوں؟۔۔۔ خیر بچوں کی بات ہے اسے بھی جانے دیتے ہیں
چھٹی بات: سیگریٹ نہیں پیوں؟۔۔۔ کیوں نا پیوں؟۔۔۔ میں تو پیوں گی پیکٹ کے پیکٹ پیوں گی ۔۔۔ روک سکتے ہو تو روک لو!”
“گاڈ! مجھے تو تمہارے کانفیڈینس پر حیرت ہورہی ہے تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہارے یہ رولز فولو کروں گی؟۔۔۔ نہیں مطلب اتنے چھوٹے دماغ میں اتنا بڑا خیال آیا کیسے؟” بھنویں اچکائے حائقہ اس کے اوپر چڑھ چکی تھی، جبکہ جبران پیچھے کو ہوا تھا۔
“اگلی بار اگر اس قسم کے رولز کے ساتھ دوبارہ میرے سامنے آئے تو اس کاغذ کی طرح مڑوڑ کو کوڑے دان میں پھینک دوں گی میں!” ساتھ ہی رولز والا کاغذ مڑوڑے وہ ڈسٹ بن کی نذر کرچکی تھی۔
“نن۔۔۔نہیں کرنے رولز فولو تو مت کرو۔۔۔ یہ لہجہ اپنا درست کرلو میرے ساتھ۔۔۔” ڈری سہمی گھبرائی آواز میں بھی وہ تڑی مارنے سے بعض نہ آیا۔
“یو نو واٹ۔۔۔۔ یو آر کیوٹ اور بہت انٹرٹیننگ بھی ہو۔۔۔ اگر پہلے کبھی دل میں خیال آیا بھی ہو تمہیں چھوڑنے کا تو اب نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔آخر کو ایسا جوکر ہرکسی کی لائف میں تھوڑی نہ آتا ہے!” اس کے گال پر چٹکی بھرتی وہ ہنستے ہوئے واشروم میں چلی گئی تھی۔
جبران نے سکون کی گہری سانس خارج کی تھی۔
“چلو چھوڑ کر نہیں جائے گی یہ تو کنفرم ہوا!” بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ ہنس دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔